عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

میں نے اپنی خودی کی تلاش میں کیا سبق سیکھے؟

علاّمہ اقبال کے  پیش کردہ تصوّرِ خودی  کے بارے میں باِذن اللہ اب  پاکستانی نوجوانوں میں بہت ساری  تحریکوں ، خطیبوں ،  اور  نوجوان ٹرینرز کی بدولت آگہی پھیلانے کا عمل جاری ہے۔ یہ انتہائی ضروری علم ہےجو کہ عین اسلامی ہےاور علامہ اقبال نے اس کی انسپریشن قرآن سے لی۔ ہمیں اس اہم تصوّر سے اپنے بچے بچے کو نو عمری سے ہی واقف کروا دینا  چاہیے۔اب تو مغرب والے بھی اس زندہ حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں کہ یہ کائنات بامقصد اور پر عزم انسانوں کی مدد کرتی ہے اگرچہ وہ ابھی عقیدۂ توحید اور اس کی قوّت سے نابلد ہیں۔  میں نے خودی کا لفظ پہلی دفعہ شاید اسکول میں ہی سنا  ہو گا کیونکہ علاّمہ اقبال کا یہ شعر  بچپن سے ہی  سُن رکھا تھا۔

     خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےخودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

مجھے یہ تصوّر کہ اللہ تعالیٰ کا بندے سے خود پوچھنا کہ تمہاری کیا خواہش ہے اس کے مطابق ہی تمہاری تقدیر لکھی جائے گی ؛ نہایت مسحور کنُ  اور حیرت انگیز لگا۔ تب میں نے علاّمہ اقبال کے کلام کو پڑھا بھی نہیں تھا مگر میرے اند ر یہ خواہش پیدا ہو چکی تھی کہ مجھے اس خودی کی تلاش کرنی ہے یا وہ مقام حاصل کرنا ہے  جہاں پر اللہ تعالیٰ انسان کو اختیار دے دیتا ہے اپنی تقدیر خود لکھنے کا۔ یہ انٹرمیڈیٹ کا  سیکنڈ ائیر تھا جب بورڈ کے امتحانات  میں  اردو کے پرچے میں مضمون نویسی کا سوال ۲۰ نمبروں کا ہوتا تھا۔ زندگی میں ابھی تک رٹّے ہی تو لگائے تھے کہ سب کالجوں کی طرح ہمارے کالج میں بھی اسی نقطہ نظر سے پڑھائی کروائی جاتی تھی کہ بورڈ کے امتحانات میں  زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جا سکیں۔ شعروں کی تشریح  ہو یا مضامین یا سیاق و سباق ہر چیز کے رٹّے لگائے جاتے تھے ۔ اب جبکہ سیکنڈ ائیر کا  مضمون نویسی کے سوال کا مسئلہ تھا مجھے اس بات کی پریشانی ہونے لگی کہ کبھی ایک جملہ بھی تو خود سے لکھا نہیں تو پور امضمون کیسے لکھ پاؤں گی۔

پھر یوں ہواکہ ۹ نومبر ۲۰۰۰ کا دن آیا اور ہمارے گھر اخبا ر  آیا جس میں علاّمہ اقبال پر اسپیشل ایڈیشن بھی تھا اور اس کے علاوہ اندرونی صفحات پر تمام کالم ہی علاّمہ اقبال کے بارے میں تھے۔ علاّمہ اقبال  کےبارے میں کثیر مواد دیکھ کر فوری طور پر یہ خیال ذہن میں پختہ ہو گیا کہ مجھے آج کے اخبا ر کی مدد سے علاّمہ اقبال پر ایک متاثر کن مضمون تیار کرنا ہے۔ پھر کیا تھا میں نے پورا اخبار چھان مارا ، اچھوتے جملے نقل کیے، حیران کنُ اشعار لکھے اور جو کچھ بھی اس دن کے اخبار سے نچوڑا جا سکتا تھا میں نے وہ سب نقل کر کے ترتیب  آگے پیچھے کر کے ایک مضمون تیّار کر لیا جس کے پھر زور و شور سے رٹّے لگائے گئے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس سال کالج کے اندرونی  امتحانات میں بھی علاّمہ اقبال کا مضمون آیا  اور بورڈ کے امتحانات میں بھی۔

 خیر یہ مضمون لکھنے کے بعد میرا  علاّمہ اقبال سے ایسا تعارف ہو چکا تھا کہ میں نے یہ ٹھان لی تھی کہ مجھے اقبال کے کلام کو ترجیحی بنیادوں پر سمجھنا ہے۔میری اس خواہش کے عِوض  اللہ تعالیٰ نے غیرمحسوس طریقے سےمجھے خودی کا سبق سکھا بھی دیا اور یہ پتہ بھی نہیں چلنے دیا کہ میری خودی بیدار کر دی گئی تھی اور اللہ کی مدد میرے ساتھ تھی۔ زندگی میں وہ مقام بھی آئے کہ مجھے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہو بہو اس شعر کے مصداق مجھ سے پوچھ کر ہی میری تقدیر کا فیصلہ کیا ہے۔ البتّہ مجھے یہ احساس شدّت سے غالب رہا کہ زندگی میں جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے یا کر پاؤں گی  اس میں  میرا ذرّہ برابر بھی کمال نہیں ؛ میرے لیے سب راستے اللہ تعالیٰ نے ہی کھولے اور اسی شفیق ذات نے ہی رہنمائی کی۔خودی کے بارے میں جو معلومات ،تجربات اور اسباق میں نے حاصل کیے وہ میں تحریر کرنا  چاہتی ہوں تاکہ اور لوگ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ کیونکہ خودی انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف  سے دیا گیا وہ جوہر ہے جو کسی بھی عام انسان کو نہایت خاص بنانے  کا نسخہ ہے۔ جس کے ذریعے انسان اپنی تلاش کر سکتا ہے ، جو اس کو صحیح معنوں میں جینا  سکھا سکتا ہے۔ جو اس میں خدائی طاقت  کا احساس پیدا کر سکتا ہے ۔ جو اسے غریبی میں بھی بادشاہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ سب اسباق درج ذیل ہیں؛

ہ۔ انسان اپنی تقدیر خود لکھ سکتا ہے اور وہ نباتات و جمادات کی طرح تقدیر کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اللہ کے احکامات کا ہی پابند ہوتا ہے۔

ہ۔ خودی کو پہچاننے والا  اور اس کو حاصل کرنے والاشخص زمین میں اللہ کا نائب اور خلیفہ بن جاتا ہے عین وہ کردارجو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے؛ کہ یہی توجیہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کے لیے فرشتوں کو پیش کی  ۔

ہ ۔صاحبِ خودی کی مدد کائنات خود  کرتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں جُت جاتی ہے۔اور وہ کائنات کی قوّتوں کو مسخّر کر لیتا ہے۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے عقیدۂ توحید کا دل میں اخلاص کے ساتھ   راسخ ہونا ضروری ہے ،پھر اس کے بعد زندگی میں اپنے مقاصد اور منزلوں کا تعین کرنا اور اس کے لیے جدّوجہد کرنا اگلا قدم ہے۔بقول علامہ اقبال خودی کا سرِّ نہاں لاالہ الا اللہ ۔

ہ۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر معاشرے یا انسانیت کی فلاح کا مقصد رکھنے والے کی خودی باقی لوگوں کی خودی سے اعلیٰ و ارفع ہو گی۔ زندگی میں کبھی چھوٹا ہدف طے نہیں کرنا چاہیے کہ جتنی   بلند باڑ ہوتی ہے چھلانگ لگانے والا اتنی ہی چھلانگ لگا  سکتا ہے۔ جتنا بڑا ہدف ہو گا اتنا یا اس سے زیادہ  ہی حاصل ہو گا۔

ہ۔ اپنا  آپ پہچاننے کے لیے آپ کو اس کام کی تلاش کرنا ہو گی جو آپ کو دلی سکون پہنچائے۔ وہ ایک ویژن جو آپ کواس وقت  سکون پہنچانے کا ذریعہ بنے جبکہ  آپ زندگی سے تھکنے لگیں ۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے اطاعتِ رسولﷺ ، عشقِ رسولﷺ، رسول اللہ ﷺ سے روحانی نسبت اور ان کے مشن کو اپنا مشن سمجھنا ضروری ہے۔ کائنات تو ہر باعمل فرد کی مدد کرتی ہے مگر کس انسان کی مدد بلند سطح پر کی جائے گی اس کا انحصار  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر ہی ہو تا ہے ۔

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیںکی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

ہ ۔ خودی کے مختلف درجات ہوتے ہیں اور مختلف انسان اپنے مقاصد، ایمان، عمل اور یقین کے مطابق  خودی کے مختلف درجات پر فائز ہوتے ہیں۔

ہ۔ خودی کی کیفیت پالینے کے بعد اپنے نفس کو قابو کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے جو کہ اگر نہ کیا جائے تو اس سے  فائدہ لینے کی بجائے انسان نقصان اٹھا سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ خودی کے لیے رہنمائی پرسکون دل سے ملتی ہے؛ دل جس سے ایک مؤمن کا   اللہ؛ المؤمن ؛السّلام سے رابطہ ہوتا ہے۔ لمحۂ موجود میں دل کی پر سکون حالت ہی صحیح سمت رہنمائی کرتی ہے جبکہ موجودہ لمحے میں نفس اور ذہن میں بھاگنے دوڑنے والے خیالات انسان کو گمراہ کر سکتے ہیں۔  اس کے لیے ضبطِ نفس ضرور ہی سیکھنا پڑے گا۔ اگرنفس قابو میں نہ رہے تویہی کیفیت ایک نفسیاتی یا ذہنی علّت کا روپ دھار لیتی ہے۔

ہ۔ علاّمہ اقبال نے فلسفۂ خودی کا مأخذ قرآن کی درج ذیل آیت کو قرار دیا۔ انہوں نے سوچا کہ انسان اپنی جسمانی ضروریات سے تو غافل نہیں رہتا تو یہ کون سا اپنا آپ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنا آپ بھلانے پر خود انسان کو اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یہ درج ذیل حدیث بھی فلسفۂ خودی کی تشریح بیان کر رہی ہے۔

ہ۔ خودی کا مقام کبھی خود غرض لوگوں کو نہیں ملتا ۔ یہ صرف مخلص اور انسانیت سے محبّت رکھنے والے اور ان کی فلاح کے حریص لوگوں کو انعام کیا جاتا ہے۔

ہ۔ دنیا میں جس انسان نے بھی کوئی غیر معمولی کام انجام دیا ہے وہ اپنی خودی کی طاقت سے یا تو واقف تھا یا مخلص ہونے کی وجہ سے یہ مقام حاصل کر پایا۔

ہ۔ خودی کی منزلوں کا کوئی کنارہ نہیں ؛ کوئی حد نہیں ۔ جب تک بندہ ٔ مومن کی تلاش جاری رہتی ہے یہ خودی بھی نہیں  مرتی۔ صاحِبِ خودی کو منزل سے زیادہ سفر جاری رکھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے اور وہ نئی منزلوں کی تلاش میں نہ خود رُکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اللہ اس کو روکنا پسند کرتا ہے۔

ہ۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی اور چیز سے محبّت کرنا یا فقر اور استغناء اختیار کرنے کی بجائے غیر اللہ سے حاجت روائی طلب کرنے سے خودی چھین لی جاتی ہے۔اس لیے خودی کی حفاظت کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ گوہرِ یک دانہ ہاتھ سے پھسلنے میں دیر نہیں لگاتا۔

ہ ۔ حالتِ خودی میں انسان اللہ تعالیٰ سے الہامی علم حاصل کرتا ہے اور کبھی کبھاراس کا عمل بھی اس کی مرضی کے برعکس اُس سے صادِرکروایا جارہا ہوتا ہے جبکہ وہ خود اپنے آپ پر تعجب کر رہا ہوتا ہے۔  ایسے میں انسان خود اپنا تماشائی بن کر حیرت کے سمندر میں غرق ہوا جاتا ہے۔

ہ۔ خودی حاصل کرنے کے بعد بھی  مؤمن کُلی عقل و دانش کا حامل نہیں بن جاتا  بلکہ اس کی عقل  جُزوی ہی رہتی ہے ۔جس طرح ایک ادارے کو چلانے کے لیے صرف چیف ہی کی نہیں بلکہ ہر متصل شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت رہتی ہے اسی طرح ایک بیدار خودی رکھنے والے شخص کو اللہ کے علم اور باقی انسانوں کی عقل اور مشورے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔ البتّہ خودی کے عارف میں حکمت ، قوّتِ فیصلہ ، علم العرفان اور فرقان کی صلاحیت  عام لوگوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔  

ہ۔ خودی وہ جوہر ہے جس کو عطا کرنے والا  ربّ العالمین ؛علم ، حیثیت، شکل و صورت، مرتبہ  یا مقام نہیں دیکھتا بلکہ صرف وہ دل دیکھتا ہے کہ اگر وہ صاف شفّاف ہواور خالص توحید رکھتا ہو، مخلص ہو تو خواہ وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو اس کو بھی اللہ کی طرف سے خودی کا عارفانہ مقام دےدیا جاتا ہے۔ایسا شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود معاشرے کے لیے کارآمد اور مفید بن جاتا ہے۔جیسا کہ ایدھی صاحب کی مثال ہی دیکھ لیں۔

ہ۔ خودی کا حامل شخص لوگوں کی محفل میں پیارے نبیﷺ کی طرح برتاؤ کرنے لگتا ہے اور نبی ﷺ کا رنگ خود بخود اس پر چڑھنے لگتا ہے۔ جبکہ تنہائی میں وہ  اپنے اند ر خدائی رحمانی صفات محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز  بھی ہوتا ہے اورخود کو اللہ تعالیٰ  کا قریبی دوست اور ولی بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔وہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے رازونیاز کے ذریعے فی سبیل اللہ جہاد کی تدبیریں کرنے لگتا ہے۔

    خودی کی خلوتوں میں کبریائیخودی کی جلوتوں میں مصطفائی

ہ ۔خودی کی دسترس میں ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  زمین و آسماں ، کرسی ٔ و عرش تمام  مقامات تک خودی کی رسائی ممکن ہے۔

خودی کی زد میں ہے ساری خدائیزمین و آسماں کرسیٔ و عرش

ہ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  آٓخری زمانے کا مہدی بھی وہی ہو گا جس کی خودی سب سے پہلے نمودار ہو گی اوروہ باقی سب انسانوں کی خودی سے اعلیٰ مقامِ خودی حاصل کر نے کی وجہ سے حقیقت ِ انسانیہ کا یہ راز فلسفی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی زند ہ مثال پیش کر کے یہ  علم اور لوگوں میں بھی پھیلا دے گا۔

وُہی مہدی ، وہی آخرالزّمانیہوئی جس کی خودی پہلے نمودار

ہ۔ ایک ایسا صاحبِ خودی جو اپنی غلطیوں سے اپنی اصلاح کرتا رہے، خود کو مزید بہتر بنانے کی کوشش میں لگا رہے اور اپنے نفس کو شترِ بے مہار کی طرح چھوڑنے کی بجائے اپنے نفس پر حکومت کرنے لگے تو یہ بھی ممکن ہے کہ موت بھی اس کو مار نہ سکے۔ یہ علامہ اقبال کا تصوّر ہے اور شاید قرآن کی آیت جس میں شہید کو زندہ کہا گیا ہے اس سے کشف حاصل کیا گیا ہو کہ شاید ایک مضبوط خودی رکھنے والا شخص شہید کا درجہ پا لیتا ہو۔ واللہ اعلم

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکےہو اگر خود نگر و خودگر و خودگیر خودی

ہ۔ ہر دور میں ایک شخص یا گروہ موجود رہتا ہے  جن کی خودی دنیا کے تمام انسانوں سے بلند تر ہوتی ہے اورفی زمانہ ان سے ہی دنیا کی امامت کا کام لیا جاتا ہے اوراللہ کی زمین پر فیصلوں کے اختیارات اللہ تعالیٰ کی طرف سےانہی کو سونپ دیے جاتے ہیں۔ اسی طریق پر اللہ تعالیٰ ترقی کے ادوار کو مختلف قوموں پر پھراتے رہےہیں۔

ہ۔ ایک سچّے مؤمن جس کی خودی بیدار ہو وہ ہر گز بھری محفل میں اپنی تعریف نہیں چاہتا۔ اس کے لیے تمام تعریف اللہ کی ہی ہوتی ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی جلوہ نمائی نہ کی جائے بلکہ وہ خلوت کو جلوت پر ترجیح دینے لگتا ہے۔

سمندر ہے اک بوند پانی میں بندخودی جلوہ بد مست و خلوت پسند

ہ۔ غالِباً  المسیح الدّجّال بھی ایک ایسا ہی شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے کی بجائےاکڑ دکھائے گا اور   اللہ تعالیٰ کی چند صفات اور حضرت آدم ؑ کو سکھائے گئے علوم الاسماء تک رسائی حاصل کر لے گا مگر اس کی اصل کلمۂ خبیثہ ہو گی اور وہ چند دن اپنے کرتب دکھانے کے بعد موم کی طرح پگھل جائے گا یا ایک کمزور اور کھوکھلے درخت کی مانند آندھی کےآتے ہی اکھڑ جائے گا۔

پیارے ساتھیو! یہی وہ اسباق ہیں جو میں نے اپنی خودی کی تلاش میں سیکھے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اشاروں پر غور کیا اور لوگوں کی مجھ سے کہی ہوئی مخلصانہ باتوں، مشوروں، التجاؤں کو معمولی نہیں سمجھا اور ہر پیدا ہونے والی صورتِ حال کے سامنے سر تسلیم ِ خم کرنے کا طریقہ اپنایا اور بہترین نیّت رکھتے ہوئے عمل کی کوشش جاری رکھی۔ میری اسلام کے لیے  ایک کُل وقتی رضا کار بننے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نےمجھے عین وہی راہ دکھائی جیسی میری جُستجو تھی۔ یہی وہ مقصد تھا جس کی میں جوانی کے اوائل سے ہی متلاشی رہی اور یہی وہ  راستہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل کا سکون رکھ دیا ہے۔

طیبہ خلیل– بحرین

کائنات ہر مخلص باعمل انسان کی مدد کرتی ہے

مشہور مصّنف  undefined  کی مشہور کتاب undefined نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان دل سے کوئی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتا ہے تو ساری کائنات اس کا مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے لیے کام میں جُت جاتی ہے“۔

علّامہ اقبال نے اپنی نظم تصویرِ درد میں اس حقیقت کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہ ِعمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

 کم و بیش یہی فلسفہ مشہور کتاب undefined   میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کی زندگی کی حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اور کسی امر کو انجام دینے کے لیے  یا اپنا مطلوبہ مقصد پانے کے لیے شدید خواہش رکھنا اور اس کے بارے میں سوچنا طالب اور مطلوب  کے درمیان مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ  آپ اپنی زندگی کا ایک ویژن بنائیں اور اس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے زندگی میں عمل کے میدان میں پیش قدمی کریں ۔

قرآن میں  یہ عبارت اور مفہوم بیشتر مقاما ت پر دہرایا گیا ہے کہ یہ کائنات انسا ن کے لیے مسخّر کی گئی ہے۔ مسخّر کا مطلب ہوتا  ہے مطیع اور فرمانبردارہونا ، اور سخّر کرنے والے کی مرضی کے مطابق کام پر لگنا۔  قرآن کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خواہش دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل اور کوشش درکار ہے۔ اگر ہم اپنے مستقبل کے کسی ویژن پر ایمان لے بھی آئیں پھر بھی عمل کے بغیر یہ ایمان ادھورا ہے ۔ اس لیے قرآن میں یہ عبارت  ” الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” زیادہ تر مقامات پر ایک ساتھ دہرائی گئی ہے۔   اور ایک  جگہ پر قرآن میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن میں آیاہے ۔

اور سورہ الّیل میں اللہ تعالیٰ نے  اللہ کا تقویٰ  اختیار کرنے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور ہر امر  میں سب سے احسن بات الحُسنیٰ کی تصدیق کرنے پر آسان طریقے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

میں نے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی بدولت اس حقیقت کا ادراک حاصل کیا ہے کہ دل میں ایک زندہ آرزو کا ہونا ، اس کے لیے تڑپ پیدا ہونا، اخلاص کی نیّت رکھ کر عمل کیے چلے جانا خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو منزلوں کے راستو ں کو آسان بھی بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین بھی عطا ہوتا ہے۔ ایک بندہ مومن کے پُختہ یقین میں ناقابلَ تسخیر قوّت ہے اور یقین ایک ایسا جوہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ مایوسی کُفر کے مترادف ہے ؛ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان اور پُختہ یقین اُن اعلیٰ ترین اعمال میں سے ہیں جو کہ کائنات کی طاقتوں کو صاحبِ یقین کا خادم بنا دیتی ہیں۔

پیارے ساتھیو! اگر زندگی میں کوئی عظیم مقصد ہی نہ ہو  تو یہ موت کے مترداف ہے۔   اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر کسی مقصد کی تلاش اور اس میں اپنا آ پ سرگرداں کرنا  ہی دنیاوی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی  اعلیٰ مقصد نظر میں نہ ہو تو یہ زندگی بس صبح و شام کا کھیل ہے کہ کھایا ، پیا، ہضم کیا، سو لیا ، چند ساعتوں کا مزا حاصل کرلیا اور پھر مٹّی تلے جا کر دفن ہو گئے ۔ موت سے پہلے خود بھی جاگ جائیں اور دنیا میں بھیجے جانے کا عظیم مقصد بھی جگا لیں ورنہ موت سے پہلے ہی مرنے کی تیّاری کر لیں۔

طیبہ خلیل – بحرین

انسانوں سے محبّت کریں؛ان کے اعمال کی پڑتال اللہ پر چھوڑ دیں۔

ہم سب انسان؛ ہمارا خُدا ایک ہی خُدا ہے۔  وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے2: 163

اور ابتدا میں ہم ایک ہی امّت تھے۔  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَة ً  2:213

ہمیں ایک نفس سے پیدا کیاگیا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ ۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا ئے۔قرآن 4:1

ہم سب حضرت آدم اور حوّا علیہ السلام کی اولاد ہیں جو کہ مٹّی سے پیدا کیے گئے۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام میں اپنی روح سے پھونکا اوران کوزندگی بخشی اور ہم میں سے ہر انسان میں اللہ کی روح کا جوہر  ہےاور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی عکس سے پیدا کیا ہے۔ہم سب خطاکار ہیں اور ہم سب کے سب کبھی اپنی غلطیوں سے کبھی دوسروں کی غلطیوں سےسیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  ہم میں سے کوئی بھی ایمانی، جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر ایک حالت پر جامد نہیں بلکہ ہر لمحہ تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی ترقّی کی طرف اور کبھی تنزّلی کی طرف۔ ایک حالت سے دوسری حالت تک کا سفرطے کرتا چلا جا رہا ہے۔  ہر انسان کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف ظاہری اعتبار سے جانچتے اور پر کھتے ہیں۔ باطن کی مکمّل صورت صرف ہمارا رب ہی جانتا ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ عدل کرنے والی ذات ہی ہر ایک کے عمل کا فیصلہ خود ہی کرے گی۔ اس لیے ہم کسی کی نیّت اور عمل کو پرکھنے کی ذمہ داری نہیں دیے گئے۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا اور منفرد ہے جو کہ بہترین خالق کی تخلیق ہے۔ نہ ہمیں اپنے آپ کو کسی سے بہتر خیال کرنا چاہیے نہ کسی سے کمتر اور نہ ہی ایک دوسرے سے موازنہ کرنا چاہیے۔ ہر ذی روح انسان صرف اس ذمہ داری کا مکلّف ہے جس کی وسعت اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔2:286

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے 84:6 ۔ ہم سب ایک ہی منزل کے مسافر ہیں کہ ہم سب اپنے رب کی طرف واپسی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ خواہ کوئی آگے یا پیچھے ہو؛ سب اپنے اپنے راستوں پر اپنی رفتار، توفیق، استطاعت، کوشش، ہدایت اور عقل کے مطابق چلے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی موجودہ لمحے میں ایک کیفیّت، مقام اور امتحان سے گزر رہا ہے جس کو بہت شفیق مہربان رب نے بہترین اور دیرینہ مفاد کے لیے ایک پرفیکٹ تقدیر کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اور وہ شفیق ربّ ہر ایک سے محبّت رکھتا ہے۔ نفرتیں توصرف ہم انسان ہی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ہر شخص محبّت اور عزّت کا حقدارہوتا ہے؛ خواہ اس کا پیشہ جو بھی ہو۔ موسیقی، اداکاری یا کوئی بھی آرٹ وغیرہ؛ اس کی صلاحیّت بھی بہت مہربان ربّ نے ہی اسے دی ہے اوریہ سب پیشے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی وجود میں آئے ہیں۔ نہ زمانے کو برا بھلا کہیں اور نہ ہی کسی انسان سے دل میں کراہیت اور نفرت رکھیں۔ زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالیٰ کو نعوذباللہ برا بھلا کہنے کے مترادف ہے۔ اس مفہوم کی ایک حدیثِ قدسی مستند اور معروف ہے۔ انسانوں سے نفرت کی بجائے خیر خواہی کے جذبات دل میں رکھیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہم دوسروں کے لیے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ واقعی ان کے حق میں بہتر ہو۔ اس لیےدوسروں کو نصیحت کرنے کا دائرہ کارحکمت کے ساتھ  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیّت، کوشش اور صریح شرک اور فحش کاموں سے روکنے تک  ہی محدود رکھیں۔

آج کل بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کو ایکسیپٹ کرنا سیکھ جائیں۔ ہم اپنی عقل کے مطابق کسی کو جج نہ کریں۔ ہم کسی کو بہت پیار سے سمجھا سکتے ہیں مگر کسی کا دل بدل نہیں سکتے۔ کسی کا ظاہری نظر آنے والا گناہ ہمیں اس کی خیر خواہی اور اس کے لیے بہترین کامیابی یعنی کہ جنّت میں داخل کیے جانے کی خواہش سے روک نہ دے۔ دعوت و تبلیغ کے کام کا مؤثر ترین طریقہ خود اپنے عمل اور کردار کی مثال پیش کرنا ہے۔

جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اکیلے جنّت میں جائیں بلکہ ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ سب کے سب نیکوکار انسان جنّت میں ہمارے ساتھ ہوں۔ وہ جنّت جہاں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی بغض، کوئی نفرت، کوئی حسد کا جذبہ نہیں ہو گا۔اور وہ خواہشات جن کے پیچھے آج ہم ہلکان ہو رہے ہیں ان کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ اور آخرکار ہم اپنے رب کے چہرے کے دیدار اور اس سے ملاقات کے بعد کسی بھی طرح کے پست خیال کے بارے میں سوچ ہی کیسے سکیں گے؟ کہ جس ربّ کی تلاش اور اس سے ملاقات کے لیے ہم اس دنیا کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہیں۔ کیا جنّت کی کوئی نعمت یا کوئی نفسانی خواہش یا لذّت بھی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

طیبہ خلیل

بحرین

وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

اور میں اپنے رب سے دعا مانگ کر کبھی بھی مایوس نہیں رہا۔ یہ حضرت زکریا ع کے الفاظ ہیں جو قرآن کی سورہ مریم کے آغاز میں درج ہیں۔ کیسا یقین ہے ان کواپنے رب پر کہ نہ انہیں یہ پرواہ ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور نہ ہی دعا مانگنے میں یہ امر مانع ہے کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے اور پھر بھی نیک اولاد کی دعا یقین کے ان الفاظ میں مانگ رہے ہیں ۔ پیارے ساتھیو! دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم جزو یقین ہی ہے کہ جب یہ یقین اس انگارہ خاکی میں پیدا ہو جائے تو وہ بال و پرِ روحُ الامیں پیدا کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ہی یقین کے ساتھ بلند ترین عزائم اور مقاصد کی دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ مختصر کتاب آپ کے دل میں انہی بلند مقاصد اور عزائم کے حصول کا ولولہ پیدا کر سکتی ہے۔

سورة الّیل سے میں نے کیا سبق سیکھا؟

Surahal-layl

سورة الّیل ان مختصر سورہ میں سے ہے جس نے مجھے بہت متاثر کیا ۔ اس سورہ کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

قَسم ہے رات کی جب کہ وہ (دن کو) ڈھانپ لے۔ (1) اور قَسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہو جائے۔ (2) اور اس ذات کی قَسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ (3) یقیناً تمہاری کوششیں مختلف قِسم کی ہیں۔ (4) تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور اللہ کا تقوٰی اختیار کیا (5) اور احسن بات – الحُسنیٰ کی تصدیق کی۔ (6) تو ہم اسے آسان راستہ کیلئے سہو لت دیں گے۔ (7) اور جس نے بُخل کیا اور (خدا سے) بےپرواہی کی۔ (8) اور احسن بات – الحُسنیٰ کو جھٹلایا۔ (9) تو ہم اسے سخت راستے کی سہولت دیں گے۔ (10) اور اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہ دے گا جب وہ (ہلاکت کے) گڑھے میں گرے گا۔ (11) بےشک راہ دکھانا ہمارے ذمہ ہے۔ (12) اور بےشک آخرت اور دنیا ہمارے ہی قبضہ میں ہیں۔ (13) سو میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے۔ (14) اس میں وہ داخل ہوگا(اور جلے گا) جو بڑا بدبخت ہوگا۔ (15) جس نے جھٹلایا اور رُوگردانی کی۔ (16) اور جو بڑا متّقی ہوگا وہ اس سے دور رکھا جائے گا۔ (17) جو پاکیزگی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے۔ (18) اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے۔ (19) بلکہ وہ تو صرف اپنے بالا و برتر پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے۔ (20) اور عنقریب وہ اس سے ضرور خوش ہوجائے گا۔ (21

سورہ الّیل کے اسباق

اللہ تعالیٰ نے پہلے رات کی قسم کھائی اور پھر دن کی۔ بے شک رات دن سے پہلے ہی وجود میں آئی کہ جب سورج نہیں تھا تو ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورج کی تخلیق کی تو دن کا وقت کرّہ ارض پر ظہور پذیر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر نر اور مادہ کی قسم کھائی۔ اور یقینا یہ ایک بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑوں میں پیدا کی۔ ہرزندہ مخلوق، نباتات اور ہر غیر زندہ مخلوق جن کو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے سب کےسب جوڑوں کی شکل میں موجود ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح انسان خواہ نر ہو یا مادہ کی کوشش کا ذکر کیا۔ بے شک ہر کوئی اپنی اپنی کوشش کر رہا ہے۔ مگر یہ کوشش کتنی نفع بخش اور سہل  ثابت ہو گی اس کا دارومدار ٣ افعال پر ہے۔

١۔ اللہ کے راستے میں مال دینا

٢۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا

٣۔ الحُسنیٰ یعنی سب باتوں میں سے بہتر یا احسن بات کی تصدیق کرنا۔

 اللہ تعالیٰ نے ان تین کاموں کے کرنے پر زندگی کے راستوں کو سہل اور آسان بنانے کا وعدہ کیا ہے۔اللہ کے رستے میں مال دینا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا مطلب تو ہم سب ہی جانتے ہیں۔ ان میں سے تیسری بات یعنی کہ احسن بات کی تصدیق کرنا؛ یہاں پر آ کر بہت سے لوگ مار کھا جاتے ہیں۔ سب باتوں میں سے بہتر بات کی تصدیق کرنے میں کیا وجوہات آڑے آ جاتی ہیں۔

ہ۔ لوگوں کی کثیر تعداد احسن بات پہچان کر بھی اس وجہ سے منہ پھیر لیتی ہےکہ اس بات کو پہنچانے والا شخص ذاتی طور پر پسند نہیں ہوتا۔

ہ۔ یا بات پہنچانے والے شخص سے عداوت، بغض، یا حسد رکھنے کی وجہ سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یا تکبّر کرتے ہوئے رد کر دیتے ہیں کہ میری بات زیادہ بہتر ہے اور دوسرا دنیاوی علم یا عقل کی وجہ سے مجھ سے کمتر ہے۔

ہ۔ یا اس وجہ سے انکار کر دیتے ہیں کہ ان کا اپنا دنیاوی فائدہ خظرے میں پڑ سکتا ہے۔

ہ۔ یا پھر احسن بات کی تصدیق کرنے سے بات پہنچانے والے شخص کوتشہیر مل سکتی ہے اور ایک شقی القلب انسان اپنے علاوہ کسی اور کی تعریف اور تشہیر نہیں چاہتا۔

دنیا میں امن، سکون کے قیام اور انسانیت کی فلاح کے لیے یہ اصول بہت اہم ہے کہ جب بھی کسی پہلے سے بہتربات،  رائے ، نقطہ نظریا  تجویز کا ظہور ہوتو ذہن کو تعصبات سے پاک کر کے اس کی تصدیق کی جائے اور اس کو قابلِ عمل بنایا جائے۔  اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو  یہ ضد یا  مخالفت  ماحول  اور  فطرت کے عوامل اور عناصر کے خلاف صف آراء ہونے لگے گی اور زمین میں خیر و برکت کی بجائے تنگی اور عسرت پیدا ہو گی۔ احسن بات کا انکار کرنے والا شخص خود بھی شقاوتِ قلبی کا شکارہو گا، اس کا دل نرم ہونے کی بجائے سخت ہوتا چلا جائے گا اور اس کے امور میں تنگی اور مشکلات پیدا ہوں گی۔

احسن بات کی تصدیق کرنے والا شخص اپنا فائدہ نہیں دیکھتا بلکہ وہ انسانیت کا فائدہ دیکھتا ہے۔ وہ غرور و تکبّر کرنے کی بجائے بہتر رائے رکھنے والے شخص کی فرمانبرداری اختیار کرتا ہے اور عاجزی کا رویّہ اپناتا ہے۔ اور اس کے اس نیک عمل سے کائنات اور فطرت  خود اس کی بھی  مدد کرتی ہے اور اس کے معاملات میں آسانی ہوتی چلی جاتی ہے۔

شقی القلب انسان اپنا مال بھی بچا بچا کر رکھتا ہے اور بخل کرتا ہے۔ انسانیت کا درد دل میں نہیں رکھتا اور لوگوں کی واضح ضرورت نظر آ جانے کے با وجود اپنے مال پر سانپ بن کر بیٹھا رہتا ہے۔ اس کا دل اللہ تعالیٰ کے حاضر و موجود ہونے سے پردے میں آ جاتا ہے اور پھر اس کے دل سے اللہ کا تقویٰ اور خوف جاتا رہتا ہے۔ ایسے شخص کا مال اور اس کے اعمال اس کے کسی کام نہیں آئیں گے اور وہ اپنی جہنم کا ایندھن خود اس دنیا سے لے کر دوزخ کے گڑھے میں جا گرے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ اس سورہ میں ذکر کر رہے ہیں کہ بے شک راستہ دکھانا، ہدایت دینا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اور ہدایت اس کو ہی نصیب ہو گی جو اپنا دل ہدایت پانے کے لیے تیار اور نرم بنائے گا۔ اور آخرت اور دنیا اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور یہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک با مقصد عظیم تخلیق ہے۔

ان سب آیات کے بعد اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے متنبہ کر دیا ہے جو کہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب پانے والی جگہ ہے۔ اس میں صرف وہی داخل ہو گا جو بڑا بد بخت اور شقی القلب ہو گا۔ جس نے حق بات کو جھٹلایا  اور تکبّر کے ساتھ منہ پھیرا۔ اس کے برعکس ایک نیک دل، متّقی اور پرہیز گار شخص اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال اور اپنا نفس پاک کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہےاور اس کو اللہ پر یا لوگوں پر کیا گیا احسان نہیں سمجھتا بلکہ وہ تو صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے۔ ایسے تمام لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انہیں خوش کر دیا جائے گا اور ان کے نیک اعمال کے عوض ان کو ہمیشہ رہنے والی جنّت کا وارث بنایا جائے گا۔

اللهمّ جعلنا منهم

طیبہ خلیل

بحرین

 

زندگی بدلنے کے لیے سوچ بدلیں

Feelings

ہم اکثر یہ باتیں کہتے سنتے رہتے ہیں کہ فلاں کی کسی بات نے میرا سارا موڈ خراب کر دیا یا کسی وجہ سے سارا دن برا گزرا ۔ کسی پل چین نہیں آ رہا، ذہنی سکون نصیب نہیں ، خوشی جیسے روٹھ سی گئی ہے. اسی طرح کی بہت سی ان کہی باتیں اور خیا لات بھی جو ہمارا ذہن بُنتا رہتا ہے  جیسے کسی سے کوئی امید باندھ لی اور پوری نہ ہونے پر دل بہت کڑھتا رہا۔ ماضی کی تکلیف دہ باتوں کو سوچ سوچ کر حال کو بھی جمود کا شکار کر لینا۔ مستقبل کی فکر پال رکھنا۔ اپنی خوشی کو شرائط سے مشروط کر لینا کہ اگر کوئی کام ہو سکا تو تب ہی سچی خوشی نصیب ہو گی۔ کوئی کام جس کو کرنے کی حاجت یا خواہش ہو اس کے بارے میں یہ سوچ رکھنا کہ مجھ سے نہ ہو پائے گا۔ لوگوں کی رائے اور رويّوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور ان کو خوش کرنے کی کوشش میں خود کو تھکا دینا۔

مثال کے طور پرکچی عمر کی نئی شادی شدہ خواتین عموماً اپنا بہت سارا وقت نئےقائم ہونے والے رشتوں سے  توقعات پالنے میں اور پھر ان کے پورا نہ ہونے کا غم غلط کرنے میں گزار دیتی ہیں۔ شوہر نے فون نہیں کیا، تعریف نہیں کی، آنکھ بھر کے دیکھا نہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پراپنے آپ کو بہت بڑے صدمے سے دوچار کر لیتی ہیں اور خود سے ہی وجوہات بھی اخذ کر لیتی ہیں.

اگر گہرائی میں جا کر ایسے رويّوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ماخذ صرف اور صرف ایک غلط نظریہ ہے کہ ہماری  فیلنگزکو بیرونی محرّکات کنٹرول کرسکتے ہیں ۔ جبکہ دراصل جس طرح کے بھی جذبات یا محسوسات سے ہمارا دل و دماغ دوچار ہوتا ہے وہ سو فیصد موجودہ لمحے میں ہماری سوچ کی پیداوار ہے۔ ہماری سوچ کے علاوہ کسی طرح کے بیرونی محرّکات ان کا سبب ہر گز نہیں ہوتے۔

 ہماری زندگی میں ہر وہ شے جسے ہم نے اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ہماری فیلنگزکو کنٹرول کریں یا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پاس یہ طاقت رکھتی ہیں. خواہ وہ کوئی انسان ہو، کوئی صورتِ حال ، کوئی مسئلہ ، کوئیمادی چیز جو ہماری ملکیت ہو ، ماضی یا کچھ بھی وہ حقیقت میں ایک الٰہ یا بت ہے  جو ہمارے نفس نے تخلیق کر رکھا ہے۔ جب کہ زبان سے یہ کہتے ہیں کہ کوئی الٰہ نہیں سوائے اللہ کے مگر اپنے آپ کو اس ایک ذات کے حوالے کرنے کی بجائے ان بتوں کے حوالے کیے رکھتے ہیں کہ جس ڈگر سوچ لے کر جاتی ہے وہیں وہیں چل پڑتے ہیں اور اپنے بوجھ میں خود اضافہ کیے رکھتے ہیں۔ جبکہ وہ تو ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ جیسے ہی ہم اپنی تخریبی سوچ کو خاموش کروا کر موجودہ لمحے میں اپنی توجہ مرکوز کریں گے تب ہی ہم اِحسان کی کیفیت کو پا سکیں گے کہ گویا ہم دل کی آنکھ سے اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا پھر اس احساس سے خشیت محسوس کر سکیں گے کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

 اس نظریے کی روشنی میں اپنے ذہن اور نفس کا محاسبہ کرنے سے ہم اپنے آپ کو بہت سی منفی، تخریبی اور غیر تعمیری خیالات اور ذہنی تکالیف سے بچا سکتے ہیں۔ جتنی گہرائی اور شفافیت سے اس سچ کو سمجھنے لگیں گےاسی قدراپنے ماحول اور معاملات کو حقیقت سے قریب تر یا عین مطابق دیکھ پائیں گے۔ اور یہ جان لیں گے اپنی خوشی، نا خوشی، ذہنی پستی اور بے چارگی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ باہر سے کوئی چیز ہماری حالت تبدیل نہیں کر سکتی سوائےاس کے ہم خود اپنی سوچ کو تبدیل کر کہ اپنی دنیا بھی تبدیل کر لیں.نفع بخش علم حاصل کرنے ، کائنات میں غوروفکرکرنے,  اللہ کا ذکر کرنے,اپنی ذات سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے اور زندگی کا مقصد بنانے سے یہ دنیا کب اور کیسے تبدیل ہو جائے شاید ہمیں اس کا اندازہ بھی نہ ہو۔

 طیبہ خلیل