قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

سورۃ الشمس کی یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ شعوری طور پر پڑھنے پر ہی میرے دل کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ۔ کوئی گیارہ سال پہلے یہی آیات قرآن میں میری انسپریشن رہ چکی ہیں یعنی کہ جن آیات نے مجھےقرآن میں موجود آیات میں سے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اسی انسپریشن کے ساتھ میں نے ایک بلاگ بنایا جو کہ اسی تھیم پر مبنی تھا مگرمیں اپنی مصروفیات کے باعث اسے جاری نہ رکھ سکی اور نہ ہی اس طرف توجّہ مبذول ہو سکی۔

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠: اور نفس کی قسم اور اس کی جس نے اس کو متوازن کیا (7) پھراس کا فجور اور تقویٰ اس کو الہام کیا (8)کامیاب ہوا جس نے اس کا تزکیہ کیا (9) اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے پست بنایا (10

ابھی حال ہی میں پروفیسر احمد رفیق اختر کو ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے سنا تو خود سے بھی ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ہمارے ذہن میں آنے والے تمام خیالات ہی الہامی ہوتے ہیں خواہ وہ بلند ہوں یا پست ہمارا ان پر اختیار نہیں۔ خیالات کی لہریں ہمارے ذہن میں بہتی رہتی ہیں۔ جو چیز ہمارے بس میں ہے وہ ہے انتخاب یعنی کہ ہم ایک بلند خیال کو ایک پست خیال پراہمیت دے کر اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں یا پھر ایک پست یا فاجر خیال کو تقویٰ پر مبنی خیال پرترجیح دے کر اپنے نفس کو پست بناتے ہیں ۔ ہر لمحۂ موجود میں ہمارے پاس مختلف خیالات جو ہمارے ذہن میں آتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے اور اس کو فوقیت دینے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ہر دفعہ ایک برا خیال منتخب کرنے پر نفس اپنی سرکشی اور پستی کی جانب بڑھے گا اور ایک اچھا نیک خیال منتخب کرنے پر اطاعتِ الٰہی اور ضبطِ نفس کی صورت میں بلندی کی طرف قدم اٹھائے گا۔ جو نفس بلندی اختیار کرتا جاتا ہے اس کا ذہن پست خیالات سے پاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پستی اختیار کرنے والا نفس پست خیالات کی آماجگاہ بنتا چلا جاتا ہے۔ نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمٗنّہ نفس کی وہ حالتیں ہیں جو ہمارے انتخابات سے ہی جنم لیتی ہیں۔ نفسِ امّارہ ایسا نفس ہے جو برائی پر آمادہ کرے۔ نفسِ لوّامہ ایسا نفس ہے جو گناہ کے کاموں پر ملامت کرے اور نفسِ مطمٗنہ وہ نفس ہے جو خیالات کی پاکیزگی اور بلندی کی وجہ سے اطمینان حاصل کرلے۔

آئیے کچھ مثالوں سے اپنے خیالات اور اپنے انتخابات کو سمجھتے ہیں۔

ایک مثبت خیال کو منفی خیال پر ترجیح دینا

اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کفر کرنے کی بجائے شکر کرنا

اللہ تعالیٰ اور لوگوں سے بد ظن رہنے کی بجائے حُسنِ ظن رکھنا

اپنے ہرعمل کی نیّت لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا حاصل کرنے کو بنانا

ہر عمل کے لیے اپنے دل میں ہونے والی کھٹک کو پہچاننا اور پیارے نبی ﷺ کی ہدایت پر ایسے کام سے رک جانا جو دل میں کھٹکے۔

لوگوں سے نفرت کرنے کی بجائے محبّت کرنے کی خو ڈالنا

دین کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی بجائے احسن طریقے سے ادا کرنے کے خیال کو منتخب کرنا

کبر کی بجائے عاجزی اختیار کرنا

یہ تو کچھ چند ہی مثالیں ہیں۔ آپ خود اپنے ذہن میں آنے والے خیالات اور اپنے انتخابات کو نوٹ کرنا شروع کر دیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کا نفس کس ڈگر پر چل رہا ہے۔ کیا وہ بلند خیالات کا انتخاب کر کے بلندی اور تزکیہ حاصل کر رہا ہے ؟ یا پست خیالات کی وجہ سے پستی کا شکار ہو رہا ہے؟ یہی تزکیہ نفس کی پہلی سیڑھی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

جس کے پاس جتنا زیادہ علم ہوتا ہے اتنا ہی وہ عاجز ہوتا ہے۔  اللہ تعالیٰ  کی بنائی گئی اس کائنات میں دو طرح کے علوم ہیں۔ ایک ہیں ظاہری علوم جو کہ حواسِ خمسہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ذہن سے ان کا ادراک حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کائنات میں  ایک دوسرا علم ہے جس کو باطنی علم کہتے ہیں۔ یہ علم عقل یا حواسِ خمسہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو صرف دل کی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ قرآن مجید میں اس مفہوم کے ساتھ بہت سی آیات ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ  آنکھیں نہیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو کہ حق کو  سامنے بے حجاب دیکھ کر بھی اس کو پہچان نہیں پاتے۔ یہی وہ دل ہے کہ جو مسلسل حق کا انکار کرتا جائے تو اس پر قفل یعنی تالے پڑ جاتے ہیں ۔ اور یہی دل اگر   سلیم ہو جائے تو حضرت ابراہیمؑ کی طرح دیدہ ور ہو جاتا ہے۔ جس کو بھی غیب کا علم یا یقین حاصل ہو جائے وہ شخص انتہائی  عاجز ہوجاتا ہے جس کے باعث  اس کو علم کا وہ درجہ عطا ہو جاتا ہے جس کا نام ہے “میں نہیں جانتا”۔ جس کے پاس بھی ظاہری علوم کی کثرت ہو جائے یا تو اس کی گردن اتنی ہی اکڑ جاتی ہے یا  وہ اللہ کے علم کے سامنے اپنے چھوٹے پن کو تسلیم کرلیتا ہے۔

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

یقیں پیدا کراے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے

علّامہ اقبال کی نظم “طلوعِ اسلام“ اسلام کی نشاطِ ثانیہ کی ایک خوشخبری ہے۔ اس نظم کی تاثیر ایک مخلص مسلمان کے اندر جو کہ دل میں مسلمانوں کے زوال کا درد رکھتا ہو اپنی خودی کے زور پر دنیا پر ایک دفعہ پھر چھا جانے کا جوش و ولولہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میں طلوعِ اسلام کا منظر پاکستان کے نوجوان مسلمانوں کی بیداری کی صورت میں عنقریب ہوتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔ یہ کتاب انہی نوجوانوں کے لیے لکھی گئی ہے جنہوں نے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا حِصّہ بننا ہے۔ میں اس امر کے متعلق حقّ الیقین کا درجہ رکھتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو بھی اللہ ایسا ہی پُختہ یقین عطا فرمائے۔

کائنات ہر مخلص باعمل انسان کی مدد کرتی ہے

مشہور مصّنف  undefined  کی مشہور کتاب undefined نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان دل سے کوئی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتا ہے تو ساری کائنات اس کا مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے لیے کام میں جُت جاتی ہے“۔

علّامہ اقبال نے اپنی نظم تصویرِ درد میں اس حقیقت کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہ ِعمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

 کم و بیش یہی فلسفہ مشہور کتاب undefined   میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کی زندگی کی حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اور کسی امر کو انجام دینے کے لیے  یا اپنا مطلوبہ مقصد پانے کے لیے شدید خواہش رکھنا اور اس کے بارے میں سوچنا طالب اور مطلوب  کے درمیان مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ  آپ اپنی زندگی کا ایک ویژن بنائیں اور اس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے زندگی میں عمل کے میدان میں پیش قدمی کریں ۔

قرآن میں  یہ عبارت اور مفہوم بیشتر مقاما ت پر دہرایا گیا ہے کہ یہ کائنات انسا ن کے لیے مسخّر کی گئی ہے۔ مسخّر کا مطلب ہوتا  ہے مطیع اور فرمانبردارہونا ، اور سخّر کرنے والے کی مرضی کے مطابق کام پر لگنا۔  قرآن کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خواہش دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل اور کوشش درکار ہے۔ اگر ہم اپنے مستقبل کے کسی ویژن پر ایمان لے بھی آئیں پھر بھی عمل کے بغیر یہ ایمان ادھورا ہے ۔ اس لیے قرآن میں یہ عبارت  ” الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” زیادہ تر مقامات پر ایک ساتھ دہرائی گئی ہے۔   اور ایک  جگہ پر قرآن میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن میں آیاہے ۔

اور سورہ الّیل میں اللہ تعالیٰ نے  اللہ کا تقویٰ  اختیار کرنے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور ہر امر  میں سب سے احسن بات الحُسنیٰ کی تصدیق کرنے پر آسان طریقے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

میں نے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی بدولت اس حقیقت کا ادراک حاصل کیا ہے کہ دل میں ایک زندہ آرزو کا ہونا ، اس کے لیے تڑپ پیدا ہونا، اخلاص کی نیّت رکھ کر عمل کیے چلے جانا خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو منزلوں کے راستو ں کو آسان بھی بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین بھی عطا ہوتا ہے۔ ایک بندہ مومن کے پُختہ یقین میں ناقابلَ تسخیر قوّت ہے اور یقین ایک ایسا جوہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ مایوسی کُفر کے مترادف ہے ؛ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان اور پُختہ یقین اُن اعلیٰ ترین اعمال میں سے ہیں جو کہ کائنات کی طاقتوں کو صاحبِ یقین کا خادم بنا دیتی ہیں۔

پیارے ساتھیو! اگر زندگی میں کوئی عظیم مقصد ہی نہ ہو  تو یہ موت کے مترداف ہے۔   اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر کسی مقصد کی تلاش اور اس میں اپنا آ پ سرگرداں کرنا  ہی دنیاوی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی  اعلیٰ مقصد نظر میں نہ ہو تو یہ زندگی بس صبح و شام کا کھیل ہے کہ کھایا ، پیا، ہضم کیا، سو لیا ، چند ساعتوں کا مزا حاصل کرلیا اور پھر مٹّی تلے جا کر دفن ہو گئے ۔ موت سے پہلے خود بھی جاگ جائیں اور دنیا میں بھیجے جانے کا عظیم مقصد بھی جگا لیں ورنہ موت سے پہلے ہی مرنے کی تیّاری کر لیں۔

طیبہ خلیل – بحرین

انسانوں سے محبّت کریں؛ان کے اعمال کی پڑتال اللہ پر چھوڑ دیں۔

ہم سب انسان؛ ہمارا خُدا ایک ہی خُدا ہے۔  وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے2: 163

اور ابتدا میں ہم ایک ہی امّت تھے۔  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَة ً  2:213

ہمیں ایک نفس سے پیدا کیاگیا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ ۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا ئے۔قرآن 4:1

ہم سب حضرت آدم اور حوّا علیہ السلام کی اولاد ہیں جو کہ مٹّی سے پیدا کیے گئے۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام میں اپنی روح سے پھونکا اوران کوزندگی بخشی اور ہم میں سے ہر انسان میں اللہ کی روح کا جوہر  ہےاور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی عکس سے پیدا کیا ہے۔ہم سب خطاکار ہیں اور ہم سب کے سب کبھی اپنی غلطیوں سے کبھی دوسروں کی غلطیوں سےسیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  ہم میں سے کوئی بھی ایمانی، جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر ایک حالت پر جامد نہیں بلکہ ہر لمحہ تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی ترقّی کی طرف اور کبھی تنزّلی کی طرف۔ ایک حالت سے دوسری حالت تک کا سفرطے کرتا چلا جا رہا ہے۔  ہر انسان کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف ظاہری اعتبار سے جانچتے اور پر کھتے ہیں۔ باطن کی مکمّل صورت صرف ہمارا رب ہی جانتا ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ عدل کرنے والی ذات ہی ہر ایک کے عمل کا فیصلہ خود ہی کرے گی۔ اس لیے ہم کسی کی نیّت اور عمل کو پرکھنے کی ذمہ داری نہیں دیے گئے۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا اور منفرد ہے جو کہ بہترین خالق کی تخلیق ہے۔ نہ ہمیں اپنے آپ کو کسی سے بہتر خیال کرنا چاہیے نہ کسی سے کمتر اور نہ ہی ایک دوسرے سے موازنہ کرنا چاہیے۔ ہر ذی روح انسان صرف اس ذمہ داری کا مکلّف ہے جس کی وسعت اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔2:286

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے 84:6 ۔ ہم سب ایک ہی منزل کے مسافر ہیں کہ ہم سب اپنے رب کی طرف واپسی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ خواہ کوئی آگے یا پیچھے ہو؛ سب اپنے اپنے راستوں پر اپنی رفتار، توفیق، استطاعت، کوشش، ہدایت اور عقل کے مطابق چلے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی موجودہ لمحے میں ایک کیفیّت، مقام اور امتحان سے گزر رہا ہے جس کو بہت شفیق مہربان رب نے بہترین اور دیرینہ مفاد کے لیے ایک پرفیکٹ تقدیر کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اور وہ شفیق ربّ ہر ایک سے محبّت رکھتا ہے۔ نفرتیں توصرف ہم انسان ہی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ہر شخص محبّت اور عزّت کا حقدارہوتا ہے؛ خواہ اس کا پیشہ جو بھی ہو۔ موسیقی، اداکاری یا کوئی بھی آرٹ وغیرہ؛ اس کی صلاحیّت بھی بہت مہربان ربّ نے ہی اسے دی ہے اوریہ سب پیشے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی وجود میں آئے ہیں۔ نہ زمانے کو برا بھلا کہیں اور نہ ہی کسی انسان سے دل میں کراہیت اور نفرت رکھیں۔ زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالیٰ کو نعوذباللہ برا بھلا کہنے کے مترادف ہے۔ اس مفہوم کی ایک حدیثِ قدسی مستند اور معروف ہے۔ انسانوں سے نفرت کی بجائے خیر خواہی کے جذبات دل میں رکھیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہم دوسروں کے لیے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ واقعی ان کے حق میں بہتر ہو۔ اس لیےدوسروں کو نصیحت کرنے کا دائرہ کارحکمت کے ساتھ  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیّت، کوشش اور صریح شرک اور فحش کاموں سے روکنے تک  ہی محدود رکھیں۔

آج کل بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کو ایکسیپٹ کرنا سیکھ جائیں۔ ہم اپنی عقل کے مطابق کسی کو جج نہ کریں۔ ہم کسی کو بہت پیار سے سمجھا سکتے ہیں مگر کسی کا دل بدل نہیں سکتے۔ کسی کا ظاہری نظر آنے والا گناہ ہمیں اس کی خیر خواہی اور اس کے لیے بہترین کامیابی یعنی کہ جنّت میں داخل کیے جانے کی خواہش سے روک نہ دے۔ دعوت و تبلیغ کے کام کا مؤثر ترین طریقہ خود اپنے عمل اور کردار کی مثال پیش کرنا ہے۔

جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اکیلے جنّت میں جائیں بلکہ ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ سب کے سب نیکوکار انسان جنّت میں ہمارے ساتھ ہوں۔ وہ جنّت جہاں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی بغض، کوئی نفرت، کوئی حسد کا جذبہ نہیں ہو گا۔اور وہ خواہشات جن کے پیچھے آج ہم ہلکان ہو رہے ہیں ان کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ اور آخرکار ہم اپنے رب کے چہرے کے دیدار اور اس سے ملاقات کے بعد کسی بھی طرح کے پست خیال کے بارے میں سوچ ہی کیسے سکیں گے؟ کہ جس ربّ کی تلاش اور اس سے ملاقات کے لیے ہم اس دنیا کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہیں۔ کیا جنّت کی کوئی نعمت یا کوئی نفسانی خواہش یا لذّت بھی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

طیبہ خلیل

بحرین

وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

اور میں اپنے رب سے دعا مانگ کر کبھی بھی مایوس نہیں رہا۔ یہ حضرت زکریا ع کے الفاظ ہیں جو قرآن کی سورہ مریم کے آغاز میں درج ہیں۔ کیسا یقین ہے ان کواپنے رب پر کہ نہ انہیں یہ پرواہ ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور نہ ہی دعا مانگنے میں یہ امر مانع ہے کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے اور پھر بھی نیک اولاد کی دعا یقین کے ان الفاظ میں مانگ رہے ہیں ۔ پیارے ساتھیو! دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم جزو یقین ہی ہے کہ جب یہ یقین اس انگارہ خاکی میں پیدا ہو جائے تو وہ بال و پرِ روحُ الامیں پیدا کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ہی یقین کے ساتھ بلند ترین عزائم اور مقاصد کی دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ مختصر کتاب آپ کے دل میں انہی بلند مقاصد اور عزائم کے حصول کا ولولہ پیدا کر سکتی ہے۔

سورة الّیل سے میں نے کیا سبق سیکھا؟

Surahal-layl

سورة الّیل ان مختصر سورہ میں سے ہے جس نے مجھے بہت متاثر کیا ۔ اس سورہ کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

قَسم ہے رات کی جب کہ وہ (دن کو) ڈھانپ لے۔ (1) اور قَسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہو جائے۔ (2) اور اس ذات کی قَسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ (3) یقیناً تمہاری کوششیں مختلف قِسم کی ہیں۔ (4) تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور اللہ کا تقوٰی اختیار کیا (5) اور احسن بات – الحُسنیٰ کی تصدیق کی۔ (6) تو ہم اسے آسان راستہ کیلئے سہو لت دیں گے۔ (7) اور جس نے بُخل کیا اور (خدا سے) بےپرواہی کی۔ (8) اور احسن بات – الحُسنیٰ کو جھٹلایا۔ (9) تو ہم اسے سخت راستے کی سہولت دیں گے۔ (10) اور اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہ دے گا جب وہ (ہلاکت کے) گڑھے میں گرے گا۔ (11) بےشک راہ دکھانا ہمارے ذمہ ہے۔ (12) اور بےشک آخرت اور دنیا ہمارے ہی قبضہ میں ہیں۔ (13) سو میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے۔ (14) اس میں وہ داخل ہوگا(اور جلے گا) جو بڑا بدبخت ہوگا۔ (15) جس نے جھٹلایا اور رُوگردانی کی۔ (16) اور جو بڑا متّقی ہوگا وہ اس سے دور رکھا جائے گا۔ (17) جو پاکیزگی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے۔ (18) اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے۔ (19) بلکہ وہ تو صرف اپنے بالا و برتر پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے۔ (20) اور عنقریب وہ اس سے ضرور خوش ہوجائے گا۔ (21

سورہ الّیل کے اسباق

اللہ تعالیٰ نے پہلے رات کی قسم کھائی اور پھر دن کی۔ بے شک رات دن سے پہلے ہی وجود میں آئی کہ جب سورج نہیں تھا تو ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورج کی تخلیق کی تو دن کا وقت کرّہ ارض پر ظہور پذیر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر نر اور مادہ کی قسم کھائی۔ اور یقینا یہ ایک بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑوں میں پیدا کی۔ ہرزندہ مخلوق، نباتات اور ہر غیر زندہ مخلوق جن کو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے سب کےسب جوڑوں کی شکل میں موجود ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح انسان خواہ نر ہو یا مادہ کی کوشش کا ذکر کیا۔ بے شک ہر کوئی اپنی اپنی کوشش کر رہا ہے۔ مگر یہ کوشش کتنی نفع بخش اور سہل  ثابت ہو گی اس کا دارومدار ٣ افعال پر ہے۔

١۔ اللہ کے راستے میں مال دینا

٢۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا

٣۔ الحُسنیٰ یعنی سب باتوں میں سے بہتر یا احسن بات کی تصدیق کرنا۔

 اللہ تعالیٰ نے ان تین کاموں کے کرنے پر زندگی کے راستوں کو سہل اور آسان بنانے کا وعدہ کیا ہے۔اللہ کے رستے میں مال دینا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا مطلب تو ہم سب ہی جانتے ہیں۔ ان میں سے تیسری بات یعنی کہ احسن بات کی تصدیق کرنا؛ یہاں پر آ کر بہت سے لوگ مار کھا جاتے ہیں۔ سب باتوں میں سے بہتر بات کی تصدیق کرنے میں کیا وجوہات آڑے آ جاتی ہیں۔

ہ۔ لوگوں کی کثیر تعداد احسن بات پہچان کر بھی اس وجہ سے منہ پھیر لیتی ہےکہ اس بات کو پہنچانے والا شخص ذاتی طور پر پسند نہیں ہوتا۔

ہ۔ یا بات پہنچانے والے شخص سے عداوت، بغض، یا حسد رکھنے کی وجہ سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یا تکبّر کرتے ہوئے رد کر دیتے ہیں کہ میری بات زیادہ بہتر ہے اور دوسرا دنیاوی علم یا عقل کی وجہ سے مجھ سے کمتر ہے۔

ہ۔ یا اس وجہ سے انکار کر دیتے ہیں کہ ان کا اپنا دنیاوی فائدہ خظرے میں پڑ سکتا ہے۔

ہ۔ یا پھر احسن بات کی تصدیق کرنے سے بات پہنچانے والے شخص کوتشہیر مل سکتی ہے اور ایک شقی القلب انسان اپنے علاوہ کسی اور کی تعریف اور تشہیر نہیں چاہتا۔

دنیا میں امن، سکون کے قیام اور انسانیت کی فلاح کے لیے یہ اصول بہت اہم ہے کہ جب بھی کسی پہلے سے بہتربات،  رائے ، نقطہ نظریا  تجویز کا ظہور ہوتو ذہن کو تعصبات سے پاک کر کے اس کی تصدیق کی جائے اور اس کو قابلِ عمل بنایا جائے۔  اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو  یہ ضد یا  مخالفت  ماحول  اور  فطرت کے عوامل اور عناصر کے خلاف صف آراء ہونے لگے گی اور زمین میں خیر و برکت کی بجائے تنگی اور عسرت پیدا ہو گی۔ احسن بات کا انکار کرنے والا شخص خود بھی شقاوتِ قلبی کا شکارہو گا، اس کا دل نرم ہونے کی بجائے سخت ہوتا چلا جائے گا اور اس کے امور میں تنگی اور مشکلات پیدا ہوں گی۔

احسن بات کی تصدیق کرنے والا شخص اپنا فائدہ نہیں دیکھتا بلکہ وہ انسانیت کا فائدہ دیکھتا ہے۔ وہ غرور و تکبّر کرنے کی بجائے بہتر رائے رکھنے والے شخص کی فرمانبرداری اختیار کرتا ہے اور عاجزی کا رویّہ اپناتا ہے۔ اور اس کے اس نیک عمل سے کائنات اور فطرت  خود اس کی بھی  مدد کرتی ہے اور اس کے معاملات میں آسانی ہوتی چلی جاتی ہے۔

شقی القلب انسان اپنا مال بھی بچا بچا کر رکھتا ہے اور بخل کرتا ہے۔ انسانیت کا درد دل میں نہیں رکھتا اور لوگوں کی واضح ضرورت نظر آ جانے کے با وجود اپنے مال پر سانپ بن کر بیٹھا رہتا ہے۔ اس کا دل اللہ تعالیٰ کے حاضر و موجود ہونے سے پردے میں آ جاتا ہے اور پھر اس کے دل سے اللہ کا تقویٰ اور خوف جاتا رہتا ہے۔ ایسے شخص کا مال اور اس کے اعمال اس کے کسی کام نہیں آئیں گے اور وہ اپنی جہنم کا ایندھن خود اس دنیا سے لے کر دوزخ کے گڑھے میں جا گرے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ اس سورہ میں ذکر کر رہے ہیں کہ بے شک راستہ دکھانا، ہدایت دینا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اور ہدایت اس کو ہی نصیب ہو گی جو اپنا دل ہدایت پانے کے لیے تیار اور نرم بنائے گا۔ اور آخرت اور دنیا اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور یہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک با مقصد عظیم تخلیق ہے۔

ان سب آیات کے بعد اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے متنبہ کر دیا ہے جو کہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب پانے والی جگہ ہے۔ اس میں صرف وہی داخل ہو گا جو بڑا بد بخت اور شقی القلب ہو گا۔ جس نے حق بات کو جھٹلایا  اور تکبّر کے ساتھ منہ پھیرا۔ اس کے برعکس ایک نیک دل، متّقی اور پرہیز گار شخص اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال اور اپنا نفس پاک کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہےاور اس کو اللہ پر یا لوگوں پر کیا گیا احسان نہیں سمجھتا بلکہ وہ تو صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے۔ ایسے تمام لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انہیں خوش کر دیا جائے گا اور ان کے نیک اعمال کے عوض ان کو ہمیشہ رہنے والی جنّت کا وارث بنایا جائے گا۔

اللهمّ جعلنا منهم

طیبہ خلیل

بحرین

 

توحید ایک زندہ قوّت

توحید صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ یہ اس کائنات کی سب سے عظیم قوّت ہے۔ اسلام کے زوال کا دور تب شروع ہوا جب مسلمانوں نے توحید کی قوّت کو کھو دیا۔ توحید کہنے کو صرف لاالہ الااللہ ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل اس وجہ سے ہے کہ آج کا مسلمان اللہ سے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے، دینِ اسلام، لوگوں سے، اور اپنے آپ سے مخلص نہیں۔ یہی اخلاص ہی دین ہے اور یہی توحید کی زندہ قوّت کو حاصل کرنے کا راز۔ یہ کتاب آپ کو توحید کی اصل روح سے روشناس کروا سکتی ہے۔