لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

سورۃ الشمس کی یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ شعوری طور پر پڑھنے پر ہی میرے دل کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ۔ کوئی گیارہ سال پہلے یہی آیات قرآن میں میری انسپریشن رہ چکی ہیں یعنی کہ جن آیات نے مجھےقرآن میں موجود آیات میں سے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اسی انسپریشن کے ساتھ میں نے ایک بلاگ بنایا جو کہ اسی تھیم پر مبنی تھا مگرمیں اپنی مصروفیات کے باعث اسے جاری نہ رکھ سکی اور نہ ہی اس طرف توجّہ مبذول ہو سکی۔

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠: اور نفس کی قسم اور اس کی جس نے اس کو متوازن کیا (7) پھراس کا فجور اور تقویٰ اس کو الہام کیا (8)کامیاب ہوا جس نے اس کا تزکیہ کیا (9) اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے پست بنایا (10

ابھی حال ہی میں پروفیسر احمد رفیق اختر کو ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے سنا تو خود سے بھی ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ہمارے ذہن میں آنے والے تمام خیالات ہی الہامی ہوتے ہیں خواہ وہ بلند ہوں یا پست ہمارا ان پر اختیار نہیں۔ خیالات کی لہریں ہمارے ذہن میں بہتی رہتی ہیں۔ جو چیز ہمارے بس میں ہے وہ ہے انتخاب یعنی کہ ہم ایک بلند خیال کو ایک پست خیال پراہمیت دے کر اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں یا پھر ایک پست یا فاجر خیال کو تقویٰ پر مبنی خیال پرترجیح دے کر اپنے نفس کو پست بناتے ہیں ۔ ہر لمحۂ موجود میں ہمارے پاس مختلف خیالات جو ہمارے ذہن میں آتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے اور اس کو فوقیت دینے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ہر دفعہ ایک برا خیال منتخب کرنے پر نفس اپنی سرکشی اور پستی کی جانب بڑھے گا اور ایک اچھا نیک خیال منتخب کرنے پر اطاعتِ الٰہی اور ضبطِ نفس کی صورت میں بلندی کی طرف قدم اٹھائے گا۔ جو نفس بلندی اختیار کرتا جاتا ہے اس کا ذہن پست خیالات سے پاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پستی اختیار کرنے والا نفس پست خیالات کی آماجگاہ بنتا چلا جاتا ہے۔ نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمٗنّہ نفس کی وہ حالتیں ہیں جو ہمارے انتخابات سے ہی جنم لیتی ہیں۔ نفسِ امّارہ ایسا نفس ہے جو برائی پر آمادہ کرے۔ نفسِ لوّامہ ایسا نفس ہے جو گناہ کے کاموں پر ملامت کرے اور نفسِ مطمٗنہ وہ نفس ہے جو خیالات کی پاکیزگی اور بلندی کی وجہ سے اطمینان حاصل کرلے۔

آئیے کچھ مثالوں سے اپنے خیالات اور اپنے انتخابات کو سمجھتے ہیں۔

ایک مثبت خیال کو منفی خیال پر ترجیح دینا

اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کفر کرنے کی بجائے شکر کرنا

اللہ تعالیٰ اور لوگوں سے بد ظن رہنے کی بجائے حُسنِ ظن رکھنا

اپنے ہرعمل کی نیّت لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا حاصل کرنے کو بنانا

ہر عمل کے لیے اپنے دل میں ہونے والی کھٹک کو پہچاننا اور پیارے نبی ﷺ کی ہدایت پر ایسے کام سے رک جانا جو دل میں کھٹکے۔

لوگوں سے نفرت کرنے کی بجائے محبّت کرنے کی خو ڈالنا

دین کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی بجائے احسن طریقے سے ادا کرنے کے خیال کو منتخب کرنا

کبر کی بجائے عاجزی اختیار کرنا

یہ تو کچھ چند ہی مثالیں ہیں۔ آپ خود اپنے ذہن میں آنے والے خیالات اور اپنے انتخابات کو نوٹ کرنا شروع کر دیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کا نفس کس ڈگر پر چل رہا ہے۔ کیا وہ بلند خیالات کا انتخاب کر کے بلندی اور تزکیہ حاصل کر رہا ہے ؟ یا پست خیالات کی وجہ سے پستی کا شکار ہو رہا ہے؟ یہی تزکیہ نفس کی پہلی سیڑھی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

انسانوں سے محبّت کریں؛ان کے اعمال کی پڑتال اللہ پر چھوڑ دیں۔

ہم سب انسان؛ ہمارا خُدا ایک ہی خُدا ہے۔  وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے2: 163

اور ابتدا میں ہم ایک ہی امّت تھے۔  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَة ً  2:213

ہمیں ایک نفس سے پیدا کیاگیا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ ۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا ئے۔قرآن 4:1

ہم سب حضرت آدم اور حوّا علیہ السلام کی اولاد ہیں جو کہ مٹّی سے پیدا کیے گئے۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام میں اپنی روح سے پھونکا اوران کوزندگی بخشی اور ہم میں سے ہر انسان میں اللہ کی روح کا جوہر  ہےاور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی عکس سے پیدا کیا ہے۔ہم سب خطاکار ہیں اور ہم سب کے سب کبھی اپنی غلطیوں سے کبھی دوسروں کی غلطیوں سےسیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  ہم میں سے کوئی بھی ایمانی، جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر ایک حالت پر جامد نہیں بلکہ ہر لمحہ تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی ترقّی کی طرف اور کبھی تنزّلی کی طرف۔ ایک حالت سے دوسری حالت تک کا سفرطے کرتا چلا جا رہا ہے۔  ہر انسان کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف ظاہری اعتبار سے جانچتے اور پر کھتے ہیں۔ باطن کی مکمّل صورت صرف ہمارا رب ہی جانتا ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ عدل کرنے والی ذات ہی ہر ایک کے عمل کا فیصلہ خود ہی کرے گی۔ اس لیے ہم کسی کی نیّت اور عمل کو پرکھنے کی ذمہ داری نہیں دیے گئے۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا اور منفرد ہے جو کہ بہترین خالق کی تخلیق ہے۔ نہ ہمیں اپنے آپ کو کسی سے بہتر خیال کرنا چاہیے نہ کسی سے کمتر اور نہ ہی ایک دوسرے سے موازنہ کرنا چاہیے۔ ہر ذی روح انسان صرف اس ذمہ داری کا مکلّف ہے جس کی وسعت اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔2:286

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے 84:6 ۔ ہم سب ایک ہی منزل کے مسافر ہیں کہ ہم سب اپنے رب کی طرف واپسی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ خواہ کوئی آگے یا پیچھے ہو؛ سب اپنے اپنے راستوں پر اپنی رفتار، توفیق، استطاعت، کوشش، ہدایت اور عقل کے مطابق چلے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی موجودہ لمحے میں ایک کیفیّت، مقام اور امتحان سے گزر رہا ہے جس کو بہت شفیق مہربان رب نے بہترین اور دیرینہ مفاد کے لیے ایک پرفیکٹ تقدیر کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اور وہ شفیق ربّ ہر ایک سے محبّت رکھتا ہے۔ نفرتیں توصرف ہم انسان ہی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ہر شخص محبّت اور عزّت کا حقدارہوتا ہے؛ خواہ اس کا پیشہ جو بھی ہو۔ موسیقی، اداکاری یا کوئی بھی آرٹ وغیرہ؛ اس کی صلاحیّت بھی بہت مہربان ربّ نے ہی اسے دی ہے اوریہ سب پیشے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی وجود میں آئے ہیں۔ نہ زمانے کو برا بھلا کہیں اور نہ ہی کسی انسان سے دل میں کراہیت اور نفرت رکھیں۔ زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالیٰ کو نعوذباللہ برا بھلا کہنے کے مترادف ہے۔ اس مفہوم کی ایک حدیثِ قدسی مستند اور معروف ہے۔ انسانوں سے نفرت کی بجائے خیر خواہی کے جذبات دل میں رکھیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہم دوسروں کے لیے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ واقعی ان کے حق میں بہتر ہو۔ اس لیےدوسروں کو نصیحت کرنے کا دائرہ کارحکمت کے ساتھ  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیّت، کوشش اور صریح شرک اور فحش کاموں سے روکنے تک  ہی محدود رکھیں۔

آج کل بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کو ایکسیپٹ کرنا سیکھ جائیں۔ ہم اپنی عقل کے مطابق کسی کو جج نہ کریں۔ ہم کسی کو بہت پیار سے سمجھا سکتے ہیں مگر کسی کا دل بدل نہیں سکتے۔ کسی کا ظاہری نظر آنے والا گناہ ہمیں اس کی خیر خواہی اور اس کے لیے بہترین کامیابی یعنی کہ جنّت میں داخل کیے جانے کی خواہش سے روک نہ دے۔ دعوت و تبلیغ کے کام کا مؤثر ترین طریقہ خود اپنے عمل اور کردار کی مثال پیش کرنا ہے۔

جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اکیلے جنّت میں جائیں بلکہ ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ سب کے سب نیکوکار انسان جنّت میں ہمارے ساتھ ہوں۔ وہ جنّت جہاں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی بغض، کوئی نفرت، کوئی حسد کا جذبہ نہیں ہو گا۔اور وہ خواہشات جن کے پیچھے آج ہم ہلکان ہو رہے ہیں ان کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ اور آخرکار ہم اپنے رب کے چہرے کے دیدار اور اس سے ملاقات کے بعد کسی بھی طرح کے پست خیال کے بارے میں سوچ ہی کیسے سکیں گے؟ کہ جس ربّ کی تلاش اور اس سے ملاقات کے لیے ہم اس دنیا کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہیں۔ کیا جنّت کی کوئی نعمت یا کوئی نفسانی خواہش یا لذّت بھی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

طیبہ خلیل

بحرین

حضرت آدم و حوّا علیہ السلام اور شجرِ ممنوعہ

قرآن میں حضرت آدم و حوّاعلیہ السلام کا جنّت سے نکالے جانے والا قصّہ سورہ البقرہ اور سورہ الاعراف میں بڑی تفصیل سے درج ذیل ہے۔ سورہ بقرہ کی یہ آیات کا اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں؛

پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ “تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے” (35) آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا، جس میں وہ تھے ہم نے حکم دیا کہ، “اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین ٹھہرنا ہےاور وہیں گزر بسر کرنا ہے (36”

میرے ذہن میں یہ سوال ایک عرصے تک گردش کرتا رہا کہ آخر وہ کون سا درخت تھا جس کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا اور آخر اللہ تعالیٰ نے وہ درخت جنّت میں لگایا ہی کیوں؟ کچھ دس سال پہلے کی بات ہے جب علّامہ اقبال کی نظم تصویرِ درد میری نظر سے گزری تو اس کے ایک شعر نے میرے سوال کا عقدہ حل کر دیا۔ وہ شعر یہ ہے

شجر فرقہ آرائی ہے، تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے جو جنّت سے نکلواتا ہے آدم کو

یہ شعر پڑھتے ہی میرے ذہن میں سورہ بقرہ کی آیت کے یہ الفاظ گردش کرنے لگے۔
وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ – اور تم نکل جاؤ یہاں سے اور تم میں سے بعض اب بعض کے دشمن ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ہی یہ درخت جنّت میں لگایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بڑا پلان تھا۔ یہ بات ہمیں قرآنِ مجید سے ہی معلوم ہوئی ہے کہ اصحابِ جنّت کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی کینہ کوئی بغض، کوئی دشمنی، کوئی حسد، کوئی غِلّ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ایسی تمام روحانی بیماریوں سے پاک صاف کر دیں گے۔ تو جب حضرت آدم و حوّا نے شجرِممنوعہ فرقہ آرائی کا تعصّب نام کا پھل کھا لیا تو وہ جنّت میں رہنے کے قابل نہ رہے اور انہیں زمین پر اتار دیا گیا اس امتحان کے ساتھ کہ جو کوئی بھی اللہ کی وحدانیت تسلیم کرتےہوئے انبیاء، مؤمنین اور تمام انسانوں کے ساتھ مخلص رہ کراس جماعت کے ساتھ جُڑا رہے گا اوراپنا دل سب کے لیے صاف رکھے گا وہ اپنی اصلی آرام گاہ جنّت میں دوبارہ داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بر عکس جو کوئی بھی اللہ کی واحِد جماعت سے الگ ہو کر شرک کا مرتکب ہو گا اور دنیا میں لوگوں سے نفرت، حسد، دشمنی جیسی آگ اپنے دل میں پالتا رہے گا وہ اپنی اسی آگ میں دنیا میں بھی جلے گا اور آخرت میں بھی یہی آگ لے کر دوزخ میں داخل ہوگا۔ پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اگر آج اس دور میں بھی تمام انسان ایک دوسرے کے لیے بے لوث محبّت کے جذبات پیدا کرلیں اور ایک دوسرے کے مخلص خیر خواہ بن جائیں تو یہ دنیا بھی جنّت کا سماں پیش کر سکتی ہے۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
طیّبہ خلیل
بحرین

وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

اور میں اپنے رب سے دعا مانگ کر کبھی بھی مایوس نہیں رہا۔ یہ حضرت زکریا ع کے الفاظ ہیں جو قرآن کی سورہ مریم کے آغاز میں درج ہیں۔ کیسا یقین ہے ان کواپنے رب پر کہ نہ انہیں یہ پرواہ ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور نہ ہی دعا مانگنے میں یہ امر مانع ہے کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے اور پھر بھی نیک اولاد کی دعا یقین کے ان الفاظ میں مانگ رہے ہیں ۔ پیارے ساتھیو! دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم جزو یقین ہی ہے کہ جب یہ یقین اس انگارہ خاکی میں پیدا ہو جائے تو وہ بال و پرِ روحُ الامیں پیدا کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ہی یقین کے ساتھ بلند ترین عزائم اور مقاصد کی دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ مختصر کتاب آپ کے دل میں انہی بلند مقاصد اور عزائم کے حصول کا ولولہ پیدا کر سکتی ہے۔

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُم ۔ دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف

fastabiqu

آج کل دنیا نفسا نفسی،مادیّت پرستی  ، کلاس سسٹم کی تفریق یعنی کہ  امیر غریب کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق حتّیٰ کہ اسکول بھی طبقاتی نظام پر چل رہے ہیں۔ کون ڈگری لے کر اونچا عہدہ حاصل کرتا ہے ۔ کس کے پاس مہنگی گاڑی ہے۔ کس کی بیوی خوبصورت اسمارٹ ہے۔ کس کا شوہر ہینڈسم اور امیر ہے۔ کس کے بچے مہنگے انگریزی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ گھر بار اور اس کی زیب و آرائش کیسی ہے۔ کون زیادہ کماتا ہے۔ فنکاروں کا موازنہ بھی ان کی مالیاتی قدر کی بنا پر کیا جانے لگا ہے۔ کس کی زیادہ فین فالؤنگ ہے۔ کون زیادہ مشہور ہے۔ غرض یہ کہ آج کا انسان دنیا کی اصل متاع و قیمت سے اندھے پن کا شکار ہے۔ وہ اس چند روزہ فانی دنیا کو اس قدر سطحی قسم کی محصولات کی بنیاد پر اس کی اوقات سے زیادہ اہمیت دیے چلا  جا رہا ہے۔ بغیر یہ سوچے کہ دنیا کے مال و متاع کو حاصل کرنے کی کوشش کتنی بے سود اور حقیر ہے۔ اس مختصر سی زندگی میں وہ کتنے حقیر خواب انکھوں میں سجائے بیٹھا ہے۔ ریٹائرمینٹ کے بعد یورپ کی سیر کو چلا جاؤں۔ زیادہ سے زیادہ جائیداد، زمینیں، سونا اور دنیاوی مال و متاع حاصل کر لوں۔ غرض یہ کہ اس مادیّت پرستی کے دور میں بس یہی کچھ اہم سمجھا جانے لگا ہے۔ اس دوڑ میں مسلمان بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ وہ بھی اس نظامِ دجل میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں ۔

اس کے بر عکس اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو لہو و لعب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو کوئی اس دنیا کے متاع کا طالب ہوتا ہے اسے ہم دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں۔ اللہ کے پاس تو آخرت اور دنیا دونوں کا ہی اجر ہے۔ یہ تو طالب پر منحصر ہے کہ وہ طلب کیا کرتا ہے۔   جبکہ اللہ تعالیٰ ہمیں کس معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کے لیے کہہ رہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے سورہ حدید کی درج ذیل آیات کا  اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ قرآن 57:20,21

جہاں بھی مسابقت ہوتی ہے تو پھر  نیّت ، کوشش اور کارکردگی کے لحاظ سے درجہ بندی بھی کی جاتی ہے۔ اس آیت پر غور و فکرکرنے سے مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ تو یہاں کھلا چیلنج دے رہے ہیں سب انسانوں کو کہ آپس میں نیک کاموں کے کرنے کی دوڑ لگاؤ اور پھر میں فیصلہ کروں گا کہ کون اوّل آتا ہے کون دوم اور اور اس کے بعد باقی درجات۔ آج دنیاوی امتحان میں فیل ہونے پر اتنی شرمندگی ہوتی ہے تو سوچیں آخرت کے امتحان میں فیل ہو جانے پر کس قدر ندامت، پشیمانی اور زود رنجی کا سامنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں دوزخ کا عذاب الگ۔ اس کے برعکس اللہ کے رستے میں مسابقت کر کے اوّل آنے والے کو کیا عظیم خوشی نصیب ہو گی۔ کیا دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی یا خوشی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

پیارے ساتھیو! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا عمل نورِ توحید کو دنیا میں پھیلانا ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ کی راہ میں مسابقت کو آپ صرف ظاہری فرائض، سنّتوں اور نوافل سے ہی منصوب نہ کر لیں۔  ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺکے مشن کو اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق نفع اور تقویّت پہنچانا ہی  اللہ کی اصل  مدد کرنا ہے۔  اسی کے لیے کوشش اور عمل درکار ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو چند لوگوں کی مکمّل ظاہری  دین داری سے کیا لینا دینا جبکہ دینِ اسلام کی روح; توحید کی عظمت ، رفعت اور برتری سے ہی غافل رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت کے ساتھ حق بات کو پہچاننے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

طیبہ خلیل

بحرین

سورة العصر ۔ بے شک انسان خسارے میں ہے

alasar

سورة العصر قرآنِ حکیم کی جامع ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔

عصر کے وقت کی قسم (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (3

زیادہ تر مفسّرین نے عصر کو زمانے کا مطلب دیا ہے۔ مگر یہ عمومی طور پر زمانے کا مطلب رکھنے کی بجائے ایک خاص زمانے کی طرف اشارہ ہے۔۔ آئیے اس زمانے کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ اس پوری دنیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجود میں آنے سے لے کر قیامت تک صرف ایک دن کا وقت دیا گیا ہے۔ تو فجر کے وقت حضرت آدم ع زمین پر اتارے گئے۔ اور اس کے بعد آنے والے رسولوں اور قوموں کو عصر تک کا وقت دیا گیا۔ اور پھر خود حضرت محمد ﷺ  الیوم الدّنیا میں عصر کے وقت تشریف لائے۔ اس لیے امّتِ محمّدی کو عصر سے مغرب تک کا وقت دیا گیا ہے۔ مغرب کا وقت شروع ہوتے ہی اس دنیا کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا اور قیامت برپا کر دی جائے گی۔ مغرب سے عشاء کے وقت تک حساب کتاب ہو گا اور عشاء کے بعد ہر کوئی اپنے اپنے ٹھکانے جنّت یا دوزخ میں یا تو آرام فرمائے گا یا پھر رسوا کن عذاب سے دوچار ہو گا۔

عصر اور مغرب کا وقت اتنا قلیل ہوتا ہے کہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ ہمارے پیارے نبی  نے عصر اور مغرب کے درمیان سونے سے بھی منع فرمایا ہے۔ والعصر؛ اللہ تعالیٰ نے عصر کے زمانے کی قسم کھائی ہے۔ اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاس وقت بہت قلیل رہ چکا ہے جو کہ گھڑی کی ہر ٹِک ٹِک کے ساتھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہر ایک انسان خسارے میں رہے گا۔ یعنی کہ لوگوں کی کثیر تعداد عمل کے وقت کے اس قدر قلیل ہونے سے غفلت میں رہے گی۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ، موج مستی، فَن ٹائم، ہلّہ گلّہ زیادہ تر لوگ یہی کرتے نظر آ رہے ہیں۔  بہت کم لوگ ہی وقت کی شدید کمی کا احساس رکھتے ہوئے عمل کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

ایسے وقت میں سب کے سب لوگ خسارے میں رہیں گے الّا وہ لوگ جو یہ چار کام کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے۔

١۔ ایمان لائیں گے۔ اللہ پر، اس کے وعدوں پر ،اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر ، اس کی کتابوں پراور روزِ قیامت پر

٢۔ صالح اعمال کرنے کی کوشش اور فکر میں لگے رہیں گے اور عمل سے غفلت کا شکار نہیں ہوں گے۔

٣۔ ایک دوسرے کو حق بات کی تلقین کرتے رہیں گے۔ حق بات ہدایت کی ایسی بات کو کہتے ہیں جو سچی ، پر تاثیر اور آسان ہو اور فوری طور پر دل کو نرم کر کے اس پر اپنا اثر ڈالے۔

٤۔ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں گے کہ دیکھو یہ مصائب، پریشانیاں، مشکلات صرف اتنے ہی قلیل عرصے کے لیے ہیں جتنا  عصر سے مغرب تک کا وقت۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ وہ زمین میں بھی اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہمیں اقتدار دے گا اور اگر ہم وہ وقت نہ بھی دیکھ پائے تو ہماری کوشش اور صبر کا عظیم انعام ہمیں آخرت میں دے گا۔

پیارے ساتھیو! صریح خسارے سے بچنے کے لیے ان میں سے کچھ کام نہیں بلکہ یہ چاروں کام کرنے پڑیں گے تب ہی قیامت کے دن کی ذِلّت اور رسوائی سے بچ سکیں گے۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی ذمہ داری ہم پر ہی ڈالی گئی ہے اس ذمہ داری کو کسی نہ کسی کو تو اٹھانا ہی پڑے گا ورنہ کسی نہ کسی مخلص جماعت میں شامل ہو کر اپنی صلاحیت، قابلیت، استعداد اور استطاعت کے مطابق نورِ توحید پوری دنیا میں پھیلانےمیں اپنا  حِصّہ ڈالنا ہی ہو گا۔ اپنے آپ کو عظیم خسارے سے بچانے کا صرف اور صرف یہی طریقہ ہے۔

اللهمَّ لا تجعلنا مِنَ الخاسِرين

طیبہ خلیل – بحرین

سورة الّیل سے میں نے کیا سبق سیکھا؟

Surahal-layl

سورة الّیل ان مختصر سورہ میں سے ہے جس نے مجھے بہت متاثر کیا ۔ اس سورہ کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

قَسم ہے رات کی جب کہ وہ (دن کو) ڈھانپ لے۔ (1) اور قَسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہو جائے۔ (2) اور اس ذات کی قَسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ (3) یقیناً تمہاری کوششیں مختلف قِسم کی ہیں۔ (4) تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور اللہ کا تقوٰی اختیار کیا (5) اور احسن بات – الحُسنیٰ کی تصدیق کی۔ (6) تو ہم اسے آسان راستہ کیلئے سہو لت دیں گے۔ (7) اور جس نے بُخل کیا اور (خدا سے) بےپرواہی کی۔ (8) اور احسن بات – الحُسنیٰ کو جھٹلایا۔ (9) تو ہم اسے سخت راستے کی سہولت دیں گے۔ (10) اور اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہ دے گا جب وہ (ہلاکت کے) گڑھے میں گرے گا۔ (11) بےشک راہ دکھانا ہمارے ذمہ ہے۔ (12) اور بےشک آخرت اور دنیا ہمارے ہی قبضہ میں ہیں۔ (13) سو میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے۔ (14) اس میں وہ داخل ہوگا(اور جلے گا) جو بڑا بدبخت ہوگا۔ (15) جس نے جھٹلایا اور رُوگردانی کی۔ (16) اور جو بڑا متّقی ہوگا وہ اس سے دور رکھا جائے گا۔ (17) جو پاکیزگی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے۔ (18) اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے۔ (19) بلکہ وہ تو صرف اپنے بالا و برتر پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے۔ (20) اور عنقریب وہ اس سے ضرور خوش ہوجائے گا۔ (21

سورہ الّیل کے اسباق

اللہ تعالیٰ نے پہلے رات کی قسم کھائی اور پھر دن کی۔ بے شک رات دن سے پہلے ہی وجود میں آئی کہ جب سورج نہیں تھا تو ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورج کی تخلیق کی تو دن کا وقت کرّہ ارض پر ظہور پذیر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر نر اور مادہ کی قسم کھائی۔ اور یقینا یہ ایک بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑوں میں پیدا کی۔ ہرزندہ مخلوق، نباتات اور ہر غیر زندہ مخلوق جن کو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے سب کےسب جوڑوں کی شکل میں موجود ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح انسان خواہ نر ہو یا مادہ کی کوشش کا ذکر کیا۔ بے شک ہر کوئی اپنی اپنی کوشش کر رہا ہے۔ مگر یہ کوشش کتنی نفع بخش اور سہل  ثابت ہو گی اس کا دارومدار ٣ افعال پر ہے۔

١۔ اللہ کے راستے میں مال دینا

٢۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا

٣۔ الحُسنیٰ یعنی سب باتوں میں سے بہتر یا احسن بات کی تصدیق کرنا۔

 اللہ تعالیٰ نے ان تین کاموں کے کرنے پر زندگی کے راستوں کو سہل اور آسان بنانے کا وعدہ کیا ہے۔اللہ کے رستے میں مال دینا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا مطلب تو ہم سب ہی جانتے ہیں۔ ان میں سے تیسری بات یعنی کہ احسن بات کی تصدیق کرنا؛ یہاں پر آ کر بہت سے لوگ مار کھا جاتے ہیں۔ سب باتوں میں سے بہتر بات کی تصدیق کرنے میں کیا وجوہات آڑے آ جاتی ہیں۔

ہ۔ لوگوں کی کثیر تعداد احسن بات پہچان کر بھی اس وجہ سے منہ پھیر لیتی ہےکہ اس بات کو پہنچانے والا شخص ذاتی طور پر پسند نہیں ہوتا۔

ہ۔ یا بات پہنچانے والے شخص سے عداوت، بغض، یا حسد رکھنے کی وجہ سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یا تکبّر کرتے ہوئے رد کر دیتے ہیں کہ میری بات زیادہ بہتر ہے اور دوسرا دنیاوی علم یا عقل کی وجہ سے مجھ سے کمتر ہے۔

ہ۔ یا اس وجہ سے انکار کر دیتے ہیں کہ ان کا اپنا دنیاوی فائدہ خظرے میں پڑ سکتا ہے۔

ہ۔ یا پھر احسن بات کی تصدیق کرنے سے بات پہنچانے والے شخص کوتشہیر مل سکتی ہے اور ایک شقی القلب انسان اپنے علاوہ کسی اور کی تعریف اور تشہیر نہیں چاہتا۔

دنیا میں امن، سکون کے قیام اور انسانیت کی فلاح کے لیے یہ اصول بہت اہم ہے کہ جب بھی کسی پہلے سے بہتربات،  رائے ، نقطہ نظریا  تجویز کا ظہور ہوتو ذہن کو تعصبات سے پاک کر کے اس کی تصدیق کی جائے اور اس کو قابلِ عمل بنایا جائے۔  اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو  یہ ضد یا  مخالفت  ماحول  اور  فطرت کے عوامل اور عناصر کے خلاف صف آراء ہونے لگے گی اور زمین میں خیر و برکت کی بجائے تنگی اور عسرت پیدا ہو گی۔ احسن بات کا انکار کرنے والا شخص خود بھی شقاوتِ قلبی کا شکارہو گا، اس کا دل نرم ہونے کی بجائے سخت ہوتا چلا جائے گا اور اس کے امور میں تنگی اور مشکلات پیدا ہوں گی۔

احسن بات کی تصدیق کرنے والا شخص اپنا فائدہ نہیں دیکھتا بلکہ وہ انسانیت کا فائدہ دیکھتا ہے۔ وہ غرور و تکبّر کرنے کی بجائے بہتر رائے رکھنے والے شخص کی فرمانبرداری اختیار کرتا ہے اور عاجزی کا رویّہ اپناتا ہے۔ اور اس کے اس نیک عمل سے کائنات اور فطرت  خود اس کی بھی  مدد کرتی ہے اور اس کے معاملات میں آسانی ہوتی چلی جاتی ہے۔

شقی القلب انسان اپنا مال بھی بچا بچا کر رکھتا ہے اور بخل کرتا ہے۔ انسانیت کا درد دل میں نہیں رکھتا اور لوگوں کی واضح ضرورت نظر آ جانے کے با وجود اپنے مال پر سانپ بن کر بیٹھا رہتا ہے۔ اس کا دل اللہ تعالیٰ کے حاضر و موجود ہونے سے پردے میں آ جاتا ہے اور پھر اس کے دل سے اللہ کا تقویٰ اور خوف جاتا رہتا ہے۔ ایسے شخص کا مال اور اس کے اعمال اس کے کسی کام نہیں آئیں گے اور وہ اپنی جہنم کا ایندھن خود اس دنیا سے لے کر دوزخ کے گڑھے میں جا گرے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ اس سورہ میں ذکر کر رہے ہیں کہ بے شک راستہ دکھانا، ہدایت دینا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اور ہدایت اس کو ہی نصیب ہو گی جو اپنا دل ہدایت پانے کے لیے تیار اور نرم بنائے گا۔ اور آخرت اور دنیا اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور یہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک با مقصد عظیم تخلیق ہے۔

ان سب آیات کے بعد اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے متنبہ کر دیا ہے جو کہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب پانے والی جگہ ہے۔ اس میں صرف وہی داخل ہو گا جو بڑا بد بخت اور شقی القلب ہو گا۔ جس نے حق بات کو جھٹلایا  اور تکبّر کے ساتھ منہ پھیرا۔ اس کے برعکس ایک نیک دل، متّقی اور پرہیز گار شخص اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال اور اپنا نفس پاک کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہےاور اس کو اللہ پر یا لوگوں پر کیا گیا احسان نہیں سمجھتا بلکہ وہ تو صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے۔ ایسے تمام لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انہیں خوش کر دیا جائے گا اور ان کے نیک اعمال کے عوض ان کو ہمیشہ رہنے والی جنّت کا وارث بنایا جائے گا۔

اللهمّ جعلنا منهم

طیبہ خلیل

بحرین

 

غیر اسلامی ممالک میں چہرے کا پردہ

chehraykaparda

مغرب اور غیر مسلم ممالک میں اسلاموفوبیا اس قدر بڑھ رہا ہے کہ اب تو نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ نقاب پوش یا حجابی خواتین کو غیر مسلموں کی طرف سے سرعام ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ ممالک میں تو سکارف تک بین کرنے کے لیے قومی عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔

 ایسے لوگ جو اسلام کا غلط اور انتہا پسند نقطہء نظر دکھائے گئے ہیں وہ جب مسلم خواتین کو نقاب کے پیچھے دیکھتے ہیں تو وہ ان کوکسی دوسری ہی دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں. وجہ یہ کہ وہ کسی طرح بھی ان سے ریلیٹ اورکنیکٹ  نہیں کر پاتے. کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس لباس پہننے پر، گھروں میں قید ہو رہنے پر مجبور کی گئی ہیں۔ شاید یہ بات کچھ خواتین کے لیے صحیح ہو مگر ایک کثیر تعداد ان خواتین کی خود اپنی مرضی سے اللہ کی خاطر اس کا حکم سمجھ کراپنا چہرہ چھپاتی ہیں۔ واضح رہے یہاں پر بات صرف چہرہ چھپانے کی کی جارہی ہے۔ جسے پہلے تو مذہبی سکالرز فرض کا درجہ دیتے تھے مگر پھر تحقیق کے بعد اس نقطہ نظر میں نرمی اختیار کی گئی۔ اور اب اسےفرض تو نہیں البتہ پسندیدہ اور تقوی سے قریب تر خیال کیا جانے لگا ہے۔

آزادانہ طریقے سے لباس پہننے اور زیب و زینت اختیار کرنے والی مسلم خواتین کو باپردہ خواتین کی طرف سے بےحیائی اور غیر متّقی ہونے کا لیبل لگایا جاتا ہے یا کم از کم ان کا ذہن خود بخود ایسےجج کرنے لگتا ہے۔ اس کے متضاد نقاب پوش خواتین کو undefined اور بیک ورڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں جو فاصلہ ان دو مسلم خواتین  کے گروہوں میں نظر آتا ہے یہ فاصلہ غیر مسلم خواتین اور نقاب پوش خواتین کے درمیان مزید گہرا اور طویل ہو چکا ہے یہاں تک کہ وہ ایک دریا کے دو مخالف سمت کے کناروں پر کھڑی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان ایک رشتہ undefined کا بھی تو تھا وہ کہاں گیا؟ کیا ایک مسلم عورت سے صرف اس کے شوہر، اس کے بچوں، اس کے والدین اور خاندان یا حلقے کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب ہے؟ بہت سی نقاب پوش خواتین علمی لحاظ سے غیر معمولی قابلیت رکھتی ہیں ان کی بدولت غیر مسلم عورتوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے مگر وہ تو ایک بلند و بالا دیواروں والے بند قلعے کی مانند خود تک رسائی کا راستہ بند کیے ہوئے ہیں.

اسلام اعتدال پسند مذہب ہے اور ہمیں اُمّتِ وسط بنایا گیا ہے۔ وسط کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاملات میں ایکسٹریم چوائس  کی بجائے مِڈل وے اختیار کیا جائے۔ اس اصول کے موافق جو خواتین ماڈیسٹ ڈریسنگ کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں ان میں سے مظبوط عقیدہ اور اخلاقیات سے لیس خواتین اپنے کردار کی وجہ سے غیر مسلم خواتین کو ایک بہتر اور موثر اسلام کی دعوت دے رہی ہیں ۔ جو کہ ان کی کردار کی مضبوطی، نفسِ مطمئن اور اخلاقی بلندی کی وجہ سے ان کے مذہب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتیں۔

اسلام کے بنیادی عقائد اور بنیادی تعلیمات کے علاوہ کچھ احکامات میں حکمت بھی مطلوب ہے اسی وجہ سے احکامات بتدریج نازل ہوئےاور پردے کے احکام کے نازل ہونے کا پس منظر اور اس کا وقت بھی اپنے اندر حکمت لیے ہوئے ہے ۔بے شک امہات المومنین نے پردے کے احکامات نازل ہونے کے بعد اپنے جسم کے ساتھ اپنا چہرہ بھی غیر محرم مردوں سے چھپایا ہو گا کیونکہ ان کو امت کی ماوؤں کا درجہ حاصل تھا اور آپ ص کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا جائز نہ تھا۔ مگر قرآن کے احکامات میں مسلم اورمومن خواتین کے لیے لچک پائی جاتی ہے اور ان کو جسم اور خصوصا سینہ ڈھانپنے ، تبرج سے بچنے اور ظاہری زیب و زینت کے سوا جسم کی زیبائش ظاہر نہ کرنے کا اصول دیا گیا ہے۔ احادیث سے ہمیں ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ خواتین چہرے کے پردے کے بغیر بھی اسلامی معاشرے میں موجود تھیں۔ جبکہ پردے کے احکام سے پہلے تو سب کو علم ہی ہے کہ لباس کی کیا صورت عرب معاشرے میں رائج تھی.

اگر ایک خاتون پانی میں ڈوب رہی ہو اور اسے بچانے کے لیے ایک مسلم مرد ہی موجود ہو تو کیا وہ یہ سوچے گا کہ چونکہ ایک غیر محرم عورت کو ہاتھ لگانا گناہ ہے تو اس کو ڈوبنے سے بچانا بھی گناہ شمارہو گا۔ یہ تو ایک بہت سادہ سی بات ہے کہ یقینا ایسی صورت حال میں ایک زندگی بچانا ہی سب سے اہم بات ہے۔ اس وقت غیر محرم عورت کو ہاتھ نہ لگانے والا اصول لاگو نہیں ہو گا۔

اب اسی صورت حال میں کچھ تبدیلی کرتے ہیں. ڈوبنے والے وہ لوگ ہیں جو کہ لا الہ الا اللہ سے واقف نہیں ( جو کہ دوزخ سے بچائے جانے اور جنت میں جانے کا کم از کم کرائیٹیریا ہے ) اور بچانے والے مسلمان ۔ سوچیں کہ کتنی بڑی تعداد ہےغیر اسلامی معاشرے میں ان لوگوں کی جو عقیدہ توحید سے ہی واقف نہیں یا پھر اس سے واقف ہونے کے باوجود ہزار ہا کشمکش کا شکار ہیں۔ ہم سب مسلم مرد اور عورتیں داعی الا اللہ کی ذمہ داری دیے گئے ہیں ۔ ایسے میں اگر مسلم خواتین اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ہوں گی جو ایک انسان کی پہلی شناخت ہے تو غیر مسلم عورتیں کیسے انہیں اپروچ کر سکیں گی،  ان کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس کر سکیں گی گھل مل سکیں گی یا ان کی سلیم فطرت، تمانیت اور پر وقار شخصیت سے متاثر ہو سکیں گی اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کی دعوت دی جاسکیں گی کہ جس کو صرف زبان سے پڑھ لینے پر بھی ہمارے نبی ص نے اپنے چچا کے لیے اللہ تعالی سےجہنم سے بچائے جانے کی سفارش کرنے کی امید رکھی۔ اسلام کا نصب العین اجتماعی فلاح اور کامیابی ہے صرف چند لوگوں کی مکمل دین داری مقصود نہیں ۔ تو کیا ایسے میں جب معاشرے میں اس قدر ضد موجود ہو؛ ایمانیات اور عقائد پر مساوات پہلا ہدف نہیں ہونا چاہیے ؟

تمام مومن عورتیں اللہ کا تقوٰی اختیار کرنے کی نیت سے چہرہ چھپاتی ہیں اور بے شک وہ عزت دی گئی ہیں مگر کیا کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ کہیں یہ عزت اور حرمت لا الہ الا اللہ کی عزت اور حرمت سے زیادہ تو نہیں بڑھا دی گئی ۔ کیا ایک مومن عورت کے قابل شناخت اور باآسانی اپروچ ایبل ہونے سے اگر لا الہ الا اللہ کا پیغام ایک بھی غیر مسلم عورت (یا باذن اللہ بہت بہتیروں تک) پہنچ جائے اور وہ جہنم کی آگ سے  بچا لی جائے توکیا یہ زیادہ افضل بات ہو گی یا ایک ایسی خاتون کا صرف اپنے ہم عقیدہ حلقے میں اصلاح کی کوششیں کرنا زیادہ افضل ہو گا۔ فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ غیر مسلم خواتین سے میل جول بڑھا کر انھیں اسلام کے بنیادی عقائد اور اخلاقی نظام سے روشناس کروایا جائے. اگر اللہ کے لیے اپنے نفس پہ جبر کرکے چہرہ چھپانا باعث تقوٰی خیال کیا جاتا رہا ہے تو کیا اللہ کی خاطر چہرہ ظاہر کرنے کی ہمت نفس کے خلاف جہاد شمارکی جا سکتی ہے۔؟ کیا ہم اسلام کے عقائد اور احکامات کو اس کی قرانی ترتیب اورپرائیوریٹی کے مطابق دیکھ رہے ہیں یا سیکنڈری باتوں کو پرائمری کا درجہ دے کر پرائمری تعلیم بھی مشکل بنا دی گئی ہے۔؟

یہ تحریر میری اپنی ذاتی انسائٹ پر مبنی ہے. میں نے صرف اپنے اندر کا سچ پہنچانے کی کوشش کی ہےاور میں سمجھتی ہوں کہ اس سے بہتر سوچ موجود ہو سکتی ہے جو کہ شاید فی الحال میرے علم میں نہ ہو۔.میرے خیال میں ہمیں بطورامت  ایک نئی سوچ اور معاملات میں حکمت کا عنصر ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

طیبہ خلیل – بحرین