لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

سورۃ الشمس کی یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ شعوری طور پر پڑھنے پر ہی میرے دل کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ۔ کوئی گیارہ سال پہلے یہی آیات قرآن میں میری انسپریشن رہ چکی ہیں یعنی کہ جن آیات نے مجھےقرآن میں موجود آیات میں سے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اسی انسپریشن کے ساتھ میں نے ایک بلاگ بنایا جو کہ اسی تھیم پر مبنی تھا مگرمیں اپنی مصروفیات کے باعث اسے جاری نہ رکھ سکی اور نہ ہی اس طرف توجّہ مبذول ہو سکی۔

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠: اور نفس کی قسم اور اس کی جس نے اس کو متوازن کیا (7) پھراس کا فجور اور تقویٰ اس کو الہام کیا (8)کامیاب ہوا جس نے اس کا تزکیہ کیا (9) اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے پست بنایا (10

ابھی حال ہی میں پروفیسر احمد رفیق اختر کو ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے سنا تو خود سے بھی ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ہمارے ذہن میں آنے والے تمام خیالات ہی الہامی ہوتے ہیں خواہ وہ بلند ہوں یا پست ہمارا ان پر اختیار نہیں۔ خیالات کی لہریں ہمارے ذہن میں بہتی رہتی ہیں۔ جو چیز ہمارے بس میں ہے وہ ہے انتخاب یعنی کہ ہم ایک بلند خیال کو ایک پست خیال پراہمیت دے کر اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں یا پھر ایک پست یا فاجر خیال کو تقویٰ پر مبنی خیال پرترجیح دے کر اپنے نفس کو پست بناتے ہیں ۔ ہر لمحۂ موجود میں ہمارے پاس مختلف خیالات جو ہمارے ذہن میں آتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے اور اس کو فوقیت دینے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ہر دفعہ ایک برا خیال منتخب کرنے پر نفس اپنی سرکشی اور پستی کی جانب بڑھے گا اور ایک اچھا نیک خیال منتخب کرنے پر اطاعتِ الٰہی اور ضبطِ نفس کی صورت میں بلندی کی طرف قدم اٹھائے گا۔ جو نفس بلندی اختیار کرتا جاتا ہے اس کا ذہن پست خیالات سے پاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پستی اختیار کرنے والا نفس پست خیالات کی آماجگاہ بنتا چلا جاتا ہے۔ نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمٗنّہ نفس کی وہ حالتیں ہیں جو ہمارے انتخابات سے ہی جنم لیتی ہیں۔ نفسِ امّارہ ایسا نفس ہے جو برائی پر آمادہ کرے۔ نفسِ لوّامہ ایسا نفس ہے جو گناہ کے کاموں پر ملامت کرے اور نفسِ مطمٗنہ وہ نفس ہے جو خیالات کی پاکیزگی اور بلندی کی وجہ سے اطمینان حاصل کرلے۔

آئیے کچھ مثالوں سے اپنے خیالات اور اپنے انتخابات کو سمجھتے ہیں۔

ایک مثبت خیال کو منفی خیال پر ترجیح دینا

اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کفر کرنے کی بجائے شکر کرنا

اللہ تعالیٰ اور لوگوں سے بد ظن رہنے کی بجائے حُسنِ ظن رکھنا

اپنے ہرعمل کی نیّت لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا حاصل کرنے کو بنانا

ہر عمل کے لیے اپنے دل میں ہونے والی کھٹک کو پہچاننا اور پیارے نبی ﷺ کی ہدایت پر ایسے کام سے رک جانا جو دل میں کھٹکے۔

لوگوں سے نفرت کرنے کی بجائے محبّت کرنے کی خو ڈالنا

دین کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی بجائے احسن طریقے سے ادا کرنے کے خیال کو منتخب کرنا

کبر کی بجائے عاجزی اختیار کرنا

یہ تو کچھ چند ہی مثالیں ہیں۔ آپ خود اپنے ذہن میں آنے والے خیالات اور اپنے انتخابات کو نوٹ کرنا شروع کر دیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کا نفس کس ڈگر پر چل رہا ہے۔ کیا وہ بلند خیالات کا انتخاب کر کے بلندی اور تزکیہ حاصل کر رہا ہے ؟ یا پست خیالات کی وجہ سے پستی کا شکار ہو رہا ہے؟ یہی تزکیہ نفس کی پہلی سیڑھی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

جس کے پاس جتنا زیادہ علم ہوتا ہے اتنا ہی وہ عاجز ہوتا ہے۔  اللہ تعالیٰ  کی بنائی گئی اس کائنات میں دو طرح کے علوم ہیں۔ ایک ہیں ظاہری علوم جو کہ حواسِ خمسہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ذہن سے ان کا ادراک حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کائنات میں  ایک دوسرا علم ہے جس کو باطنی علم کہتے ہیں۔ یہ علم عقل یا حواسِ خمسہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو صرف دل کی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ قرآن مجید میں اس مفہوم کے ساتھ بہت سی آیات ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ  آنکھیں نہیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو کہ حق کو  سامنے بے حجاب دیکھ کر بھی اس کو پہچان نہیں پاتے۔ یہی وہ دل ہے کہ جو مسلسل حق کا انکار کرتا جائے تو اس پر قفل یعنی تالے پڑ جاتے ہیں ۔ اور یہی دل اگر   سلیم ہو جائے تو حضرت ابراہیمؑ کی طرح دیدہ ور ہو جاتا ہے۔ جس کو بھی غیب کا علم یا یقین حاصل ہو جائے وہ شخص انتہائی  عاجز ہوجاتا ہے جس کے باعث  اس کو علم کا وہ درجہ عطا ہو جاتا ہے جس کا نام ہے “میں نہیں جانتا”۔ جس کے پاس بھی ظاہری علوم کی کثرت ہو جائے یا تو اس کی گردن اتنی ہی اکڑ جاتی ہے یا  وہ اللہ کے علم کے سامنے اپنے چھوٹے پن کو تسلیم کرلیتا ہے۔

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

ازدواجی تعلق میں غیر مشروط محبّت

ازدواجی رشتے میں خوشیاں بھرنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی میاں بیوی کو ایک دوسرے کی ایسے ہی عادت ہو جاتی ہے جیسے اپنے خاندان کے دوسرے افراد بہن بھائیوں کی عادت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی طرف کشش ختم ہونے لگتی ہے۔ جب آپ ازدواجی رشتے میں اس مقام پر آجائیں تو یہ وقت خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں آنے کا ہوتا ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے اوریہاں عملی زندگی میں آپ کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اگر تو آپ اللہ کی خاطر اپنے ساتھی سے محبّت کرتے ہیں تو آپ اُس کو محبّت کا احساس دلانے کے لیے ویسے ہی عمل کرتے رہیں گے جیسے کہ اُس محبّت کے دور میں کیا کرتے تھے جب خود اپنا نفس اس پر راضی تھا۔ اب جب نفس بیزار ہونے لگے تو اس کو یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ محبّت اللہ کی خاطر ہونی چاہیے اور مجھے چاہے اس کے عوض ویسی محبّت ملے یا نہ ملے میرا اپنا عمل اس کی وجہ سے تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
یہ رشتہ ایک دوسرے کے لیے غیر مشروط محبّت کا متّقاضی ہے اور یہ غیر مشروط محبّت صرف وہی شخص دوسروں کو دے سکتا ہے جس کے پاس اللہ کی محبت سے بھرا ہوا، اخلاص سے منوّر اورسمندر جیسی وسعت رکھنے والا بے غرض دل ہوتا ہے۔ جو کہ محبّت کا صلہ بندوں سے نہیں بلکہ صرف اللہ سے وصول کرنے کی نیّت رکھتا ہے۔ یہ سوچ اگر دو طرفہ ہو تو میاں بیوی کی محبّت کو اللہ تعالیٰ اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ اور اگر یہ یک طرفہ بھی ہو تب بھی اپنا اثر کر کے ہی رہتی ہے۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ میں نے ہی موت اور حیات کی تخلیق کی کہ یہ آزما سکوں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اس لیے جب کبھی زندگی کا سفر مشکل لگنے لگے سورہ الملک کی یہ آیت اپنے دل میں دہرا لیں۔ ایسا کرنے سے ہمّت اور حوصلہ دونوں لوٹ آئیں گے۔
طیّبہ خلیل۔ بحرین

سوشل میڈیا پر خود نمائی اور مؤمن سے مطلوب طرزِ عمل

اس دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور لوگ اسے پسند کریں مگر اس خواہش کو ہم نے ایک خبط کی صورت میں سوشل میڈیاز کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دیکھاجن  کے استعمال کی وجہ سے خود نمائی میں بے پناہ  اضافہ ہوا۔ خود نمائی ایک ایسا فعل ہے جو کہ آپ کے اند ر کی  اِن سیکورٹی اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ خوشی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے اپروول کے محتاج ہیں۔ ایک سچا مؤمن ہر نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور وہ لوگوں کا درددل میں رکھتا ہے کہ وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں؛ خواہ  وہ خوبصورت اولاد ہو، شوہر، بیوی ، بچے ہوں، زیب تن کیا ہوا لباس ہو، چہرے کی خوبصورتی ہو، آپ کے سامنے پڑا ہوا کھا نا  ہو  ، آپ کے دنیا کی سیر کی تصویر ہو یا وہ سب کچھ جو ایک تصویر ظاہر کرتی ہے  جس کو لوگوں پر عیاں کرنے کے لیے وہ تصویر اپ لوڈ کی گئی ہے؛ان لوگوں کو اداس کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں جن کے پاس یہ سب نعمتیں نہیں ہیں۔

ہ۔مؤمن اپنی نعمتوں کی خود نمائی نہیں کرتا بلکہ اللہ کی حمد بیان کر کے اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اس نعمت کو صرف اپنی ملکیّت نہیں سمجھتا بلکہ اس میں سا ئل و محروم کا حق بھی رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن خوشی ملنے پر سجدہ کرتا  ہےاور اللہ سے رازونیاز کر کے اپنی خوشی کا دل سے شکر ادا کرتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی کے اشتہار نہیں چھپواتا۔

ہ۔مؤمن صرف خیر کی باتیں لوگوں سے شیئر کرتا ہے اور ا س کی نیّت  لوگوں سے داد وصول کرنے کی نہیں ہوتی بلکہ دین کی بھلائی اور خیر لوگوں تک پہنچانے کا مقصد  ہوتا ہے۔

ہ۔مؤمن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی بڑی سے بڑی کامیابی صرف اللہ کی مدد ،  اسی کے وسائل کی فراہمی، اسی کی دیے ہوئے اسباب اور اسی کی دی ہوئی عقل سے  حاصل کی گئ ہے تو پھر اس کا طرزِ عمل عاجزی اختیار کرنے کا ہونا چاہیے ۔

ہ۔ایک مؤمن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے نیک اعمال کا خراج یا تعریف اللہ سے طلب کرنے کی بجائے لوگو ں  سے چاہنے لگے۔

ہماری آجکل کی نوجوان نسل وہ نسل ہے جو بغیر کوئی خاطر خواہ کام کیے ہی مشہوراور دولت مند ہونا چاہتی ہے۔ بطور مسلمان ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ہر کام اللہ کی عبادت  یعنی کہ صرف اللہ سے جزا حاصل کرنے کی نیّت سے کیا جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان کی تخلیق کا مقصد ہی صرف اپنی عبادت کرنا قرار دیا ہے ۔ہر انسان کی  زندگی میں ایک خلاءباقی  رہتا ہے جب تک  وہ کسی ایسے کام سے پُر نہیں کیا جاتا جو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مقصد لیے ہوئے ہو۔  جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیاکہ میں نے انسا ن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا تو یقیناً  ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک خاص عبادت کی صلاحیت ، طاقت  یا وسعت دے کر تخلیق کیا ہے اور وہی انسان کی عظیم ترین عبادت ہوتی ہے۔ باقی یکساں عبادات؛ نماز، روزہ، حج، زکوٰ ۃ تو اس عظیم عبادت کے لیےانسان کو چارج کرنے کے  اسباب ہیں۔

آپ اپنی مخصوص عبادت کو تلاش کیسے کر سکتے ہیں؟  اس کے لیے  سب سے پہلے اپنے اندر جھانک کر دیکھیں وہ کون سا ایسا کام اگر کبھی جو کیا تھا جس نے آپ کو خوشی دی  اور اس میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی ۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ آپ اس کام کو پکڑیں اور اس کی نیّت  اللہ کی رضا بنا لیں۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا کی نیّت شامل کی جا سکتی ہے۔یا  آپ ارد گرد دیکھیں کہ کون سا کام رضا کارانہ طور پر آپ آسانی سے کر سکتے ہیں  حالا نکہ وہ کا م کسی  اور کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔کسی کی طرف سے کوئی التجا موصول ہو تو اس کو ہر گز   ہلکا نہ لیں اور اگر اپنے اندر اس کام کرنے کی وسعت محسوس کریں تو ضرور وہ کام کردیں۔کسی کی زندگی میں کوئی کمی محسوس کریں تو اس کو اس سے مطّلع کریں اور اگر خود وہ کمی پوری کرنے  کی سکت رکھتے ہیں تو ایسا ضرور کریں۔ ہم سب انسانوں کو ایک دوسروں کی ضرورت  اس وجہ سے بھی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے  گمشدہ ٹکڑے لوگوں میں بانٹ دیے ہوتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو مکمّل کرنے کے لیے انہی ٹکڑوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر ایک معاشرے کا ہر فرد یہ سوچ اپنا لےکہ اگر میرے پاس کس شخص کی مطلوبہ چیزہے تو میں اسے وہ دے دوں  تو وہ اپنے ارد گرد لوگوں سے غافل نہ رہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہر جاننے اور نہ جاننے والے کو سلام کرے اور مسکرا کر خندہ پیشانی سے ملے۔ یہی طرزِ عمل اپنانے سے اللہ تعالیٰ اس خاص عبادت کی  طرف رہنمائی فرماتے ہیں جو خودغرضی کی بجائے انسانیت کی خدمت پر مبنی ہوتی ہے اور یہی عین عبادت ہے  ۔

ہر ایک ٹرینڈ کا بھی ایک ٹائم پیریڈ ہوتا ہے ؛ اس کے بعد اس میں تبدیلی اور زوال آتا ہے۔  میرے خیال سے اب  سوشل میڈیا پر خودنمائی اور انٹرٹینمنٹ کا دور گزرنے والا ہے اور دنیا  ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے جس میں ہر انسان سچی خوشی اللہ کی عبادت کی نیّت سے کی گئی تخلیق اور دوسرے انسانوں کے لیے کار آمد ثابت ہونے کی وجہ سے حاصل کرے گا۔ اب  اس دنیا کی سطحی قسم کی نمودونمائش کی بجائے  ہر انسان اپنی تخلیق اور کارآمد کاموں سے پہچانا جائے گا۔

 میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جس میں ہر انسان و ہی کام کرے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی نیّت معاش حاصل کرنے کی نہ ہوبلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ہو جبکہ  گھر کا راشن ، پانی اور باقی سہولیات پہنچانا  حکومت اور کمیونٹی کی ذمہ داری ہو۔ ایسا معاشرہ دن دوگنی رات چوگنی ترقّی کر سکتا ہے اور امن  اور اخوّت کی ایک نظیرثابت ہو سکتا ہے۔

طیّبہ خلیل ۔ بحرین

سوشل نیٹ ورکس بمثل دورِ جدید کی مساجد

اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی جیسے ہی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے ترقی کرنی شروع کی توآن لائن سوشل نیٹ ورکنگ کا تصوّر وجود میں آیا۔ ابتدا میں جب ٹچ فون سسٹم نہیں ہوتے تھےتو نیٹ ورکنگ کے لیے  آن لائن چیٹ رومزنے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ پھر اس کے بعد میسنجر نامی سافٹ ویئرز پرمختلف ممالک کے لوگوں نے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ بعد ازاں جب ٹچ سسٹم والے موبائل فونز عام اور سستے بکنے لگےتو لوگ اپنے خاندان، دوست احباب اور دنیا بھر سے مختلف لوگوں سے جدید سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی بھی ایجاد بذاتِ خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس کا  استعمال اس کو برا  بناتا ہے۔ میں نے بہت گہرائی میں سوشل نیٹ ورکس کے مقاصد  اور ان کے آج کل ہونے والے مثبت اثرات پر نظر ڈالی تو اندازہ ہو ا کہ ایک ایسا سوشل نیٹ ورک جس میں فتنہ پھیلانے کی  استعداد  کو کنٹرول میں رکھا جا سکے  وہ ہوبہو ایک مسجد کا کردار ادا کر سکتا ہے۔  

مسجد اور سوشل نیٹ ورکس میں مماثلت

اسلام میں مردوں کے لیے نماز مسجد میں ادا کرنا فرض ہے  اس کے پیچھے بنیادی  حکمت یہی ہے کہ ایک بستی، گلی محلّے اور علاقے کے لوگ آپس میں مل جل کر ایک اتحاد قائم کر لیں ۔ کہ وہ پنج وقتہ  آپس میں ملیں تو ایک دوسرے کی ضروریات معلوم ہوتی رہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں کہ وہ شیطان جو لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا چاہتا ہے اس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔ کوئی گرنے لگے تو اسے تھام لیا جائے ۔ ایک دوسرے کو اوپر اٹھایا جائے۔  ایک دوسرے کی حاجات اور پریشانی کو دور کیا جا سکے ۔امر باالمعروف اور نہی عنِ المُنکر کا کام بھی احسن انداز سے کیا جاسکے۔ یہی کام ہو بہو آجکل  وٹس ایپ اور اس سے ملتی جلتی ایپس  کر رہی ہیں ۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ و اصلاح کے کاموں میں آج کل تو کثیر تعداد میں لوگ  اپنے علم اور استعداد کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے حق بات اور حکمت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ قریباً  ہر کمیونٹی کا گروپ بنا ہوا ہے اور یہ روایت بہت مقبول ہو رہی ہے۔ بس گھر کے افراد کے درمیان موبائل فونز کی وجہ سے دوری نہیں آ نی چاہیے  باقی کمیونٹی کی فلاح کے لیے نہایت کار آمد جدید طریقہ ہے۔اور خواتین بھی اپنے گھر کے اند ر بیٹھے بٹھائے ہی ان جدید مساجد کا حِصّہ بنی ہوئی ہیں ۔

ہر سوشل نیٹ ورک کا ایک مزاج ہے ۔ فیس بک لوگوں کے چہروں اوران کی زندگیوں کی رنگینیوں؛ تصویروں ،  ویڈیوزاور تحریروں سے بھر پور ایک دلچسپ  ایپ ہے ۔ بہت سے باا ثر لوگ اس میڈیا کے ذریعے  لائیو آکر لوگوں کو بہت مفید باتیں بتا تے ہیں۔ خواتین نے اپنے گروپس بنارکھے ہیں جس میں بچوں کے مسائل، ازدواجی مسائل، انفرادی مسائل کا حل بڑی آسانی سے مختلف لوگوں کی رائے اور مشوروں سے حاصل ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر انسان کے پاس جُزوی عقل ہے اس لیے اس کو لازماً   اپنی ذات اور عقل کا وہ حِصّہ جو دنیا میں کسی اور کے پاس ہے؛ مطلوب ہوتا ہے تاکہ اس کی زندگی کے خلاء پُر ہوتے رہیں۔ بیشترلوگ  انہی نیٹ ورکس کےذریعے اپنا ادھورا پن دور کر پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ آن لائن بزنس بڑی کامیابی کے ساتھ اسی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے کر رہے ہیں۔

اگر دکھاوا اور خود نمائی کرنے کی بجائے  ان نیٹ ورکس کو انسانیت کی فلاح کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ہی تو وہ  دورِ جدید کی مساجد ہیں جو  دینِ اسلام کا انسانیت کی فلاح اور اتّحاد کا نصب العین ہو بہو پورا کر رہی  ہیں  ماسوا  کچھ بد تہذیب لوگوں اور عناصر کے جو فتنہ، نفرت  ، فحاشی اور منفی جذبات لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔  

ٹویٹراپنی جگہ ایک کارآمد  ایپ ہے جس کا مقصد ہے کہ بس کام کی بات دو تین لائنوں میں لکھ کر  لوگوں تک پہنچا دو۔ ہر انسان کسی نہ کسی الہامی علم کا حامل ہوتا ہے۔ اگرایک بااثر اور اعلیٰ ذہانت رکھنے والا شخص  یہ علم ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے  فوری  شیئر کرتا رہے تو چند لمحات میں ہی  بہت سے  انسان ایک نیک اچھی اور حق کی بات  کا علم حاصل کر کے اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ ایک فرد کو جذبِ باہمی کے اصول کے مطابق باقی انسانوں سے  جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام کا مقصد بھی یہی تو ہے  کہ انسان  اتّحاد اور ولایتِ باہمی کے رشتے کے ساتھ جُڑ جائیں اور حق کی بات پوری دنیا میں پھیلا دی جائے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بندے سے اپنی عبادت مطلوب ہے تو جو کوئی شخص بھی ان ایپس کا استعمال رحمانی مقصد کے ذریعے کرے گا وہ ہوبہو مسلم  امّت کی وحدت اور فلاح کا  مقصد پورا کرنے میں اپنا کردار اد ا کرے گا۔ 

پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے میں نے فیس بک  ایپ کا استعمال ترک کر رکھا تھا جس کی ذاتی وجہ یہ تھی کہ میری ذہنی علّت  مینیا بے قابو ہونے کی وجہ سے میں کچھ عرصے تک  سائیکوسس کا شکار رہی۔ جس کے باعث میں اپنے من کی دنیا کی بے ہنگم  باتیں سوشل نیٹ ورکس پر تیزی سے شئیر کرنے لگی جبکہ میں ایک حقیقی نہیں بلکہ تخیّلاتی دنیا میں موجود تھی۔ اس کے بعد مجھے کچھ عرصہ ڈیپریشن رہا اور میں  نے اپنا بکھرا ہوا وجود دوبارہ جوڑنے کے مقصد سے کچھ عرصےتک فیس بک کی  ایپ کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ ان سوشل نیٹ  ورکس میں  لوگوں کو زندگی میں آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر کچھ صاحبِ اخلاص لوگ تو خوشی محسوس کرتے ہیں مگر وہ لوگ جو اپنی اصل، اپنے روحانی وجود سے جُڑے نہیں ہوتے  وہ ان نیٹ ورکس  سے منفی جذبات اوردوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کا موازنہ کرنے کی  وجہ سے پریشان رہنے لگتے  ہیں۔ چونکہ وہ خود اندر سے خالی پن محسوس کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کو چاہیےکہ  وہ سوشل میڈیا سے کچھ عرصے دوری اختیار کر کے پہلے اپنا آپ اور اپنا اس زندگی میں آنے کا رحمانی مقصد اور اپنی خاص عباد ت کی تلاش کریں تاکہ  وہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں  اپنے حِصّے کی شمع جلا سکیں اور اپنی بہت ہی خاص تخلیق لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اپنی کی ہوئی ذاتی تخلیق ہی وہ جوہر ہے جو انسان  کو  استغنا ، لوگوں سے بے نیازی اور اپنے من کی دنیا کی لذّت سے روشناس کرواتا ہے۔ اگر تمام انسان تخلیق کا جذبہ اور لگن پیدا کر لیں تو معاشرے کا کوئی بھی فرد ادھورا پن محسوس نہیں کرے گا  بلکہ وہ اپنی اور دوسروں کی خودی کی صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے راضی رہے گا۔

میرا ایک خواب ہے کہ پاکستانی شہریوں کا” خودی “کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک بنایا جائے جس کوبنیادی معاشرتی، معاشی، اقتصادی اور دیگر انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک محلے، علاقے، شہر، صوبے اور ملک کے افراد کو آپس میں اور فرد کی سطح سے لے کر حکومت تک کنیکٹ کیا جا سکے۔ اس نیٹ ورک کا ڈیزائن قرآن اور صحیح حدیث  کی اعلیٰ اخلاقیات  پر مبنی ہو اور اس کو فتنہ پھیلانے کی طاقت اور اجازت نہ دی جائے۔ یہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے میں پہلا مؤثر ترین اور تیز ترین قدم ثابت ہو گا۔ پاکستانی مسلمانوں نے اگر ابھی یہ نیٹ ورک نہ بنایا تو اسلام کے احیاء کے دور کو فوراً پہچانتے ہوئے اسلام مخالف قو تیں پاکستان سمیت باقی سر اٹھانے والے اسلامی ممالک کے افراد پر اپنے سوشل نیٹ ورکس بند کر کےان ملکوں کے لوگوں کو  آسانی سے ناکارہ  اور اپاہج بنا سکتی ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کےاس سوشل نیٹ ورک بنانے میں جو افراد بھی اپنا حِصّہ ڈالیں گےان کو دورِ جدید کی سب سے مؤثر، اعلیٰ و ارفع مسجد بنانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

عبادت کیا ہے ؟

عبادت کیا ہے ؟ یہ سوال میرے ذہن میں نہ جانے کتنی مدّت سے ہے۔ عبادت سے متعلق متعدد آیات قرٓنِ حکیم میں آئیں ہیں۔  عربی مادہ “ع ب د ” ۲۷۵ دفعہ قرآن میں  ۶ مختلف صورتوں میں آیا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ فعل  عَبَدَ اس نے عبادت کی ۲۔ فعل عبَدّتَ   تم نے غلام بنایا ۳۔ اسم الفاعل عابِدات  عبادت گزار عورتیں۴۔اسم مصدر عبادت  ۵۔ اسم الفاعل عابِد

اللہ تعالیٰ  نے قران میں انسان کی تخلیق کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد  بیا ن کیا ہے  اور وہ اس درج ذیل آیت سے عیاں ہے۔

ہم ہر نماز میں سورۃ الفاتحہ کے یہ الفاظ دہراتے ہیں۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

عام طورپر نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ ، سنن  اور نوافل کو ہی عبادت سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تمام مسلمانوں کی عبادت یکساں لگتی ہے۔ مگر اللہ کو اس یکساں عبادت کے علاوہ ہر انسان سے اس کی اپنی مخصوص عبادت بھی چاہیے۔عربی زبان میں عبد کے معنی غلام یا بندہ کے ہیں۔ جیسے نام عبداللہ کا مطلب اللہ کا غلام یا اللہ کا بندہ ہے۔ اس مفہوم سے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کا تصوّر ذہن میں آتا ہے جس کے ہاتھ اور پاؤں میں اللہ تعالیٰ کی ڈالی ہوئی بیڑیاں ہوں ۔ یعنی کہ وہ ہر امر میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کو لازم پکڑےہوئے ہے۔  قرآن میں کثیر مقامات پر کم و بیش یہی عبارت دہرائی گئی ہے کہ تم سب اللہ کی ہی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ بیشتر مقامات میں شرک کی تعریف ہی یہی بیان کی گئی ہے  کہ اللہ کی عبادت میں کسی اور کو ساجھی بنانا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی بندگی اختیار کرنا۔

میں نےجب عبادت کے مفہوم پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہواکہ عبادت ہر اس عمل کا نام ہے جس کا اجر یا صلہ اس سے مطلوب ہو جس کی عبادت کی جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ کی عبادت کا مفہوم ہوا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کے لیے یہی نیّت ہو کہ اس کا   اجر یا صلہ مجھےاللہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں چاہیے۔ مجھے عبدیّت کا یہی مطلب سمجھ میں آیا۔ جو کام بھی اللہ سے اجر و صلہ کی بجائے لوگوں یا دنیا  سے نفع حاصل کرنے کی نیّت پر کیا جائے وہ کسی نہ کسی درجے کے شرک میں شمار ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے چند اعمال اور ان کی  ممکنہ  نیّتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ۔ اچھی جاب ، مرتبہ، مال  اور مقام حاصل کرنے کے لیے ۔یا اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے بااثرمقام حاصل کرنے کی نیّت۔

لوگوں کو تعلیم دینا خواہ قرآن کی ہو یا دنیاوی۔ صرف اس سے رزق کمانے کی نیّت یا پھر اللہ کی خاطر اپنے علم سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

کتابیں اور تحریریں لکھنا۔ اس سے لوگوں میں عالم اور قابل سمجھا جاؤں اور نفع کما سکوں یا علم سے متعلق کام کی بات ہی لکھ کر اللہ کی خاطر لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

موسیقی، اداکاری یا ملتا جلتا پیشہ اختیار کرنا۔ اس سے شہرت، مال ، اور پرستارحاصل کرکے  مشہور ہو جاؤں یا پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی دنیا میں اپنی صلاحیت کے مطابق لغویات اور فحش کاموں سے بچتے ہوئے  نیک باتیں اور اخلاقیات  اپنے آرٹ کی صورت میں لوگوں تک پہنچاؤں۔

ڈاکٹر کا پیشہ۔  لوگوں کا علاج کر کے خوب مال سمیٹوں یا مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ رکھوں۔

پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبدیّت کی نیّت سے دنیا وی فائدہ بھی حاصل ہوجاتا ہے مگر دنیاوی نیّت رکھنے سے صرف دنیاوی فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جبکہ اس کا  آخرت میں کوئی اجر حاصل نہیں ہو گا کہ نبی ﷺ کی حدیث کےمفہوم کے مطابق  بے شک تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔

اگر اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم نہیں تو نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ سب اعمال ہی بے کار اور ضائع ہوں گے۔ اس کا کفّارہ صرف اس صورت میں دیا جا سکتا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنےکے لیے انفرادی اور اجتماعی  جدّوجہد کی جائے  اور کسی نہ کسی سطح کے جہاد اور کوشش میں حِصّہ ڈالا جائے ورنہ سب عبادتیں بے کار جائیں گی کیونکہ اللہ کو اپنی پوری زمین میں اپنا نظام ہی سب سے طاقتور اور بااثر چاہیے۔ اگر اس طرح کی کوئی کوشش یا نیّت نہ رکھی جائے تو سب کے سب اعمال کسی نہ کسی درجے کے فسق میں شمار ہوں گوے۔ بوجہ اس کے کہ سجدہ تو اللہ کو کر رہے ہیں .سامنے اللہ کی بجائے طاغوت تخت سجائے بیٹھا ہے، زکوٰۃ بھلے دے  دیں مگر وہ سودی نظام کا حصہ بن کر اہل لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گی، روزہ رکھ لیں مگر اس سے تقویٰ حاصل نہ ہو گا، حج پر چلے جائیں مگر اس سے امّت کو وحدت نصیب نہیں ہو گی۔

ایک اور اہم بات جو میں لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہوں کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ  کُلی نہیں بلکہ جُزوی عبادات ہیں۔ ہر انسان کا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آنے کا  ایک رحمانی مقصد بھی لکھ رکھا ہے اور ایک بھٹکا ہوا طاغوتی مقصد بھی۔ اختیار انسان کے پاس ہے کہ وہ کونسے مقصد کو چنتا ہے ۔ ہر انسان کی سب سے بلند ترین عبادت وہی شمار کی جائے گی جو وہ رحمانی مقصد کے تحت کر رہا ہے۔  اس لیے عبادت کے مفہوم کو عامیانہ مت سمجھیں بلکہ اپنی سب سے عظیم ترین عبادت جو کہ پوری دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی اور آپ سے بہتر نہیں کر سکتا اس عبادت کی تلاش کریں۔ اگر سب انسان اپنی عظیم ترین رحمانی عبادت میں اپنے آپ کو مشغول کر لیں تو دنیا میں اللہ کا نظام قائم کرنا کچھ مشکل نہ رہے گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

یقیں پیدا کراے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے

علّامہ اقبال کی نظم “طلوعِ اسلام“ اسلام کی نشاطِ ثانیہ کی ایک خوشخبری ہے۔ اس نظم کی تاثیر ایک مخلص مسلمان کے اندر جو کہ دل میں مسلمانوں کے زوال کا درد رکھتا ہو اپنی خودی کے زور پر دنیا پر ایک دفعہ پھر چھا جانے کا جوش و ولولہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میں طلوعِ اسلام کا منظر پاکستان کے نوجوان مسلمانوں کی بیداری کی صورت میں عنقریب ہوتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔ یہ کتاب انہی نوجوانوں کے لیے لکھی گئی ہے جنہوں نے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا حِصّہ بننا ہے۔ میں اس امر کے متعلق حقّ الیقین کا درجہ رکھتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو بھی اللہ ایسا ہی پُختہ یقین عطا فرمائے۔

کائنات ہر مخلص باعمل انسان کی مدد کرتی ہے

مشہور مصّنف  undefined  کی مشہور کتاب undefined نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان دل سے کوئی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتا ہے تو ساری کائنات اس کا مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے لیے کام میں جُت جاتی ہے“۔

علّامہ اقبال نے اپنی نظم تصویرِ درد میں اس حقیقت کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہ ِعمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

 کم و بیش یہی فلسفہ مشہور کتاب undefined   میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کی زندگی کی حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اور کسی امر کو انجام دینے کے لیے  یا اپنا مطلوبہ مقصد پانے کے لیے شدید خواہش رکھنا اور اس کے بارے میں سوچنا طالب اور مطلوب  کے درمیان مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ  آپ اپنی زندگی کا ایک ویژن بنائیں اور اس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے زندگی میں عمل کے میدان میں پیش قدمی کریں ۔

قرآن میں  یہ عبارت اور مفہوم بیشتر مقاما ت پر دہرایا گیا ہے کہ یہ کائنات انسا ن کے لیے مسخّر کی گئی ہے۔ مسخّر کا مطلب ہوتا  ہے مطیع اور فرمانبردارہونا ، اور سخّر کرنے والے کی مرضی کے مطابق کام پر لگنا۔  قرآن کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خواہش دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل اور کوشش درکار ہے۔ اگر ہم اپنے مستقبل کے کسی ویژن پر ایمان لے بھی آئیں پھر بھی عمل کے بغیر یہ ایمان ادھورا ہے ۔ اس لیے قرآن میں یہ عبارت  ” الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” زیادہ تر مقامات پر ایک ساتھ دہرائی گئی ہے۔   اور ایک  جگہ پر قرآن میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن میں آیاہے ۔

اور سورہ الّیل میں اللہ تعالیٰ نے  اللہ کا تقویٰ  اختیار کرنے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور ہر امر  میں سب سے احسن بات الحُسنیٰ کی تصدیق کرنے پر آسان طریقے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

میں نے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی بدولت اس حقیقت کا ادراک حاصل کیا ہے کہ دل میں ایک زندہ آرزو کا ہونا ، اس کے لیے تڑپ پیدا ہونا، اخلاص کی نیّت رکھ کر عمل کیے چلے جانا خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو منزلوں کے راستو ں کو آسان بھی بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین بھی عطا ہوتا ہے۔ ایک بندہ مومن کے پُختہ یقین میں ناقابلَ تسخیر قوّت ہے اور یقین ایک ایسا جوہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ مایوسی کُفر کے مترادف ہے ؛ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان اور پُختہ یقین اُن اعلیٰ ترین اعمال میں سے ہیں جو کہ کائنات کی طاقتوں کو صاحبِ یقین کا خادم بنا دیتی ہیں۔

پیارے ساتھیو! اگر زندگی میں کوئی عظیم مقصد ہی نہ ہو  تو یہ موت کے مترداف ہے۔   اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر کسی مقصد کی تلاش اور اس میں اپنا آ پ سرگرداں کرنا  ہی دنیاوی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی  اعلیٰ مقصد نظر میں نہ ہو تو یہ زندگی بس صبح و شام کا کھیل ہے کہ کھایا ، پیا، ہضم کیا، سو لیا ، چند ساعتوں کا مزا حاصل کرلیا اور پھر مٹّی تلے جا کر دفن ہو گئے ۔ موت سے پہلے خود بھی جاگ جائیں اور دنیا میں بھیجے جانے کا عظیم مقصد بھی جگا لیں ورنہ موت سے پہلے ہی مرنے کی تیّاری کر لیں۔

طیبہ خلیل – بحرین