اِکی گائی

 اِکی گائی جاپانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “جینے کی وجہ”   یا زندگی کا وہ مقصد جس کے لیے آپ ہر صبح بستر سے اٹھنے کے لیے پر جوش ہوں۔ یہ جاپان کے ایک جزیرے   اوکی ناوا میں رہنے والے باشندوں کا ایک بھر پور صحت مند زندگی گزارنے کا فارمولا ہے ۔ اوکی ناوا کُرہ ارضی کے ان پانچ علاقوں میں شامل ہے جو کہ بلیوزون قرار دیے گئے ہیں۔ بلیوزون علاقوں  کے باشندے باقی دنیا کے لوگوں سے زیادہ لمبی ،بھرپور اور خوشگوار زندگی گزارتے ہیں۔ یہاں پر ۱۰۰ سال سے اوپر زندگی گزارنے والوں کی تعداددنیا بھر میں  سب سے زیادہ ہے۔ مردوں کی اوسط عمر ۸۴  سال اورخواتین کی اوسط عمر ۹۰ سال ہے ۔ مزید براں ا س علاقے کے  بوڑھے ترین افراد بھی جسمانی ، جذباتی  اور عقلی  لحاظ سے فعال اور خودمختار ہوتے ہیں۔

محققین نے بعد از تحقیق یہ  اندازہ لگایا ہے کہ اوکی ناوا کے لوگوں کی  صحت مند زندگی کی وجہ ان کی خوراک ،  فطرت کے قریب وقت گزاری او ر سب ٹراپیکل کلائمیٹ ہے۔ البتہ ان کی زندگی  کو محرک اور فعال بنانے کی وجہ    اِکی گائی ہے جو کہ ہر شخص کے  عقا ئد ، اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا اپناذاتی  منفرد نصب العین ہے ۔ ہر شخص کا  اِکی گائی اس کی اندرونی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے  جو کہ اس کو ایسی ذہنی کیفیت میں لے آتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ہر فعل  آسانی سے ادا ہوتا ہے اور اسے اپنا کام سہل اور خوشگوار لگنے لگتا ہے۔ اس  مقصد کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے ذیل میں دیے گئے چار سوالات   کے جوابات آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔

ہ ـ۔ آپ کو کس کام سے محبت ہے؟ کس کام کو کرنے کا آپ شوق رکھتے ہیں  اورجس کو کرنے کے دوران آپ کو وقت گزرنے  کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

ہ ـ۔ کس کام میں آپ مہارت رکھتے ہیں ؟ ایسے کام جن کی صلاحیت آپ میں فطری طور پر پائی جاتی ہے۔

ہ ـ۔  آپ ایسا کیا کام کر سکتے ہیں جس کی دنیا کو ضرورت ہے؟  یعنی کہ ایسا پیشہ اختیار کیا جائے جس کی معاشرے  کو ضرورت بھی ہو۔

ہ ـ۔ اور کون سا ایسا کام ہے جس سے آپ پیسا کما سکتے ہیں؟  آپ کوئی ایسا پیشہ اختیار کریں جس کا آپ کو مناسب معاوضہ بھی ملتا رہے ورنہ آپ معاشی طور پر کمزور رہ جائیں گےاور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کے محتاج ہوں گے۔

مختصراً یہ کہ آپ کو اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرنے کے لیے ان چار سوالات کے جوابات کا یکساں ہونا ضروری ہے تب ہی  آپ ایک بہاؤ  کی کیفیت پا سکتے ہیں جس میں آپ  کے افعال آپ سے آسانی سے ادا بھی ہوں ، آپ کو وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہو اور آپ بوریت کا شکار بھی نہ ہوں۔ ایسا کام ہی آپ کا اِکی گائی ہو گا۔ جینے کی وہ وجہ جس کے لیے آپ صبح اٹھنا  چاہیں گے۔

اس کے علاوہ ذیل میں دیے گئے جاپانی حکمت کے دس اصول ہیں جن کی بدولت  اوکی ناوا کے لوگ  ایک لمبی صحت مند اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

ہ ـ۔ ہر عمر میں فعال رہیں۔ ریٹائرمینٹ کےبعد بھی ریٹائر نہ ہوں۔ بامقصد کام، معاشرے کی خدمت، دوسرے لوگوں کی مدد کرنا جاری رکھیں ۔

ہ ـ۔ زندگی کو تیز گام گزارنے کی بجائے رفتار کم رکھیں ۔ایک مشہور مقولہ ہے کہ “آہستہ چل کر آپ زیادہ دور تک جا سکتے ہیں” ۔ اس لیے افراتفری میں وقت مت گزاریں بلکہ ہر کام کو وقت دیں اور اسے انجوائے کریں۔

ہ ـ۔ کھانا بھوک رکھ کر کھائیں۔ معدے کو ۸۰ فی صد سے زیادہ نہ بھریں۔

ہ ـ۔ خواہ  دو چار ہی ہوں ایسے دوست ضرور بنائیں جن کی صحبت آپ کو تروتازہ کر دے۔

ہ ـ۔ خود کو حرکت میں رکھیں ۔ جیسا کہ پانی اگر بہنا بند ہو جائے تو وہ تعفن زدہ ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر  جسمانی ورزش نہ کی جائےتو اس کا بھی جسم پر اچھا اثر نہیں ہوتا۔  ورزش کرنا ایسے ہارمون ریلیز کرتا ہے  جو خوشی کا احساس دلاتے ہیں۔

ہ ـ۔ اپنے چہرے پر زیادہ سے زیادہ مسکراہٹ سجائے رکھیں ۔ایسا کرنا آپ کو دوست بنانے میں مددگار بھی ثابت ہو  گا  اور آپ کی خوشی کا باعث بھی ہوگا۔

ہ ـ۔  اپنی بیٹری کو ری چارج کرنے کے لیے نیچر کے ساتھ تعلق استوار رکھیں۔

ہ ـ۔ شکر گزاری کی زندگی گزاریں۔ اپنی تمام نعمتوں کا شکر ادا کریں۔

ہ ـ۔ماضی کی غلطیوں اور تلخیوں  اور مستقبل کے خوف سے اپنے آپ کو آزاد کر کے حال اور موجودہ لمحے میں زندگی گزارنا سیکھیں۔

ہ ـ۔ اپنی اِکی گائی کو تلاش کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔

نوٹ : یہ تحریر اکی گائی نامی کتاب کا مختصر خلاصہ ہے۔

طیبہ خلیل۔ بحرین

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر
اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آو تو اللہ تعالی کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں عذاب دیں

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

حَرفِ قُلِ العفو

جیسے جیسے کمرشلزم نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا، ہم نے انسانی ہوس اور خواہشات کو بے لگام ہوتے ہوئے دیکھا۔ لوگوں کو ایک ایسی دوڑ میں بھاگتے ہوئے دیکھا جس کا کوئی اختتام نہیں۔ ایک کے بعد ایک چیز کو حاصل کرنے کی کوشش میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زندگی اور اس زندگی کا قیمتی وقت اور سرمایہ ایسے کاموں اور مشاغل میں صَرف ہوتا رہا جس کی وجہ سے دنیا کے سطحی قسم کے فنا ہونے والے فائدے کی کشا کش لگی رہی۔ جبکہ دنیاوی مال و متاع حاصل کرنے کے باوجود دل سکون نہ پا سکے اور مزید براں آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے شدید احتساب کا امکان بڑھتا رہا۔ آج جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کے نظام کو روک کر انسانوں کو یہ تدبّر اور تفکّر کرنے کا موقع دیا ہے کہ آیا کہ جو متاعِ زندگی اور اشیاء وہ جمع کرتے ہوئے آئے ہیں کیا وہ ضرورت تھی یا اسراف تھا؟

کیا وہ زمینیں جن پر جاگیردار قبضہ کیے بیٹھے ہیں؛ کیا وہ ان کو آخرت میں کوئی فائدہ دے پائیں گی یا گلے کا طوق بنا دی جائیں گی؟ کیا یہ زمینیں ریاست کی ملکیت نہیں ہونی چاہییں۔؟ جو جاگیردار کسانوں کی کی گئی محنت کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر رہے ہیں؟ کیا وہ اپنے پیٹوں میں آگ نہیں بھر رہے؟

کیا ہمارے گھر جو ہم نے ۱یک دو کنال پر بنا رکھے ہیں اور اس کی تزئین و آرائش میں اپنا آپ کھپاتے رہتے ہیں اس کا آخرت میں کوئی فائدہ ہو گا؟

یہ جو ایک سے ایک مہنگی گاڑیاں خریدی جاتی ہیں ان کی واقعتاً ضرورت تھی یا اپنا شوق تھا؟ کیا ان میں بیٹھ کر دلوں نے خوشی اور سکون حاصل کر لیا ؟

یہ جو سونے کے زیورات ہم خواتین بنواتی ہیں جو کہ کئی لاکھ مالیّت کے ہوتے ہیں کیا ان کو پہننے کا موقع بھی ملا ؟ یا چوری ہونے کے ڈر سے پہنا ہی نہیں گیا اور لاکرز کی پناہ گاہ میں پڑا رہا؟ کیا خوبصورت ڈیزائن والی عام دھات کی بنی ہوئی جیولری اس سے زیادہ بہتر نہیں ثابت ہو سکتی کہ نہ چوری ہونے کا خطرہ اور ضرورت بہتر طریقے سے پوری ہو سکے؟ کیا سونا، چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کوپاک سرزمین کے بیت المال کا حصّہ نہیں ہونا چاہیے؟

یہ جو ایک سے ایک نیا جوڑا، مہنگے سے مہنگا لباس، پھر اسکے ساتھ میچنگ جیولری،جوتا،بیگ اورمہنگا میک اپ اور پھر اس کا دکھاوا؟ کیا یہ ایک مومن عورت کو زیب دیتا ہے؟ کیا یہ کپڑوں،جوتوں سے بھری الماریاں رات کو ہمیں اس خوف میں مبتلا نہیں کرتیں کہ اگر میرے نصیب میں صبح نہ ہو سکی تو کتنا کڑا احتساب میرے لیے تیّار کھڑا ہے؟ کہیں یہ پچھتاوا تو نہیں بن جائے گا کہ کاش میں اپنی زندگی میں اپنی ترجیحات درست کرلیتی اور جو پیسہ میں نے بے دریغ آسائشوں اور زیب و زینت پر خرچ کیا اس میں سائلین اور محرومین کا حق پہچان کر اپنے لیے آخرت کمانے کی فکر کرتی۔

کیا جو شادی بیاہ پر تقریبات، دلہا دلہن کے مہنگے ترین کپڑوں، زیورات، اور باقی ایکسیسریز پر خرچ کیا جاتا رہا ہے کیا وہ اسلامی نقطہ نظر سے جائز تھا؟ جن لوگوں نے ایک شادی کے لیے متعدد پارٹیز اور فنکشنز منعقد کروائے کیا ان کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں آیا؟ یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کے برعکس اپنے نصب العین “شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا پر عمل کیا۔

یہ جو ہم مہنگے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں جا کر کھانا کھایا کرتے تھے ، کیا وہ ضروری تھا یا زبان کے چسکوں کو پورا کرنے کی خواہش جس کو دبانا اتنا مشکل تھا کہ ہر بار جس چیز کو دل کیا وہ کھانے نکل گئے یا ڈیلیوری آرڈر کردیا۔ کیا پھر ان ریستورانوں سے نکل کر بھیک مانگتے ہوئے بچوں ، عورتوں اور فقراء کے چہروں نے کبھی شرمندہ نہیں کیا؟

کیا کبھی ہم نے قرآن کی اس آیت پر غور کیا :وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ؛ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں آپ کہیے کہ جو بھی ضرورت سے زائد ہو۔ کیا کبھی ہم نے یہ نہیں سوچا کہ اُمّتِ مسلمہ پر آج عین وہی وقت آچکا ہے کہ اس آیت کا اطلاق ہونے جارہا ہے کہ صرف اسی صورت میں پاکستان میں سب سے پہلی خلافتِ راشدہ کی طرز پر بننے والی ایک ریاست معاشی مضبوطی اور خود انحصاری حاصل کر سکتی ہے۔ کیا ہم سب اس حکم پر اپنی دنیا بچانے کی فکر کریں گے یا آخرت کمانے کی؟یا دنیا کے تھوڑے فائدے کے لیے آخرت کا کڑا احتساب اور آگ میں داخل ہونا پسند کریں گے؟ کہ مال نہ خرچ کرنے پر قرآن حکیم میں اس کثرت سے آیاتِ وعید آئی ہیں کہ جو ایک مؤمن کے لیے اس فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیں۔ م۔ ان شاء اللہ۔ بقول علّامہ اقبال

اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودارجو حرفِ قلِ العفو میں پوشیدہ ہے اب تک

ہمیں بطور ایک قوم جاپان کے لوگوں کے طرزِ زندگی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک جاپانی گھر میں کم سے کم اور ضرورت کے لحاظ سے پورا سامان پایا جاتا ہے۔ اگر ہمیں بھی بطور ایک قوم اپنی خودی کے زور پر اٹھنا ہے تو سادہ طرزِ زندگی ہی اپنانا ہو گا اور اس کی مثال ہمارے لیے رسول اللہﷺ سے زیادہ بہتر کس کی ہو سکتی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت

قرآن کا بندۂ مؤمن ایک ایسی شخصیّت ہے جو کہ  نفس کا اطمینان  ، دل کی سلیمت، روح  تک رسائی اور جسم پر حکومت  کرنے  کی  قوّتیں حاصل کر چکی ہو۔

نفس کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے  مؤمن کو  ایک   undefined   شخصیّت بننا  پڑتا ہے۔ یعنی کہ ماحول میں جو کچھ بھی اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہو رہا ہے  وہ اس کے سامنے سرتسلیمِ خم کرتا چلا جائے اور اس کا نفس راضی بہ رضائے خدا وندی رہے۔ وہ    لوگوں سے الجھنے کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھے اور  اس کے برعکس اپنے ارد گرد لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا چلا جائے۔ بغیر کسی صلہ حاصل کرنے کی نیّت کے عمل کرتا چلا جائے۔   وہ اپنے ماحول میں اپنے نفس کے پرسکون ہونے کے باعث ایسی  وائبز  یا کاسمک انرجی پھیلانے لگتا ہے جس سے ماحول پر سکون بنتا چلا جاتا ہے۔ مؤمن اپنے کسی معاملے کی خرابی کا ذمہ دار دوسروں کو نہیں ٹھہراتا بلکہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیتا ہے کہ انسان اس کے معاملے اور تقدیر میں ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ اس کے معاملا ت کُلی طور پر خالِقِ حقیقی کے پاس ہیں۔ اس بات کو  اپنے اند ر اتارنے کے بعد وہ براہ راست خدا سے رابطہ قائم کر لیتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد اپنے غم کا شکوہ کبھی لوگوں سے نہیں کرتا جیسا کہ حضرت یعقوب ؑ کی دعا ہمیں بتاتی  ہے: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ ۔ میں اپنے غم اور رنج کی شکایت صرف اللہ سے ہی کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی وہ جان لیتا ہے کہ اس کی پریشانی کا باعث اس کی اپنی نفسانی سوچ ہے  اور  اس کی اندرونی مملکت کے باہر کوئی بھی انسان، حالات  یا  اشیاء اس کو پریشان نہیں کر رہیں بلکہ یہ اس کی اپنی سوچ اور طرزِ عمل ہے جس کی وجہ سے اسے پریشانی مل رہی ہے۔ اور قرآن میں واضح طور پر یہ بات دہرائی گئی ہے کہ جو مصیبت بھی انسان کو پہنچتی ہے وہ اس کے اپنے نفس کی بدولت ہوتی ہے ۔  جذبات موجودہ لمحے میں سوچ سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ کسی بیرونی محرّکات کی وجہ سے۔ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔نفس کو مطمئن بنانے کے لیے ماضی اور حال سے نکل  کر موجودہ لمحے میں اپنی توجہ مرکوز کرنی پڑتی ہےکہ ایسا کرنے سے ہی انسان احسان کی کیفیت کو پا سکتا ہے کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ احساس کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

قلبِ سلیم حاصل کرنے کے لیے  حضرت ابراہیم ؑ جیسی حنیفیت درکار ہےاور یکسُو  اطاعتِ خداوندی  کہ اللہ کی ہر آزمائش پر پورا اترے۔ ایسا دل جس میں اخلاص کی دولت  پیدا ہو جائے اور اس میں تمام لوگوں کے لیے محبّت اور خیر خواہی کے جذبات پیدا ہو جائیں۔  ایسا دل جو لوگوں کی فلاح کا حریص بن جائے جو اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری میں بے مثال بن جائے۔ جس میں  حق کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور جو حق بات کو سن کر فوری طور پر سمعنا و اطعنا کہنے والوں میں شامل ہو جائے ۔ وہ لوگوں کے لیے بھی وہی چاہنے لگے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔اور وہ  الحُسنیٰ احسن بات کو بغیر کسی تعصب کے قبول کر لے۔ اس میں سے لوگوں کے لیے بغض، عداوت، حسد   جیسے احساسات  کا خاتمہ ہو جائے۔ اور اس کا دل آئینے کی طرح صاف شفّاف ہو جائے ۔ وہ اپنے فائدے کی بجائے اللہ کے دین کا فائدہ دیکھنے لگے اور ہر خیر کی بات خواہ اس کا پہنچانےوالا کوئی بھی ہو اس کو دوسروں تک پھیلانے کی ذمہ داری کو سمجھنے لگے۔ اس کے دل میں اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی محبّت سب محبّتوں پر غالب آجائے۔

روح  ایک جسمِ لطیف ہے جو کہ ہوبہو انسانی جسم کی ہیئیت رکھتی ہے  اور یہی وہ خدا کی طرف سے پھونکا گیا امرِربّی ہے جو انسان کواس عالم سے جوڑتی ہے جس میں صرف پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب بنی  آدم کی پشتوں سے تمام بنی نوع انسان کو نکالا تو وہ صرف ارواح تھیں اور ان کو جسم ابھی نہیں دیے گئے تھے۔ یہی وہ ارواح تھیں جنہوں نے الستُ بِربِّکُم کے جواب میں بلیٰ یعنی کیوں نہیں کہہ کر اللہ کی اطاعت کا عہد کیا۔ اپنی روح تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اللہ کو ہی مطلوب بنانا پڑتا ہے۔ اپنی زندگی میں سے خود غرضی نکال کر زندگی کا ایسا مقصد تلاش کرنا پڑتا ہے جو کہ اللہ کی عین عبادت کی نیّت سے کیا جائے اور اس میں  خدا کی رضا کے علاوہ کسی اور سے کچھ بھی مطلوب نہ ہو۔ یہی وہ شرک سے پاک  عمل ہے جو اللہ کو اپنے بندوں سے درکار ہے۔

جب ایک بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت ان بنیادوں پر استوار ہو جائے تو اس کے لیے اپنے جسم پر حکمرانی کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ اس کی زبان اسکے قابو میں آجاتی ہے اور انسانی شہوات اس کو اپنی طرف کھینچنے کی کشش کھو دیتی ہیں۔ اس مقام پر آجانے کے بعد  بعید نہیں کہ وہ دنیا میں بھی کسی نہ کسی سطح کی حکومت کا اختیار  یا نیابت ِ الٰہی کے درجے پر فائز کر دیا جائے۔

پیارے ساتھیو، یہی وہ زندہ آرزو ہے جس کو حاصل  کرنے کے لیے سب مسلمین کو اپنے اندر  تڑپ پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔  چھوٹے چھوٹے دنیاوی مقاصدکو پیچھے چھوڑ کر اس اونچی اُڑان کی جُستجو اپنے اندر پیدا کرنے کی سعی کریں۔ کہ اگر یہ مقام حاصل نہ ہو سکا تو اپنی تقدیر خود لکھنے کی بجائے  تقدیر کا پابند ہو کرزندہ لاش کی طرح زندگی گزارنا پڑے گی ۔  زندگی ہدایت کی روشنی سے بے نور  اور موت مرگِ مفاجات  ثابت ہو گی۔اختتام  علّامہ اقبال کی اس دعا کے ساتھ:

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دےیا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے

طیّبہ خلیل۔ بحرین

سوشل نیٹ ورکس بمثل دورِ جدید کی مساجد

اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی جیسے ہی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے ترقی کرنی شروع کی توآن لائن سوشل نیٹ ورکنگ کا تصوّر وجود میں آیا۔ ابتدا میں جب ٹچ فون سسٹم نہیں ہوتے تھےتو نیٹ ورکنگ کے لیے  آن لائن چیٹ رومزنے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ پھر اس کے بعد میسنجر نامی سافٹ ویئرز پرمختلف ممالک کے لوگوں نے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ بعد ازاں جب ٹچ سسٹم والے موبائل فونز عام اور سستے بکنے لگےتو لوگ اپنے خاندان، دوست احباب اور دنیا بھر سے مختلف لوگوں سے جدید سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی بھی ایجاد بذاتِ خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس کا  استعمال اس کو برا  بناتا ہے۔ میں نے سوشل نیٹ ورکس کے مقاصد  اور ان کے آج کل ہونے والے مثبت اثرات پر نظر ڈالی تو اندازہ ہو ا کہ ایک ایسا سوشل نیٹ ورک جس میں فتنہ پھیلانے کی  استعداد  کو کنٹرول میں رکھا جا سکے  وہ ہوبہو ایک مسجد کا کردار ادا کر سکتا ہے۔  

مسجد اور سوشل نیٹ ورکس میں مماثلت

اسلام میں مردوں کے لیے نماز مسجد میں ادا کرنا فرض ہے  اس کے پیچھے بنیادی  حکمت یہی ہے کہ ایک بستی، گلی محلّے اور علاقے کے لوگ آپس میں مل جل کر ایک اتحاد قائم کر لیں ۔ کہ وہ پنج وقتہ  آپس میں ملیں تو ایک دوسرے کی ضروریات معلوم ہوتی رہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں کہ وہ شیطان جو لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا چاہتا ہے اس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔ کوئی گرنے لگے تو اسے تھام لیا جائے ۔ ایک دوسرے کو اوپر اٹھایا جائے۔  ایک دوسرے کی حاجات اور پریشانی کو دور کیا جا سکے ۔امر باالمعروف اور نہی عنِ المُنکر کا کام بھی احسن انداز سے کیا جاسکے۔ یہی کام ہو بہو آجکل  وٹس ایپ اور اس سے ملتی جلتی ایپس  کر رہی ہیں ۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ و اصلاح کے کاموں میں آج کل تو کثیر تعداد میں لوگ  اپنے علم اور استعداد کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے حق بات اور حکمت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ قریباً  ہر کمیونٹی کا گروپ بنا ہوا ہے اور یہ روایت بہت مقبول ہو رہی ہے۔ کمیونٹی کی فلاح کے لیے نہایت کار آمد طریقہ ہے۔اور خواتین بھی اپنے گھر کے اند ر بیٹھے بٹھائے ہی ان جدید مساجد کا حِصّہ بنی ہوئی ہیں ۔

ہر سوشل نیٹ ورک کا ایک مزاج ہے ۔ فیس بک لوگوں کی زندگیوں کی رنگینیوں؛ تصویروں ،  ویڈیوزاور تحریروں سے بھر پور ایک دلچسپ  ایپ ہے ۔ بہت سے باا ثر لوگ اس میڈیا کے ذریعے  لائیو آکر لوگوں کو بہت مفید باتیں بتا تے ہیں۔ خواتین نے اپنے گروپس بنارکھے ہیں جس میں بچوں کے مسائل، ازدواجی مسائل، انفرادی مسائل کا حل بڑی آسانی سے مختلف لوگوں کی رائے اور مشوروں سے حاصل ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر انسان کے پاس جُزوی عقل ہے اس لیے اس کو لازماً   اپنی ذات اور عقل کا وہ حِصّہ جو دنیا میں کسی اور کے پاس ہے؛ مطلوب ہوتا ہے تاکہ اس کی زندگی کے خلاء پُر ہوتے رہیں۔ بیشترلوگ  انہی نیٹ ورکس کےذریعے اپنا ادھورا پن مکمل کر پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ آن لائن بزنس بڑی کامیابی کے ساتھ اسی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے کر رہے ہیں۔

اگر دکھاوا اور خود نمائی کرنے کی بجائے  ان نیٹ ورکس کو انسانیت کی فلاح کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ہی تو وہ  دورِ جدید کی مساجد ہیں جو  دینِ اسلام کا انسانیت کی فلاح اور اتّحاد کا نصب العین ہو بہو پورا کر رہی  ہیں  ماسوا  کچھ بد تہذیب لوگوں اور عناصر کے جو فتنہ، نفرت  ، فحاشی اور منفی جذبات لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔  

ٹویٹراپنی جگہ ایک کارآمد  ایپ ہے جس کا مقصد ہے کہ بس کام کی بات دو تین لائنوں میں لکھ کر  لوگوں تک پہنچا دو۔ ہر انسان کسی نہ کسی الہامی علم کا حامل ہوتا ہے۔ اگرایک بااثر اور اعلیٰ ذہانت رکھنے والا شخص  یہ علم ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے  فوری  شیئر کرتا رہے تو چند لمحات میں ہی  بہت سے  انسان ایک نیک اچھی اور حق کی بات  کا علم حاصل کر کے اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ ایک فرد کو جذبِ باہمی کے اصول کے مطابق باقی انسانوں سے  جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام کا مقصد بھی یہی تو ہے  کہ انسان  اتّحاد اور ولایتِ باہمی کے رشتے کے ساتھ جُڑ جائیں اور حق کی بات پوری دنیا میں پھیلا دی جائے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بندے سے اپنی عبادت مطلوب ہے تو جو کوئی شخص بھی ان ایپس کا استعمال رحمانی مقصد کے ذریعے کرے گا وہ ہوبہو مسلم  امّت کی وحدت اور فلاح کا  مقصد پورا کرنے میں اپنا کردار اد ا کرے گا۔ 

پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے میں نے فیس بک  ایپ کا استعمال ترک کر رکھا تھا جس کی ذاتی وجہ یہ تھی کہ میری ذہنی علّت  مینیا بے قابو ہونے کی وجہ سے میں کچھ عرصے تک  سائیکوسس کا شکار رہی۔ جس کے باعث میں اپنے من کی دنیا کی بے ہنگم  باتیں سوشل نیٹ ورکس پر تیزی سے شئیر کرنے لگی جبکہ میں ایک حقیقی نہیں بلکہ تخیّلاتی دنیا میں موجود تھی۔ اس کے بعد مجھے کچھ عرصہ ڈیپریشن رہا اور میں  نے اپنا بکھرا ہوا وجود دوبارہ جوڑنے کے مقصد سے کچھ عرصےتک فیس بک کی  ایپ کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ ان سوشل نیٹ  ورکس میں  لوگوں کو زندگی میں آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر کچھ صاحبِ اخلاص لوگ تو خوشی محسوس کرتے ہیں مگر وہ لوگ جو اپنی اصل، اپنے روحانی وجود سے جُڑے نہیں ہوتے  وہ ان نیٹ ورکس  سے منفی جذبات اوردوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کا موازنہ کرنے کی  وجہ سے پریشان رہنے لگتے  ہیں۔ چونکہ وہ خود اندر سے خالی پن محسوس کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کو چاہیےکہ  وہ سوشل میڈیا سے کچھ عرصے دوری اختیار کر کے پہلے اپنا آپ اور اپنا اس زندگی میں آنے کا رحمانی مقصد اور اپنی خاص عباد ت کی تلاش کریں تاکہ  وہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں  اپنے حِصّے کی شمع جلا سکیں اور اپنی بہت ہی خاص تخلیق لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اپنی کی ہوئی ذاتی تخلیق ہی وہ جوہر ہے جو انسان  کو  استغنا ، لوگوں سے بے نیازی اور اپنے من کی دنیا کی لذّت سے روشناس کرواتا ہے۔ اگر تمام انسان تخلیق کا جذبہ اور لگن پیدا کر لیں تو معاشرے کا کوئی بھی فرد ادھورا پن محسوس نہیں کرے گا  بلکہ وہ اپنی اور دوسروں کی خودی کی صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے راضی رہے گا۔

میرا ایک خواب ہے کہ پاکستانی شہریوں کا” خودی “کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک بنایا جائے جس کوبنیادی معاشرتی، معاشی، اقتصادی اور دیگر انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک محلے، علاقے، شہر، صوبے اور ملک کے افراد کو آپس میں اور فرد کی سطح سے لے کر حکومت تک کنیکٹ کیا جا سکے۔ اس نیٹ ورک کا ڈیزائن قرآن اور صحیح حدیث  کی اعلیٰ اخلاقیات  پر مبنی ہو اور اس کو فتنہ پھیلانے کی طاقت اور اجازت نہ دی جائے۔ یہ پاکستان میں اسلامی فلاحی نظام قائم کرنے میں پہلا مؤثر ترین اور تیز ترین قدم ثابت ہو گا۔ پاکستانی مسلمانوں نے اگر ابھی یہ نیٹ ورک نہ بنایا تو اسلام کے احیاء کے دور کو فوراً پہچانتے ہوئے اسلام مخالف قو تیں پاکستان سمیت باقی سر اٹھانے والے اسلامی ممالک کے افراد پر اپنے سوشل نیٹ ورکس بند کر کےان ملکوں کے لوگوں کو  آسانی سے ناکارہ  اور اپاہج بنا سکتی ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کےاس سوشل نیٹ ورک بنانے میں جو افراد بھی اپنا حِصّہ ڈالیں گےان کو دورِ جدید کی سب سے مؤثر، اعلیٰ و ارفع مسجد بنانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔ ان شاء اللہ

طیبہ خلیل ۔ بحرین

عبادت کیا ہے ؟

عبادت کیا ہے ؟ یہ سوال میرے ذہن میں نہ جانے کتنی مدّت سے ہے۔ عبادت سے متعلق متعدد آیات قرٓنِ حکیم میں آئیں ہیں۔  عربی مادہ “ع ب د ” ۲۷۵ دفعہ قرآن میں  ۶ مختلف صورتوں میں آیا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ فعل  عَبَدَ اس نے عبادت کی ۲۔ فعل عبَدّتَ   تم نے غلام بنایا ۳۔ اسم الفاعل عابِدات  عبادت گزار عورتیں۴۔اسم مصدر عبادت  ۵۔ اسم الفاعل عابِد

اللہ تعالیٰ  نے قران میں انسان کی تخلیق کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد  بیا ن کیا ہے  اور وہ اس درج ذیل آیت سے عیاں ہے۔

ہم ہر نماز میں سورۃ الفاتحہ کے یہ الفاظ دہراتے ہیں۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

عام طورپر نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ ، سنن  اور نوافل کو ہی عبادت سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تمام مسلمانوں کی عبادت یکساں لگتی ہے۔ مگر اللہ کو اس یکساں عبادت کے علاوہ ہر انسان سے اس کی اپنی مخصوص عبادت بھی چاہیے۔عربی زبان میں عبد کے معنی غلام یا بندہ کے ہیں۔ جیسے نام عبداللہ کا مطلب اللہ کا غلام یا اللہ کا بندہ ہے۔ اس مفہوم سے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کا تصوّر ذہن میں آتا ہے جس کے ہاتھ اور پاؤں میں اللہ تعالیٰ کی ڈالی ہوئی بیڑیاں ہوں ۔ یعنی کہ وہ ہر امر میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کو لازم پکڑےہوئے ہے۔  قرآن میں کثیر مقامات پر کم و بیش یہی عبارت دہرائی گئی ہے کہ تم سب اللہ کی ہی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ بیشتر مقامات میں شرک کی تعریف ہی یہی بیان کی گئی ہے  کہ اللہ کی عبادت میں کسی اور کو ساجھی بنانا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی بندگی اختیار کرنا۔

میں نےجب عبادت کے مفہوم پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہواکہ عبادت ہر اس عمل کا نام ہے جس کا اجر یا صلہ اس سے مطلوب ہو جس کی عبادت کی جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ کی عبادت کا مفہوم ہوا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کے لیے یہی نیّت ہو کہ اس کا   اجر یا صلہ مجھےاللہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں چاہیے۔ مجھے عبدیّت کا یہی مطلب سمجھ میں آیا۔ جو کام بھی اللہ سے اجر و صلہ کی بجائے لوگوں یا دنیا  سے نفع حاصل کرنے کی نیّت پر کیا جائے وہ کسی نہ کسی درجے کے شرک یا فسق میں شمار ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے چند اعمال اور ان کی  ممکنہ  نیّتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ۔ اچھی جاب ، مرتبہ، مال  اور مقام حاصل کرنے کے لیے ۔یا اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے بااثرمقام حاصل کرنے کی نیّت۔

لوگوں کو تعلیم دینا خواہ قرآن کی ہو یا دنیاوی۔ صرف اس سے رزق کمانے کی نیّت یا پھر اللہ کی خاطر اپنے علم سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

کتابیں اور تحریریں لکھنا۔ اس سے لوگوں میں عالم اور قابل سمجھا جاؤں اور نفع کما سکوں یا علم سے متعلق کام کی بات ہی لکھ کر اللہ کی خاطر لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

موسیقی، اداکاری یا ملتا جلتا پیشہ اختیار کرنا۔ اس سے شہرت، مال ، اور پرستارحاصل کرکے  مشہور ہو جاؤں یا پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی دنیا میں اپنی صلاحیت کے مطابق لغویات اور فحش کاموں سے بچتے ہوئے  نیک باتیں اور اخلاقیات  اپنے آرٹ کی صورت میں لوگوں تک پہنچاؤں۔

ڈاکٹر کا پیشہ۔  لوگوں کا علاج کر کے خوب مال سمیٹوں یا مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ رکھوں۔

پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبدیّت کی نیّت سے دنیا وی فائدہ بھی حاصل ہوجاتا ہے مگر دنیاوی نیّت رکھنے سے صرف دنیاوی فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جبکہ اس کا  آخرت میں کوئی اجر حاصل نہیں ہو گا کہ نبی ﷺ کی حدیث کےمفہوم کے مطابق  بے شک تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔

اگر اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم نہیں تو نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ سب اعمال ہی بے کار اور ضائع ہوں گے۔ اس کا کفّارہ صرف اس صورت میں دیا جا سکتا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنےکے لیے انفرادی اور اجتماعی  جدّوجہد کی جائے  اور کسی نہ کسی سطح کے جہاد اور کوشش میں حِصّہ ڈالا جائے. کیونکہ اللہ کو اپنی پوری زمین میں اپنا نظام ہی سب سے طاقتور اور بااثر چاہیے۔ اگر اس طرح کی کوئی کوشش یا نیّت نہ رکھی جائے تو سب اعمال کسی نہ کسی درجے کے فسق میں شمار ہوں گے۔ بوجہ اس کے کہ سجدہ تو اللہ کو کر رہے ہیں .سامنے اللہ کی بجائے طاغوت تخت سجائے بیٹھا ہے، زکوٰۃ بھلے دے  دیں مگر وہ سودی نظام کا حصہ بن کر اہل لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گی، روزہ رکھ لیں مگر اس سے تقویٰ حاصل نہ ہو گا، حج پر چلے جائیں مگر اس سے امّت کو وحدت نصیب نہیں ہو گی۔

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ  کُلی نہیں بلکہ جُزوی عبادات ہیں۔ ہر انسان کا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آنے کا  ایک رحمانی مقصد بھی لکھ رکھا ہے اور ایک بھٹکا ہوا طاغوتی مقصد بھی۔ اختیار انسان کے پاس ہے کہ وہ کونسے مقصد کو چنتا ہے ۔ ہر انسان کی سب سے بلند ترین عبادت وہی شمار کی جائے گی جو وہ رحمانی مقصد کے تحت کر رہا ہے۔  اس لیے عبادت کے مفہوم کو عامیانہ مت سمجھیں بلکہ اپنی سب سے عظیم ترین عبادت جو کہ پوری دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی اور آپ سے بہتر نہیں کر سکتا اس عبادت کی تلاش کریں۔ اگر سب انسان اپنی عظیم ترین رحمانی عبادت میں اپنے آپ کو مشغول کر لیں تو دنیا میں اللہ کا نظام قائم کرنا کچھ مشکل نہ رہے گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

کائنات ہر مخلص باعمل انسان کی مدد کرتی ہے

مشہور مصّنف  undefined  کی مشہور کتاب undefined نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان دل سے کوئی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتا ہے تو ساری کائنات اس کا مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے لیے کام میں جُت جاتی ہے“۔

علّامہ اقبال نے اپنی نظم تصویرِ درد میں اس حقیقت کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہ ِعمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

 کم و بیش یہی فلسفہ مشہور کتاب undefined   میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کی زندگی کی حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اور کسی امر کو انجام دینے کے لیے  یا اپنا مطلوبہ مقصد پانے کے لیے شدید خواہش رکھنا اور اس کے بارے میں سوچنا طالب اور مطلوب  کے درمیان مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ  آپ اپنی زندگی کا ایک ویژن بنائیں اور اس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے زندگی میں عمل کے میدان میں پیش قدمی کریں ۔

قرآن میں  یہ عبارت اور مفہوم بیشتر مقاما ت پر دہرایا گیا ہے کہ یہ کائنات انسا ن کے لیے مسخّر کی گئی ہے۔ مسخّر کا مطلب ہوتا  ہے مطیع اور فرمانبردارہونا ، اور سخّر کرنے والے کی مرضی کے مطابق کام پر لگنا۔  قرآن کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خواہش دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل اور کوشش درکار ہے۔ اگر ہم اپنے مستقبل کے کسی ویژن پر ایمان لے بھی آئیں پھر بھی عمل کے بغیر یہ ایمان ادھورا ہے ۔ اس لیے قرآن میں یہ عبارت  ” الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” زیادہ تر مقامات پر ایک ساتھ دہرائی گئی ہے۔   اور ایک  جگہ پر قرآن میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن میں آیاہے ۔

اور سورہ الّیل میں اللہ تعالیٰ نے  اللہ کا تقویٰ  اختیار کرنے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور ہر امر  میں سب سے احسن بات الحُسنیٰ کی تصدیق کرنے پر آسان طریقے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

میں نے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی بدولت اس حقیقت کا ادراک حاصل کیا ہے کہ دل میں ایک زندہ آرزو کا ہونا ، اس کے لیے تڑپ پیدا ہونا، اخلاص کی نیّت رکھ کر عمل کیے چلے جانا خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو منزلوں کے راستو ں کو آسان بھی بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین بھی عطا ہوتا ہے۔ ایک بندہ مومن کے پُختہ یقین میں ناقابلَ تسخیر قوّت ہے اور یقین ایک ایسا جوہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ مایوسی کُفر کے مترادف ہے ؛ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان اور پُختہ یقین اُن اعلیٰ ترین اعمال میں سے ہیں جو کہ کائنات کی طاقتوں کو صاحبِ یقین کا خادم بنا دیتی ہیں۔

پیارے ساتھیو! اگر زندگی میں کوئی عظیم مقصد ہی نہ ہو  تو یہ موت کے مترداف ہے۔   اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر کسی مقصد کی تلاش اور اس میں اپنا آ پ سرگرداں کرنا  ہی دنیاوی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی  اعلیٰ مقصد نظر میں نہ ہو تو یہ زندگی بس صبح و شام کا کھیل ہے کہ کھایا ، پیا، ہضم کیا، سو لیا ، چند ساعتوں کا مزا حاصل کرلیا اور پھر مٹّی تلے جا کر دفن ہو گئے ۔ موت سے پہلے خود بھی جاگ جائیں اور دنیا میں بھیجے جانے کا عظیم مقصد بھی جگا لیں ورنہ موت سے پہلے ہی مرنے کی تیّاری کر لیں۔

طیبہ خلیل – بحرین

انسانوں سے محبّت کریں؛ان کے اعمال کی پڑتال اللہ پر چھوڑ دیں۔

ہم سب انسان؛ ہمارا خُدا ایک ہی خُدا ہے۔  وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے2: 163

اور ابتدا میں ہم ایک ہی امّت تھے۔  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَة ً  2:213

ہمیں ایک نفس سے پیدا کیاگیا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ ۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا ئے۔قرآن 4:1

ہم سب حضرت آدم اور حوّا علیہ السلام کی اولاد ہیں جو کہ مٹّی سے پیدا کیے گئے۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام میں اپنی روح سے پھونکا اوران کوزندگی بخشی اور ہم میں سے ہر انسان میں اللہ کی روح کا جوہر  ہےاور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی عکس سے پیدا کیا ہے۔ہم سب خطاکار ہیں اور ہم سب کے سب کبھی اپنی غلطیوں سے کبھی دوسروں کی غلطیوں سےسیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  ہم میں سے کوئی بھی ایمانی، جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر ایک حالت پر جامد نہیں بلکہ ہر لمحہ تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی ترقّی کی طرف اور کبھی تنزّلی کی طرف۔ ایک حالت سے دوسری حالت تک کا سفرطے کرتا چلا جا رہا ہے۔  ہر انسان کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف ظاہری اعتبار سے جانچتے اور پر کھتے ہیں۔ باطن کی مکمّل صورت صرف ہمارا رب ہی جانتا ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ عدل کرنے والی ذات ہی ہر ایک کے عمل کا فیصلہ خود ہی کرے گی۔ اس لیے ہم کسی کی نیّت اور عمل کو پرکھنے کی ذمہ داری نہیں دیے گئے۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا اور منفرد ہے جو کہ بہترین خالق کی تخلیق ہے۔ نہ ہمیں اپنے آپ کو کسی سے بہتر خیال کرنا چاہیے نہ کسی سے کمتر اور نہ ہی ایک دوسرے سے موازنہ کرنا چاہیے۔ ہر ذی روح انسان صرف اس ذمہ داری کا مکلّف ہے جس کی وسعت اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔2:286

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے 84:6 ۔ ہم سب ایک ہی منزل کے مسافر ہیں کہ ہم سب اپنے رب کی طرف واپسی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ خواہ کوئی آگے یا پیچھے ہو؛ سب اپنے اپنے راستوں پر اپنی رفتار، توفیق، استطاعت، کوشش، ہدایت اور عقل کے مطابق چلے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی موجودہ لمحے میں ایک کیفیّت، مقام اور امتحان سے گزر رہا ہے جس کو بہت شفیق مہربان رب نے بہترین اور دیرینہ مفاد کے لیے ایک پرفیکٹ تقدیر کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اور وہ شفیق ربّ ہر ایک سے محبّت رکھتا ہے۔ نفرتیں توصرف ہم انسان ہی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ہر شخص محبّت اور عزّت کا حقدارہوتا ہے؛ خواہ اس کا پیشہ جو بھی ہو۔ موسیقی، اداکاری یا کوئی بھی آرٹ وغیرہ؛ اس کی صلاحیّت بھی بہت مہربان ربّ نے ہی اسے دی ہے اوریہ سب پیشے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی وجود میں آئے ہیں۔ نہ زمانے کو برا بھلا کہیں اور نہ ہی کسی انسان سے دل میں کراہیت اور نفرت رکھیں۔ زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالیٰ کو نعوذباللہ برا بھلا کہنے کے مترادف ہے۔ اس مفہوم کی ایک حدیثِ قدسی مستند اور معروف ہے۔ انسانوں سے نفرت کی بجائے خیر خواہی کے جذبات دل میں رکھیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہم دوسروں کے لیے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ واقعی ان کے حق میں بہتر ہو۔ اس لیےدوسروں کو نصیحت کرنے کا دائرہ کارحکمت کے ساتھ  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیّت، کوشش اور صریح شرک اور فحش کاموں سے روکنے تک  ہی محدود رکھیں۔

آج کل بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کو ایکسیپٹ کرنا سیکھ جائیں۔ ہم اپنی عقل کے مطابق کسی کو جج نہ کریں۔ ہم کسی کو بہت پیار سے سمجھا سکتے ہیں مگر کسی کا دل بدل نہیں سکتے۔ کسی کا ظاہری نظر آنے والا گناہ ہمیں اس کی خیر خواہی اور اس کے لیے بہترین کامیابی یعنی کہ جنّت میں داخل کیے جانے کی خواہش سے روک نہ دے۔ دعوت و تبلیغ کے کام کا مؤثر ترین طریقہ خود اپنے عمل اور کردار کی مثال پیش کرنا ہے۔

جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اکیلے جنّت میں جائیں بلکہ ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ سب کے سب نیکوکار انسان جنّت میں ہمارے ساتھ ہوں۔ وہ جنّت جہاں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی بغض، کوئی نفرت، کوئی حسد کا جذبہ نہیں ہو گا۔اور وہ خواہشات جن کے پیچھے آج ہم ہلکان ہو رہے ہیں ان کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ اور آخرکار ہم اپنے رب کے چہرے کے دیدار اور اس سے ملاقات کے بعد کسی بھی طرح کے پست خیال کے بارے میں سوچ ہی کیسے سکیں گے؟ کہ جس ربّ کی تلاش اور اس سے ملاقات کے لیے ہم اس دنیا کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہیں۔ کیا جنّت کی کوئی نعمت یا کوئی نفسانی خواہش یا لذّت بھی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

طیبہ خلیل

بحرین