لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

سورۃ الشمس کی یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ شعوری طور پر پڑھنے پر ہی میرے دل کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ۔ کوئی گیارہ سال پہلے یہی آیات قرآن میں میری انسپریشن رہ چکی ہیں یعنی کہ جن آیات نے مجھےقرآن میں موجود آیات میں سے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اسی انسپریشن کے ساتھ میں نے ایک بلاگ بنایا جو کہ اسی تھیم پر مبنی تھا مگرمیں اپنی مصروفیات کے باعث اسے جاری نہ رکھ سکی اور نہ ہی اس طرف توجّہ مبذول ہو سکی۔

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠: اور نفس کی قسم اور اس کی جس نے اس کو متوازن کیا (7) پھراس کا فجور اور تقویٰ اس کو الہام کیا (8)کامیاب ہوا جس نے اس کا تزکیہ کیا (9) اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے پست بنایا (10

ابھی حال ہی میں پروفیسر احمد رفیق اختر کو ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے سنا تو خود سے بھی ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ہمارے ذہن میں آنے والے تمام خیالات ہی الہامی ہوتے ہیں خواہ وہ بلند ہوں یا پست ہمارا ان پر اختیار نہیں۔ خیالات کی لہریں ہمارے ذہن میں بہتی رہتی ہیں۔ جو چیز ہمارے بس میں ہے وہ ہے انتخاب یعنی کہ ہم ایک بلند خیال کو ایک پست خیال پراہمیت دے کر اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں یا پھر ایک پست یا فاجر خیال کو تقویٰ پر مبنی خیال پرترجیح دے کر اپنے نفس کو پست بناتے ہیں ۔ ہر لمحۂ موجود میں ہمارے پاس مختلف خیالات جو ہمارے ذہن میں آتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے اور اس کو فوقیت دینے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ہر دفعہ ایک برا خیال منتخب کرنے پر نفس اپنی سرکشی اور پستی کی جانب بڑھے گا اور ایک اچھا نیک خیال منتخب کرنے پر اطاعتِ الٰہی اور ضبطِ نفس کی صورت میں بلندی کی طرف قدم اٹھائے گا۔ جو نفس بلندی اختیار کرتا جاتا ہے اس کا ذہن پست خیالات سے پاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پستی اختیار کرنے والا نفس پست خیالات کی آماجگاہ بنتا چلا جاتا ہے۔ نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمٗنّہ نفس کی وہ حالتیں ہیں جو ہمارے انتخابات سے ہی جنم لیتی ہیں۔ نفسِ امّارہ ایسا نفس ہے جو برائی پر آمادہ کرے۔ نفسِ لوّامہ ایسا نفس ہے جو گناہ کے کاموں پر ملامت کرے اور نفسِ مطمٗنہ وہ نفس ہے جو خیالات کی پاکیزگی اور بلندی کی وجہ سے اطمینان حاصل کرلے۔

آئیے کچھ مثالوں سے اپنے خیالات اور اپنے انتخابات کو سمجھتے ہیں۔

ایک مثبت خیال کو منفی خیال پر ترجیح دینا

اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کفر کرنے کی بجائے شکر کرنا

اللہ تعالیٰ اور لوگوں سے بد ظن رہنے کی بجائے حُسنِ ظن رکھنا

اپنے ہرعمل کی نیّت لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا حاصل کرنے کو بنانا

ہر عمل کے لیے اپنے دل میں ہونے والی کھٹک کو پہچاننا اور پیارے نبی ﷺ کی ہدایت پر ایسے کام سے رک جانا جو دل میں کھٹکے۔

لوگوں سے نفرت کرنے کی بجائے محبّت کرنے کی خو ڈالنا

دین کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی بجائے احسن طریقے سے ادا کرنے کے خیال کو منتخب کرنا

کبر کی بجائے عاجزی اختیار کرنا

یہ تو کچھ چند ہی مثالیں ہیں۔ آپ خود اپنے ذہن میں آنے والے خیالات اور اپنے انتخابات کو نوٹ کرنا شروع کر دیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کا نفس کس ڈگر پر چل رہا ہے۔ کیا وہ بلند خیالات کا انتخاب کر کے بلندی اور تزکیہ حاصل کر رہا ہے ؟ یا پست خیالات کی وجہ سے پستی کا شکار ہو رہا ہے؟ یہی تزکیہ نفس کی پہلی سیڑھی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

حَرفِ قُلِ العفو

جیسے جیسے کمرشلزم نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا، ہم نے انسانی ہوس اور خواہشات کو بے لگام ہوتے ہوئے دیکھا۔ لوگوں کو ایک ایسی دوڑ میں بھاگتے ہوئے دیکھا جس کا کوئی اختتام نہیں۔ ایک کے بعد ایک چیز کو حاصل کرنے کی کوشش میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زندگی اور اس زندگی کا قیمتی وقت اور سرمایہ ایسے کاموں اور مشاغل میں صَرف ہوتا رہا جس کی وجہ سے دنیا کے سطحی قسم کے فنا ہونے والے فائدے کی کشا کش لگی رہی۔ جبکہ دنیاوی مال و متاع حاصل کرنے کے باوجود دل سکون نہ پا سکے اور مزید براں آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے شدید احتساب کا امکان بڑھتا رہا۔ آج جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کے نظام کو روک کر انسانوں کو یہ تدبّر اور تفکّر کرنے کا موقع دیا ہے کہ آیا کہ جو متاعِ زندگی اور اشیاء وہ جمع کرتے ہوئے آئے ہیں کیا وہ ضرورت تھی یا اسراف تھا؟

کیا وہ زمینیں جن پر جاگیردار قبضہ کیے بیٹھے ہیں؛ کیا وہ ان کو آخرت میں کوئی فائدہ دے پائیں گی یا گلے کا طوق بنا دی جائیں گی؟ کیا یہ زمینیں ریاست کی ملکیت نہیں ہونی چاہییں۔؟ جو جاگیردار کسانوں کی کی گئی محنت کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر رہے ہیں؟ کیا وہ اپنے پیٹوں میں آگ نہیں بھر رہے؟

کیا ہمارے گھر جو ہم نے ۱یک دو کنال پر بنا رکھے ہیں اور اس کی تزئین و آرائش میں اپنا آپ کھپاتے رہتے ہیں اس کا آخرت میں کوئی فائدہ ہو گا؟ اتنے لوگ نہیں ہوتے گھروں میں جتنا ان کا رقبہ ہوتا ہے اور گھر کے اکثر حصّے تو۸۰ فی صد استعمال میں ہی نہیں آتے؟ کیا اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آجائے کہ بے گھر مسلمانوں کو مہاجرین سمجھ کر ان کوانصارکی طرح گھروں میں جگہ دو تو کیا آپ اس کے لیے اپنے آپ کو تیّار کر پائیں گے؟

یہ جو ایک سے ایک مہنگی گاڑیاں خریدی جاتی ہیں ان کی واقعتاً ضرورت تھی یا اپنا شوق تھا؟ کیا ان میں بیٹھ کر دلوں نے خوشی اور سکون حاصل کر لیا ؟

یہ جو سونے کے زیورات ہم خواتین بنواتی ہیں جو کہ کئی لاکھ مالیّت کے ہوتے ہیں کیا ان کو پہننے کا موقع بھی ملا ؟ یا چوری ہونے کے ڈر سے پہنا ہی نہیں گیا اور لاکرز کی پناہ گاہ میں پڑا رہا؟ کیا خوبصورت ڈیزائن والی عام دھات کی بنی ہوئی جیولری اس سے زیادہ بہتر نہیں ثابت ہو سکتی کہ نہ چوری ہونے کا خطرہ اور ضرورت بہتر طریقے سے پوری ہو سکے؟ کیا سونا، چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کوپاک سرزمین کے بیت المال کا حصّہ نہیں ہونا چاہیے؟

یہ جو ایک سے ایک نیا جوڑا، مہنگے سے مہنگا لباس، پھر اسکے ساتھ میچنگ جیولری،جوتا،بیگ اورمہنگا میک اپ اور پھر اس کا دکھاوا؟ کیا یہ ایک مومن عورت کو زیب دیتا ہے؟ کیا یہ کپڑوں،جوتوں سے بھری الماریاں رات کو ہمیں اس خوف میں مبتلا نہیں کرتیں کہ اگر میرے نصیب میں صبح نہ ہو سکی تو کتنا کڑا احتساب میرے لیے تیّار کھڑا ہے؟ کہیں یہ پچھتاوا تو نہیں بن جائے گا کہ کاش میں اپنی زندگی میں اپنی ترجیحات درست کرلیتی اور جو پیسہ میں نے بے دریغ آسائشوں اور زیب و زینت پر خرچ کیا اس میں سائلین اور محرومین کا حق پہچان کر اپنے لیے آخرت کمانے کی فکر کرتی۔

کیا جو شادی بیاہ پر تقریبات، دلہا دلہن کے مہنگے ترین کپڑوں، زیورات، اور باقی ایکسیسریز پر خرچ کیا جاتا رہا ہے کیا وہ اسلامی نقطہ نظر سے جائز تھا؟ جن لوگوں نے ایک شادی کے لیے متعدد پارٹیز اور فنکشنز منعقد کروائے کیا ان کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں آیا؟ یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کے برعکس اپنے نصب العین “شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا پر عمل کیا۔

یہ جو ہم مہنگے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں جا کر کھانا کھایا کرتے تھے ، کیا وہ ضروری تھا یا زبان کے چسکوں کو پورا کرنے کی خواہش جس کو دبانا اتنا مشکل تھا کہ ہر بار جس چیز کو دل کیا وہ کھانے نکل گئے یا ڈیلیوری آرڈر کردیا۔ کیا پھر ان ریستورانوں سے نکل کر بھیک مانگتے ہوئے بچوں ، عورتوں اور فقراء کے چہروں نے کبھی شرمندہ نہیں کیا؟

کیا کبھی ہم نے قرآن کی اس آیت پر غور کیا :وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ؛ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں آپ کہیے کہ جو بھی ضرورت سے زائد ہو۔ کیا کبھی ہم نے یہ نہیں سوچا کہ اُمّتِ مسلمہ پر آج عین وہی وقت آچکا ہے کہ اس آیت کا اطلاق ہونے جارہا ہے کہ صرف اسی صورت میں پاکستان میں سب سے پہلی خلافتِ راشدہ کی طرز پر بننے والی ایک ریاست معاشی مضبوطی اور خود انحصاری حاصل کر سکتی ہے۔ میرے نزدیک اگر نصاب سے زائد ہونے پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ لاگو ہوتی تھی تو ہر شخص کے لیے ضرورت سے زائد کا مطلب نصاب سے زائد جو بھی مال و متاع ہے وہ سب العفو میں شمار ہو گا۔ کیا ہم سب اس حکم پر اپنی دنیا بچانے کی فکر کریں گے یا آخرت کمانے کی؟یا دنیا کے تھوڑے فائدے کے لیے آخرت کا کڑا احتساب اور آگ میں داخل ہونا پسند کریں گے؟ کہ مال نہ خرچ کرنے پر قرآن حکیم میں اس کثرت سے آیاتِ وعید آئی ہیں کہ جو ایک مؤمن کے لیے اس فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیں۔ میں ان آیات کی ایک فہرست بنانے کا ارادہ رکھتی ہوں تاکہ یاد دہانی کے لیے موجود رہے۔ ان شاء اللہ۔ بقول علّامہ اقبال

اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودارجو حرفِ قلِ العفو میں پوشیدہ ہے اب تک

ہمیں بطور ایک قوم جاپان کے لوگوں کے طرزِ زندگی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک جاپانی گھر میں کم سے کم اور ضرورت کے لحاظ سے پورا سامان پایا جاتا ہے۔ اگر ہمیں بھی بطور ایک قوم اپنی خودی کے زور پر اٹھنا ہے تو سادہ طرزِ زندگی ہی اپنانا ہو گا اور اس کی مثال ہمارے لیے رسول اللہﷺ سے زیادہ بہتر کس کی ہو سکتی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

لفظِ ممنوعہ

لفظِ ممنوعہ کے نام سے یہ تذکرہ میرےاداس بچپن میں میرے کچے ذہن کی ایک یاد کے گرد گھومتا ہے۔ مجھے undefined کا لفظ پسند ہی نہیں تھا۔ میرے ننھے ذہن نے اس کو ایک لڑکا اور لڑکی کے درمیان تعلّق سے منسوب کر رکھا تھا جو کہ میرے نزدیک ایک گناہ تھا۔ یہ سب باتیں مجھ سے کسی نے کہی نہیں تھیں مگر میں نے یہ اپنے ماحول سے ہی سیکھی تھیں۔ مجھے لفظِ ممنوعہ پسند بھی نہیں تھا اور ہر دور میں کسی نہ کسی سے محبّت بھی ہو جاتی تھی۔

عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

جس کے پاس جتنا زیادہ علم ہوتا ہے اتنا ہی وہ عاجز ہوتا ہے۔  اللہ تعالیٰ  کی بنائی گئی اس کائنات میں دو طرح کے علوم ہیں۔ ایک ہیں ظاہری علوم جو کہ حواسِ خمسہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ذہن سے ان کا ادراک حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کائنات میں  ایک دوسرا علم ہے جس کو باطنی علم کہتے ہیں۔ یہ علم عقل یا حواسِ خمسہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو صرف دل کی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ قرآن مجید میں اس مفہوم کے ساتھ بہت سی آیات ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ  آنکھیں نہیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو کہ حق کو  سامنے بے حجاب دیکھ کر بھی اس کو پہچان نہیں پاتے۔ یہی وہ دل ہے کہ جو مسلسل حق کا انکار کرتا جائے تو اس پر قفل یعنی تالے پڑ جاتے ہیں ۔ اور یہی دل اگر   سلیم ہو جائے تو حضرت ابراہیمؑ کی طرح دیدہ ور ہو جاتا ہے۔ جس کو بھی غیب کا علم یا یقین حاصل ہو جائے وہ شخص انتہائی  عاجز ہوجاتا ہے جس کے باعث  اس کو علم کا وہ درجہ عطا ہو جاتا ہے جس کا نام ہے “میں نہیں جانتا”۔ جس کے پاس بھی ظاہری علوم کی کثرت ہو جائے یا تو اس کی گردن اتنی ہی اکڑ جاتی ہے یا  وہ اللہ کے علم کے سامنے اپنے چھوٹے پن کو تسلیم کرلیتا ہے۔

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت

قرآن کا بندۂ مؤمن ایک ایسی شخصیّت ہے جو کہ  نفس کا اطمینان  ، دل کی سلیمت، روح  تک رسائی اور جسم پر حکومت  کرنے  کی  قوّتیں حاصل کر چکی ہو۔

نفس کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے  مؤمن کو  ایک   undefined   شخصیّت بننا  پڑتا ہے۔ یعنی کہ ماحول میں جو کچھ بھی اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہو رہا ہے  وہ اس کے سامنے سرتسلیمِ خم کرتا چلا جائے اور اس کا نفس راضی بہ رضائے خدا وندی رہے۔ وہ    لوگوں سے الجھنے کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھے اور  اس کے برعکس اپنے ارد گرد لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا چلا جائے۔ بغیر کسی صلہ حاصل کرنے کی نیّت کے عمل کرتا چلا جائے۔   وہ اپنے ماحول میں اپنے نفس کے پرسکون ہونے کے باعث ایسی  وائبز  یا کاسمک انرجی پھیلانے لگتا ہے جس سے ماحول پر سکون بنتا چلا جاتا ہے۔ مؤمن اپنے کسی معاملے کی خرابی کا ذمہ دار دوسروں کو نہیں ٹھہراتا بلکہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیتا ہے کہ انسان اس کے معاملے اور تقدیر میں ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ اس کے معاملا ت کُلی طور پر خالِقِ حقیقی کے پاس ہیں۔ اس بات کو  اپنے اند ر اتارنے کے بعد وہ براہ راست خدا سے رابطہ قائم کر لیتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد اپنے غم کا شکوہ کبھی لوگوں سے نہیں کرتا جیسا کہ حضرت یعقوب ؑ کی دعا ہمیں بتاتی  ہے: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ ۔ میں اپنے غم اور رنج کی شکایت صرف اللہ سے ہی کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی وہ جان لیتا ہے کہ اس کی پریشانی کا باعث اس کی اپنی نفسانی سوچ ہے  اور  اس کی اندرونی مملکت کے باہر کوئی بھی انسان، حالات  یا  اشیاء اس کو پریشان نہیں کر رہیں بلکہ یہ اس کی اپنی سوچ اور طرزِ عمل ہے جس کی وجہ سے اسے پریشانی مل رہی ہے۔ اور قرآن میں واضح طور پر یہ بات دہرائی گئی ہے کہ جو مصیبت بھی انسان کو پہنچتی ہے وہ اس کے اپنے نفس کی بدولت ہوتی ہے ۔  جذبات موجودہ لمحے میں سوچ سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ کسی بیرونی محرّکات کی وجہ سے۔ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔نفس کو مطمئن بنانے کے لیے ماضی اور حال سے نکل  کر موجودہ لمحے میں اپنی توجہ مرکوز کرنی پڑتی ہےکہ ایسا کرنے سے ہی انسان احسان کی کیفیت کو پا سکتا ہے کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ احساس کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

قلبِ سلیم حاصل کرنے کے لیے  حضرت ابراہیم ؑ جیسی حنیفیت درکار ہےاور یکسُو  اطاعتِ خداوندی  کہ اللہ کی ہر آزمائش پر پورا اترے۔ ایسا دل جس میں اخلاص کی دولت  پیدا ہو جائے اور اس میں تمام لوگوں کے لیے محبّت اور خیر خواہی کے جذبات پیدا ہو جائیں۔  ایسا دل جو لوگوں کی فلاح کا حریص بن جائے جو اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری میں بے مثال بن جائے۔ جس میں  حق کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور جو حق بات کو سن کر فوری طور پر سمعنا و اطعنا کہنے والوں میں شامل ہو جائے ۔ وہ لوگوں کے لیے بھی وہی چاہنے لگے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔اور وہ  الحُسنیٰ احسن بات کو بغیر کسی تعصب کے قبول کر لے۔ اس میں سے لوگوں کے لیے بغض، عداوت، حسد   جیسے احساسات  کا خاتمہ ہو جائے۔ اور اس کا دل آئینے کی طرح صاف شفّاف ہو جائے ۔ وہ اپنے فائدے کی بجائے اللہ کے دین کا فائدہ دیکھنے لگے اور ہر خیر کی بات خواہ اس کا پہنچانےوالا کوئی بھی ہو اس کو دوسروں تک پھیلانے کی ذمہ داری کو سمجھنے لگے۔ اس کے دل میں اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی محبّت سب محبّتوں پر غالب آجائے۔

روح  ایک جسمِ لطیف ہے جو کہ ہوبہو انسانی جسم کی ہیئیت رکھتی ہے  اور یہی وہ خدا کی طرف سے پھونکا گیا امرِربّی ہے جو انسان کواس عالم سے جوڑتی ہے جس میں صرف پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب بنی  آدم کی پشتوں سے تمام بنی نوع انسان کو نکالا تو وہ صرف ارواح تھیں اور ان کو جسم ابھی نہیں دیے گئے تھے۔ یہی وہ ارواح تھیں جنہوں نے الستُ بِربِّکُم کے جواب میں بلیٰ یعنی کیوں نہیں کہہ کر اللہ کی اطاعت کا عہد کیا۔ اپنی روح تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اللہ کو ہی مطلوب بنانا پڑتا ہے۔ اپنی زندگی میں سے خود غرضی نکال کر زندگی کا ایسا مقصد تلاش کرنا پڑتا ہے جو کہ اللہ کی عین عبادت کی نیّت سے کیا جائے اور اس میں  خدا کی رضا کے علاوہ کسی اور سے کچھ بھی مطلوب نہ ہو۔ یہی وہ شرک سے پاک  عمل ہے جو اللہ کو اپنے بندوں سے درکار ہے۔

جب ایک بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت ان بنیادوں پر استوار ہو جائے تو اس کے لیے اپنے جسم پر حکمرانی کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ اس کی زبان اسکے قابو میں آجاتی ہے اور انسانی شہوات اس کو اپنی طرف کھینچنے کی کشش کھو دیتی ہیں۔ اس مقام پر آجانے کے بعد  بعید نہیں کہ وہ دنیا میں بھی کسی نہ کسی سطح کی حکومت کا اختیار  یا نیابت ِ الٰہی کے درجے پر فائز کر دیا جائے۔

پیارے ساتھیو، یہی وہ زندہ آرزو ہے جس کو حاصل  کرنے کے لیے سب مسلمین کو اپنے اندر  تڑپ پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔  چھوٹے چھوٹے دنیاوی مقاصدکو پیچھے چھوڑ کر اس اونچی اُڑان کی جُستجو اپنے اندر پیدا کرنے کی سعی کریں۔ کہ اگر یہ مقام حاصل نہ ہو سکا تو اپنی تقدیر خود لکھنے کی بجائے  تقدیر کا پابند ہو کرزندہ لاش کی طرح زندگی گزارنا پڑے گی ۔  زندگی ہدایت کی روشنی سے بے نور  اور موت مرگِ مفاجات  ثابت ہو گی۔اختتام  علّامہ اقبال کی اس دعا کے ساتھ:

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دےیا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے

طیّبہ خلیل۔ بحرین

ازدواجی تعلق میں غیر مشروط محبّت

ازدواجی رشتے میں خوشیاں بھرنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی میاں بیوی کو ایک دوسرے کی ایسے ہی عادت ہو جاتی ہے جیسے اپنے خاندان کے دوسرے افراد بہن بھائیوں کی عادت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی طرف کشش ختم ہونے لگتی ہے۔ جب آپ ازدواجی رشتے میں اس مقام پر آجائیں تو یہ وقت خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں آنے کا ہوتا ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے اوریہاں عملی زندگی میں آپ کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اگر تو آپ اللہ کی خاطر اپنے ساتھی سے محبّت کرتے ہیں تو آپ اُس کو محبّت کا احساس دلانے کے لیے ویسے ہی عمل کرتے رہیں گے جیسے کہ اُس محبّت کے دور میں کیا کرتے تھے جب خود اپنا نفس اس پر راضی تھا۔ اب جب نفس بیزار ہونے لگے تو اس کو یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ محبّت اللہ کی خاطر ہونی چاہیے اور مجھے چاہے اس کے عوض ویسی محبّت ملے یا نہ ملے میرا اپنا عمل اس کی وجہ سے تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
یہ رشتہ ایک دوسرے کے لیے غیر مشروط محبّت کا متّقاضی ہے اور یہ غیر مشروط محبّت صرف وہی شخص دوسروں کو دے سکتا ہے جس کے پاس اللہ کی محبت سے بھرا ہوا، اخلاص سے منوّر اورسمندر جیسی وسعت رکھنے والا بے غرض دل ہوتا ہے۔ جو کہ محبّت کا صلہ بندوں سے نہیں بلکہ صرف اللہ سے وصول کرنے کی نیّت رکھتا ہے۔ یہ سوچ اگر دو طرفہ ہو تو میاں بیوی کی محبّت کو اللہ تعالیٰ اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ اور اگر یہ یک طرفہ بھی ہو تب بھی اپنا اثر کر کے ہی رہتی ہے۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ میں نے ہی موت اور حیات کی تخلیق کی کہ یہ آزما سکوں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اس لیے جب کبھی زندگی کا سفر مشکل لگنے لگے سورہ الملک کی یہ آیت اپنے دل میں دہرا لیں۔ ایسا کرنے سے ہمّت اور حوصلہ دونوں لوٹ آئیں گے۔
طیّبہ خلیل۔ بحرین

بچپن کےرمضان اور عیدالفطر کی کچھ یادیں

اداس بچپن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سےبہت سے خوشی کے لمحات بھی میسّر آتے رہے گو کہ میری اداسی میری خوشی پر غالب رہی۔ ان خوشیوں میں رمضان المبارک اور عید کی خوشیاں سرِ فہرست تھیں۔ ان یادوں کے بارے میں سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ کتنے اہم اسباق تھے جو ہمارے والدین نے ہمیں کم سِنی میں ہی سکھا دیے جس نے ہم میں انسانیت نام کی شے کا بیج ڈال دیا تھا اور اس کے بعد وہ پودا خودبخود پروان چڑھنے والا تھا۔

آزاد بندۂ مؤمن کی شخصیّت

ہماری نسل نے ایسے ماحول میں نشو نما پائی جس میں خدا سے تعلق محبّت سے زیادہ خوف پر مبنی تھا۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل پر بھی جو کہ چاہے اسلامی ہو نہ ہو مگر ذرا سا بھی مروّجہ مذہب سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو کفر اور شرک کے فتوے لگانا ہمارے ماحول میں عام بات تھی اور بد قسمتی سے ابھی بھی ہے۔  آخرت کی کامیابی کے حصول کے لیے نیک عمل کا محرک بھی لازوال نعمتوں کو بنایا گیا ۔ ہمیں اللہ سے ملاقات کی خاطر مخلوق سے بے غرض ہو کر عمل کی نیت سے روشناس نہیں کروایا گیا۔ایسے محسوس ہوتا  کہ جیسے بچے کو گولیوں ، ٹافیوں کا لالچ دے کر مطلوبہ عمل کروا یا جارہا ہے۔ کیا ایسی ذہنیّت جو اللہ کا خوف  ہی خوف دلاتی رہے اور اللہ کی محبّت اور اس کی ذات و صفات  کا تعارف نہ کروائے اور مؤمن کو جنّت کی حوروں کا لالچ دے کر عمل کروائے ؛کیا ایک ایسا مؤمن پیدا کر سکتی ہے ؛ جو کہ خود بھی آزاد ہو ،جس کے   افکار بھی آزاد ہوں اور اس کا دل بھی  جہانگیر محبّت اور انسانیت کی فلاح کا مقصد  رکھتا ہو؟ ہمارے ماحول میں تو نیکی کا کام کرنے پر بھی اگلی فکر سے روشناس کروایا جاتا کہ پتہ نہیں اللہ کے حضور قبول ہو کہ نہ ہو؟

اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے خوف کی ایسی حالت مطلوب ہےجو کہ اللہ کی رحمت کی اُمید سے  زیادہ نہ ہو۔ ایمان کی کیفیت کو عین   خوف  اور رجاء کے بین بین ہونا چاہیے۔ بلکہ اگر رحمت کا گمان عذاب سے زیادہ نہ ہو تو ایسے فرد کی شخصیّت خود اعتمادی حاصل نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ کو ایسے بندےہی مطلوب ہیں جو کہ غلطی کریں اور اس کو فوراً پہچان کر توبہ و استغفار کر کے پھر اُٹھ کھڑے ہونے میں ذرا سا بھی توقّف نہ کریں۔ غلطی  پر ندامت اور شرمساری ہو مگر اس کی مقدار اتنی ہو کہ وہ خوف و یاس و حزن میں تبدیل نہ ہو جائے بلکہ اس کے برعکس اللہ کی رحمت کی امید، اس کی محبّت  کا احساس  کم از کم اتنا غالب تو ہو جو کہ مؤمن کو ناامید کیے بغیر فوری طور پر دوبارہ  سے اُٹھ جانے کی تحریک دلائے اور اس کے عزم میں فرق نہ آئے ۔ ایسا مائنڈ سیٹ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنے آپ کو معاف کرنا سیکھیں اور پھر استغفار کر کے اللہ سے بھی یہی امید رکھیں کہ اس رحیم و کریم ذات نے بھی معاف کردیا ہے۔ اگر ایسا نہیں  کیا جائے گا تو  شخصیّت میں اعتماد کی بجائے ایک بے چارگی ، لاچاری اور مایوسی طاری ہونے لگے گی جو کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے لیے سخت ناپسند ہے۔

ایک بندۂ مومن کا عزم کیا ہوتا ہے اور کن امور کے متعلق ہوتا ہے؟  مؤمن کا عزم ایسا مضبو ط ہونا چاہیے کہ جس کو کوئی بڑی سے بڑی طاغوتی طاقت بھی متزلزل نہ کر سکے۔ مؤمن کا عزم  اللہ کا ولی بننے کی کوشش ،اس دنیامیں بھیجے جانے کے مقصد کی تلاش  ، اپنا مقصد اور اپنی خودی کی تکمیل کی جدّو جہد اور آخرت کی کامیابی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔

مؤمنین کوغلطی کا مرتکب ہونے پر توبہ اوراستغفار کو لازماً پکڑنا چاہیے اور اس کے بعد نیک نیّتی سے اپنا عمل بغیر وقفہ کیے دوبارہ شروع کر دینا چاہیے۔ اس دنیا  کی امامت کرنے کے لیے جو اوصاف درکار ہیں  وہ بقول علّامہ اقبال  شجاعت، عدالت، صداقت، نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پر سوز کی صفات ہیں۔ دنیا کی امامت کرنے والے نوجوان  سے ایسا کردار اور شخصیّت مطلوب ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے آگے اپنی عاجزی کا اظہار کرے، لوگوں  کے سامنے   مضبوط اور باوقار شخصیّت کا مالک ہو  جبکہ اس میں تکبّر نام کی شے رائی کے دانے کے برابر بھی نہ ہو۔ جب خودی کا مقام حاصل ہو جائے تو اس سفر میں قدم قدم پر راہ کی تکلیفوں اور رستے سے تھوڑی دیر کوبھٹک جانے کے غم کو اپنے اوپر حاوی ہونے سے روکنا  پڑتا ہے ،صرف  اللہ کی رضا کی خاطر عمل کرنا پڑتا ہے ، ایک کے بعد ایک منزل کا متلاشی رہنا پڑتا ہے تب ہی جا کر  سب سے  احسن منزل یعنی کہ جنّت اور سب سے عظیم کامیابی یعنی کہ اس میں بخیروعافیت داخلہ بوجہ اللہ کی رحمت سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین