سوشل میڈیا پر خود نمائی اور مؤمن سے مطلوب طرزِ عمل

اس دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور لوگ اسے پسند کریں مگر اس خواہش کو ہم نے ایک خبط کی صورت میں سوشل میڈیاز کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دیکھاجن  کے استعمال کی وجہ سے خود نمائی میں بے پناہ  اضافہ ہوا۔ خود نمائی ایک ایسا فعل ہے جو کہ آپ کے اند ر کی  اِن سیکورٹی اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ خوشی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے اپروول کے محتاج ہیں۔ ایک سچا مؤمن ہر نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور وہ لوگوں کا درددل میں رکھتا ہے کہ وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں؛ خواہ  وہ خوبصورت اولاد ہو، شوہر، بیوی ، بچے ہوں، زیب تن کیا ہوا لباس ہو، چہرے کی خوبصورتی ہو، آپ کے سامنے پڑا ہوا کھا نا  ہو  ، آپ کے دنیا کی سیر کی تصویر ہو یا وہ سب کچھ جو ایک تصویر ظاہر کرتی ہے  جس کو لوگوں پر عیاں کرنے کے لیے وہ تصویر اپ لوڈ کی گئی ہے؛ان لوگوں کو اداس کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں جن کے پاس یہ سب نعمتیں نہیں ہیں۔

ہ۔مؤمن اپنی نعمتوں کی خود نمائی نہیں کرتا بلکہ اللہ کی حمد بیان کر کے اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اس نعمت کو صرف اپنی ملکیّت نہیں سمجھتا بلکہ اس میں سا ئل و محروم کا حق بھی رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن خوشی ملنے پر سجدہ کرتا  ہےاور اللہ سے رازونیاز کر کے اپنی خوشی کا دل سے شکر ادا کرتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی کے اشتہار نہیں چھپواتا۔

ہ۔مؤمن صرف خیر کی باتیں لوگوں سے شیئر کرتا ہے اور ا س کی نیّت  لوگوں سے داد وصول کرنے کی نہیں ہوتی بلکہ دین کی بھلائی اور خیر لوگوں تک پہنچانے کا مقصد  ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی بڑی سے بڑی کامیابی صرف اللہ کی مدد ،  اسی کے وسائل کی فراہمی، اسی کی دیے ہوئے اسباب اور اسی کی دی ہوئی عقل سے  حاصل کی گئ ہے تو پھر اس کا طرزِ عمل عاجزی اختیار کرنے کا ہونا چاہیے ۔

ہ۔ایک مؤمن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے نیک اعمال کا خراج یا تعریف اللہ سے طلب کرنے کی بجائے لوگو ں  سے چاہنے لگے۔

ہماری آجکل کی نوجوان نسل وہ نسل ہے جو بغیر کوئی خاطر خواہ کام کیے ہی مشہوراور دولت مند ہونا چاہتی ہے۔ بطور مسلمان ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ہر کام اللہ کی عبادت  یعنی کہ صرف اللہ سے جزا حاصل کرنے کی نیّت سے کیا جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان کی تخلیق کا مقصد ہی صرف اپنی عبادت کرنا قرار دیا ہے ۔ہر انسان کی  زندگی میں ایک خلاءباقی  رہتا ہے جب تک  وہ کسی ایسے کام سے پُر نہیں کیا جاتا جو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مقصد لیے ہوئے ہو۔  جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیاکہ میں نے انسا ن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا تو یقیناً  ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک خاص عبادت کی صلاحیت ، طاقت  یا وسعت دے کر تخلیق کیا ہے اور وہی انسان کی عظیم ترین عبادت ہوتی ہے۔ باقی یکساں عبادات؛ نماز، روزہ، حج، زکوٰ ۃ تو اس عظیم عبادت کے لیےانسان کو چارج کرنے کے  اسباب ہیں۔

آپ اپنی مخصوص عبادت کو تلاش کیسے کر سکتے ہیں؟  اس کے لیے  سب سے پہلے اپنے اندر جھانک کر دیکھیں وہ کون سا ایسا کام اگر کبھی جو کیا تھا جس نے آپ کو خوشی دی  اور اس میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی ۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ آپ اس کام کو پکڑیں اور اس کی نیّت  اللہ کی رضا بنا لیں۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا کی نیّت شامل کی جا سکتی ہے۔یا  آپ ارد گرد دیکھیں کہ کون سا کام رضا کارانہ طور پر آپ آسانی سے کر سکتے ہیں  حالا نکہ وہ کا م کسی  اور کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔کسی کی طرف سے کوئی التجا موصول ہو تو اس کو ہر گز   ہلکا نہ لیں اور اگر اپنے اندر اس کام کرنے کی وسعت محسوس کریں تو ضرور وہ کام کردیں۔کسی کی زندگی میں کوئی کمی محسوس کریں تو اس کو اس سے مطّلع کریں اور اگر خود وہ کمی پوری کرنے  کی سکت رکھتے ہیں تو ایسا ضرور کریں۔ ہم سب انسانوں کو ایک دوسروں کی ضرورت  اس وجہ سے بھی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے  گمشدہ ٹکڑے لوگوں میں بانٹ دیے ہوتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو مکمّل کرنے کے لیے انہی ٹکڑوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر ایک معاشرے کا ہر فرد یہ سوچ اپنا لےکہ اگر میرے پاس کس شخص کی مطلوبہ چیزہے تو میں اسے وہ دے دوں  تو وہ اپنے ارد گرد لوگوں سے غافل نہ رہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہر جاننے اور نہ جاننے والے کو سلام کرے اور مسکرا کر خندہ پیشانی سے ملے۔ یہی طرزِ عمل اپنانے سے اللہ تعالیٰ اس خاص عبادت کی  طرف رہنمائی فرماتے ہیں جو خودغرضی کی بجائے انسانیت کی خدمت پر مبنی ہوتی ہے اور یہی عین عبادت ہے  ۔

ہر ایک ٹرینڈ کا بھی ایک ٹائم پیریڈ ہوتا ہے ؛ اس کے بعد اس میں تبدیلی اور زوال آتا ہے۔  میرے خیال سے اب  سوشل میڈیا پر خودنمائی اور انٹرٹینمنٹ کا دور گزرنے والا ہے اور دنیا  ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے جس میں ہر انسان سچی خوشی اللہ کی عبادت کی نیّت سے کی گئی تخلیق اور دوسرے انسانوں کے لیے کار آمد ثابت ہونے کی وجہ سے حاصل کرے گا۔ اب  اس دنیا کی سطحی قسم کی نمودونمائش کی بجائے  ہر انسان اپنی تخلیق اور کارآمد کاموں سے پہچانا جائے گا۔

 میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جس میں ہر انسان و ہی کام کرے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی نیّت معاش حاصل کرنے کی نہ ہوبلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ہو جبکہ  گھر کا راشن ، پانی اور باقی سہولیات پہنچانا  حکومت اور کمیونٹی کی ذمہ داری ہو۔ ایسا معاشرہ دن دوگنی رات چوگنی ترقّی کر سکتا ہے اور امن  اور اخوّت کی ایک نظیرثابت ہو سکتا ہے۔

طیّبہ خلیل ۔ بحرین

سوشل نیٹ ورکس بمثل دورِ جدید کی مساجد

اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی جیسے ہی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے ترقی کرنی شروع کی توآن لائن سوشل نیٹ ورکنگ کا تصوّر وجود میں آیا۔ ابتدا میں جب ٹچ فون سسٹم نہیں ہوتے تھےتو نیٹ ورکنگ کے لیے  آن لائن چیٹ رومزنے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ پھر اس کے بعد میسنجر نامی سافٹ ویئرز پرمختلف ممالک کے لوگوں نے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ بعد ازاں جب ٹچ سسٹم والے موبائل فونز عام اور سستے بکنے لگےتو لوگ اپنے خاندان، دوست احباب اور دنیا بھر سے مختلف لوگوں سے جدید سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی بھی ایجاد بذاتِ خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس کا  استعمال اس کو برا  بناتا ہے۔ میں نے بہت گہرائی میں سوشل نیٹ ورکس کے مقاصد  اور ان کے آج کل ہونے والے مثبت اثرات پر نظر ڈالی تو اندازہ ہو ا کہ ایک ایسا سوشل نیٹ ورک جس میں فتنہ پھیلانے کی  استعداد  کو کنٹرول میں رکھا جا سکے  وہ ہوبہو ایک مسجد کا کردار ادا کر سکتا ہے۔  

مسجد اور سوشل نیٹ ورکس میں مماثلت

اسلام میں مردوں کے لیے نماز مسجد میں ادا کرنا فرض ہے  اس کے پیچھے بنیادی  حکمت یہی ہے کہ ایک بستی، گلی محلّے اور علاقے کے لوگ آپس میں مل جل کر ایک اتحاد قائم کر لیں ۔ کہ وہ پنج وقتہ  آپس میں ملیں تو ایک دوسرے کی ضروریات معلوم ہوتی رہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں کہ وہ شیطان جو لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا چاہتا ہے اس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔ کوئی گرنے لگے تو اسے تھام لیا جائے ۔ ایک دوسرے کو اوپر اٹھایا جائے۔  ایک دوسرے کی حاجات اور پریشانی کو دور کیا جا سکے ۔امر باالمعروف اور نہی عنِ المُنکر کا کام بھی احسن انداز سے کیا جاسکے۔ یہی کام ہو بہو آجکل  وٹس ایپ اور اس سے ملتی جلتی ایپس  کر رہی ہیں ۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ و اصلاح کے کاموں میں آج کل تو کثیر تعداد میں لوگ  اپنے علم اور استعداد کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے حق بات اور حکمت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ قریباً  ہر کمیونٹی کا گروپ بنا ہوا ہے اور یہ روایت بہت مقبول ہو رہی ہے۔ بس گھر کے افراد کے درمیان موبائل فونز کی وجہ سے دوری نہیں آ نی چاہیے  باقی کمیونٹی کی فلاح کے لیے نہایت کار آمد جدید طریقہ ہے۔اور خواتین بھی اپنے گھر کے اند ر بیٹھے بٹھائے ہی ان جدید مساجد کا حِصّہ بنی ہوئی ہیں ۔

ہر سوشل نیٹ ورک کا ایک مزاج ہے ۔ فیس بک لوگوں کے چہروں اوران کی زندگیوں کی رنگینیوں؛ تصویروں ،  ویڈیوزاور تحریروں سے بھر پور ایک دلچسپ  ایپ ہے ۔ بہت سے باا ثر لوگ اس میڈیا کے ذریعے  لائیو آکر لوگوں کو بہت مفید باتیں بتا تے ہیں۔ خواتین نے اپنے گروپس بنارکھے ہیں جس میں بچوں کے مسائل، ازدواجی مسائل، انفرادی مسائل کا حل بڑی آسانی سے مختلف لوگوں کی رائے اور مشوروں سے حاصل ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر انسان کے پاس جُزوی عقل ہے اس لیے اس کو لازماً   اپنی ذات اور عقل کا وہ حِصّہ جو دنیا میں کسی اور کے پاس ہے؛ مطلوب ہوتا ہے تاکہ اس کی زندگی کے خلاء پُر ہوتے رہیں۔ بیشترلوگ  انہی نیٹ ورکس کےذریعے اپنا ادھورا پن دور کر پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ آن لائن بزنس بڑی کامیابی کے ساتھ اسی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے کر رہے ہیں۔

اگر دکھاوا اور خود نمائی کرنے کی بجائے  ان نیٹ ورکس کو انسانیت کی فلاح کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ہی تو وہ  دورِ جدید کی مساجد ہیں جو  دینِ اسلام کا انسانیت کی فلاح اور اتّحاد کا نصب العین ہو بہو پورا کر رہی  ہیں  ماسوا  کچھ بد تہذیب لوگوں اور عناصر کے جو فتنہ، نفرت  ، فحاشی اور منفی جذبات لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔  

ٹویٹراپنی جگہ ایک کارآمد  ایپ ہے جس کا مقصد ہے کہ بس کام کی بات دو تین لائنوں میں لکھ کر  لوگوں تک پہنچا دو۔ ہر انسان کسی نہ کسی الہامی علم کا حامل ہوتا ہے۔ اگرایک بااثر اور اعلیٰ ذہانت رکھنے والا شخص  یہ علم ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے  فوری  شیئر کرتا رہے تو چند لمحات میں ہی  بہت سے  انسان ایک نیک اچھی اور حق کی بات  کا علم حاصل کر کے اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ ایک فرد کو جذبِ باہمی کے اصول کے مطابق باقی انسانوں سے  جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام کا مقصد بھی یہی تو ہے  کہ انسان  اتّحاد اور ولایتِ باہمی کے رشتے کے ساتھ جُڑ جائیں اور حق کی بات پوری دنیا میں پھیلا دی جائے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بندے سے اپنی عبادت مطلوب ہے تو جو کوئی شخص بھی ان ایپس کا استعمال رحمانی مقصد کے ذریعے کرے گا وہ ہوبہو مسلم  امّت کی وحدت اور فلاح کا  مقصد پورا کرنے میں اپنا کردار اد ا کرے گا۔ 

پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے میں نے فیس بک  ایپ کا استعمال ترک کر رکھا تھا جس کی ذاتی وجہ یہ تھی کہ میری ذہنی علّت  مینیا بے قابو ہونے کی وجہ سے میں کچھ عرصے تک  سائیکوسس کا شکار رہی۔ جس کے باعث میں اپنے من کی دنیا کی بے ہنگم  باتیں سوشل نیٹ ورکس پر تیزی سے شئیر کرنے لگی جبکہ میں ایک حقیقی نہیں بلکہ تخیّلاتی دنیا میں موجود تھی۔ اس کے بعد مجھے کچھ عرصہ ڈیپریشن رہا اور میں  نے اپنا بکھرا ہوا وجود دوبارہ جوڑنے کے مقصد سے کچھ عرصےتک فیس بک کی  ایپ کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ ان سوشل نیٹ  ورکس میں  لوگوں کو زندگی میں آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر کچھ صاحبِ اخلاص لوگ تو خوشی محسوس کرتے ہیں مگر وہ لوگ جو اپنی اصل، اپنے روحانی وجود سے جُڑے نہیں ہوتے  وہ ان نیٹ ورکس  سے منفی جذبات اوردوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کا موازنہ کرنے کی  وجہ سے پریشان رہنے لگتے  ہیں۔ چونکہ وہ خود اندر سے خالی پن محسوس کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کو چاہیےکہ  وہ سوشل میڈیا سے کچھ عرصے دوری اختیار کر کے پہلے اپنا آپ اور اپنا اس زندگی میں آنے کا رحمانی مقصد اور اپنی خاص عباد ت کی تلاش کریں تاکہ  وہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں  اپنے حِصّے کی شمع جلا سکیں اور اپنی بہت ہی خاص تخلیق لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اپنی کی ہوئی ذاتی تخلیق ہی وہ جوہر ہے جو انسان  کو  استغنا ، لوگوں سے بے نیازی اور اپنے من کی دنیا کی لذّت سے روشناس کرواتا ہے۔ اگر تمام انسان تخلیق کا جذبہ اور لگن پیدا کر لیں تو معاشرے کا کوئی بھی فرد ادھورا پن محسوس نہیں کرے گا  بلکہ وہ اپنی اور دوسروں کی خودی کی صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے راضی رہے گا۔

میرا ایک خواب ہے کہ پاکستانی شہریوں کا” خودی “کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک بنایا جائے جس کوبنیادی معاشرتی، معاشی، اقتصادی اور دیگر انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک محلے، علاقے، شہر، صوبے اور ملک کے افراد کو آپس میں اور فرد کی سطح سے لے کر حکومت تک کنیکٹ کیا جا سکے۔ اس نیٹ ورک کا ڈیزائن قرآن اور صحیح حدیث  کی اعلیٰ اخلاقیات  پر مبنی ہو اور اس کو فتنہ پھیلانے کی طاقت اور اجازت نہ دی جائے۔ یہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے میں پہلا مؤثر ترین اور تیز ترین قدم ثابت ہو گا۔ پاکستانی مسلمانوں نے اگر ابھی یہ نیٹ ورک نہ بنایا تو اسلام کے احیاء کے دور کو فوراً پہچانتے ہوئے اسلام مخالف قو تیں پاکستان سمیت باقی سر اٹھانے والے اسلامی ممالک کے افراد پر اپنے سوشل نیٹ ورکس بند کر کےان ملکوں کے لوگوں کو  آسانی سے ناکارہ  اور اپاہج بنا سکتی ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کےاس سوشل نیٹ ورک بنانے میں جو افراد بھی اپنا حِصّہ ڈالیں گےان کو دورِ جدید کی سب سے مؤثر، اعلیٰ و ارفع مسجد بنانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

گھر بسانے کے اصول

گھر بسانے کے اصول میری پہلی کتاب ہے۔ دنیا میں امن پھیلانے کی تحریک کا آغاز ایک مثالی گھرانے سے ہو گا۔ جس سے متاثر ہو کر بہت سے اور گھر پیار، محبت اور خوشیوں سے بھرنے لگیں گے تو یہ خوشیاں پورے معاشرے میں پھیلنے لگیں گی۔ مجھے امید ہے یہ کتاب آپ کو ایک مثالی گھر بنانے میں مدد دے گی۔

cover - gbka

غیر اسلامی ممالک میں چہرے کا پردہ

chehraykaparda

مغرب اور غیر مسلم ممالک میں اسلاموفوبیا اس قدر بڑھ رہا ہے کہ اب تو نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ نقاب پوش یا حجابی خواتین کو غیر مسلموں کی طرف سے سرعام ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ ممالک میں تو سکارف تک بین کرنے کے لیے قومی عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔

 ایسے لوگ جو اسلام کا غلط اور انتہا پسند نقطہء نظر دکھائے گئے ہیں وہ جب مسلم خواتین کو نقاب کے پیچھے دیکھتے ہیں تو وہ ان کوکسی دوسری ہی دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں. وجہ یہ کہ وہ کسی طرح بھی ان سے ریلیٹ اورکنیکٹ  نہیں کر پاتے. کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس لباس پہننے پر، گھروں میں قید ہو رہنے پر مجبور کی گئی ہیں۔ شاید یہ بات کچھ خواتین کے لیے صحیح ہو مگر ایک کثیر تعداد ان خواتین کی خود اپنی مرضی سے اللہ کی خاطر اس کا حکم سمجھ کراپنا چہرہ چھپاتی ہیں۔ واضح رہے یہاں پر بات صرف چہرہ چھپانے کی کی جارہی ہے۔ جسے پہلے تو مذہبی سکالرز فرض کا درجہ دیتے تھے مگر پھر تحقیق کے بعد اس نقطہ نظر میں نرمی اختیار کی گئی۔ اور اب اسےفرض تو نہیں البتہ پسندیدہ اور تقوی سے قریب تر خیال کیا جانے لگا ہے۔

آزادانہ طریقے سے لباس پہننے اور زیب و زینت اختیار کرنے والی مسلم خواتین کو باپردہ خواتین کی طرف سے بےحیائی اور غیر متّقی ہونے کا لیبل لگایا جاتا ہے یا کم از کم ان کا ذہن خود بخود ایسےجج کرنے لگتا ہے۔ اس کے متضاد نقاب پوش خواتین کو undefined اور بیک ورڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں جو فاصلہ ان دو مسلم خواتین  کے گروہوں میں نظر آتا ہے یہ فاصلہ غیر مسلم خواتین اور نقاب پوش خواتین کے درمیان مزید گہرا اور طویل ہو چکا ہے یہاں تک کہ وہ ایک دریا کے دو مخالف سمت کے کناروں پر کھڑی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان ایک رشتہ undefined کا بھی تو تھا وہ کہاں گیا؟ کیا ایک مسلم عورت سے صرف اس کے شوہر، اس کے بچوں، اس کے والدین اور خاندان یا حلقے کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب ہے؟ بہت سی نقاب پوش خواتین علمی لحاظ سے غیر معمولی قابلیت رکھتی ہیں ان کی بدولت غیر مسلم عورتوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے مگر وہ تو ایک بلند و بالا دیواروں والے بند قلعے کی مانند خود تک رسائی کا راستہ بند کیے ہوئے ہیں.

اسلام اعتدال پسند مذہب ہے اور ہمیں اُمّتِ وسط بنایا گیا ہے۔ وسط کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاملات میں ایکسٹریم چوائس  کی بجائے مِڈل وے اختیار کیا جائے۔ اس اصول کے موافق جو خواتین ماڈیسٹ ڈریسنگ کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں ان میں سے مظبوط عقیدہ اور اخلاقیات سے لیس خواتین اپنے کردار کی وجہ سے غیر مسلم خواتین کو ایک بہتر اور موثر اسلام کی دعوت دے رہی ہیں ۔ جو کہ ان کی کردار کی مضبوطی، نفسِ مطمئن اور اخلاقی بلندی کی وجہ سے ان کے مذہب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتیں۔

اسلام کے بنیادی عقائد اور بنیادی تعلیمات کے علاوہ کچھ احکامات میں حکمت بھی مطلوب ہے اسی وجہ سے احکامات بتدریج نازل ہوئےاور پردے کے احکام کے نازل ہونے کا پس منظر اور اس کا وقت بھی اپنے اندر حکمت لیے ہوئے ہے ۔بے شک امہات المومنین نے پردے کے احکامات نازل ہونے کے بعد اپنے جسم کے ساتھ اپنا چہرہ بھی غیر محرم مردوں سے چھپایا ہو گا کیونکہ ان کو امت کی ماوؤں کا درجہ حاصل تھا اور آپ ص کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا جائز نہ تھا۔ مگر قرآن کے احکامات میں مسلم اورمومن خواتین کے لیے لچک پائی جاتی ہے اور ان کو جسم اور خصوصا سینہ ڈھانپنے ، تبرج سے بچنے اور ظاہری زیب و زینت کے سوا جسم کی زیبائش ظاہر نہ کرنے کا اصول دیا گیا ہے۔ احادیث سے ہمیں ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ خواتین چہرے کے پردے کے بغیر بھی اسلامی معاشرے میں موجود تھیں۔ جبکہ پردے کے احکام سے پہلے تو سب کو علم ہی ہے کہ لباس کی کیا صورت عرب معاشرے میں رائج تھی.

اگر ایک خاتون پانی میں ڈوب رہی ہو اور اسے بچانے کے لیے ایک مسلم مرد ہی موجود ہو تو کیا وہ یہ سوچے گا کہ چونکہ ایک غیر محرم عورت کو ہاتھ لگانا گناہ ہے تو اس کو ڈوبنے سے بچانا بھی گناہ شمارہو گا۔ یہ تو ایک بہت سادہ سی بات ہے کہ یقینا ایسی صورت حال میں ایک زندگی بچانا ہی سب سے اہم بات ہے۔ اس وقت غیر محرم عورت کو ہاتھ نہ لگانے والا اصول لاگو نہیں ہو گا۔

اب اسی صورت حال میں کچھ تبدیلی کرتے ہیں. ڈوبنے والے وہ لوگ ہیں جو کہ لا الہ الا اللہ سے واقف نہیں ( جو کہ دوزخ سے بچائے جانے اور جنت میں جانے کا کم از کم کرائیٹیریا ہے ) اور بچانے والے مسلمان ۔ سوچیں کہ کتنی بڑی تعداد ہےغیر اسلامی معاشرے میں ان لوگوں کی جو عقیدہ توحید سے ہی واقف نہیں یا پھر اس سے واقف ہونے کے باوجود ہزار ہا کشمکش کا شکار ہیں۔ ہم سب مسلم مرد اور عورتیں داعی الا اللہ کی ذمہ داری دیے گئے ہیں ۔ ایسے میں اگر مسلم خواتین اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ہوں گی جو ایک انسان کی پہلی شناخت ہے تو غیر مسلم عورتیں کیسے انہیں اپروچ کر سکیں گی،  ان کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس کر سکیں گی گھل مل سکیں گی یا ان کی سلیم فطرت، تمانیت اور پر وقار شخصیت سے متاثر ہو سکیں گی اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کی دعوت دی جاسکیں گی کہ جس کو صرف زبان سے پڑھ لینے پر بھی ہمارے نبی ص نے اپنے چچا کے لیے اللہ تعالی سےجہنم سے بچائے جانے کی سفارش کرنے کی امید رکھی۔ اسلام کا نصب العین اجتماعی فلاح اور کامیابی ہے صرف چند لوگوں کی مکمل دین داری مقصود نہیں ۔ تو کیا ایسے میں جب معاشرے میں اس قدر ضد موجود ہو؛ ایمانیات اور عقائد پر مساوات پہلا ہدف نہیں ہونا چاہیے ؟

تمام مومن عورتیں اللہ کا تقوٰی اختیار کرنے کی نیت سے چہرہ چھپاتی ہیں اور بے شک وہ عزت دی گئی ہیں مگر کیا کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ کہیں یہ عزت اور حرمت لا الہ الا اللہ کی عزت اور حرمت سے زیادہ تو نہیں بڑھا دی گئی ۔ کیا ایک مومن عورت کے قابل شناخت اور باآسانی اپروچ ایبل ہونے سے اگر لا الہ الا اللہ کا پیغام ایک بھی غیر مسلم عورت (یا باذن اللہ بہت بہتیروں تک) پہنچ جائے اور وہ جہنم کی آگ سے  بچا لی جائے توکیا یہ زیادہ افضل بات ہو گی یا ایک ایسی خاتون کا صرف اپنے ہم عقیدہ حلقے میں اصلاح کی کوششیں کرنا زیادہ افضل ہو گا۔ فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ غیر مسلم خواتین سے میل جول بڑھا کر انھیں اسلام کے بنیادی عقائد اور اخلاقی نظام سے روشناس کروایا جائے. اگر اللہ کے لیے اپنے نفس پہ جبر کرکے چہرہ چھپانا باعث تقوٰی خیال کیا جاتا رہا ہے تو کیا اللہ کی خاطر چہرہ ظاہر کرنے کی ہمت نفس کے خلاف جہاد شمارکی جا سکتی ہے۔؟ کیا ہم اسلام کے عقائد اور احکامات کو اس کی قرانی ترتیب اورپرائیوریٹی کے مطابق دیکھ رہے ہیں یا سیکنڈری باتوں کو پرائمری کا درجہ دے کر پرائمری تعلیم بھی مشکل بنا دی گئی ہے۔؟

یہ تحریر میری اپنی ذاتی انسائٹ پر مبنی ہے. میں نے صرف اپنے اندر کا سچ پہنچانے کی کوشش کی ہےاور میں سمجھتی ہوں کہ اس سے بہتر سوچ موجود ہو سکتی ہے جو کہ شاید فی الحال میرے علم میں نہ ہو۔.میرے خیال میں ہمیں بطورامت  ایک نئی سوچ اور معاملات میں حکمت کا عنصر ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

طیبہ خلیل – بحرین