سوشل میڈیا پر خود نمائی اور مؤمن سے مطلوب طرزِ عمل

اس دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور لوگ اسے پسند کریں مگر اس خواہش کو ہم نے ایک خبط کی صورت میں سوشل میڈیاز کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دیکھاجن  کے استعمال کی وجہ سے خود نمائی میں بے پناہ  اضافہ ہوا۔ خود نمائی ایک ایسا فعل ہے جو کہ آپ کے اند ر کی  اِن سیکورٹی اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ خوشی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے اپروول کے محتاج ہیں۔ ایک سچا مؤمن ہر نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور وہ لوگوں کا درددل میں رکھتا ہے کہ وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں؛ خواہ  وہ خوبصورت اولاد ہو، شوہر، بیوی ، بچے ہوں، زیب تن کیا ہوا لباس ہو، چہرے کی خوبصورتی ہو، آپ کے سامنے پڑا ہوا کھا نا  ہو  ، آپ کے دنیا کی سیر کی تصویر ہو یا وہ سب کچھ جو ایک تصویر ظاہر کرتی ہے  جس کو لوگوں پر عیاں کرنے کے لیے وہ تصویر اپ لوڈ کی گئی ہے؛ان لوگوں کو اداس کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں جن کے پاس یہ سب نعمتیں نہیں ہیں۔

ہ۔مؤمن اپنی نعمتوں کی خود نمائی نہیں کرتا بلکہ اللہ کی حمد بیان کر کے اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اس نعمت کو صرف اپنی ملکیّت نہیں سمجھتا بلکہ اس میں سا ئل و محروم کا حق بھی رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن خوشی ملنے پر سجدہ کرتا  ہےاور اللہ سے رازونیاز کر کے اپنی خوشی کا دل سے شکر ادا کرتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی کے اشتہار نہیں چھپواتا۔

ہ۔مؤمن صرف خیر کی باتیں لوگوں سے شیئر کرتا ہے اور ا س کی نیّت  لوگوں سے داد وصول کرنے کی نہیں ہوتی بلکہ دین کی بھلائی اور خیر لوگوں تک پہنچانے کا مقصد  ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی بڑی سے بڑی کامیابی صرف اللہ کی مدد ،  اسی کے وسائل کی فراہمی، اسی کی دیے ہوئے اسباب اور اسی کی دی ہوئی عقل سے  حاصل کی گئ ہے تو پھر اس کا طرزِ عمل عاجزی اختیار کرنے کا ہونا چاہیے ۔

ہ۔ایک مؤمن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے نیک اعمال کا خراج یا تعریف اللہ سے طلب کرنے کی بجائے لوگو ں  سے چاہنے لگے۔

ہماری آجکل کی نوجوان نسل وہ نسل ہے جو بغیر کوئی خاطر خواہ کام کیے ہی مشہوراور دولت مند ہونا چاہتی ہے۔ بطور مسلمان ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ہر کام اللہ کی عبادت  یعنی کہ صرف اللہ سے جزا حاصل کرنے کی نیّت سے کیا جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان کی تخلیق کا مقصد ہی صرف اپنی عبادت کرنا قرار دیا ہے ۔ہر انسان کی  زندگی میں ایک خلاءباقی  رہتا ہے جب تک  وہ کسی ایسے کام سے پُر نہیں کیا جاتا جو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مقصد لیے ہوئے ہو۔  جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیاکہ میں نے انسا ن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا تو یقیناً  ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک خاص عبادت کی صلاحیت ، طاقت  یا وسعت دے کر تخلیق کیا ہے اور وہی انسان کی عظیم ترین عبادت ہوتی ہے۔ باقی یکساں عبادات؛ نماز، روزہ، حج، زکوٰ ۃ تو اس عظیم عبادت کے لیےانسان کو چارج کرنے کے  اسباب ہیں۔

آپ اپنی مخصوص عبادت کو تلاش کیسے کر سکتے ہیں؟  اس کے لیے  سب سے پہلے اپنے اندر جھانک کر دیکھیں وہ کون سا ایسا کام اگر کبھی جو کیا تھا جس نے آپ کو خوشی دی  اور اس میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی ۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ آپ اس کام کو پکڑیں اور اس کی نیّت  اللہ کی رضا بنا لیں۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا کی نیّت شامل کی جا سکتی ہے۔یا  آپ ارد گرد دیکھیں کہ کون سا کام رضا کارانہ طور پر آپ آسانی سے کر سکتے ہیں  حالا نکہ وہ کا م کسی  اور کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔کسی کی طرف سے کوئی التجا موصول ہو تو اس کو ہر گز   ہلکا نہ لیں اور اگر اپنے اندر اس کام کرنے کی وسعت محسوس کریں تو ضرور وہ کام کردیں۔کسی کی زندگی میں کوئی کمی محسوس کریں تو اس کو اس سے مطّلع کریں اور اگر خود وہ کمی پوری کرنے  کی سکت رکھتے ہیں تو ایسا ضرور کریں۔ ہم سب انسانوں کو ایک دوسروں کی ضرورت  اس وجہ سے بھی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے  گمشدہ ٹکڑے لوگوں میں بانٹ دیے ہوتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو مکمّل کرنے کے لیے انہی ٹکڑوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر ایک معاشرے کا ہر فرد یہ سوچ اپنا لےکہ اگر میرے پاس کس شخص کی مطلوبہ چیزہے تو میں اسے وہ دے دوں  تو وہ اپنے ارد گرد لوگوں سے غافل نہ رہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہر جاننے اور نہ جاننے والے کو سلام کرے اور مسکرا کر خندہ پیشانی سے ملے۔ یہی طرزِ عمل اپنانے سے اللہ تعالیٰ اس خاص عبادت کی  طرف رہنمائی فرماتے ہیں جو خودغرضی کی بجائے انسانیت کی خدمت پر مبنی ہوتی ہے اور یہی عین عبادت ہے  ۔

ہر ایک ٹرینڈ کا بھی ایک ٹائم پیریڈ ہوتا ہے ؛ اس کے بعد اس میں تبدیلی اور زوال آتا ہے۔  میرے خیال سے اب  سوشل میڈیا پر خودنمائی اور انٹرٹینمنٹ کا دور گزرنے والا ہے اور دنیا  ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے جس میں ہر انسان سچی خوشی اللہ کی عبادت کی نیّت سے کی گئی تخلیق اور دوسرے انسانوں کے لیے کار آمد ثابت ہونے کی وجہ سے حاصل کرے گا۔ اب  اس دنیا کی سطحی قسم کی نمودونمائش کی بجائے  ہر انسان اپنی تخلیق اور کارآمد کاموں سے پہچانا جائے گا۔

 میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جس میں ہر انسان و ہی کام کرے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی نیّت معاش حاصل کرنے کی نہ ہوبلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ہو جبکہ  گھر کا راشن ، پانی اور باقی سہولیات پہنچانا  حکومت اور کمیونٹی کی ذمہ داری ہو۔ ایسا معاشرہ دن دوگنی رات چوگنی ترقّی کر سکتا ہے اور امن  اور اخوّت کی ایک نظیرثابت ہو سکتا ہے۔

طیّبہ خلیل ۔ بحرین

گھر بسانے کے اصول

گھر بسانے کے اصول میری پہلی مختصر کتاب ہے۔ یہ کتاب میں نے ان نکات کی طرف توجہ دلانے کے لیے لکھی ہے جو ہمارے ہاں ازدواجی تعلقات میں عرصہ دراز سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور جن کی روشنی میں اپنی سوچ اور رویے تبدیل کرنے سے اس لطیف رشتے کو کامیاب اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے قارئین کو پورا اختیار ہے کہ کام کی بات پاس رکھیں اور ناکام کو دیوار پر دے ماریں۔

cover - gbka

غیر اسلامی ممالک میں چہرے کا پردہ

chehraykaparda

مغرب اور غیر مسلم ممالک میں اسلاموفوبیا اس قدر بڑھ رہا ہے کہ اب تو نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ نقاب پوش یا حجابی خواتین کو غیر مسلموں کی طرف سے سرعام ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ ممالک میں تو سکارف تک بین کرنے کے لیے قومی عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔

 ایسے لوگ جو اسلام کا غلط اور انتہا پسند نقطہء نظر دکھائے گئے ہیں وہ جب مسلم خواتین کو نقاب کے پیچھے دیکھتے ہیں تو وہ ان کوکسی دوسری ہی دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں. وجہ یہ کہ وہ کسی طرح بھی ان سے ریلیٹ اورکنیکٹ  نہیں کر پاتے. کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس لباس پہننے پر، گھروں میں قید ہو رہنے پر مجبور کی گئی ہیں۔ شاید یہ بات کچھ خواتین کے لیے صحیح ہو مگر ایک کثیر تعداد ان خواتین کی خود اپنی مرضی سے اللہ کی خاطر اس کا حکم سمجھ کراپنا چہرہ چھپاتی ہیں۔ واضح رہے یہاں پر بات صرف چہرہ چھپانے کی کی جارہی ہے۔ جسے پہلے تو مذہبی سکالرز فرض کا درجہ دیتے تھے مگر پھر تحقیق کے بعد اس نقطہ نظر میں نرمی اختیار کی گئی۔ اور اب اسےفرض تو نہیں البتہ پسندیدہ اور تقوی سے قریب تر خیال کیا جانے لگا ہے۔

آزادانہ طریقے سے لباس پہننے اور زیب و زینت اختیار کرنے والی مسلم خواتین کو باپردہ خواتین کی طرف سے بےحیائی اور غیر متّقی ہونے کا لیبل لگایا جاتا ہے یا کم از کم ان کا ذہن خود بخود ایسےجج کرنے لگتا ہے۔ اس کے متضاد نقاب پوش خواتین کو undefined اور بیک ورڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں جو فاصلہ ان دو مسلم خواتین  کے گروہوں میں نظر آتا ہے یہ فاصلہ غیر مسلم خواتین اور نقاب پوش خواتین کے درمیان مزید گہرا اور طویل ہو چکا ہے یہاں تک کہ وہ ایک دریا کے دو مخالف سمت کے کناروں پر کھڑی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان ایک رشتہ undefined کا بھی تو تھا وہ کہاں گیا؟ کیا ایک مسلم عورت سے صرف اس کے شوہر، اس کے بچوں، اس کے والدین اور خاندان یا حلقے کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب ہے؟ بہت سی نقاب پوش خواتین علمی لحاظ سے غیر معمولی قابلیت رکھتی ہیں ان کی بدولت غیر مسلم عورتوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے مگر وہ تو ایک بلند و بالا دیواروں والے بند قلعے کی مانند خود تک رسائی کا راستہ بند کیے ہوئے ہیں.

اسلام اعتدال پسند مذہب ہے اور ہمیں اُمّتِ وسط بنایا گیا ہے۔ وسط کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاملات میں ایکسٹریم چوائس  کی بجائے مِڈل وے اختیار کیا جائے۔ اس اصول کے موافق جو خواتین ماڈیسٹ ڈریسنگ کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں ان میں سے مظبوط عقیدہ اور اخلاقیات سے لیس خواتین اپنے کردار کی وجہ سے غیر مسلم خواتین کو ایک بہتر اور موثر اسلام کی دعوت دے رہی ہیں ۔ جو کہ ان کی کردار کی مضبوطی، نفسِ مطمئن اور اخلاقی بلندی کی وجہ سے ان کے مذہب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتیں۔

اسلام کے بنیادی عقائد اور بنیادی تعلیمات کے علاوہ کچھ احکامات میں حکمت بھی مطلوب ہے اسی وجہ سے احکامات بتدریج نازل ہوئےاور پردے کے احکام کے نازل ہونے کا پس منظر اور اس کا وقت بھی اپنے اندر حکمت لیے ہوئے ہے ۔بے شک امہات المومنین نے پردے کے احکامات نازل ہونے کے بعد اپنے جسم کے ساتھ اپنا چہرہ بھی غیر محرم مردوں سے چھپایا ہو گا کیونکہ ان کو امت کی ماوؤں کا درجہ حاصل تھا اور آپ ص کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا جائز نہ تھا۔ مگر قرآن کے احکامات میں مسلم اورمومن خواتین کے لیے لچک پائی جاتی ہے اور ان کو جسم اور خصوصا سینہ ڈھانپنے ، تبرج سے بچنے اور ظاہری زیب و زینت کے سوا جسم کی زیبائش ظاہر نہ کرنے کا اصول دیا گیا ہے۔ احادیث سے ہمیں ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ خواتین چہرے کے پردے کے بغیر بھی اسلامی معاشرے میں موجود تھیں۔ جبکہ پردے کے احکام سے پہلے تو سب کو علم ہی ہے کہ لباس کی کیا صورت عرب معاشرے میں رائج تھی.

اگر ایک خاتون پانی میں ڈوب رہی ہو اور اسے بچانے کے لیے ایک مسلم مرد ہی موجود ہو تو کیا وہ یہ سوچے گا کہ چونکہ ایک غیر محرم عورت کو ہاتھ لگانا گناہ ہے تو اس کو ڈوبنے سے بچانا بھی گناہ شمارہو گا۔ یہ تو ایک بہت سادہ سی بات ہے کہ یقینا ایسی صورت حال میں ایک زندگی بچانا ہی سب سے اہم بات ہے۔ اس وقت غیر محرم عورت کو ہاتھ نہ لگانے والا اصول لاگو نہیں ہو گا۔

اب اسی صورت حال میں کچھ تبدیلی کرتے ہیں. ڈوبنے والے وہ لوگ ہیں جو کہ لا الہ الا اللہ سے واقف نہیں ( جو کہ دوزخ سے بچائے جانے اور جنت میں جانے کا کم از کم کرائیٹیریا ہے ) اور بچانے والے مسلمان ۔ سوچیں کہ کتنی بڑی تعداد ہےغیر اسلامی معاشرے میں ان لوگوں کی جو عقیدہ توحید سے ہی واقف نہیں یا پھر اس سے واقف ہونے کے باوجود ہزار ہا کشمکش کا شکار ہیں۔ ہم سب مسلم مرد اور عورتیں داعی الا اللہ کی ذمہ داری دیے گئے ہیں ۔ ایسے میں اگر مسلم خواتین اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ہوں گی جو ایک انسان کی پہلی شناخت ہے تو غیر مسلم عورتیں کیسے انہیں اپروچ کر سکیں گی،  ان کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس کر سکیں گی گھل مل سکیں گی یا ان کی سلیم فطرت، تمانیت اور پر وقار شخصیت سے متاثر ہو سکیں گی اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کی دعوت دی جاسکیں گی کہ جس کو صرف زبان سے پڑھ لینے پر بھی ہمارے نبی ص نے اپنے چچا کے لیے اللہ تعالی سےجہنم سے بچائے جانے کی سفارش کرنے کی امید رکھی۔ اسلام کا نصب العین اجتماعی فلاح اور کامیابی ہے صرف چند لوگوں کی مکمل دین داری مقصود نہیں ۔ تو کیا ایسے میں جب معاشرے میں اس قدر ضد موجود ہو؛ ایمانیات اور عقائد پر مساوات پہلا ہدف نہیں ہونا چاہیے ؟

تمام مومن عورتیں اللہ کا تقوٰی اختیار کرنے کی نیت سے چہرہ چھپاتی ہیں اور بے شک وہ عزت دی گئی ہیں مگر کیا کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ کہیں یہ عزت اور حرمت لا الہ الا اللہ کی عزت اور حرمت سے زیادہ تو نہیں بڑھا دی گئی ۔ کیا ایک مومن عورت کے قابل شناخت اور باآسانی اپروچ ایبل ہونے سے اگر لا الہ الا اللہ کا پیغام ایک بھی غیر مسلم عورت (یا باذن اللہ بہت بہتیروں تک) پہنچ جائے اور وہ جہنم کی آگ سے  بچا لی جائے توکیا یہ زیادہ افضل بات ہو گی یا ایک ایسی خاتون کا صرف اپنے ہم عقیدہ حلقے میں اصلاح کی کوششیں کرنا زیادہ افضل ہو گا۔ فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ غیر مسلم خواتین سے میل جول بڑھا کر انھیں اسلام کے بنیادی عقائد اور اخلاقی نظام سے روشناس کروایا جائے. اگر اللہ کے لیے اپنے نفس پہ جبر کرکے چہرہ چھپانا باعث تقوٰی خیال کیا جاتا رہا ہے تو کیا اللہ کی خاطر چہرہ ظاہر کرنے کی ہمت نفس کے خلاف جہاد شمارکی جا سکتی ہے۔؟ کیا ہم اسلام کے عقائد اور احکامات کو اس کی قرانی ترتیب اورپرائیوریٹی کے مطابق دیکھ رہے ہیں یا سیکنڈری باتوں کو پرائمری کا درجہ دے کر پرائمری تعلیم بھی مشکل بنا دی گئی ہے۔؟

یہ تحریر میری اپنی ذاتی انسائٹ پر مبنی ہے. میں نے صرف اپنے اندر کا سچ پہنچانے کی کوشش کی ہےاور میں سمجھتی ہوں کہ اس سے بہتر سوچ موجود ہو سکتی ہے جو کہ شاید فی الحال میرے علم میں نہ ہو۔.میرے خیال میں ہمیں بطورامت  ایک نئی سوچ اور معاملات میں حکمت کا عنصر ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

طیبہ خلیل – بحرین