اِکی گائی

 اِکی گائی جاپانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “جینے کی وجہ”   یا زندگی کا وہ مقصد جس کے لیے آپ ہر صبح بستر سے اٹھنے کے لیے پر جوش ہوں۔ یہ جاپان کے ایک جزیرے   اوکی ناوا میں رہنے والے باشندوں کا ایک بھر پور صحت مند زندگی گزارنے کا فارمولا ہے ۔ اوکی ناوا کُرہ ارضی کے ان پانچ علاقوں میں شامل ہے جو کہ بلیوزون قرار دیے گئے ہیں۔ بلیوزون علاقوں  کے باشندے باقی دنیا کے لوگوں سے زیادہ لمبی ،بھرپور اور خوشگوار زندگی گزارتے ہیں۔ یہاں پر ۱۰۰ سال سے اوپر زندگی گزارنے والوں کی تعداددنیا بھر میں  سب سے زیادہ ہے۔ مردوں کی اوسط عمر ۸۴  سال اورخواتین کی اوسط عمر ۹۰ سال ہے ۔ مزید براں ا س علاقے کے  بوڑھے ترین افراد بھی جسمانی ، جذباتی  اور عقلی  لحاظ سے فعال اور خودمختار ہوتے ہیں۔

محققین نے بعد از تحقیق یہ  اندازہ لگایا ہے کہ اوکی ناوا کے لوگوں کی  صحت مند زندگی کی وجہ ان کی خوراک ،  فطرت کے قریب وقت گزاری او ر سب ٹراپیکل کلائمیٹ ہے۔ البتہ ان کی زندگی  کو محرک اور فعال بنانے کی وجہ    اِکی گائی ہے جو کہ ہر شخص کے  عقا ئد ، اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا اپناذاتی  منفرد نصب العین ہے ۔ ہر شخص کا  اِکی گائی اس کی اندرونی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے  جو کہ اس کو ایسی ذہنی کیفیت میں لے آتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ہر فعل  آسانی سے ادا ہوتا ہے اور اسے اپنا کام سہل اور خوشگوار لگنے لگتا ہے۔ اس  مقصد کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے ذیل میں دیے گئے چار سوالات   کے جوابات آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔

ہ ـ۔ آپ کو کس کام سے محبت ہے؟ کس کام کو کرنے کا آپ شوق رکھتے ہیں  اورجس کو کرنے کے دوران آپ کو وقت گزرنے  کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

ہ ـ۔ کس کام میں آپ مہارت رکھتے ہیں ؟ ایسے کام جن کی صلاحیت آپ میں فطری طور پر پائی جاتی ہے۔

ہ ـ۔  آپ ایسا کیا کام کر سکتے ہیں جس کی دنیا کو ضرورت ہے؟  یعنی کہ ایسا پیشہ اختیار کیا جائے جس کی معاشرے  کو ضرورت بھی ہو۔

ہ ـ۔ اور کون سا ایسا کام ہے جس سے آپ پیسا کما سکتے ہیں؟  آپ کوئی ایسا پیشہ اختیار کریں جس کا آپ کو مناسب معاوضہ بھی ملتا رہے ورنہ آپ معاشی طور پر کمزور رہ جائیں گےاور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کے محتاج ہوں گے۔

مختصراً یہ کہ آپ کو اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرنے کے لیے ان چار سوالات کے جوابات کا یکساں ہونا ضروری ہے تب ہی  آپ ایک بہاؤ  کی کیفیت پا سکتے ہیں جس میں آپ  کے افعال آپ سے آسانی سے ادا بھی ہوں ، آپ کو وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہو اور آپ بوریت کا شکار بھی نہ ہوں۔ ایسا کام ہی آپ کا اِکی گائی ہو گا۔ جینے کی وہ وجہ جس کے لیے آپ صبح اٹھنا  چاہیں گے۔

اس کے علاوہ ذیل میں دیے گئے جاپانی حکمت کے دس اصول ہیں جن کی بدولت  اوکی ناوا کے لوگ  ایک لمبی صحت مند اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

ہ ـ۔ ہر عمر میں فعال رہیں۔ ریٹائرمینٹ کےبعد بھی ریٹائر نہ ہوں۔ بامقصد کام، معاشرے کی خدمت، دوسرے لوگوں کی مدد کرنا جاری رکھیں ۔

ہ ـ۔ زندگی کو تیز گام گزارنے کی بجائے رفتار کم رکھیں ۔ایک مشہور مقولہ ہے کہ “آہستہ چل کر آپ زیادہ دور تک جا سکتے ہیں” ۔ اس لیے افراتفری میں وقت مت گزاریں بلکہ ہر کام کو وقت دیں اور اسے انجوائے کریں۔

ہ ـ۔ کھانا بھوک رکھ کر کھائیں۔ معدے کو ۸۰ فی صد سے زیادہ نہ بھریں۔

ہ ـ۔ خواہ  دو چار ہی ہوں ایسے دوست ضرور بنائیں جن کی صحبت آپ کو تروتازہ کر دے۔

ہ ـ۔ خود کو حرکت میں رکھیں ۔ جیسا کہ پانی اگر بہنا بند ہو جائے تو وہ تعفن زدہ ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر  جسمانی ورزش نہ کی جائےتو اس کا بھی جسم پر اچھا اثر نہیں ہوتا۔  ورزش کرنا ایسے ہارمون ریلیز کرتا ہے  جو خوشی کا احساس دلاتے ہیں۔

ہ ـ۔ اپنے چہرے پر زیادہ سے زیادہ مسکراہٹ سجائے رکھیں ۔ایسا کرنا آپ کو دوست بنانے میں مددگار بھی ثابت ہو  گا  اور آپ کی خوشی کا باعث بھی ہوگا۔

ہ ـ۔  اپنی بیٹری کو ری چارج کرنے کے لیے نیچر کے ساتھ تعلق استوار رکھیں۔

ہ ـ۔ شکر گزاری کی زندگی گزاریں۔ اپنی تمام نعمتوں کا شکر ادا کریں۔

ہ ـ۔ماضی کی غلطیوں اور تلخیوں  اور مستقبل کے خوف سے اپنے آپ کو آزاد کر کے حال اور موجودہ لمحے میں زندگی گزارنا سیکھیں۔

ہ ـ۔ اپنی اِکی گائی کو تلاش کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔

نوٹ : یہ تحریر اکی گائی نامی کتاب کا مختصر خلاصہ ہے۔

طیبہ خلیل۔ بحرین

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر
اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آو تو اللہ تعالی کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں عذاب دیں

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت

قرآن کا بندۂ مؤمن ایک ایسی شخصیّت ہے جو کہ  نفس کا اطمینان  ، دل کی سلیمت، روح  تک رسائی اور جسم پر حکومت  کرنے  کی  قوّتیں حاصل کر چکی ہو۔

نفس کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے  مؤمن کو  ایک   undefined   شخصیّت بننا  پڑتا ہے۔ یعنی کہ ماحول میں جو کچھ بھی اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہو رہا ہے  وہ اس کے سامنے سرتسلیمِ خم کرتا چلا جائے اور اس کا نفس راضی بہ رضائے خدا وندی رہے۔ وہ    لوگوں سے الجھنے کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھے اور  اس کے برعکس اپنے ارد گرد لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا چلا جائے۔ بغیر کسی صلہ حاصل کرنے کی نیّت کے عمل کرتا چلا جائے۔   وہ اپنے ماحول میں اپنے نفس کے پرسکون ہونے کے باعث ایسی  وائبز  یا کاسمک انرجی پھیلانے لگتا ہے جس سے ماحول پر سکون بنتا چلا جاتا ہے۔ مؤمن اپنے کسی معاملے کی خرابی کا ذمہ دار دوسروں کو نہیں ٹھہراتا بلکہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیتا ہے کہ انسان اس کے معاملے اور تقدیر میں ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ اس کے معاملا ت کُلی طور پر خالِقِ حقیقی کے پاس ہیں۔ اس بات کو  اپنے اند ر اتارنے کے بعد وہ براہ راست خدا سے رابطہ قائم کر لیتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد اپنے غم کا شکوہ کبھی لوگوں سے نہیں کرتا جیسا کہ حضرت یعقوب ؑ کی دعا ہمیں بتاتی  ہے: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ ۔ میں اپنے غم اور رنج کی شکایت صرف اللہ سے ہی کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی وہ جان لیتا ہے کہ اس کی پریشانی کا باعث اس کی اپنی نفسانی سوچ ہے  اور  اس کی اندرونی مملکت کے باہر کوئی بھی انسان، حالات  یا  اشیاء اس کو پریشان نہیں کر رہیں بلکہ یہ اس کی اپنی سوچ اور طرزِ عمل ہے جس کی وجہ سے اسے پریشانی مل رہی ہے۔ اور قرآن میں واضح طور پر یہ بات دہرائی گئی ہے کہ جو مصیبت بھی انسان کو پہنچتی ہے وہ اس کے اپنے نفس کی بدولت ہوتی ہے ۔  جذبات موجودہ لمحے میں سوچ سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ کسی بیرونی محرّکات کی وجہ سے۔ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔نفس کو مطمئن بنانے کے لیے ماضی اور حال سے نکل  کر موجودہ لمحے میں اپنی توجہ مرکوز کرنی پڑتی ہےکہ ایسا کرنے سے ہی انسان احسان کی کیفیت کو پا سکتا ہے کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ احساس کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

قلبِ سلیم حاصل کرنے کے لیے  حضرت ابراہیم ؑ جیسی حنیفیت درکار ہےاور یکسُو  اطاعتِ خداوندی  کہ اللہ کی ہر آزمائش پر پورا اترے۔ ایسا دل جس میں اخلاص کی دولت  پیدا ہو جائے اور اس میں تمام لوگوں کے لیے محبّت اور خیر خواہی کے جذبات پیدا ہو جائیں۔  ایسا دل جو لوگوں کی فلاح کا حریص بن جائے جو اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری میں بے مثال بن جائے۔ جس میں  حق کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور جو حق بات کو سن کر فوری طور پر سمعنا و اطعنا کہنے والوں میں شامل ہو جائے ۔ وہ لوگوں کے لیے بھی وہی چاہنے لگے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔اور وہ  الحُسنیٰ احسن بات کو بغیر کسی تعصب کے قبول کر لے۔ اس میں سے لوگوں کے لیے بغض، عداوت، حسد   جیسے احساسات  کا خاتمہ ہو جائے۔ اور اس کا دل آئینے کی طرح صاف شفّاف ہو جائے ۔ وہ اپنے فائدے کی بجائے اللہ کے دین کا فائدہ دیکھنے لگے اور ہر خیر کی بات خواہ اس کا پہنچانےوالا کوئی بھی ہو اس کو دوسروں تک پھیلانے کی ذمہ داری کو سمجھنے لگے۔ اس کے دل میں اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی محبّت سب محبّتوں پر غالب آجائے۔

روح  ایک جسمِ لطیف ہے جو کہ ہوبہو انسانی جسم کی ہیئیت رکھتی ہے  اور یہی وہ خدا کی طرف سے پھونکا گیا امرِربّی ہے جو انسان کواس عالم سے جوڑتی ہے جس میں صرف پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب بنی  آدم کی پشتوں سے تمام بنی نوع انسان کو نکالا تو وہ صرف ارواح تھیں اور ان کو جسم ابھی نہیں دیے گئے تھے۔ یہی وہ ارواح تھیں جنہوں نے الستُ بِربِّکُم کے جواب میں بلیٰ یعنی کیوں نہیں کہہ کر اللہ کی اطاعت کا عہد کیا۔ اپنی روح تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اللہ کو ہی مطلوب بنانا پڑتا ہے۔ اپنی زندگی میں سے خود غرضی نکال کر زندگی کا ایسا مقصد تلاش کرنا پڑتا ہے جو کہ اللہ کی عین عبادت کی نیّت سے کیا جائے اور اس میں  خدا کی رضا کے علاوہ کسی اور سے کچھ بھی مطلوب نہ ہو۔ یہی وہ شرک سے پاک  عمل ہے جو اللہ کو اپنے بندوں سے درکار ہے۔

جب ایک بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت ان بنیادوں پر استوار ہو جائے تو اس کے لیے اپنے جسم پر حکمرانی کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ اس کی زبان اسکے قابو میں آجاتی ہے اور انسانی شہوات اس کو اپنی طرف کھینچنے کی کشش کھو دیتی ہیں۔ اس مقام پر آجانے کے بعد  بعید نہیں کہ وہ دنیا میں بھی کسی نہ کسی سطح کی حکومت کا اختیار  یا نیابت ِ الٰہی کے درجے پر فائز کر دیا جائے۔

پیارے ساتھیو، یہی وہ زندہ آرزو ہے جس کو حاصل  کرنے کے لیے سب مسلمین کو اپنے اندر  تڑپ پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔  چھوٹے چھوٹے دنیاوی مقاصدکو پیچھے چھوڑ کر اس اونچی اُڑان کی جُستجو اپنے اندر پیدا کرنے کی سعی کریں۔ کہ اگر یہ مقام حاصل نہ ہو سکا تو اپنی تقدیر خود لکھنے کی بجائے  تقدیر کا پابند ہو کرزندہ لاش کی طرح زندگی گزارنا پڑے گی ۔  زندگی ہدایت کی روشنی سے بے نور  اور موت مرگِ مفاجات  ثابت ہو گی۔اختتام  علّامہ اقبال کی اس دعا کے ساتھ:

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دےیا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے

طیّبہ خلیل۔ بحرین

سوشل میڈیا پر خود نمائی اور مؤمن سے مطلوب طرزِ عمل

اس دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور لوگ اسے پسند کریں مگر اس خواہش کو ہم نے ایک خبط کی صورت میں سوشل میڈیاز کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دیکھاجن  کے استعمال کی وجہ سے خود نمائی میں بے پناہ  اضافہ ہوا۔ خود نمائی ایک ایسا فعل ہے جو کہ آپ کے اند ر کی  اِن سیکورٹی اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ خوشی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے اپروول کے محتاج ہیں۔ ایک سچا مؤمن ہر نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور وہ لوگوں کا درددل میں رکھتا ہے کہ وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں؛ خواہ  وہ خوبصورت اولاد ہو، شوہر، بیوی ، بچے ہوں، زیب تن کیا ہوا لباس ہو، چہرے کی خوبصورتی ہو، آپ کے سامنے پڑا ہوا کھا نا  ہو  ، آپ کے دنیا کی سیر کی تصویر ہو یا وہ سب کچھ جو ایک تصویر ظاہر کرتی ہے  جس کو لوگوں پر عیاں کرنے کے لیے وہ تصویر اپ لوڈ کی گئی ہے؛ان لوگوں کو اداس کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں جن کے پاس یہ سب نعمتیں نہیں ہیں۔

ہ۔مؤمن اپنی نعمتوں کی خود نمائی نہیں کرتا بلکہ اللہ کی حمد بیان کر کے اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اس نعمت کو صرف اپنی ملکیّت نہیں سمجھتا بلکہ اس میں سا ئل و محروم کا حق بھی رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن خوشی ملنے پر سجدہ کرتا  ہےاور اللہ سے رازونیاز کر کے اپنی خوشی کا دل سے شکر ادا کرتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی کے اشتہار نہیں چھپواتا۔

ہ۔مؤمن صرف خیر کی باتیں لوگوں سے شیئر کرتا ہے اور ا س کی نیّت  لوگوں سے داد وصول کرنے کی نہیں ہوتی بلکہ دین کی بھلائی اور خیر لوگوں تک پہنچانے کا مقصد  ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی بڑی سے بڑی کامیابی صرف اللہ کی مدد ،  اسی کے وسائل کی فراہمی، اسی کی دیے ہوئے اسباب اور اسی کی دی ہوئی عقل سے  حاصل کی گئ ہے تو پھر اس کا طرزِ عمل عاجزی اختیار کرنے کا ہونا چاہیے ۔

ہ۔ایک مؤمن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے نیک اعمال کا خراج یا تعریف اللہ سے طلب کرنے کی بجائے لوگو ں  سے چاہنے لگے۔

ہماری آجکل کی نوجوان نسل وہ نسل ہے جو بغیر کوئی خاطر خواہ کام کیے ہی مشہوراور دولت مند ہونا چاہتی ہے۔ بطور مسلمان ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ہر کام اللہ کی عبادت  یعنی کہ صرف اللہ سے جزا حاصل کرنے کی نیّت سے کیا جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان کی تخلیق کا مقصد ہی صرف اپنی عبادت کرنا قرار دیا ہے ۔ہر انسان کی  زندگی میں ایک خلاءباقی  رہتا ہے جب تک  وہ کسی ایسے کام سے پُر نہیں کیا جاتا جو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مقصد لیے ہوئے ہو۔  جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیاکہ میں نے انسا ن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا تو یقیناً  ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک خاص عبادت کی صلاحیت ، طاقت  یا وسعت دے کر تخلیق کیا ہے اور وہی انسان کی عظیم ترین عبادت ہوتی ہے۔ باقی یکساں عبادات؛ نماز، روزہ، حج، زکوٰ ۃ تو اس عظیم عبادت کے لیےانسان کو چارج کرنے کے  اسباب ہیں۔

آپ اپنی مخصوص عبادت کو تلاش کیسے کر سکتے ہیں؟  اس کے لیے  سب سے پہلے اپنے اندر جھانک کر دیکھیں وہ کون سا ایسا کام اگر کبھی جو کیا تھا جس نے آپ کو خوشی دی  اور اس میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی ۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ آپ اس کام کو پکڑیں اور اس کی نیّت  اللہ کی رضا بنا لیں۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا کی نیّت شامل کی جا سکتی ہے۔یا  آپ ارد گرد دیکھیں کہ کون سا کام رضا کارانہ طور پر آپ آسانی سے کر سکتے ہیں  حالا نکہ وہ کا م کسی  اور کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔کسی کی طرف سے کوئی التجا موصول ہو تو اس کو ہر گز   ہلکا نہ لیں اور اگر اپنے اندر اس کام کرنے کی وسعت محسوس کریں تو ضرور وہ کام کردیں۔کسی کی زندگی میں کوئی کمی محسوس کریں تو اس کو اس سے مطّلع کریں اور اگر خود وہ کمی پوری کرنے  کی سکت رکھتے ہیں تو ایسا ضرور کریں۔ ہم سب انسانوں کو ایک دوسروں کی ضرورت  اس وجہ سے بھی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے  گمشدہ ٹکڑے لوگوں میں بانٹ دیے ہوتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو مکمّل کرنے کے لیے انہی ٹکڑوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر ایک معاشرے کا ہر فرد یہ سوچ اپنا لےکہ اگر میرے پاس کس شخص کی مطلوبہ چیزہے تو میں اسے وہ دے دوں  تو وہ اپنے ارد گرد لوگوں سے غافل نہ رہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہر جاننے اور نہ جاننے والے کو سلام کرے اور مسکرا کر خندہ پیشانی سے ملے۔ یہی طرزِ عمل اپنانے سے اللہ تعالیٰ اس خاص عبادت کی  طرف رہنمائی فرماتے ہیں جو خودغرضی کی بجائے انسانیت کی خدمت پر مبنی ہوتی ہے اور یہی عین عبادت ہے  ۔

ہر ایک ٹرینڈ کا بھی ایک ٹائم پیریڈ ہوتا ہے ؛ اس کے بعد اس میں تبدیلی اور زوال آتا ہے۔  میرے خیال سے اب  سوشل میڈیا پر خودنمائی اور انٹرٹینمنٹ کا دور گزرنے والا ہے اور دنیا  ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے جس میں ہر انسان سچی خوشی اللہ کی عبادت کی نیّت سے کی گئی تخلیق اور دوسرے انسانوں کے لیے کار آمد ثابت ہونے کی وجہ سے حاصل کرے گا۔ اب  اس دنیا کی سطحی قسم کی نمودونمائش کی بجائے  ہر انسان اپنی تخلیق اور کارآمد کاموں سے پہچانا جائے گا۔

 میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جس میں ہر انسان و ہی کام کرے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی نیّت معاش حاصل کرنے کی نہ ہوبلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ہو جبکہ  گھر کا راشن ، پانی اور باقی سہولیات پہنچانا  حکومت اور کمیونٹی کی ذمہ داری ہو۔ ایسا معاشرہ دن دوگنی رات چوگنی ترقّی کر سکتا ہے اور امن  اور اخوّت کی ایک نظیرثابت ہو سکتا ہے۔

طیّبہ خلیل ۔ بحرین

میں نے اپنی خودی کی تلاش میں کیا سبق سیکھے؟

علاّمہ اقبال کے  پیش کردہ تصوّرِ خودی  کے بارے میں باِذن اللہ اب  پاکستانی نوجوانوں میں بہت ساری  تحریکوں ، خطیبوں ،  اور  نوجوان ٹرینرز کی بدولت آگہی پھیلانے کا عمل جاری ہے۔ یہ انتہائی ضروری علم ہےجو کہ عین اسلامی ہےاور علامہ اقبال نے اس کی انسپریشن قرآن سے لی۔ ہمیں اس اہم تصوّر سے اپنے بچے بچے کو نو عمری سے ہی واقف کروا دینا  چاہیے۔اب تو مغرب والے بھی اس زندہ حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں کہ یہ کائنات بامقصد اور پر عزم انسانوں کی مدد کرتی ہے اگرچہ وہ ابھی عقیدۂ توحید اور اس کی قوّت سے نابلد ہیں۔  میں نے خودی کا لفظ پہلی دفعہ شاید اسکول میں ہی سنا  ہو گا کیونکہ علاّمہ اقبال کا یہ شعر  بچپن سے ہی  سُن رکھا تھا۔

     خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےخودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

مجھے یہ تصوّر کہ اللہ تعالیٰ کا بندے سے خود پوچھنا کہ تمہاری کیا خواہش ہے اس کے مطابق ہی تمہاری تقدیر لکھی جائے گی ؛ نہایت مسحور کنُ  اور حیرت انگیز لگا۔ تب میں نے علاّمہ اقبال کے کلام کو پڑھا بھی نہیں تھا مگر میرے اند ر یہ خواہش پیدا ہو چکی تھی کہ مجھے اس خودی کی تلاش کرنی ہے یا وہ مقام حاصل کرنا ہے  جہاں پر اللہ تعالیٰ انسان کو اختیار دے دیتا ہے اپنی تقدیر خود لکھنے کا۔ یہ انٹرمیڈیٹ کا  سیکنڈ ائیر تھا جب بورڈ کے امتحانات  میں  اردو کے پرچے میں مضمون نویسی کا سوال ۲۰ نمبروں کا ہوتا تھا۔ زندگی میں ابھی تک رٹّے ہی تو لگائے تھے کہ سب کالجوں کی طرح ہمارے کالج میں بھی اسی نقطہ نظر سے پڑھائی کروائی جاتی تھی کہ بورڈ کے امتحانات میں  زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جا سکیں۔ شعروں کی تشریح  ہو یا مضامین یا سیاق و سباق ہر چیز کے رٹّے لگائے جاتے تھے ۔ اب جبکہ سیکنڈ ائیر کا  مضمون نویسی کے سوال کا مسئلہ تھا مجھے اس بات کی پریشانی ہونے لگی کہ کبھی ایک جملہ بھی تو خود سے لکھا نہیں تو پور امضمون کیسے لکھ پاؤں گی۔

پھر یوں ہواکہ ۹ نومبر ۲۰۰۰ کا دن آیا اور ہمارے گھر اخبا ر  آیا جس میں علاّمہ اقبال پر اسپیشل ایڈیشن بھی تھا اور اس کے علاوہ اندرونی صفحات پر تمام کالم ہی علاّمہ اقبال کے بارے میں تھے۔ علاّمہ اقبال  کےبارے میں کثیر مواد دیکھ کر فوری طور پر یہ خیال ذہن میں پختہ ہو گیا کہ مجھے آج کے اخبا ر کی مدد سے علاّمہ اقبال پر ایک متاثر کن مضمون تیار کرنا ہے۔ پھر کیا تھا میں نے پورا اخبار چھان مارا ، اچھوتے جملے نقل کیے، حیران کنُ اشعار لکھے اور جو کچھ بھی اس دن کے اخبار سے نچوڑا جا سکتا تھا میں نے وہ سب نقل کر کے ترتیب  آگے پیچھے کر کے ایک مضمون تیّار کر لیا جس کے پھر زور و شور سے رٹّے لگائے گئے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس سال کالج کے اندرونی  امتحانات میں بھی علاّمہ اقبال کا مضمون آیا  اور بورڈ کے امتحانات میں بھی۔

 خیر یہ مضمون لکھنے کے بعد میرا  علاّمہ اقبال سے ایسا تعارف ہو چکا تھا کہ میں نے یہ ٹھان لی تھی کہ مجھے اقبال کے کلام کو ترجیحی بنیادوں پر سمجھنا ہے۔میری اس خواہش کے عِوض  اللہ تعالیٰ نے غیرمحسوس طریقے سےمجھے خودی کا سبق سکھا بھی دیا اور یہ پتہ بھی نہیں چلنے دیا کہ میری خودی بیدار کر دی گئی تھی اور اللہ کی مدد میرے ساتھ تھی۔ زندگی میں وہ مقام بھی آئے کہ مجھے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہو بہو اس شعر کے مصداق مجھ سے پوچھ کر ہی میری تقدیر کا فیصلہ کیا ہے۔ البتّہ مجھے یہ احساس شدّت سے غالب رہا کہ زندگی میں جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے یا کر پاؤں گی  اس میں  میرا ذرّہ برابر بھی کمال نہیں ؛ میرے لیے سب راستے اللہ تعالیٰ نے ہی کھولے اور اسی شفیق ذات نے ہی رہنمائی کی۔خودی کے بارے میں جو معلومات ،تجربات اور اسباق میں نے حاصل کیے وہ میں تحریر کرنا  چاہتی ہوں تاکہ اور لوگ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ کیونکہ خودی انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف  سے دیا گیا وہ جوہر ہے جو کسی بھی عام انسان کو نہایت خاص بنانے  کا نسخہ ہے۔ جس کے ذریعے انسان اپنی تلاش کر سکتا ہے ، جو اس کو صحیح معنوں میں جینا  سکھا سکتا ہے۔ جو اس میں خدائی طاقت  کا احساس پیدا کر سکتا ہے ۔ جو اسے غریبی میں بھی بادشاہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ سب اسباق درج ذیل ہیں؛

ہ۔ انسان اپنی تقدیر خود لکھ سکتا ہے اور وہ نباتات و جمادات کی طرح تقدیر کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اللہ کے احکامات کا ہی پابند ہوتا ہے۔

ہ۔ خودی کو پہچاننے والا  اور اس کو حاصل کرنے والاشخص زمین میں اللہ کا نائب اور خلیفہ بن جاتا ہے عین وہ کردارجو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے؛ کہ یہی توجیہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کے لیے فرشتوں کو پیش کی  ۔

ہ ۔صاحبِ خودی کی مدد کائنات خود  کرتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں جُت جاتی ہے۔اور وہ کائنات کی قوّتوں کو مسخّر کر لیتا ہے۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے عقیدۂ توحید کا دل میں اخلاص کے ساتھ   راسخ ہونا ضروری ہے ،پھر اس کے بعد زندگی میں اپنے مقاصد اور منزلوں کا تعین کرنا اور اس کے لیے جدّوجہد کرنا اگلا قدم ہے۔بقول علامہ اقبال خودی کا سرِّ نہاں لاالہ الا اللہ ۔

ہ۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر معاشرے یا انسانیت کی فلاح کا مقصد رکھنے والے کی خودی باقی لوگوں کی خودی سے اعلیٰ و ارفع ہو گی۔ زندگی میں کبھی چھوٹا ہدف طے نہیں کرنا چاہیے کہ جتنی   بلند باڑ ہوتی ہے چھلانگ لگانے والا اتنی ہی چھلانگ لگا  سکتا ہے۔ جتنا بڑا ہدف ہو گا اتنا یا اس سے زیادہ  ہی حاصل ہو گا۔

ہ۔ اپنا  آپ پہچاننے کے لیے آپ کو اس کام کی تلاش کرنا ہو گی جو آپ کو دلی سکون پہنچائے۔ وہ ایک ویژن جو آپ کواس وقت  سکون پہنچانے کا ذریعہ بنے جبکہ  آپ زندگی سے تھکنے لگیں ۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے اطاعتِ رسولﷺ ، عشقِ رسولﷺ، رسول اللہ ﷺ سے روحانی نسبت اور ان کے مشن کو اپنا مشن سمجھنا ضروری ہے۔ کائنات تو ہر باعمل فرد کی مدد کرتی ہے مگر کس انسان کی مدد بلند سطح پر کی جائے گی اس کا انحصار  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر ہی ہو تا ہے ۔

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیںکی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

ہ ۔ خودی کے مختلف درجات ہوتے ہیں اور مختلف انسان اپنے مقاصد، ایمان، عمل اور یقین کے مطابق  خودی کے مختلف درجات پر فائز ہوتے ہیں۔

ہ۔ خودی کی کیفیت پالینے کے بعد اپنے نفس کو قابو کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے جو کہ اگر نہ کیا جائے تو اس سے  فائدہ لینے کی بجائے انسان نقصان اٹھا سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ خودی کے لیے رہنمائی پرسکون دل سے ملتی ہے؛ دل جس سے ایک مؤمن کا   اللہ؛ المؤمن ؛السّلام سے رابطہ ہوتا ہے۔ لمحۂ موجود میں دل کی پر سکون حالت ہی صحیح سمت رہنمائی کرتی ہے جبکہ موجودہ لمحے میں نفس اور ذہن میں بھاگنے دوڑنے والے خیالات انسان کو گمراہ کر سکتے ہیں۔  اس کے لیے ضبطِ نفس ضرور ہی سیکھنا پڑے گا۔ اگرنفس قابو میں نہ رہے تویہی کیفیت ایک نفسیاتی یا ذہنی علّت کا روپ دھار لیتی ہے۔

ہ۔ علاّمہ اقبال نے فلسفۂ خودی کا مأخذ قرآن کی درج ذیل آیت کو قرار دیا۔ انہوں نے سوچا کہ انسان اپنی جسمانی ضروریات سے تو غافل نہیں رہتا تو یہ کون سا اپنا آپ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنا آپ بھلانے پر خود انسان کو اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یہ درج ذیل حدیث بھی فلسفۂ خودی کی تشریح بیان کر رہی ہے۔

ہ۔ خودی کا مقام کبھی خود غرض لوگوں کو نہیں ملتا ۔ یہ صرف مخلص اور انسانیت سے محبّت رکھنے والے اور ان کی فلاح کے حریص لوگوں کو انعام کیا جاتا ہے۔

ہ۔ دنیا میں جس انسان نے بھی کوئی غیر معمولی کام انجام دیا ہے وہ اپنی خودی کی طاقت سے یا تو واقف تھا یا مخلص ہونے کی وجہ سے یہ مقام حاصل کر پایا۔

ہ۔ خودی کی منزلوں کا کوئی کنارہ نہیں ؛ کوئی حد نہیں ۔ جب تک بندہ ٔ مومن کی تلاش جاری رہتی ہے یہ خودی بھی نہیں  مرتی۔ صاحِبِ خودی کو منزل سے زیادہ سفر جاری رکھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے اور وہ نئی منزلوں کی تلاش میں نہ خود رُکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اللہ اس کو روکنا پسند کرتا ہے۔

ہ۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی اور چیز سے محبّت کرنا یا فقر اور استغناء اختیار کرنے کی بجائے غیر اللہ سے حاجت روائی طلب کرنے سے خودی چھین لی جاتی ہے۔اس لیے خودی کی حفاظت کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ گوہرِ یک دانہ ہاتھ سے پھسلنے میں دیر نہیں لگاتا۔

ہ ۔ حالتِ خودی میں انسان اللہ تعالیٰ سے الہامی علم حاصل کرتا ہے اور کبھی کبھاراس کا عمل بھی اس کی مرضی کے برعکس اُس سے صادِرکروایا جارہا ہوتا ہے جبکہ وہ خود اپنے آپ پر تعجب کر رہا ہوتا ہے۔  ایسے میں انسان خود اپنا تماشائی بن کر حیرت کے سمندر میں غرق ہوا جاتا ہے۔

ہ۔ خودی حاصل کرنے کے بعد بھی  مؤمن کُلی عقل و دانش کا حامل نہیں بن جاتا  بلکہ اس کی عقل  جُزوی ہی رہتی ہے ۔جس طرح ایک ادارے کو چلانے کے لیے صرف چیف ہی کی نہیں بلکہ ہر متصل شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت رہتی ہے اسی طرح ایک بیدار خودی رکھنے والے شخص کو اللہ کے علم اور باقی انسانوں کی عقل اور مشورے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔ البتّہ خودی کے عارف میں حکمت ، قوّتِ فیصلہ ، علم العرفان اور فرقان کی صلاحیت  عام لوگوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔  

ہ۔ خودی وہ جوہر ہے جس کو عطا کرنے والا  ربّ العالمین ؛علم ، حیثیت، شکل و صورت، مرتبہ  یا مقام نہیں دیکھتا بلکہ صرف وہ دل دیکھتا ہے کہ اگر وہ صاف شفّاف ہواور خالص توحید رکھتا ہو، مخلص ہو تو خواہ وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو اس کو بھی اللہ کی طرف سے خودی کا عارفانہ مقام دےدیا جاتا ہے۔ایسا شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود معاشرے کے لیے کارآمد اور مفید بن جاتا ہے۔جیسا کہ ایدھی صاحب کی مثال ہی دیکھ لیں۔

ہ۔ خودی کا حامل شخص لوگوں کی محفل میں پیارے نبیﷺ کی طرح برتاؤ کرنے لگتا ہے اور نبی ﷺ کا رنگ خود بخود اس پر چڑھنے لگتا ہے۔ جبکہ تنہائی میں وہ  اپنے اند ر خدائی رحمانی صفات محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز  بھی ہوتا ہے اورخود کو اللہ تعالیٰ  کا قریبی دوست اور ولی بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔وہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے رازونیاز کے ذریعے فی سبیل اللہ جہاد کی تدبیریں کرنے لگتا ہے۔

    خودی کی خلوتوں میں کبریائیخودی کی جلوتوں میں مصطفائی

ہ ۔خودی کی دسترس میں ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  زمین و آسماں ، کرسی ٔ و عرش تمام  مقامات تک خودی کی رسائی ممکن ہے۔

خودی کی زد میں ہے ساری خدائیزمین و آسماں کرسیٔ و عرش

ہ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  آٓخری زمانے کا مہدی بھی وہی ہو گا جس کی خودی سب سے پہلے نمودار ہو گی اوروہ باقی سب انسانوں کی خودی سے اعلیٰ مقامِ خودی حاصل کر نے کی وجہ سے حقیقت ِ انسانیہ کا یہ راز فلسفی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی زند ہ مثال پیش کر کے یہ  علم اور لوگوں میں بھی پھیلا دے گا۔

وُہی مہدی ، وہی آخرالزّمانیہوئی جس کی خودی پہلے نمودار

ہ۔ ایک ایسا صاحبِ خودی جو اپنی غلطیوں سے اپنی اصلاح کرتا رہے، خود کو مزید بہتر بنانے کی کوشش میں لگا رہے اور اپنے نفس کو شترِ بے مہار کی طرح چھوڑنے کی بجائے اپنے نفس پر حکومت کرنے لگے تو یہ بھی ممکن ہے کہ موت بھی اس کو مار نہ سکے۔ یہ علامہ اقبال کا تصوّر ہے اور شاید قرآن کی آیت جس میں شہید کو زندہ کہا گیا ہے اس سے کشف حاصل کیا گیا ہو کہ شاید ایک مضبوط خودی رکھنے والا شخص شہید کا درجہ پا لیتا ہو۔ واللہ اعلم

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکےہو اگر خود نگر و خودگر و خودگیر خودی

ہ۔ ہر دور میں ایک شخص یا گروہ موجود رہتا ہے  جن کی خودی دنیا کے تمام انسانوں سے بلند تر ہوتی ہے اورفی زمانہ ان سے ہی دنیا کی امامت کا کام لیا جاتا ہے اوراللہ کی زمین پر فیصلوں کے اختیارات اللہ تعالیٰ کی طرف سےانہی کو سونپ دیے جاتے ہیں۔ اسی طریق پر اللہ تعالیٰ ترقی کے ادوار کو مختلف قوموں پر پھراتے رہےہیں۔

ہ۔ ایک سچّے مؤمن جس کی خودی بیدار ہو وہ ہر گز بھری محفل میں اپنی تعریف نہیں چاہتا۔ اس کے لیے تمام تعریف اللہ کی ہی ہوتی ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی جلوہ نمائی نہ کی جائے بلکہ وہ خلوت کو جلوت پر ترجیح دینے لگتا ہے۔

سمندر ہے اک بوند پانی میں بندخودی جلوہ بد مست و خلوت پسند

ہ۔ غالِباً  المسیح الدّجّال بھی ایک ایسا ہی شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے کی بجائےاکڑ دکھائے گا اور   اللہ تعالیٰ کی چند صفات اور حضرت آدم ؑ کو سکھائے گئے علوم الاسماء تک رسائی حاصل کر لے گا مگر اس کی اصل کلمۂ خبیثہ ہو گی اور وہ چند دن اپنے کرتب دکھانے کے بعد موم کی طرح پگھل جائے گا یا ایک کمزور اور کھوکھلے درخت کی مانند آندھی کےآتے ہی اکھڑ جائے گا۔

پیارے ساتھیو! یہی وہ اسباق ہیں جو میں نے اپنی خودی کی تلاش میں اور علامہ اقبال کے کلام سےسیکھے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اشاروں پر غور کیا اور لوگوں کی مجھ سے کہی ہوئی مخلصانہ باتوں، مشوروں، التجاؤں کو معمولی نہیں سمجھا اور ہر پیدا ہونے والی صورتِ حال کے سامنے سر تسلیم ِ خم کرنے کا طریقہ اپنایا اور بہترین نیّت رکھتے ہوئے عمل کی کوشش جاری رکھی۔ میری اسلام کے لیے  ایک کُل وقتی رضا کار بننے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نےمجھے عین ویسی ہی راہیں دکھائیں جیسی میری جُستجو تھی۔ یہی وہ مقصد تھا جس کی میں جوانی کے اوائل سے ہی متلاشی رہی اور یہی وہ  راستہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل کا سکون رکھ دیا ہے۔

طیبہ خلیل– بحرین

سوشل نیٹ ورکس بمثل دورِ جدید کی مساجد

اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی جیسے ہی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے ترقی کرنی شروع کی توآن لائن سوشل نیٹ ورکنگ کا تصوّر وجود میں آیا۔ ابتدا میں جب ٹچ فون سسٹم نہیں ہوتے تھےتو نیٹ ورکنگ کے لیے  آن لائن چیٹ رومزنے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ پھر اس کے بعد میسنجر نامی سافٹ ویئرز پرمختلف ممالک کے لوگوں نے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ بعد ازاں جب ٹچ سسٹم والے موبائل فونز عام اور سستے بکنے لگےتو لوگ اپنے خاندان، دوست احباب اور دنیا بھر سے مختلف لوگوں سے جدید سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی بھی ایجاد بذاتِ خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس کا  استعمال اس کو برا  بناتا ہے۔ میں نے سوشل نیٹ ورکس کے مقاصد  اور ان کے آج کل ہونے والے مثبت اثرات پر نظر ڈالی تو اندازہ ہو ا کہ ایک ایسا سوشل نیٹ ورک جس میں فتنہ پھیلانے کی  استعداد  کو کنٹرول میں رکھا جا سکے  وہ ہوبہو ایک مسجد کا کردار ادا کر سکتا ہے۔  

مسجد اور سوشل نیٹ ورکس میں مماثلت

اسلام میں مردوں کے لیے نماز مسجد میں ادا کرنا فرض ہے  اس کے پیچھے بنیادی  حکمت یہی ہے کہ ایک بستی، گلی محلّے اور علاقے کے لوگ آپس میں مل جل کر ایک اتحاد قائم کر لیں ۔ کہ وہ پنج وقتہ  آپس میں ملیں تو ایک دوسرے کی ضروریات معلوم ہوتی رہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں کہ وہ شیطان جو لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا چاہتا ہے اس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔ کوئی گرنے لگے تو اسے تھام لیا جائے ۔ ایک دوسرے کو اوپر اٹھایا جائے۔  ایک دوسرے کی حاجات اور پریشانی کو دور کیا جا سکے ۔امر باالمعروف اور نہی عنِ المُنکر کا کام بھی احسن انداز سے کیا جاسکے۔ یہی کام ہو بہو آجکل  وٹس ایپ اور اس سے ملتی جلتی ایپس  کر رہی ہیں ۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ و اصلاح کے کاموں میں آج کل تو کثیر تعداد میں لوگ  اپنے علم اور استعداد کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے حق بات اور حکمت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ قریباً  ہر کمیونٹی کا گروپ بنا ہوا ہے اور یہ روایت بہت مقبول ہو رہی ہے۔ کمیونٹی کی فلاح کے لیے نہایت کار آمد طریقہ ہے۔اور خواتین بھی اپنے گھر کے اند ر بیٹھے بٹھائے ہی ان جدید مساجد کا حِصّہ بنی ہوئی ہیں ۔

ہر سوشل نیٹ ورک کا ایک مزاج ہے ۔ فیس بک لوگوں کی زندگیوں کی رنگینیوں؛ تصویروں ،  ویڈیوزاور تحریروں سے بھر پور ایک دلچسپ  ایپ ہے ۔ بہت سے باا ثر لوگ اس میڈیا کے ذریعے  لائیو آکر لوگوں کو بہت مفید باتیں بتا تے ہیں۔ خواتین نے اپنے گروپس بنارکھے ہیں جس میں بچوں کے مسائل، ازدواجی مسائل، انفرادی مسائل کا حل بڑی آسانی سے مختلف لوگوں کی رائے اور مشوروں سے حاصل ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر انسان کے پاس جُزوی عقل ہے اس لیے اس کو لازماً   اپنی ذات اور عقل کا وہ حِصّہ جو دنیا میں کسی اور کے پاس ہے؛ مطلوب ہوتا ہے تاکہ اس کی زندگی کے خلاء پُر ہوتے رہیں۔ بیشترلوگ  انہی نیٹ ورکس کےذریعے اپنا ادھورا پن مکمل کر پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ آن لائن بزنس بڑی کامیابی کے ساتھ اسی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے کر رہے ہیں۔

اگر دکھاوا اور خود نمائی کرنے کی بجائے  ان نیٹ ورکس کو انسانیت کی فلاح کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ہی تو وہ  دورِ جدید کی مساجد ہیں جو  دینِ اسلام کا انسانیت کی فلاح اور اتّحاد کا نصب العین ہو بہو پورا کر رہی  ہیں  ماسوا  کچھ بد تہذیب لوگوں اور عناصر کے جو فتنہ، نفرت  ، فحاشی اور منفی جذبات لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔  

ٹویٹراپنی جگہ ایک کارآمد  ایپ ہے جس کا مقصد ہے کہ بس کام کی بات دو تین لائنوں میں لکھ کر  لوگوں تک پہنچا دو۔ ہر انسان کسی نہ کسی الہامی علم کا حامل ہوتا ہے۔ اگرایک بااثر اور اعلیٰ ذہانت رکھنے والا شخص  یہ علم ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے  فوری  شیئر کرتا رہے تو چند لمحات میں ہی  بہت سے  انسان ایک نیک اچھی اور حق کی بات  کا علم حاصل کر کے اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ ایک فرد کو جذبِ باہمی کے اصول کے مطابق باقی انسانوں سے  جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام کا مقصد بھی یہی تو ہے  کہ انسان  اتّحاد اور ولایتِ باہمی کے رشتے کے ساتھ جُڑ جائیں اور حق کی بات پوری دنیا میں پھیلا دی جائے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بندے سے اپنی عبادت مطلوب ہے تو جو کوئی شخص بھی ان ایپس کا استعمال رحمانی مقصد کے ذریعے کرے گا وہ ہوبہو مسلم  امّت کی وحدت اور فلاح کا  مقصد پورا کرنے میں اپنا کردار اد ا کرے گا۔ 

میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ ان سوشل نیٹ  ورکس میں  لوگوں کو زندگی میں آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر کچھ صاحبِ اخلاص لوگ تو خوشی محسوس کرتے ہیں مگر وہ لوگ جو اپنی اصل، اپنے روحانی وجود سے جُڑے نہیں ہوتے  وہ ان نیٹ ورکس  سے منفی جذبات اوردوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کا موازنہ کرنے کی  وجہ سے پریشان رہنے لگتے  ہیں۔ چونکہ وہ خود اندر سے خالی پن محسوس کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کو چاہیےکہ  وہ سوشل میڈیا سے کچھ عرصے دوری اختیار کر کے پہلے اپنا آپ اور اپنا اس زندگی میں آنے کا رحمانی مقصد اور اپنی خاص عباد ت کی تلاش کریں تاکہ  وہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں  اپنے حِصّے کی شمع جلا سکیں اور اپنی بہت ہی خاص تخلیق لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اپنی کی ہوئی ذاتی تخلیق ہی وہ جوہر ہے جو انسان  کو  استغنا ، لوگوں سے بے نیازی اور اپنے من کی دنیا کی لذّت سے روشناس کرواتا ہے۔ اگر تمام انسان تخلیق کا جذبہ اور لگن پیدا کر لیں تو معاشرے کا کوئی بھی فرد ادھورا پن محسوس نہیں کرے گا  بلکہ وہ اپنی اور دوسروں کی خودی کی صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے راضی رہے گا۔

میرا ایک خواب ہے کہ پاکستانی شہریوں کا” خودی “کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک بنایا جائے جس کوبنیادی معاشرتی، معاشی، اقتصادی اور دیگر انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک محلے، علاقے، شہر، صوبے اور ملک کے افراد کو آپس میں اور فرد کی سطح سے لے کر حکومت تک کنیکٹ کیا جا سکے۔ اس نیٹ ورک کا ڈیزائن قرآن اور صحیح حدیث  کی اعلیٰ اخلاقیات  پر مبنی ہو اور اس کو فتنہ پھیلانے کی طاقت اور اجازت نہ دی جائے۔ یہ پاکستان میں اسلامی فلاحی نظام قائم کرنے میں پہلا مؤثر ترین اور تیز ترین قدم ثابت ہو گا۔ پاکستانی مسلمانوں نے اگر ابھی یہ نیٹ ورک نہ بنایا تو اسلام کے احیاء کے دور کو فوراً پہچانتے ہوئے اسلام مخالف قو تیں پاکستان سمیت باقی سر اٹھانے والے اسلامی ممالک کے افراد پر اپنے سوشل نیٹ ورکس بند کر کےان ملکوں کے لوگوں کو  آسانی سے ناکارہ  اور اپاہج بنا سکتی ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کےاس سوشل نیٹ ورک بنانے میں جو افراد بھی اپنا حِصّہ ڈالیں گےان کو دورِ جدید کی سب سے مؤثر، اعلیٰ و ارفع مسجد بنانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔ ان شاء اللہ

طیبہ خلیل ۔ بحرین

عبادت کیا ہے ؟

عبادت کیا ہے ؟ یہ سوال میرے ذہن میں نہ جانے کتنی مدّت سے ہے۔ عبادت سے متعلق متعدد آیات قرٓنِ حکیم میں آئیں ہیں۔  عربی مادہ “ع ب د ” ۲۷۵ دفعہ قرآن میں  ۶ مختلف صورتوں میں آیا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ فعل  عَبَدَ اس نے عبادت کی ۲۔ فعل عبَدّتَ   تم نے غلام بنایا ۳۔ اسم الفاعل عابِدات  عبادت گزار عورتیں۴۔اسم مصدر عبادت  ۵۔ اسم الفاعل عابِد

اللہ تعالیٰ  نے قران میں انسان کی تخلیق کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد  بیا ن کیا ہے  اور وہ اس درج ذیل آیت سے عیاں ہے۔

ہم ہر نماز میں سورۃ الفاتحہ کے یہ الفاظ دہراتے ہیں۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

عام طورپر نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ ، سنن  اور نوافل کو ہی عبادت سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تمام مسلمانوں کی عبادت یکساں لگتی ہے۔ مگر اللہ کو اس یکساں عبادت کے علاوہ ہر انسان سے اس کی اپنی مخصوص عبادت بھی چاہیے۔عربی زبان میں عبد کے معنی غلام یا بندہ کے ہیں۔ جیسے نام عبداللہ کا مطلب اللہ کا غلام یا اللہ کا بندہ ہے۔ اس مفہوم سے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کا تصوّر ذہن میں آتا ہے جس کے ہاتھ اور پاؤں میں اللہ تعالیٰ کی ڈالی ہوئی بیڑیاں ہوں ۔ یعنی کہ وہ ہر امر میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کو لازم پکڑےہوئے ہے۔  قرآن میں کثیر مقامات پر کم و بیش یہی عبارت دہرائی گئی ہے کہ تم سب اللہ کی ہی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ بیشتر مقامات میں شرک کی تعریف ہی یہی بیان کی گئی ہے  کہ اللہ کی عبادت میں کسی اور کو ساجھی بنانا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی بندگی اختیار کرنا۔

میں نےجب عبادت کے مفہوم پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہواکہ عبادت ہر اس عمل کا نام ہے جس کا اجر یا صلہ اس سے مطلوب ہو جس کی عبادت کی جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ کی عبادت کا مفہوم ہوا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کے لیے یہی نیّت ہو کہ اس کا   اجر یا صلہ مجھےاللہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں چاہیے۔ مجھے عبدیّت کا یہی مطلب سمجھ میں آیا۔ جو کام بھی اللہ سے اجر و صلہ کی بجائے لوگوں یا دنیا  سے نفع حاصل کرنے کی نیّت پر کیا جائے وہ کسی نہ کسی درجے کے شرک یا فسق میں شمار ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے چند اعمال اور ان کی  ممکنہ  نیّتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ۔ اچھی جاب ، مرتبہ، مال  اور مقام حاصل کرنے کے لیے ۔یا اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے بااثرمقام حاصل کرنے کی نیّت۔

لوگوں کو تعلیم دینا خواہ قرآن کی ہو یا دنیاوی۔ صرف اس سے رزق کمانے کی نیّت یا پھر اللہ کی خاطر اپنے علم سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

کتابیں اور تحریریں لکھنا۔ اس سے لوگوں میں عالم اور قابل سمجھا جاؤں اور نفع کما سکوں یا علم سے متعلق کام کی بات ہی لکھ کر اللہ کی خاطر لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

موسیقی، اداکاری یا ملتا جلتا پیشہ اختیار کرنا۔ اس سے شہرت، مال ، اور پرستارحاصل کرکے  مشہور ہو جاؤں یا پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی دنیا میں اپنی صلاحیت کے مطابق لغویات اور فحش کاموں سے بچتے ہوئے  نیک باتیں اور اخلاقیات  اپنے آرٹ کی صورت میں لوگوں تک پہنچاؤں۔

ڈاکٹر کا پیشہ۔  لوگوں کا علاج کر کے خوب مال سمیٹوں یا مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ رکھوں۔

پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبدیّت کی نیّت سے دنیا وی فائدہ بھی حاصل ہوجاتا ہے مگر دنیاوی نیّت رکھنے سے صرف دنیاوی فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جبکہ اس کا  آخرت میں کوئی اجر حاصل نہیں ہو گا کہ نبی ﷺ کی حدیث کےمفہوم کے مطابق  بے شک تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔

اگر اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم نہیں تو نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ سب اعمال ہی بے کار اور ضائع ہوں گے۔ اس کا کفّارہ صرف اس صورت میں دیا جا سکتا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنےکے لیے انفرادی اور اجتماعی  جدّوجہد کی جائے  اور کسی نہ کسی سطح کے جہاد اور کوشش میں حِصّہ ڈالا جائے. کیونکہ اللہ کو اپنی پوری زمین میں اپنا نظام ہی سب سے طاقتور اور بااثر چاہیے۔ اگر اس طرح کی کوئی کوشش یا نیّت نہ رکھی جائے تو سب اعمال کسی نہ کسی درجے کے فسق میں شمار ہوں گے۔ بوجہ اس کے کہ سجدہ تو اللہ کو کر رہے ہیں .سامنے اللہ کی بجائے طاغوت تخت سجائے بیٹھا ہے، زکوٰۃ بھلے دے  دیں مگر وہ سودی نظام کا حصہ بن کر اہل لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گی، روزہ رکھ لیں مگر اس سے تقویٰ حاصل نہ ہو گا، حج پر چلے جائیں مگر اس سے امّت کو وحدت نصیب نہیں ہو گی۔

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ  کُلی نہیں بلکہ جُزوی عبادات ہیں۔ ہر انسان کا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آنے کا  ایک رحمانی مقصد بھی لکھ رکھا ہے اور ایک بھٹکا ہوا طاغوتی مقصد بھی۔ اختیار انسان کے پاس ہے کہ وہ کونسے مقصد کو چنتا ہے ۔ ہر انسان کی سب سے بلند ترین عبادت وہی شمار کی جائے گی جو وہ رحمانی مقصد کے تحت کر رہا ہے۔  اس لیے عبادت کے مفہوم کو عامیانہ مت سمجھیں بلکہ اپنی سب سے عظیم ترین عبادت جو کہ پوری دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی اور آپ سے بہتر نہیں کر سکتا اس عبادت کی تلاش کریں۔ اگر سب انسان اپنی عظیم ترین رحمانی عبادت میں اپنے آپ کو مشغول کر لیں تو دنیا میں اللہ کا نظام قائم کرنا کچھ مشکل نہ رہے گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

کائنات ہر مخلص باعمل انسان کی مدد کرتی ہے

مشہور مصّنف  undefined  کی مشہور کتاب undefined نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان دل سے کوئی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتا ہے تو ساری کائنات اس کا مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے لیے کام میں جُت جاتی ہے“۔

علّامہ اقبال نے اپنی نظم تصویرِ درد میں اس حقیقت کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہ ِعمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

 کم و بیش یہی فلسفہ مشہور کتاب undefined   میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کی زندگی کی حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اور کسی امر کو انجام دینے کے لیے  یا اپنا مطلوبہ مقصد پانے کے لیے شدید خواہش رکھنا اور اس کے بارے میں سوچنا طالب اور مطلوب  کے درمیان مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ  آپ اپنی زندگی کا ایک ویژن بنائیں اور اس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے زندگی میں عمل کے میدان میں پیش قدمی کریں ۔

قرآن میں  یہ عبارت اور مفہوم بیشتر مقاما ت پر دہرایا گیا ہے کہ یہ کائنات انسا ن کے لیے مسخّر کی گئی ہے۔ مسخّر کا مطلب ہوتا  ہے مطیع اور فرمانبردارہونا ، اور سخّر کرنے والے کی مرضی کے مطابق کام پر لگنا۔  قرآن کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خواہش دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل اور کوشش درکار ہے۔ اگر ہم اپنے مستقبل کے کسی ویژن پر ایمان لے بھی آئیں پھر بھی عمل کے بغیر یہ ایمان ادھورا ہے ۔ اس لیے قرآن میں یہ عبارت  ” الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” زیادہ تر مقامات پر ایک ساتھ دہرائی گئی ہے۔   اور ایک  جگہ پر قرآن میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن میں آیاہے ۔

اور سورہ الّیل میں اللہ تعالیٰ نے  اللہ کا تقویٰ  اختیار کرنے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور ہر امر  میں سب سے احسن بات الحُسنیٰ کی تصدیق کرنے پر آسان طریقے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

میں نے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی بدولت اس حقیقت کا ادراک حاصل کیا ہے کہ دل میں ایک زندہ آرزو کا ہونا ، اس کے لیے تڑپ پیدا ہونا، اخلاص کی نیّت رکھ کر عمل کیے چلے جانا خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو منزلوں کے راستو ں کو آسان بھی بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین بھی عطا ہوتا ہے۔ ایک بندہ مومن کے پُختہ یقین میں ناقابلَ تسخیر قوّت ہے اور یقین ایک ایسا جوہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ مایوسی کُفر کے مترادف ہے ؛ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان اور پُختہ یقین اُن اعلیٰ ترین اعمال میں سے ہیں جو کہ کائنات کی طاقتوں کو صاحبِ یقین کا خادم بنا دیتی ہیں۔

پیارے ساتھیو! اگر زندگی میں کوئی عظیم مقصد ہی نہ ہو  تو یہ موت کے مترداف ہے۔   اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر کسی مقصد کی تلاش اور اس میں اپنا آ پ سرگرداں کرنا  ہی دنیاوی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی  اعلیٰ مقصد نظر میں نہ ہو تو یہ زندگی بس صبح و شام کا کھیل ہے کہ کھایا ، پیا، ہضم کیا، سو لیا ، چند ساعتوں کا مزا حاصل کرلیا اور پھر مٹّی تلے جا کر دفن ہو گئے ۔ موت سے پہلے خود بھی جاگ جائیں اور دنیا میں بھیجے جانے کا عظیم مقصد بھی جگا لیں ورنہ موت سے پہلے ہی مرنے کی تیّاری کر لیں۔

طیبہ خلیل – بحرین