لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر
اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آو تو اللہ تعالی کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں عذاب دیں

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

سوشل میڈیا پر خود نمائی اور مؤمن سے مطلوب طرزِ عمل

اس دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور لوگ اسے پسند کریں مگر اس خواہش کو ہم نے ایک خبط کی صورت میں سوشل میڈیاز کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دیکھاجن  کے استعمال کی وجہ سے خود نمائی میں بے پناہ  اضافہ ہوا۔ خود نمائی ایک ایسا فعل ہے جو کہ آپ کے اند ر کی  اِن سیکورٹی اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ خوشی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے اپروول کے محتاج ہیں۔ ایک سچا مؤمن ہر نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور وہ لوگوں کا درددل میں رکھتا ہے کہ وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں؛ خواہ  وہ خوبصورت اولاد ہو، شوہر، بیوی ، بچے ہوں، زیب تن کیا ہوا لباس ہو، چہرے کی خوبصورتی ہو، آپ کے سامنے پڑا ہوا کھا نا  ہو  ، آپ کے دنیا کی سیر کی تصویر ہو یا وہ سب کچھ جو ایک تصویر ظاہر کرتی ہے  جس کو لوگوں پر عیاں کرنے کے لیے وہ تصویر اپ لوڈ کی گئی ہے؛ان لوگوں کو اداس کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں جن کے پاس یہ سب نعمتیں نہیں ہیں۔

ہ۔مؤمن اپنی نعمتوں کی خود نمائی نہیں کرتا بلکہ اللہ کی حمد بیان کر کے اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اس نعمت کو صرف اپنی ملکیّت نہیں سمجھتا بلکہ اس میں سا ئل و محروم کا حق بھی رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن خوشی ملنے پر سجدہ کرتا  ہےاور اللہ سے رازونیاز کر کے اپنی خوشی کا دل سے شکر ادا کرتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی کے اشتہار نہیں چھپواتا۔

ہ۔مؤمن صرف خیر کی باتیں لوگوں سے شیئر کرتا ہے اور ا س کی نیّت  لوگوں سے داد وصول کرنے کی نہیں ہوتی بلکہ دین کی بھلائی اور خیر لوگوں تک پہنچانے کا مقصد  ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی بڑی سے بڑی کامیابی صرف اللہ کی مدد ،  اسی کے وسائل کی فراہمی، اسی کی دیے ہوئے اسباب اور اسی کی دی ہوئی عقل سے  حاصل کی گئ ہے تو پھر اس کا طرزِ عمل عاجزی اختیار کرنے کا ہونا چاہیے ۔

ہ۔ایک مؤمن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے نیک اعمال کا خراج یا تعریف اللہ سے طلب کرنے کی بجائے لوگو ں  سے چاہنے لگے۔

ہماری آجکل کی نوجوان نسل وہ نسل ہے جو بغیر کوئی خاطر خواہ کام کیے ہی مشہوراور دولت مند ہونا چاہتی ہے۔ بطور مسلمان ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ہر کام اللہ کی عبادت  یعنی کہ صرف اللہ سے جزا حاصل کرنے کی نیّت سے کیا جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان کی تخلیق کا مقصد ہی صرف اپنی عبادت کرنا قرار دیا ہے ۔ہر انسان کی  زندگی میں ایک خلاءباقی  رہتا ہے جب تک  وہ کسی ایسے کام سے پُر نہیں کیا جاتا جو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مقصد لیے ہوئے ہو۔  جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیاکہ میں نے انسا ن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا تو یقیناً  ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک خاص عبادت کی صلاحیت ، طاقت  یا وسعت دے کر تخلیق کیا ہے اور وہی انسان کی عظیم ترین عبادت ہوتی ہے۔ باقی یکساں عبادات؛ نماز، روزہ، حج، زکوٰ ۃ تو اس عظیم عبادت کے لیےانسان کو چارج کرنے کے  اسباب ہیں۔

آپ اپنی مخصوص عبادت کو تلاش کیسے کر سکتے ہیں؟  اس کے لیے  سب سے پہلے اپنے اندر جھانک کر دیکھیں وہ کون سا ایسا کام اگر کبھی جو کیا تھا جس نے آپ کو خوشی دی  اور اس میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی ۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ آپ اس کام کو پکڑیں اور اس کی نیّت  اللہ کی رضا بنا لیں۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا کی نیّت شامل کی جا سکتی ہے۔یا  آپ ارد گرد دیکھیں کہ کون سا کام رضا کارانہ طور پر آپ آسانی سے کر سکتے ہیں  حالا نکہ وہ کا م کسی  اور کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔کسی کی طرف سے کوئی التجا موصول ہو تو اس کو ہر گز   ہلکا نہ لیں اور اگر اپنے اندر اس کام کرنے کی وسعت محسوس کریں تو ضرور وہ کام کردیں۔کسی کی زندگی میں کوئی کمی محسوس کریں تو اس کو اس سے مطّلع کریں اور اگر خود وہ کمی پوری کرنے  کی سکت رکھتے ہیں تو ایسا ضرور کریں۔ ہم سب انسانوں کو ایک دوسروں کی ضرورت  اس وجہ سے بھی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے  گمشدہ ٹکڑے لوگوں میں بانٹ دیے ہوتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو مکمّل کرنے کے لیے انہی ٹکڑوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر ایک معاشرے کا ہر فرد یہ سوچ اپنا لےکہ اگر میرے پاس کس شخص کی مطلوبہ چیزہے تو میں اسے وہ دے دوں  تو وہ اپنے ارد گرد لوگوں سے غافل نہ رہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہر جاننے اور نہ جاننے والے کو سلام کرے اور مسکرا کر خندہ پیشانی سے ملے۔ یہی طرزِ عمل اپنانے سے اللہ تعالیٰ اس خاص عبادت کی  طرف رہنمائی فرماتے ہیں جو خودغرضی کی بجائے انسانیت کی خدمت پر مبنی ہوتی ہے اور یہی عین عبادت ہے  ۔

ہر ایک ٹرینڈ کا بھی ایک ٹائم پیریڈ ہوتا ہے ؛ اس کے بعد اس میں تبدیلی اور زوال آتا ہے۔  میرے خیال سے اب  سوشل میڈیا پر خودنمائی اور انٹرٹینمنٹ کا دور گزرنے والا ہے اور دنیا  ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے جس میں ہر انسان سچی خوشی اللہ کی عبادت کی نیّت سے کی گئی تخلیق اور دوسرے انسانوں کے لیے کار آمد ثابت ہونے کی وجہ سے حاصل کرے گا۔ اب ان  اس دنیا کی سطحی قسم کی نمودونمائش کی بجائے  ہر انسان اپنی تخلیق اور کارآمد کاموں سے پہچانا جائے گا۔ان شاء اللہ

 میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جس میں ہر انسان و ہی کام کرے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی نیّت معاش حاصل کرنے کی نہ ہوبلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ہو جبکہ  گھر کا راشن ، پانی اور باقی سہولیات پہنچانا  حکومت اور کمیونٹی کی ذمہ داری ہو۔ ایسا معاشرہ دن دوگنی رات چوگنی ترقّی کر سکتا ہے اور امن  اور اخوّت کی ایک نظیرثابت ہو سکتا ہے۔

طیّبہ خلیل ۔ بحرین

سوشل نیٹ ورکس بمثل دورِ جدید کی مساجد

اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی جیسے ہی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے ترقی کرنی شروع کی توآن لائن سوشل نیٹ ورکنگ کا تصوّر وجود میں آیا۔ ابتدا میں جب ٹچ فون سسٹم نہیں ہوتے تھےتو نیٹ ورکنگ کے لیے  آن لائن چیٹ رومزنے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ پھر اس کے بعد میسنجر نامی سافٹ ویئرز پرمختلف ممالک کے لوگوں نے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ بعد ازاں جب ٹچ سسٹم والے موبائل فونز عام اور سستے بکنے لگےتو لوگ اپنے خاندان، دوست احباب اور دنیا بھر سے مختلف لوگوں سے جدید سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی بھی ایجاد بذاتِ خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس کا  استعمال اس کو برا  بناتا ہے۔ میں نے سوشل نیٹ ورکس کے مقاصد  اور ان کے آج کل ہونے والے مثبت اثرات پر نظر ڈالی تو اندازہ ہو ا کہ ایک ایسا سوشل نیٹ ورک جس میں فتنہ پھیلانے کی  استعداد  کو کنٹرول میں رکھا جا سکے  وہ ہوبہو ایک مسجد کا کردار ادا کر سکتا ہے۔  

مسجد اور سوشل نیٹ ورکس میں مماثلت

اسلام میں مردوں کے لیے نماز مسجد میں ادا کرنا فرض ہے  اس کے پیچھے بنیادی  حکمت یہی ہے کہ ایک بستی، گلی محلّے اور علاقے کے لوگ آپس میں مل جل کر ایک اتحاد قائم کر لیں ۔ کہ وہ پنج وقتہ  آپس میں ملیں تو ایک دوسرے کی ضروریات معلوم ہوتی رہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں کہ وہ شیطان جو لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا چاہتا ہے اس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔ کوئی گرنے لگے تو اسے تھام لیا جائے ۔ ایک دوسرے کو اوپر اٹھایا جائے۔  ایک دوسرے کی حاجات اور پریشانی کو دور کیا جا سکے ۔امر باالمعروف اور نہی عنِ المُنکر کا کام بھی کیا جاسکے۔ یہی کام ہو بہو آجکل  وٹس ایپ اور اس سے ملتی جلتی ایپس  کر رہی ہیں ۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ و اصلاح کے کاموں میں آج کل تو کثیر تعداد میں لوگ  اپنے علم اور استعداد کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے حق بات اور حکمت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ قریباً  ہر کمیونٹی کا گروپ بنا ہوا ہے اور یہ روایت بہت مقبول ہو رہی ہے۔ کمیونٹی کی فلاح کے لیے نہایت کار آمد طریقہ ہے۔اور خواتین بھی اپنے گھر کے اند ر بیٹھے بٹھائے ہی ان جدید مساجد کا حِصّہ بنی ہوئی ہیں ۔

ہر سوشل نیٹ ورک کا ایک مزاج ہے ۔ فیس بک لوگوں کی زندگیوں کی رنگینیوں؛ تصویروں ،  ویڈیوزاور تحریروں سے بھر پور ایک دلچسپ  ایپ ہے ۔ بہت سے باا ثر لوگ اس میڈیا کے ذریعے  لائیو آکر لوگوں کو بہت مفید باتیں بتا تے ہیں۔ خواتین نے اپنے گروپس بنارکھے ہیں جس میں بچوں کے مسائل، ازدواجی مسائل، انفرادی مسائل کا حل بڑی آسانی سے مختلف لوگوں کی رائے اور مشوروں سے حاصل ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر انسان کے پاس جُزوی عقل ہے اس لیے اس کو لازماً   اپنی ذات اور عقل کا وہ حِصّہ جو دنیا میں کسی اور کے پاس ہے؛ مطلوب ہوتا ہے تاکہ اس کی زندگی کے خلاء پُر ہوتے رہیں۔ بیشترلوگ  انہی نیٹ ورکس کےذریعے اپنا ادھورا پن مکمل کر پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ آن لائن بزنس بڑی کامیابی کے ساتھ اسی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے کر رہے ہیں۔

اگر دکھاوا اور خود نمائی کرنے کی بجائے  ان نیٹ ورکس کو انسانیت کی فلاح کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ہی تو وہ  دورِ جدید کی مساجد ہیں جو  دینِ اسلام کا انسانیت کی فلاح اور اتّحاد کا نصب العین ہو بہو پورا کر رہی  ہیں  ماسوا  کچھ بد تہذیب لوگوں اور عناصر کے جو فتنہ، نفرت  ، فحاشی اور منفی جذبات لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔  

ٹویٹراپنی جگہ ایک کارآمد  ایپ ہے جس کا مقصد ہے کہ بس کام کی بات دو تین لائنوں میں لکھ کر  لوگوں تک پہنچا دو۔ ہر انسان کسی نہ کسی الہامی علم کا حامل ہوتا ہے۔ اگرایک بااثر اور اعلیٰ ذہانت رکھنے والا شخص  یہ علم ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے  فوری  شیئر کرتا رہے تو چند لمحات میں ہی  بہت سے  انسان ایک نیک اچھی اور حق کی بات  کا علم حاصل کر کے اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ ایک فرد کو جذبِ باہمی کے اصول کے مطابق باقی انسانوں سے  جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام کا مقصد بھی یہی تو ہے  کہ انسان  اتّحاد اور ولایتِ باہمی کے رشتے کے ساتھ جُڑ جائیں اور حق کی بات پوری دنیا میں پھیلا دی جائے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بندے سے اپنی عبادت مطلوب ہے تو جو کوئی شخص بھی ان ایپس کا استعمال رحمانی مقصد کے ذریعے کرے گا وہ ہوبہو مسلم  امّت کی وحدت اور فلاح کا  مقصد پورا کرنے میں اپنا کردار اد ا کرے گا۔ 

میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ ان سوشل نیٹ  ورکس میں  لوگوں کو زندگی میں آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر کچھ صاحبِ اخلاص لوگ تو خوشی محسوس کرتے ہیں مگر وہ لوگ جو اپنی اصل، اپنے روحانی وجود سے جُڑے نہیں ہوتے  وہ ان نیٹ ورکس  سے منفی جذبات اوردوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کا موازنہ کرنے کی  وجہ سے پریشان رہنے لگتے  ہیں۔ چونکہ وہ خود اندر سے خالی پن محسوس کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کو چاہیےکہ  وہ سوشل میڈیا سے کچھ عرصے دوری اختیار کر کے پہلے اپنا آپ اور اپنا اس زندگی میں آنے کا رحمانی مقصد اور اپنی خاص عباد ت کی تلاش کریں تاکہ  وہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں  اپنے حِصّے کی شمع جلا سکیں اور اپنی بہت ہی خاص تخلیق لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اپنی کی ہوئی ذاتی تخلیق ہی وہ جوہر ہے جو انسان  کو  استغنا ، لوگوں سے بے نیازی اور اپنے من کی دنیا کی لذّت سے روشناس کرواتا ہے۔ اگر تمام انسان تخلیق کا جذبہ اور لگن پیدا کر لیں تو معاشرے کا کوئی بھی فرد ادھورا پن محسوس نہیں کرے گا  بلکہ وہ اپنی اور دوسروں کی خودی کی صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے راضی رہے گا۔

میرا ایک خواب ہے کہ پاکستانی شہریوں کا” خودی “کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک بنایا جائے جس کوبنیادی معاشرتی، معاشی، اقتصادی اور دیگر انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک محلے، علاقے، شہر، صوبے اور ملک کے افراد کو آپس میں اور فرد کی سطح سے لے کر حکومت تک کنیکٹ کیا جا سکے۔ اس نیٹ ورک کا ڈیزائن قرآن اور صحیح حدیث  کی اعلیٰ اخلاقیات  پر مبنی ہو اور اس کو فتنہ پھیلانے کی طاقت اور اجازت نہ دی جائے۔ یہ پاکستان میں اسلامی فلاحی نظام قائم کرنے میں پہلا مؤثر ترین اور تیز ترین قدم ثابت ہو گا۔ پاکستانی مسلمانوں نے اگر ابھی یہ نیٹ ورک نہ بنایا تو اسلام کے احیاء کے دور کو فوراً پہچانتے ہوئے اسلام مخالف قو تیں پاکستان سمیت باقی سر اٹھانے والے اسلامی ممالک کے افراد پر اپنے سوشل نیٹ ورکس بند کر کےان ملکوں کے لوگوں کو  آسانی سے ناکارہ  اور اپاہج بنا سکتی ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کےاس سوشل نیٹ ورک بنانے میں جو افراد بھی اپنا حِصّہ ڈالیں گےان کو دورِ جدید کی سب سے مؤثر، اعلیٰ و ارفع مسجد بنانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔ ان شاء اللہ

طیبہ خلیل ۔ بحرین

عبادت کیا ہے ؟

عبادت کیا ہے ؟ یہ سوال میرے ذہن میں نہ جانے کتنی مدّت سے ہے۔ عبادت سے متعلق متعدد آیات قرٓنِ حکیم میں آئیں ہیں۔  عربی مادہ “ع ب د ” ۲۷۵ دفعہ قرآن میں  ۶ مختلف صورتوں میں آیا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ فعل  عَبَدَ اس نے عبادت کی ۲۔ فعل عبَدّتَ   تم نے غلام بنایا ۳۔ اسم الفاعل عابِدات  عبادت گزار عورتیں۴۔اسم مصدر عبادت  ۵۔ اسم الفاعل عابِد

اللہ تعالیٰ  نے قران میں انسان کی تخلیق کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد  بیا ن کیا ہے  اور وہ اس درج ذیل آیت سے عیاں ہے۔

ہم ہر نماز میں سورۃ الفاتحہ کے یہ الفاظ دہراتے ہیں۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

عام طورپر نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ ، سنن  اور نوافل کو ہی عبادت سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تمام مسلمانوں کی عبادت یکساں لگتی ہے۔ مگر اللہ کو اس یکساں عبادت کے علاوہ ہر انسان سے اس کی اپنی مخصوص عبادت بھی چاہیے۔عربی زبان میں عبد کے معنی غلام یا بندہ کے ہیں۔ جیسے نام عبداللہ کا مطلب اللہ کا غلام یا اللہ کا بندہ ہے۔ اس مفہوم سے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کا تصوّر ذہن میں آتا ہے جو ہر امر میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کو لازم پکڑےہوئے ہے۔  قرآن میں کثیر مقامات پر کم و بیش یہی عبارت دہرائی گئی ہے کہ تم سب اللہ کی ہی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ بیشتر مقامات میں شرک کی تعریف ہی یہی بیان کی گئی ہے  کہ اللہ کی عبادت میں کسی اور کو ساجھی بنانا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی بندگی اختیار کرنا۔

میں نےجب عبادت کے مفہوم پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہواکہ عبادت ہر اس عمل کا نام ہے جس کا اجر یا صلہ اس سے مطلوب ہو جس کی عبادت کی جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ کی عبادت کا مفہوم ہوا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کے لیے یہی نیّت ہو کہ اس کا   اجر یا صلہ مجھےاللہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں چاہیے۔ مجھے عبدیّت کا یہی مطلب سمجھ میں آیا۔ جو کام بھی اللہ سے اجر و صلہ کی بجائے لوگوں یا دنیا  سے نفع حاصل کرنے کی نیّت پر کیا جائے وہ کسی نہ کسی درجے کے شرک یا فسق میں شمار ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے چند اعمال اور ان کی  ممکنہ  نیّتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ۔ اچھی جاب ، مرتبہ، مال  اور مقام حاصل کرنے کے لیے ۔یا اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے بااثرمقام حاصل کرنے کی نیّت۔

لوگوں کو تعلیم دینا خواہ قرآن کی ہو یا دنیاوی۔ صرف اس سے رزق کمانے کی نیّت یا پھر اللہ کی خاطر اپنے علم سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

کتابیں اور تحریریں لکھنا۔ اس سے لوگوں میں عالم اور قابل سمجھا جاؤں اور نفع کما سکوں یا علم سے متعلق کام کی بات ہی لکھ کر اللہ کی خاطر لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

موسیقی، اداکاری یا ملتا جلتا پیشہ اختیار کرنا۔ اس سے شہرت، مال ، اور پرستارحاصل کرکے  مشہور ہو جاؤں یا پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی دنیا میں اپنی صلاحیت کے مطابق لغویات اور فحش کاموں سے بچتے ہوئے  نیک باتیں اور اخلاقیات  اپنے آرٹ کی صورت میں لوگوں تک پہنچاؤں۔

ڈاکٹر کا پیشہ۔  لوگوں کا علاج کر کے خوب مال سمیٹوں یا مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ رکھوں۔

پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبدیّت کی نیّت سے دنیا وی فائدہ بھی حاصل ہوجاتا ہے مگر دنیاوی نیّت رکھنے سے صرف دنیاوی فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جبکہ اس کا  آخرت میں کوئی اجر حاصل نہیں ہو گا کہ نبی ﷺ کی حدیث کےمفہوم کے مطابق  بے شک تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔

اگر اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم نہیں تو نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ سب اعمال ہی بے کار اور ضائع ہوں گے۔ اس کا کفّارہ صرف اس صورت میں دیا جا سکتا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنےکے لیے انفرادی اور اجتماعی  جدّوجہد کی جائے  اور کسی نہ کسی سطح کے جہاد اور کوشش میں حِصّہ ڈالا جائے. کیونکہ اللہ کو اپنی پوری زمین میں اپنا نظام ہی سب سے طاقتور اور بااثر چاہیے۔ اگر اس طرح کی کوئی کوشش یا نیّت نہ رکھی جائے تو سب اعمال کسی نہ کسی درجے کے فسق میں شمار ہوں گے۔ بوجہ اس کے کہ سجدہ تو اللہ کو کر رہے ہیں .سامنے اللہ کی بجائے طاغوت تخت سجائے بیٹھا ہے، زکوٰۃ بھلے دے  دیں مگر وہ سودی نظام کا حصہ بن کر اہل لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گی، روزہ رکھ لیں مگر اس سے تقویٰ حاصل نہ ہو گا، حج پر چلے جائیں مگر اس سے امّت کو وحدت نصیب نہیں ہو گی۔

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ  کُلی نہیں بلکہ جُزوی عبادات ہیں۔ ہر انسان کا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آنے کا  ایک رحمانی مقصد بھی لکھ رکھا ہے اور ایک بھٹکا ہوا طاغوتی مقصد بھی۔ اختیار انسان کے پاس ہے کہ وہ کونسے مقصد کو چنتا ہے ۔ ہر انسان کی سب سے بلند ترین عبادت وہی شمار کی جائے گی جو وہ رحمانی مقصد کے تحت کر رہا ہے۔  اس لیے عبادت کے مفہوم کو عامیانہ مت سمجھیں بلکہ اپنی سب سے عظیم ترین عبادت جو کہ پوری دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی اور آپ سے بہتر نہیں کر سکتا اس عبادت کی تلاش کریں۔ اگر سب انسان اپنی عظیم ترین رحمانی عبادت میں اپنے آپ کو مشغول کر لیں تو دنیا میں اللہ کا نظام قائم کرنا کچھ مشکل نہ رہے گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

انسانوں سے محبّت کریں؛ان کے اعمال کی پڑتال اللہ پر چھوڑ دیں۔

ہم سب انسان؛ ہمارا خُدا ایک ہی خُدا ہے۔  وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے2: 163

اور ابتدا میں ہم ایک ہی امّت تھے۔  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَة ً  2:213

ہمیں ایک نفس سے پیدا کیاگیا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ ۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا ئے۔قرآن 4:1

ہم سب حضرت آدم اور حوّا علیہ السلام کی اولاد ہیں جو کہ مٹّی سے پیدا کیے گئے۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام میں اپنی روح سے پھونکا اوران کوزندگی بخشی اور ہم میں سے ہر انسان میں اللہ کی روح کا جوہر  ہےاور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی عکس سے پیدا کیا ہے۔ہم سب خطاکار ہیں اور ہم سب کے سب کبھی اپنی غلطیوں سے کبھی دوسروں کی غلطیوں سےسیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  ہم میں سے کوئی بھی ایمانی، جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر ایک حالت پر جامد نہیں بلکہ ہر لمحہ تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی ترقّی کی طرف اور کبھی تنزّلی کی طرف۔ ایک حالت سے دوسری حالت تک کا سفرطے کرتا چلا جا رہا ہے۔  ہر انسان کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف ظاہری اعتبار سے جانچتے اور پر کھتے ہیں۔ باطن کی مکمّل صورت صرف ہمارا رب ہی جانتا ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ عدل کرنے والی ذات ہی ہر ایک کے عمل کا فیصلہ خود ہی کرے گی۔ اس لیے ہم کسی کی نیّت اور عمل کو پرکھنے کی ذمہ داری نہیں دیے گئے۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا اور منفرد ہے جو کہ بہترین خالق کی تخلیق ہے۔ نہ ہمیں اپنے آپ کو کسی سے بہتر خیال کرنا چاہیے نہ کسی سے کمتر اور نہ ہی ایک دوسرے سے موازنہ کرنا چاہیے۔ ہر ذی روح انسان صرف اس ذمہ داری کا مکلّف ہے جس کی وسعت اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔2:286

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے 84:6 ۔ ہم سب ایک ہی منزل کے مسافر ہیں کہ ہم سب اپنے رب کی طرف واپسی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ خواہ کوئی آگے یا پیچھے ہو؛ سب اپنے اپنے راستوں پر اپنی رفتار، توفیق، استطاعت، کوشش، ہدایت اور عقل کے مطابق چلے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی موجودہ لمحے میں ایک کیفیّت، مقام اور امتحان سے گزر رہا ہے جس کو بہت شفیق مہربان رب نے بہترین اور دیرینہ مفاد کے لیے ایک پرفیکٹ تقدیر کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اور وہ شفیق ربّ ہر ایک سے محبّت رکھتا ہے۔ نفرتیں توصرف ہم انسان ہی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ہر شخص محبّت اور عزّت کا حقدارہوتا ہے؛ خواہ اس کا پیشہ جو بھی ہو۔ موسیقی، اداکاری یا کوئی بھی آرٹ وغیرہ؛ اس کی صلاحیّت بھی بہت مہربان ربّ نے ہی اسے دی ہے اوریہ سب پیشے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی وجود میں آئے ہیں۔ نہ زمانے کو برا بھلا کہیں اور نہ ہی کسی انسان سے دل میں کراہیت اور نفرت رکھیں۔ زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالیٰ کو نعوذباللہ برا بھلا کہنے کے مترادف ہے۔ اس مفہوم کی ایک حدیثِ قدسی مستند اور معروف ہے۔ انسانوں سے نفرت کی بجائے خیر خواہی کے جذبات دل میں رکھیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہم دوسروں کے لیے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ واقعی ان کے حق میں بہتر ہو۔ اس لیےدوسروں کو نصیحت کرنے کا دائرہ کارحکمت کے ساتھ  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیّت، کوشش اور صریح شرک اور فحش کاموں سے روکنے تک  ہی محدود رکھیں۔

آج کل بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کو ایکسیپٹ کرنا سیکھ جائیں۔ ہم اپنی عقل کے مطابق کسی کو جج نہ کریں۔ ہم کسی کو بہت پیار سے سمجھا سکتے ہیں مگر کسی کا دل بدل نہیں سکتے۔ کسی کا ظاہری نظر آنے والا گناہ ہمیں اس کی خیر خواہی اور اس کے لیے بہترین کامیابی یعنی کہ جنّت میں داخل کیے جانے کی خواہش سے روک نہ دے۔ دعوت و تبلیغ کے کام کا مؤثر ترین طریقہ خود اپنے عمل اور کردار کی مثال پیش کرنا ہے۔

جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اکیلے جنّت میں جائیں بلکہ ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ سب کے سب نیکوکار انسان جنّت میں ہمارے ساتھ ہوں۔ وہ جنّت جہاں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی بغض، کوئی نفرت، کوئی حسد کا جذبہ نہیں ہو گا۔اور وہ خواہشات جن کے پیچھے آج ہم ہلکان ہو رہے ہیں ان کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ اور آخرکار ہم اپنے رب کے چہرے کے دیدار اور اس سے ملاقات کے بعد کسی بھی طرح کے پست خیال کے بارے میں سوچ ہی کیسے سکیں گے؟ کہ جس ربّ کی تلاش اور اس سے ملاقات کے لیے ہم اس دنیا کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہیں۔ کیا جنّت کی کوئی نعمت یا کوئی نفسانی خواہش یا لذّت بھی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

طیبہ خلیل

بحرین

حضرت آدم و حوّا علیہ السلام اور شجرِ ممنوعہ

قرآن میں حضرت آدم و حوّاعلیہ السلام کا جنّت سے نکالے جانے والا قصّہ سورہ البقرہ اور سورہ الاعراف میں بڑی تفصیل سے درج ذیل ہے۔ سورہ بقرہ کی یہ آیات کا اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں؛

پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ “تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے” (35) آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا، جس میں وہ تھے ہم نے حکم دیا کہ، “اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین ٹھہرنا ہےاور وہیں گزر بسر کرنا ہے (36”

میرے ذہن میں یہ سوال ایک عرصے تک گردش کرتا رہا کہ آخر وہ کون سا درخت تھا جس کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا اور آخر اللہ تعالیٰ نے وہ درخت جنّت میں لگایا ہی کیوں؟ کچھ دس سال پہلے کی بات ہے جب علّامہ اقبال کی نظم تصویرِ درد میری نظر سے گزری تو اس کے ایک شعر نے میرے سوال کا عقدہ حل کر دیا۔ وہ شعر یہ ہے

شجر فرقہ آرائی ہے، تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے جو جنّت سے نکلواتا ہے آدم کو

یہ شعر پڑھتے ہی میرے ذہن میں سورہ بقرہ کی آیت کے یہ الفاظ گردش کرنے لگے۔
وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ – اور تم نکل جاؤ یہاں سے اور تم میں سے بعض اب بعض کے دشمن ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ہی یہ درخت جنّت میں لگایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بڑا پلان تھا۔ یہ بات ہمیں قرآنِ مجید سے ہی معلوم ہوئی ہے کہ اصحابِ جنّت کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی کینہ کوئی بغض، کوئی دشمنی، کوئی حسد، کوئی غِلّ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ایسی تمام روحانی بیماریوں سے پاک صاف کر دیں گے۔ تو جب حضرت آدم و حوّا نے شجرِممنوعہ فرقہ آرائی کا تعصّب نام کا پھل کھا لیا تو وہ جنّت میں رہنے کے قابل نہ رہے اور انہیں زمین پر اتار دیا گیا اس امتحان کے ساتھ کہ جو کوئی بھی اللہ کی وحدانیت تسلیم کرتےہوئے انبیاء، مؤمنین اور تمام انسانوں کے ساتھ مخلص رہ کراس جماعت کے ساتھ جُڑا رہے گا اوراپنا دل سب کے لیے صاف رکھے گا وہ اپنی اصلی آرام گاہ جنّت میں دوبارہ داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بر عکس جو کوئی بھی اللہ کی واحِد جماعت سے الگ ہو کر شرک کا مرتکب ہو گا اور دنیا میں لوگوں سے نفرت، حسد، دشمنی جیسی آگ اپنے دل میں پالتا رہے گا وہ اپنی اسی آگ میں دنیا میں بھی جلے گا اور آخرت میں بھی یہی آگ لے کر دوزخ میں داخل ہوگا۔ پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اگر آج اس دور میں بھی تمام انسان ایک دوسرے کے لیے بے لوث محبّت کے جذبات پیدا کرلیں اور ایک دوسرے کے مخلص خیر خواہ بن جائیں تو یہ دنیا بھی جنّت کا سماں پیش کر سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
طیّبہ خلیل
بحرین

وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

اور میں اپنے رب سے دعا مانگ کر کبھی بھی مایوس نہیں رہا۔ یہ حضرت زکریا ع کے الفاظ ہیں جو قرآن کی سورہ مریم کے آغاز میں درج ہیں۔ کیسا یقین ہے ان کواپنے رب پر کہ نہ انہیں یہ پرواہ ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور نہ ہی دعا مانگنے میں یہ امر مانع ہے کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے اور پھر بھی نیک اولاد کی دعا یقین کے ان الفاظ میں مانگ رہے ہیں ۔ پیارے ساتھیو! دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم جزو یقین ہی ہے کہ جب یہ یقین اس انگارہ خاکی میں پیدا ہو جائے تو وہ بال و پرِ روحُ الامیں پیدا کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ہی یقین کے ساتھ بلند ترین عزائم اور مقاصد کی دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ مختصر کتاب آپ کے دل میں انہی بلند مقاصد اور عزائم کے حصول کا ولولہ پیدا کر سکتی ہے۔

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُم ۔ دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف

fastabiqu

آج کل دنیا نفسا نفسی،مادیّت پرستی  ، کلاس سسٹم کی تفریق یعنی کہ  امیر غریب کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق حتّیٰ کہ اسکول بھی طبقاتی نظام پر چل رہے ہیں۔ کون ڈگری لے کر اونچا عہدہ حاصل کرتا ہے ۔ کس کے پاس مہنگی گاڑی ہے۔ کس کی بیوی خوبصورت اسمارٹ ہے۔ کس کا شوہر ہینڈسم اور امیر ہے۔ کس کے بچے مہنگے انگریزی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ گھر بار اور اس کی زیب و آرائش کیسی ہے۔ کون زیادہ کماتا ہے۔ فنکاروں کا موازنہ بھی ان کی مالیاتی قدر کی بنا پر کیا جانے لگا ہے۔ کس کی زیادہ فین فالؤنگ ہے۔ کون زیادہ مشہور ہے۔ غرض یہ کہ آج کا انسان دنیا کی اصل متاع و قیمت سے اندھے پن کا شکار ہے۔ وہ اس چند روزہ فانی دنیا کو اس قدر سطحی قسم کی محصولات کی بنیاد پر اس کی اوقات سے زیادہ اہمیت دیے چلا  جا رہا ہے۔ بغیر یہ سوچے کہ دنیا کے مال و متاع کو حاصل کرنے کی کوشش کتنی بے سود اور حقیر ہے۔ اس مختصر سی زندگی میں وہ کتنے حقیر خواب انکھوں میں سجائے بیٹھا ہے۔ ریٹائرمینٹ کے بعد یورپ کی سیر کو چلا جاؤں۔ زیادہ سے زیادہ جائیداد، زمینیں، سونا اور دنیاوی مال و متاع حاصل کر لوں۔ غرض یہ کہ اس مادیّت پرستی کے دور میں بس یہی کچھ اہم سمجھا جانے لگا ہے۔ اس دوڑ میں مسلمان بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ وہ بھی اس نظامِ دجل میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں ۔

اس کے بر عکس اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو لہو و لعب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو کوئی اس دنیا کے متاع کا طالب ہوتا ہے اسے ہم دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں۔ اللہ کے پاس تو آخرت اور دنیا دونوں کا ہی اجر ہے۔ یہ تو طالب پر منحصر ہے کہ وہ طلب کیا کرتا ہے۔   جبکہ اللہ تعالیٰ ہمیں کس معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کے لیے کہہ رہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے سورہ حدید کی درج ذیل آیات کا  اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ قرآن 57:20,21

جہاں بھی مسابقت ہوتی ہے تو پھر  نیّت ، کوشش اور کارکردگی کے لحاظ سے درجہ بندی بھی کی جاتی ہے۔ اس آیت پر غور و فکرکرنے سے مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ تو یہاں کھلا چیلنج دے رہے ہیں سب انسانوں کو کہ آپس میں نیک کاموں کے کرنے کی دوڑ لگاؤ اور پھر میں فیصلہ کروں گا کہ کون اوّل آتا ہے کون دوم اور اور اس کے بعد باقی درجات۔ آج دنیاوی امتحان میں فیل ہونے پر اتنی شرمندگی ہوتی ہے تو سوچیں آخرت کے امتحان میں فیل ہو جانے پر کس قدر ندامت، پشیمانی اور زود رنجی کا سامنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں دوزخ کا عذاب الگ۔ اس کے برعکس اللہ کے رستے میں مسابقت کر کے اوّل آنے والے کو کیا عظیم خوشی نصیب ہو گی۔ کیا دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی یا خوشی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

پیارے ساتھیو! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا عمل نورِ توحید کو دنیا میں پھیلانا ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ کی راہ میں مسابقت کو آپ صرف ظاہری فرائض، سنّتوں اور نوافل سے ہی منصوب نہ کر لیں۔  ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺکے مشن کو اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق نفع اور تقویّت پہنچانا ہی  اللہ کی اصل  مدد کرنا ہے۔  اسی کے لیے کوشش اور عمل درکار ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو چند لوگوں کی مکمّل ظاہری  دین داری سے کیا لینا دینا جبکہ دینِ اسلام کی روح; توحید کی عظمت ، رفعت اور برتری سے ہی غافل رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت کے ساتھ حق بات کو پہچاننے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

طیبہ خلیل

بحرین

سورة العصر ۔ بے شک انسان خسارے میں ہے

alasar

سورة العصر قرآنِ حکیم کی جامع ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔

عصر کے وقت کی قسم (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (3

زیادہ تر مفسّرین نے عصر کو زمانے کا مطلب دیا ہے۔ مگر یہ عمومی طور پر زمانے کا مطلب رکھنے کی بجائے ایک خاص زمانے کی طرف اشارہ ہے۔۔ آئیے اس زمانے کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ اس پوری دنیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجود میں آنے سے لے کر قیامت تک صرف ایک دن کا وقت دیا گیا ہے۔ تو فجر کے وقت حضرت آدم ع زمین پر اتارے گئے۔ اور اس کے بعد آنے والے رسولوں اور قوموں کو عصر تک کا وقت دیا گیا۔ اور پھر خود حضرت محمد ﷺ  الیوم الدّنیا میں عصر کے وقت تشریف لائے۔ اس لیے امّتِ محمّدی کو عصر سے مغرب تک کا وقت دیا گیا ہے۔ مغرب کا وقت شروع ہوتے ہی اس دنیا کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا اور قیامت برپا کر دی جائے گی۔ مغرب سے عشاء کے وقت تک حساب کتاب ہو گا اور عشاء کے بعد ہر کوئی اپنے اپنے ٹھکانے جنّت یا دوزخ میں یا تو آرام فرمائے گا یا پھر رسوا کن عذاب سے دوچار ہو گا۔

عصر اور مغرب کا وقت اتنا قلیل ہوتا ہے کہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ ہمارے پیارے نبی  نے عصر اور مغرب کے درمیان سونے سے بھی منع فرمایا ہے۔ والعصر؛ اللہ تعالیٰ نے عصر کے زمانے کی قسم کھائی ہے۔ اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاس وقت بہت قلیل رہ چکا ہے جو کہ گھڑی کی ہر ٹِک ٹِک کے ساتھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہر ایک انسان خسارے میں رہے گا۔ یعنی کہ لوگوں کی کثیر تعداد عمل کے وقت کے اس قدر قلیل ہونے سے غفلت میں رہے گی۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ، موج مستی، فَن ٹائم، ہلّہ گلّہ زیادہ تر لوگ یہی کرتے نظر آ رہے ہیں۔  بہت کم لوگ ہی وقت کی شدید کمی کا احساس رکھتے ہوئے عمل کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

ایسے وقت میں سب کے سب لوگ خسارے میں رہیں گے الّا وہ لوگ جو یہ چار کام کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے۔

١۔ ایمان لائیں گے۔ اللہ پر، اس کے وعدوں پر ،اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر ، اس کی کتابوں پراور روزِ قیامت پر

٢۔ صالح اعمال کرنے کی کوشش اور فکر میں لگے رہیں گے اور عمل سے غفلت کا شکار نہیں ہوں گے۔

٣۔ ایک دوسرے کو حق بات کی تلقین کرتے رہیں گے۔ حق بات ہدایت کی ایسی بات کو کہتے ہیں جو سچی ، پر تاثیر اور آسان ہو اور فوری طور پر دل کو نرم کر کے اس پر اپنا اثر ڈالے۔

٤۔ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں گے کہ دیکھو یہ مصائب، پریشانیاں، مشکلات صرف اتنے ہی قلیل عرصے کے لیے ہیں جتنا  عصر سے مغرب تک کا وقت۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ وہ زمین میں بھی اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہمیں اقتدار دے گا اور اگر ہم وہ وقت نہ بھی دیکھ پائے تو ہماری کوشش اور صبر کا عظیم انعام ہمیں آخرت میں دے گا۔

پیارے ساتھیو! صریح خسارے سے بچنے کے لیے ان میں سے کچھ کام نہیں بلکہ یہ چاروں کام کرنے پڑیں گے تب ہی قیامت کے دن کی ذِلّت اور رسوائی سے بچ سکیں گے۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی ذمہ داری ہم پر ہی ڈالی گئی ہے اس ذمہ داری کو کسی نہ کسی کو تو اٹھانا ہی پڑے گا ورنہ کسی نہ کسی مخلص جماعت میں شامل ہو کر اپنی صلاحیت، قابلیت، استعداد اور استطاعت کے مطابق نورِ توحید پوری دنیا میں پھیلانےمیں اپنا  حِصّہ ڈالنا ہی ہو گا۔ اپنے آپ کو عظیم خسارے سے بچانے کا صرف اور صرف یہی طریقہ ہے۔

اللهمَّ لا تجعلنا مِنَ الخاسِرين

طیبہ خلیل – بحرین