لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر
اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آو تو اللہ تعالی کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں عذاب دیں

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

میں نے اپنی خودی کی تلاش میں کیا سبق سیکھے؟

علاّمہ اقبال کے  پیش کردہ تصوّرِ خودی  کے بارے میں باِذن اللہ اب  پاکستانی نوجوانوں میں بہت ساری  تحریکوں ، خطیبوں ،  اور  نوجوان ٹرینرز کی بدولت آگہی پھیلانے کا عمل جاری ہے۔ یہ انتہائی ضروری علم ہےجو کہ عین اسلامی ہےاور علامہ اقبال نے اس کی انسپریشن قرآن سے لی۔ ہمیں اس اہم تصوّر سے اپنے بچے بچے کو نو عمری سے ہی واقف کروا دینا  چاہیے۔اب تو مغرب والے بھی اس زندہ حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں کہ یہ کائنات بامقصد اور پر عزم انسانوں کی مدد کرتی ہے اگرچہ وہ ابھی عقیدۂ توحید اور اس کی قوّت سے نابلد ہیں۔  میں نے خودی کا لفظ پہلی دفعہ شاید اسکول میں ہی سنا  ہو گا کیونکہ علاّمہ اقبال کا یہ شعر  بچپن سے ہی  سُن رکھا تھا۔

     خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےخودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

مجھے یہ تصوّر کہ اللہ تعالیٰ کا بندے سے خود پوچھنا کہ تمہاری کیا خواہش ہے اس کے مطابق ہی تمہاری تقدیر لکھی جائے گی ؛ نہایت مسحور کنُ  اور حیرت انگیز لگا۔ تب میں نے علاّمہ اقبال کے کلام کو پڑھا بھی نہیں تھا مگر میرے اند ر یہ خواہش پیدا ہو چکی تھی کہ مجھے اس خودی کی تلاش کرنی ہے یا وہ مقام حاصل کرنا ہے  جہاں پر اللہ تعالیٰ انسان کو اختیار دے دیتا ہے اپنی تقدیر خود لکھنے کا۔ یہ انٹرمیڈیٹ کا  سیکنڈ ائیر تھا جب بورڈ کے امتحانات  میں  اردو کے پرچے میں مضمون نویسی کا سوال ۲۰ نمبروں کا ہوتا تھا۔ زندگی میں ابھی تک رٹّے ہی تو لگائے تھے کہ سب کالجوں کی طرح ہمارے کالج میں بھی اسی نقطہ نظر سے پڑھائی کروائی جاتی تھی کہ بورڈ کے امتحانات میں  زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جا سکیں۔ شعروں کی تشریح  ہو یا مضامین یا سیاق و سباق ہر چیز کے رٹّے لگائے جاتے تھے ۔ اب جبکہ سیکنڈ ائیر کا  مضمون نویسی کے سوال کا مسئلہ تھا مجھے اس بات کی پریشانی ہونے لگی کہ کبھی ایک جملہ بھی تو خود سے لکھا نہیں تو پور امضمون کیسے لکھ پاؤں گی۔

پھر یوں ہواکہ ۹ نومبر ۲۰۰۰ کا دن آیا اور ہمارے گھر اخبا ر  آیا جس میں علاّمہ اقبال پر اسپیشل ایڈیشن بھی تھا اور اس کے علاوہ اندرونی صفحات پر تمام کالم ہی علاّمہ اقبال کے بارے میں تھے۔ علاّمہ اقبال  کےبارے میں کثیر مواد دیکھ کر فوری طور پر یہ خیال ذہن میں پختہ ہو گیا کہ مجھے آج کے اخبا ر کی مدد سے علاّمہ اقبال پر ایک متاثر کن مضمون تیار کرنا ہے۔ پھر کیا تھا میں نے پورا اخبار چھان مارا ، اچھوتے جملے نقل کیے، حیران کنُ اشعار لکھے اور جو کچھ بھی اس دن کے اخبار سے نچوڑا جا سکتا تھا میں نے وہ سب نقل کر کے ترتیب  آگے پیچھے کر کے ایک مضمون تیّار کر لیا جس کے پھر زور و شور سے رٹّے لگائے گئے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس سال کالج کے اندرونی  امتحانات میں بھی علاّمہ اقبال کا مضمون آیا  اور بورڈ کے امتحانات میں بھی۔

 خیر یہ مضمون لکھنے کے بعد میرا  علاّمہ اقبال سے ایسا تعارف ہو چکا تھا کہ میں نے یہ ٹھان لی تھی کہ مجھے اقبال کے کلام کو ترجیحی بنیادوں پر سمجھنا ہے۔میری اس خواہش کے عِوض  اللہ تعالیٰ نے غیرمحسوس طریقے سےمجھے خودی کا سبق سکھا بھی دیا اور یہ پتہ بھی نہیں چلنے دیا کہ میری خودی بیدار کر دی گئی تھی اور اللہ کی مدد میرے ساتھ تھی۔ زندگی میں وہ مقام بھی آئے کہ مجھے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہو بہو اس شعر کے مصداق مجھ سے پوچھ کر ہی میری تقدیر کا فیصلہ کیا ہے۔ البتّہ مجھے یہ احساس شدّت سے غالب رہا کہ زندگی میں جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے یا کر پاؤں گی  اس میں  میرا ذرّہ برابر بھی کمال نہیں ؛ میرے لیے سب راستے اللہ تعالیٰ نے ہی کھولے اور اسی شفیق ذات نے ہی رہنمائی کی۔خودی کے بارے میں جو معلومات ،تجربات اور اسباق میں نے حاصل کیے وہ میں تحریر کرنا  چاہتی ہوں تاکہ اور لوگ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ کیونکہ خودی انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف  سے دیا گیا وہ جوہر ہے جو کسی بھی عام انسان کو نہایت خاص بنانے  کا نسخہ ہے۔ جس کے ذریعے انسان اپنی تلاش کر سکتا ہے ، جو اس کو صحیح معنوں میں جینا  سکھا سکتا ہے۔ جو اس میں خدائی طاقت  کا احساس پیدا کر سکتا ہے ۔ جو اسے غریبی میں بھی بادشاہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ سب اسباق درج ذیل ہیں؛

ہ۔ انسان اپنی تقدیر خود لکھ سکتا ہے اور وہ نباتات و جمادات کی طرح تقدیر کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اللہ کے احکامات کا ہی پابند ہوتا ہے۔

ہ۔ خودی کو پہچاننے والا  اور اس کو حاصل کرنے والاشخص زمین میں اللہ کا نائب اور خلیفہ بن جاتا ہے عین وہ کردارجو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے؛ کہ یہی توجیہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کے لیے فرشتوں کو پیش کی  ۔

ہ ۔صاحبِ خودی کی مدد کائنات خود  کرتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں جُت جاتی ہے۔اور وہ کائنات کی قوّتوں کو مسخّر کر لیتا ہے۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے عقیدۂ توحید کا دل میں اخلاص کے ساتھ   راسخ ہونا ضروری ہے ،پھر اس کے بعد زندگی میں اپنے مقاصد اور منزلوں کا تعین کرنا اور اس کے لیے جدّوجہد کرنا اگلا قدم ہے۔بقول علامہ اقبال خودی کا سرِّ نہاں لاالہ الا اللہ ۔

ہ۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر معاشرے یا انسانیت کی فلاح کا مقصد رکھنے والے کی خودی باقی لوگوں کی خودی سے اعلیٰ و ارفع ہو گی۔ زندگی میں کبھی چھوٹا ہدف طے نہیں کرنا چاہیے کہ جتنی   بلند باڑ ہوتی ہے چھلانگ لگانے والا اتنی ہی چھلانگ لگا  سکتا ہے۔ جتنا بڑا ہدف ہو گا اتنا یا اس سے زیادہ  ہی حاصل ہو گا۔

ہ۔ اپنا  آپ پہچاننے کے لیے آپ کو اس کام کی تلاش کرنا ہو گی جو آپ کو دلی سکون پہنچائے۔ وہ ایک ویژن جو آپ کواس وقت  سکون پہنچانے کا ذریعہ بنے جبکہ  آپ زندگی سے تھکنے لگیں ۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے اطاعتِ رسولﷺ ، عشقِ رسولﷺ، رسول اللہ ﷺ سے روحانی نسبت اور ان کے مشن کو اپنا مشن سمجھنا ضروری ہے۔ کائنات تو ہر باعمل فرد کی مدد کرتی ہے مگر کس انسان کی مدد بلند سطح پر کی جائے گی اس کا انحصار  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر ہی ہو تا ہے ۔

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیںکی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

ہ ۔ خودی کے مختلف درجات ہوتے ہیں اور مختلف انسان اپنے مقاصد، ایمان، عمل اور یقین کے مطابق  خودی کے مختلف درجات پر فائز ہوتے ہیں۔

ہ۔ خودی کی کیفیت پالینے کے بعد اپنے نفس کو قابو کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے جو کہ اگر نہ کیا جائے تو اس سے  فائدہ لینے کی بجائے انسان نقصان اٹھا سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ خودی کے لیے رہنمائی پرسکون دل سے ملتی ہے؛ دل جس سے ایک مؤمن کا   اللہ؛ المؤمن ؛السّلام سے رابطہ ہوتا ہے۔ لمحۂ موجود میں دل کی پر سکون حالت ہی صحیح سمت رہنمائی کرتی ہے جبکہ موجودہ لمحے میں نفس اور ذہن میں بھاگنے دوڑنے والے خیالات انسان کو گمراہ کر سکتے ہیں۔  اس کے لیے ضبطِ نفس ضرور ہی سیکھنا پڑے گا۔ اگرنفس قابو میں نہ رہے تویہی کیفیت ایک نفسیاتی یا ذہنی علّت کا روپ دھار لیتی ہے۔

ہ۔ علاّمہ اقبال نے فلسفۂ خودی کا مأخذ قرآن کی درج ذیل آیت کو قرار دیا۔ انہوں نے سوچا کہ انسان اپنی جسمانی ضروریات سے تو غافل نہیں رہتا تو یہ کون سا اپنا آپ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنا آپ بھلانے پر خود انسان کو اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یہ درج ذیل حدیث بھی فلسفۂ خودی کی تشریح بیان کر رہی ہے۔

ہ۔ خودی کا مقام کبھی خود غرض لوگوں کو نہیں ملتا ۔ یہ صرف مخلص اور انسانیت سے محبّت رکھنے والے اور ان کی فلاح کے حریص لوگوں کو انعام کیا جاتا ہے۔

ہ۔ دنیا میں جس انسان نے بھی کوئی غیر معمولی کام انجام دیا ہے وہ اپنی خودی کی طاقت سے یا تو واقف تھا یا مخلص ہونے کی وجہ سے یہ مقام حاصل کر پایا۔

ہ۔ خودی کی منزلوں کا کوئی کنارہ نہیں ؛ کوئی حد نہیں ۔ جب تک بندہ ٔ مومن کی تلاش جاری رہتی ہے یہ خودی بھی نہیں  مرتی۔ صاحِبِ خودی کو منزل سے زیادہ سفر جاری رکھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے اور وہ نئی منزلوں کی تلاش میں نہ خود رُکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اللہ اس کو روکنا پسند کرتا ہے۔

ہ۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی اور چیز سے محبّت کرنا یا فقر اور استغناء اختیار کرنے کی بجائے غیر اللہ سے حاجت روائی طلب کرنے سے خودی چھین لی جاتی ہے۔اس لیے خودی کی حفاظت کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ گوہرِ یک دانہ ہاتھ سے پھسلنے میں دیر نہیں لگاتا۔

ہ ۔ حالتِ خودی میں انسان اللہ تعالیٰ سے الہامی علم حاصل کرتا ہے اور کبھی کبھاراس کا عمل بھی اس کی مرضی کے برعکس اُس سے صادِرکروایا جارہا ہوتا ہے جبکہ وہ خود اپنے آپ پر تعجب کر رہا ہوتا ہے۔  ایسے میں انسان خود اپنا تماشائی بن کر حیرت کے سمندر میں غرق ہوا جاتا ہے۔

ہ۔ خودی حاصل کرنے کے بعد بھی  مؤمن کُلی عقل و دانش کا حامل نہیں بن جاتا  بلکہ اس کی عقل  جُزوی ہی رہتی ہے ۔جس طرح ایک ادارے کو چلانے کے لیے صرف چیف ہی کی نہیں بلکہ ہر متصل شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت رہتی ہے اسی طرح ایک بیدار خودی رکھنے والے شخص کو اللہ کے علم اور باقی انسانوں کی عقل اور مشورے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔ البتّہ خودی کے عارف میں حکمت ، قوّتِ فیصلہ ، علم العرفان اور فرقان کی صلاحیت  عام لوگوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔  

ہ۔ خودی وہ جوہر ہے جس کو عطا کرنے والا  ربّ العالمین ؛علم ، حیثیت، شکل و صورت، مرتبہ  یا مقام نہیں دیکھتا بلکہ صرف وہ دل دیکھتا ہے کہ اگر وہ صاف شفّاف ہواور خالص توحید رکھتا ہو، مخلص ہو تو خواہ وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو اس کو بھی اللہ کی طرف سے خودی کا عارفانہ مقام دےدیا جاتا ہے۔ایسا شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود معاشرے کے لیے کارآمد اور مفید بن جاتا ہے۔جیسا کہ ایدھی صاحب کی مثال ہی دیکھ لیں۔

ہ۔ خودی کا حامل شخص لوگوں کی محفل میں پیارے نبیﷺ کی طرح برتاؤ کرنے لگتا ہے اور نبی ﷺ کا رنگ خود بخود اس پر چڑھنے لگتا ہے۔ جبکہ تنہائی میں وہ  اپنے اند ر خدائی رحمانی صفات محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز  بھی ہوتا ہے اورخود کو اللہ تعالیٰ  کا قریبی دوست اور ولی بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔وہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے رازونیاز کے ذریعے فی سبیل اللہ جہاد کی تدبیریں کرنے لگتا ہے۔

    خودی کی خلوتوں میں کبریائیخودی کی جلوتوں میں مصطفائی

ہ ۔خودی کی دسترس میں ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  زمین و آسماں ، کرسی ٔ و عرش تمام  مقامات تک خودی کی رسائی ممکن ہے۔

خودی کی زد میں ہے ساری خدائیزمین و آسماں کرسیٔ و عرش

ہ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  آٓخری زمانے کا مہدی بھی وہی ہو گا جس کی خودی سب سے پہلے نمودار ہو گی اوروہ باقی سب انسانوں کی خودی سے اعلیٰ مقامِ خودی حاصل کر نے کی وجہ سے حقیقت ِ انسانیہ کا یہ راز فلسفی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی زند ہ مثال پیش کر کے یہ  علم اور لوگوں میں بھی پھیلا دے گا۔

وُہی مہدی ، وہی آخرالزّمانیہوئی جس کی خودی پہلے نمودار

ہ۔ ایک ایسا صاحبِ خودی جو اپنی غلطیوں سے اپنی اصلاح کرتا رہے، خود کو مزید بہتر بنانے کی کوشش میں لگا رہے اور اپنے نفس کو شترِ بے مہار کی طرح چھوڑنے کی بجائے اپنے نفس پر حکومت کرنے لگے تو یہ بھی ممکن ہے کہ موت بھی اس کو مار نہ سکے۔ یہ علامہ اقبال کا تصوّر ہے اور شاید قرآن کی آیت جس میں شہید کو زندہ کہا گیا ہے اس سے کشف حاصل کیا گیا ہو کہ شاید ایک مضبوط خودی رکھنے والا شخص شہید کا درجہ پا لیتا ہو۔ واللہ اعلم

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکےہو اگر خود نگر و خودگر و خودگیر خودی

ہ۔ ہر دور میں ایک شخص یا گروہ موجود رہتا ہے  جن کی خودی دنیا کے تمام انسانوں سے بلند تر ہوتی ہے اورفی زمانہ ان سے ہی دنیا کی امامت کا کام لیا جاتا ہے اوراللہ کی زمین پر فیصلوں کے اختیارات اللہ تعالیٰ کی طرف سےانہی کو سونپ دیے جاتے ہیں۔ اسی طریق پر اللہ تعالیٰ ترقی کے ادوار کو مختلف قوموں پر پھراتے رہےہیں۔

ہ۔ ایک سچّے مؤمن جس کی خودی بیدار ہو وہ ہر گز بھری محفل میں اپنی تعریف نہیں چاہتا۔ اس کے لیے تمام تعریف اللہ کی ہی ہوتی ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی جلوہ نمائی نہ کی جائے بلکہ وہ خلوت کو جلوت پر ترجیح دینے لگتا ہے۔

سمندر ہے اک بوند پانی میں بندخودی جلوہ بد مست و خلوت پسند

ہ۔ غالِباً  المسیح الدّجّال بھی ایک ایسا ہی شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے کی بجائےاکڑ دکھائے گا اور   اللہ تعالیٰ کی چند صفات اور حضرت آدم ؑ کو سکھائے گئے علوم الاسماء تک رسائی حاصل کر لے گا مگر اس کی اصل کلمۂ خبیثہ ہو گی اور وہ چند دن اپنے کرتب دکھانے کے بعد موم کی طرح پگھل جائے گا یا ایک کمزور اور کھوکھلے درخت کی مانند آندھی کےآتے ہی اکھڑ جائے گا۔

پیارے ساتھیو! یہی وہ اسباق ہیں جو میں نے اپنی خودی کی تلاش میں سیکھے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اشاروں پر غور کیا اور لوگوں کی مجھ سے کہی ہوئی مخلصانہ باتوں، مشوروں، التجاؤں کو معمولی نہیں سمجھا اور ہر پیدا ہونے والی صورتِ حال کے سامنے سر تسلیم ِ خم کرنے کا طریقہ اپنایا اور بہترین نیّت رکھتے ہوئے عمل کی کوشش جاری رکھی۔ میری اسلام کے لیے  ایک کُل وقتی رضا کار بننے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نےمجھے عین وہی راہ دکھائی جیسی میری جُستجو تھی۔ یہی وہ مقصد تھا جس کی میں جوانی کے اوائل سے ہی متلاشی رہی اور یہی وہ  راستہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل کا سکون رکھ دیا ہے۔

طیبہ خلیل– بحرین

عبادت کیا ہے ؟

عبادت کیا ہے ؟ یہ سوال میرے ذہن میں نہ جانے کتنی مدّت سے ہے۔ عبادت سے متعلق متعدد آیات قرٓنِ حکیم میں آئیں ہیں۔  عربی مادہ “ع ب د ” ۲۷۵ دفعہ قرآن میں  ۶ مختلف صورتوں میں آیا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ فعل  عَبَدَ اس نے عبادت کی ۲۔ فعل عبَدّتَ   تم نے غلام بنایا ۳۔ اسم الفاعل عابِدات  عبادت گزار عورتیں۴۔اسم مصدر عبادت  ۵۔ اسم الفاعل عابِد

اللہ تعالیٰ  نے قران میں انسان کی تخلیق کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد  بیا ن کیا ہے  اور وہ اس درج ذیل آیت سے عیاں ہے۔

ہم ہر نماز میں سورۃ الفاتحہ کے یہ الفاظ دہراتے ہیں۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

عام طورپر نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ ، سنن  اور نوافل کو ہی عبادت سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تمام مسلمانوں کی عبادت یکساں لگتی ہے۔ مگر اللہ کو اس یکساں عبادت کے علاوہ ہر انسان سے اس کی اپنی مخصوص عبادت بھی چاہیے۔عربی زبان میں عبد کے معنی غلام یا بندہ کے ہیں۔ جیسے نام عبداللہ کا مطلب اللہ کا غلام یا اللہ کا بندہ ہے۔ اس مفہوم سے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کا تصوّر ذہن میں آتا ہے جس کے ہاتھ اور پاؤں میں اللہ تعالیٰ کی ڈالی ہوئی بیڑیاں ہوں ۔ یعنی کہ وہ ہر امر میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کو لازم پکڑےہوئے ہے۔  قرآن میں کثیر مقامات پر کم و بیش یہی عبارت دہرائی گئی ہے کہ تم سب اللہ کی ہی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ بیشتر مقامات میں شرک کی تعریف ہی یہی بیان کی گئی ہے  کہ اللہ کی عبادت میں کسی اور کو ساجھی بنانا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی بندگی اختیار کرنا۔

میں نےجب عبادت کے مفہوم پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہواکہ عبادت ہر اس عمل کا نام ہے جس کا اجر یا صلہ اس سے مطلوب ہو جس کی عبادت کی جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ کی عبادت کا مفہوم ہوا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کے لیے یہی نیّت ہو کہ اس کا   اجر یا صلہ مجھےاللہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں چاہیے۔ مجھے عبدیّت کا یہی مطلب سمجھ میں آیا۔ جو کام بھی اللہ سے اجر و صلہ کی بجائے لوگوں یا دنیا  سے نفع حاصل کرنے کی نیّت پر کیا جائے وہ کسی نہ کسی درجے کے شرک یا فسق میں شمار ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے چند اعمال اور ان کی  ممکنہ  نیّتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ۔ اچھی جاب ، مرتبہ، مال  اور مقام حاصل کرنے کے لیے ۔یا اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے بااثرمقام حاصل کرنے کی نیّت۔

لوگوں کو تعلیم دینا خواہ قرآن کی ہو یا دنیاوی۔ صرف اس سے رزق کمانے کی نیّت یا پھر اللہ کی خاطر اپنے علم سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

کتابیں اور تحریریں لکھنا۔ اس سے لوگوں میں عالم اور قابل سمجھا جاؤں اور نفع کما سکوں یا علم سے متعلق کام کی بات ہی لکھ کر اللہ کی خاطر لوگوں کو نفع پہنچانے کی نیّت رکھنا۔

موسیقی، اداکاری یا ملتا جلتا پیشہ اختیار کرنا۔ اس سے شہرت، مال ، اور پرستارحاصل کرکے  مشہور ہو جاؤں یا پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی دنیا میں اپنی صلاحیت کے مطابق لغویات اور فحش کاموں سے بچتے ہوئے  نیک باتیں اور اخلاقیات  اپنے آرٹ کی صورت میں لوگوں تک پہنچاؤں۔

ڈاکٹر کا پیشہ۔  لوگوں کا علاج کر کے خوب مال سمیٹوں یا مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ رکھوں۔

پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبدیّت کی نیّت سے دنیا وی فائدہ بھی حاصل ہوجاتا ہے مگر دنیاوی نیّت رکھنے سے صرف دنیاوی فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جبکہ اس کا  آخرت میں کوئی اجر حاصل نہیں ہو گا کہ نبی ﷺ کی حدیث کےمفہوم کے مطابق  بے شک تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔

اگر اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم نہیں تو نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ سب اعمال ہی بے کار اور ضائع ہوں گے۔ اس کا کفّارہ صرف اس صورت میں دیا جا سکتا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنےکے لیے انفرادی اور اجتماعی  جدّوجہد کی جائے  اور کسی نہ کسی سطح کے جہاد اور کوشش میں حِصّہ ڈالا جائے. کیونکہ اللہ کو اپنی پوری زمین میں اپنا نظام ہی سب سے طاقتور اور بااثر چاہیے۔ اگر اس طرح کی کوئی کوشش یا نیّت نہ رکھی جائے تو سب اعمال کسی نہ کسی درجے کے فسق میں شمار ہوں گے۔ بوجہ اس کے کہ سجدہ تو اللہ کو کر رہے ہیں .سامنے اللہ کی بجائے طاغوت تخت سجائے بیٹھا ہے، زکوٰۃ بھلے دے  دیں مگر وہ سودی نظام کا حصہ بن کر اہل لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گی، روزہ رکھ لیں مگر اس سے تقویٰ حاصل نہ ہو گا، حج پر چلے جائیں مگر اس سے امّت کو وحدت نصیب نہیں ہو گی۔

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ  کُلی نہیں بلکہ جُزوی عبادات ہیں۔ ہر انسان کا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آنے کا  ایک رحمانی مقصد بھی لکھ رکھا ہے اور ایک بھٹکا ہوا طاغوتی مقصد بھی۔ اختیار انسان کے پاس ہے کہ وہ کونسے مقصد کو چنتا ہے ۔ ہر انسان کی سب سے بلند ترین عبادت وہی شمار کی جائے گی جو وہ رحمانی مقصد کے تحت کر رہا ہے۔  اس لیے عبادت کے مفہوم کو عامیانہ مت سمجھیں بلکہ اپنی سب سے عظیم ترین عبادت جو کہ پوری دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی اور آپ سے بہتر نہیں کر سکتا اس عبادت کی تلاش کریں۔ اگر سب انسان اپنی عظیم ترین رحمانی عبادت میں اپنے آپ کو مشغول کر لیں تو دنیا میں اللہ کا نظام قائم کرنا کچھ مشکل نہ رہے گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

کائنات ہر مخلص باعمل انسان کی مدد کرتی ہے

مشہور مصّنف  undefined  کی مشہور کتاب undefined نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان دل سے کوئی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتا ہے تو ساری کائنات اس کا مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے لیے کام میں جُت جاتی ہے“۔

علّامہ اقبال نے اپنی نظم تصویرِ درد میں اس حقیقت کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہ ِعمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

 کم و بیش یہی فلسفہ مشہور کتاب undefined   میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کی زندگی کی حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اور کسی امر کو انجام دینے کے لیے  یا اپنا مطلوبہ مقصد پانے کے لیے شدید خواہش رکھنا اور اس کے بارے میں سوچنا طالب اور مطلوب  کے درمیان مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ  آپ اپنی زندگی کا ایک ویژن بنائیں اور اس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے زندگی میں عمل کے میدان میں پیش قدمی کریں ۔

قرآن میں  یہ عبارت اور مفہوم بیشتر مقاما ت پر دہرایا گیا ہے کہ یہ کائنات انسا ن کے لیے مسخّر کی گئی ہے۔ مسخّر کا مطلب ہوتا  ہے مطیع اور فرمانبردارہونا ، اور سخّر کرنے والے کی مرضی کے مطابق کام پر لگنا۔  قرآن کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خواہش دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل اور کوشش درکار ہے۔ اگر ہم اپنے مستقبل کے کسی ویژن پر ایمان لے بھی آئیں پھر بھی عمل کے بغیر یہ ایمان ادھورا ہے ۔ اس لیے قرآن میں یہ عبارت  ” الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” زیادہ تر مقامات پر ایک ساتھ دہرائی گئی ہے۔   اور ایک  جگہ پر قرآن میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن میں آیاہے ۔

اور سورہ الّیل میں اللہ تعالیٰ نے  اللہ کا تقویٰ  اختیار کرنے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور ہر امر  میں سب سے احسن بات الحُسنیٰ کی تصدیق کرنے پر آسان طریقے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

میں نے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی بدولت اس حقیقت کا ادراک حاصل کیا ہے کہ دل میں ایک زندہ آرزو کا ہونا ، اس کے لیے تڑپ پیدا ہونا، اخلاص کی نیّت رکھ کر عمل کیے چلے جانا خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو منزلوں کے راستو ں کو آسان بھی بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین بھی عطا ہوتا ہے۔ ایک بندہ مومن کے پُختہ یقین میں ناقابلَ تسخیر قوّت ہے اور یقین ایک ایسا جوہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ مایوسی کُفر کے مترادف ہے ؛ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان اور پُختہ یقین اُن اعلیٰ ترین اعمال میں سے ہیں جو کہ کائنات کی طاقتوں کو صاحبِ یقین کا خادم بنا دیتی ہیں۔

پیارے ساتھیو! اگر زندگی میں کوئی عظیم مقصد ہی نہ ہو  تو یہ موت کے مترداف ہے۔   اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر کسی مقصد کی تلاش اور اس میں اپنا آ پ سرگرداں کرنا  ہی دنیاوی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی  اعلیٰ مقصد نظر میں نہ ہو تو یہ زندگی بس صبح و شام کا کھیل ہے کہ کھایا ، پیا، ہضم کیا، سو لیا ، چند ساعتوں کا مزا حاصل کرلیا اور پھر مٹّی تلے جا کر دفن ہو گئے ۔ موت سے پہلے خود بھی جاگ جائیں اور دنیا میں بھیجے جانے کا عظیم مقصد بھی جگا لیں ورنہ موت سے پہلے ہی مرنے کی تیّاری کر لیں۔

طیبہ خلیل – بحرین

انسانوں سے محبّت کریں؛ان کے اعمال کی پڑتال اللہ پر چھوڑ دیں۔

ہم سب انسان؛ ہمارا خُدا ایک ہی خُدا ہے۔  وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے2: 163

اور ابتدا میں ہم ایک ہی امّت تھے۔  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَة ً  2:213

ہمیں ایک نفس سے پیدا کیاگیا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ ۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا ئے۔قرآن 4:1

ہم سب حضرت آدم اور حوّا علیہ السلام کی اولاد ہیں جو کہ مٹّی سے پیدا کیے گئے۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام میں اپنی روح سے پھونکا اوران کوزندگی بخشی اور ہم میں سے ہر انسان میں اللہ کی روح کا جوہر  ہےاور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی عکس سے پیدا کیا ہے۔ہم سب خطاکار ہیں اور ہم سب کے سب کبھی اپنی غلطیوں سے کبھی دوسروں کی غلطیوں سےسیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  ہم میں سے کوئی بھی ایمانی، جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر ایک حالت پر جامد نہیں بلکہ ہر لمحہ تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی ترقّی کی طرف اور کبھی تنزّلی کی طرف۔ ایک حالت سے دوسری حالت تک کا سفرطے کرتا چلا جا رہا ہے۔  ہر انسان کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف ظاہری اعتبار سے جانچتے اور پر کھتے ہیں۔ باطن کی مکمّل صورت صرف ہمارا رب ہی جانتا ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ عدل کرنے والی ذات ہی ہر ایک کے عمل کا فیصلہ خود ہی کرے گی۔ اس لیے ہم کسی کی نیّت اور عمل کو پرکھنے کی ذمہ داری نہیں دیے گئے۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا اور منفرد ہے جو کہ بہترین خالق کی تخلیق ہے۔ نہ ہمیں اپنے آپ کو کسی سے بہتر خیال کرنا چاہیے نہ کسی سے کمتر اور نہ ہی ایک دوسرے سے موازنہ کرنا چاہیے۔ ہر ذی روح انسان صرف اس ذمہ داری کا مکلّف ہے جس کی وسعت اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔2:286

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے 84:6 ۔ ہم سب ایک ہی منزل کے مسافر ہیں کہ ہم سب اپنے رب کی طرف واپسی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ خواہ کوئی آگے یا پیچھے ہو؛ سب اپنے اپنے راستوں پر اپنی رفتار، توفیق، استطاعت، کوشش، ہدایت اور عقل کے مطابق چلے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی موجودہ لمحے میں ایک کیفیّت، مقام اور امتحان سے گزر رہا ہے جس کو بہت شفیق مہربان رب نے بہترین اور دیرینہ مفاد کے لیے ایک پرفیکٹ تقدیر کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اور وہ شفیق ربّ ہر ایک سے محبّت رکھتا ہے۔ نفرتیں توصرف ہم انسان ہی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ہر شخص محبّت اور عزّت کا حقدارہوتا ہے؛ خواہ اس کا پیشہ جو بھی ہو۔ موسیقی، اداکاری یا کوئی بھی آرٹ وغیرہ؛ اس کی صلاحیّت بھی بہت مہربان ربّ نے ہی اسے دی ہے اوریہ سب پیشے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی وجود میں آئے ہیں۔ نہ زمانے کو برا بھلا کہیں اور نہ ہی کسی انسان سے دل میں کراہیت اور نفرت رکھیں۔ زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالیٰ کو نعوذباللہ برا بھلا کہنے کے مترادف ہے۔ اس مفہوم کی ایک حدیثِ قدسی مستند اور معروف ہے۔ انسانوں سے نفرت کی بجائے خیر خواہی کے جذبات دل میں رکھیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہم دوسروں کے لیے اچھا سمجھ رہے ہوں وہ واقعی ان کے حق میں بہتر ہو۔ اس لیےدوسروں کو نصیحت کرنے کا دائرہ کارحکمت کے ساتھ  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیّت، کوشش اور صریح شرک اور فحش کاموں سے روکنے تک  ہی محدود رکھیں۔

آج کل بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کو ایکسیپٹ کرنا سیکھ جائیں۔ ہم اپنی عقل کے مطابق کسی کو جج نہ کریں۔ ہم کسی کو بہت پیار سے سمجھا سکتے ہیں مگر کسی کا دل بدل نہیں سکتے۔ کسی کا ظاہری نظر آنے والا گناہ ہمیں اس کی خیر خواہی اور اس کے لیے بہترین کامیابی یعنی کہ جنّت میں داخل کیے جانے کی خواہش سے روک نہ دے۔ دعوت و تبلیغ کے کام کا مؤثر ترین طریقہ خود اپنے عمل اور کردار کی مثال پیش کرنا ہے۔

جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم اکیلے جنّت میں جائیں بلکہ ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ سب کے سب نیکوکار انسان جنّت میں ہمارے ساتھ ہوں۔ وہ جنّت جہاں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی بغض، کوئی نفرت، کوئی حسد کا جذبہ نہیں ہو گا۔اور وہ خواہشات جن کے پیچھے آج ہم ہلکان ہو رہے ہیں ان کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ اور آخرکار ہم اپنے رب کے چہرے کے دیدار اور اس سے ملاقات کے بعد کسی بھی طرح کے پست خیال کے بارے میں سوچ ہی کیسے سکیں گے؟ کہ جس ربّ کی تلاش اور اس سے ملاقات کے لیے ہم اس دنیا کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہیں۔ کیا جنّت کی کوئی نعمت یا کوئی نفسانی خواہش یا لذّت بھی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

طیبہ خلیل

بحرین

حضرت آدم و حوّا علیہ السلام اور شجرِ ممنوعہ

قرآن میں حضرت آدم و حوّاعلیہ السلام کا جنّت سے نکالے جانے والا قصّہ سورہ البقرہ اور سورہ الاعراف میں بڑی تفصیل سے درج ذیل ہے۔ سورہ بقرہ کی یہ آیات کا اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں؛

پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ “تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے” (35) آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا، جس میں وہ تھے ہم نے حکم دیا کہ، “اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین ٹھہرنا ہےاور وہیں گزر بسر کرنا ہے (36”

میرے ذہن میں یہ سوال ایک عرصے تک گردش کرتا رہا کہ آخر وہ کون سا درخت تھا جس کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا اور آخر اللہ تعالیٰ نے وہ درخت جنّت میں لگایا ہی کیوں؟ کچھ دس سال پہلے کی بات ہے جب علّامہ اقبال کی نظم تصویرِ درد میری نظر سے گزری تو اس کے ایک شعر نے میرے سوال کا عقدہ حل کر دیا۔ وہ شعر یہ ہے

شجر فرقہ آرائی ہے، تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے جو جنّت سے نکلواتا ہے آدم کو

یہ شعر پڑھتے ہی میرے ذہن میں سورہ بقرہ کی آیت کے یہ الفاظ گردش کرنے لگے۔
وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ – اور تم نکل جاؤ یہاں سے اور تم میں سے بعض اب بعض کے دشمن ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ہی یہ درخت جنّت میں لگایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بڑا پلان تھا۔ یہ بات ہمیں قرآنِ مجید سے ہی معلوم ہوئی ہے کہ اصحابِ جنّت کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی کینہ کوئی بغض، کوئی دشمنی، کوئی حسد، کوئی غِلّ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ایسی تمام روحانی بیماریوں سے پاک صاف کر دیں گے۔ تو جب حضرت آدم و حوّا نے شجرِممنوعہ فرقہ آرائی کا تعصّب نام کا پھل کھا لیا تو وہ جنّت میں رہنے کے قابل نہ رہے اور انہیں زمین پر اتار دیا گیا اس امتحان کے ساتھ کہ جو کوئی بھی اللہ کی وحدانیت تسلیم کرتےہوئے انبیاء، مؤمنین اور تمام انسانوں کے ساتھ مخلص رہ کراس جماعت کے ساتھ جُڑا رہے گا اوراپنا دل سب کے لیے صاف رکھے گا وہ اپنی اصلی آرام گاہ جنّت میں دوبارہ داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بر عکس جو کوئی بھی اللہ کی واحِد جماعت سے الگ ہو کر شرک کا مرتکب ہو گا اور دنیا میں لوگوں سے نفرت، حسد، دشمنی جیسی آگ اپنے دل میں پالتا رہے گا وہ اپنی اسی آگ میں دنیا میں بھی جلے گا اور آخرت میں بھی یہی آگ لے کر دوزخ میں داخل ہوگا۔ پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اگر آج اس دور میں بھی تمام انسان ایک دوسرے کے لیے بے لوث محبّت کے جذبات پیدا کرلیں اور ایک دوسرے کے مخلص خیر خواہ بن جائیں تو یہ دنیا بھی جنّت کا سماں پیش کر سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
طیّبہ خلیل
بحرین

وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

اور میں اپنے رب سے دعا مانگ کر کبھی بھی مایوس نہیں رہا۔ یہ حضرت زکریا ع کے الفاظ ہیں جو قرآن کی سورہ مریم کے آغاز میں درج ہیں۔ کیسا یقین ہے ان کواپنے رب پر کہ نہ انہیں یہ پرواہ ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور نہ ہی دعا مانگنے میں یہ امر مانع ہے کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے اور پھر بھی نیک اولاد کی دعا یقین کے ان الفاظ میں مانگ رہے ہیں ۔ پیارے ساتھیو! دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم جزو یقین ہی ہے کہ جب یہ یقین اس انگارہ خاکی میں پیدا ہو جائے تو وہ بال و پرِ روحُ الامیں پیدا کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ہی یقین کے ساتھ بلند ترین عزائم اور مقاصد کی دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ مختصر کتاب آپ کے دل میں انہی بلند مقاصد اور عزائم کے حصول کا ولولہ پیدا کر سکتی ہے۔

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُم ۔ دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف

fastabiqu

آج کل دنیا نفسا نفسی،مادیّت پرستی  ، کلاس سسٹم کی تفریق یعنی کہ  امیر غریب کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق حتّیٰ کہ اسکول بھی طبقاتی نظام پر چل رہے ہیں۔ کون ڈگری لے کر اونچا عہدہ حاصل کرتا ہے ۔ کس کے پاس مہنگی گاڑی ہے۔ کس کی بیوی خوبصورت اسمارٹ ہے۔ کس کا شوہر ہینڈسم اور امیر ہے۔ کس کے بچے مہنگے انگریزی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ گھر بار اور اس کی زیب و آرائش کیسی ہے۔ کون زیادہ کماتا ہے۔ فنکاروں کا موازنہ بھی ان کی مالیاتی قدر کی بنا پر کیا جانے لگا ہے۔ کس کی زیادہ فین فالؤنگ ہے۔ کون زیادہ مشہور ہے۔ غرض یہ کہ آج کا انسان دنیا کی اصل متاع و قیمت سے اندھے پن کا شکار ہے۔ وہ اس چند روزہ فانی دنیا کو اس قدر سطحی قسم کی محصولات کی بنیاد پر اس کی اوقات سے زیادہ اہمیت دیے چلا  جا رہا ہے۔ بغیر یہ سوچے کہ دنیا کے مال و متاع کو حاصل کرنے کی کوشش کتنی بے سود اور حقیر ہے۔ اس مختصر سی زندگی میں وہ کتنے حقیر خواب انکھوں میں سجائے بیٹھا ہے۔ ریٹائرمینٹ کے بعد یورپ کی سیر کو چلا جاؤں۔ زیادہ سے زیادہ جائیداد، زمینیں، سونا اور دنیاوی مال و متاع حاصل کر لوں۔ غرض یہ کہ اس مادیّت پرستی کے دور میں بس یہی کچھ اہم سمجھا جانے لگا ہے۔ اس دوڑ میں مسلمان بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ وہ بھی اس نظامِ دجل میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں ۔

اس کے بر عکس اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو لہو و لعب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو کوئی اس دنیا کے متاع کا طالب ہوتا ہے اسے ہم دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں۔ اللہ کے پاس تو آخرت اور دنیا دونوں کا ہی اجر ہے۔ یہ تو طالب پر منحصر ہے کہ وہ طلب کیا کرتا ہے۔   جبکہ اللہ تعالیٰ ہمیں کس معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کے لیے کہہ رہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے سورہ حدید کی درج ذیل آیات کا  اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ قرآن 57:20,21

جہاں بھی مسابقت ہوتی ہے تو پھر  نیّت ، کوشش اور کارکردگی کے لحاظ سے درجہ بندی بھی کی جاتی ہے۔ اس آیت پر غور و فکرکرنے سے مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ تو یہاں کھلا چیلنج دے رہے ہیں سب انسانوں کو کہ آپس میں نیک کاموں کے کرنے کی دوڑ لگاؤ اور پھر میں فیصلہ کروں گا کہ کون اوّل آتا ہے کون دوم اور اور اس کے بعد باقی درجات۔ آج دنیاوی امتحان میں فیل ہونے پر اتنی شرمندگی ہوتی ہے تو سوچیں آخرت کے امتحان میں فیل ہو جانے پر کس قدر ندامت، پشیمانی اور زود رنجی کا سامنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں دوزخ کا عذاب الگ۔ اس کے برعکس اللہ کے رستے میں مسابقت کر کے اوّل آنے والے کو کیا عظیم خوشی نصیب ہو گی۔ کیا دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی یا خوشی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

پیارے ساتھیو! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا عمل نورِ توحید کو دنیا میں پھیلانا ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ کی راہ میں مسابقت کو آپ صرف ظاہری فرائض، سنّتوں اور نوافل سے ہی منصوب نہ کر لیں۔  ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺکے مشن کو اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق نفع اور تقویّت پہنچانا ہی  اللہ کی اصل  مدد کرنا ہے۔  اسی کے لیے کوشش اور عمل درکار ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو چند لوگوں کی مکمّل ظاہری  دین داری سے کیا لینا دینا جبکہ دینِ اسلام کی روح; توحید کی عظمت ، رفعت اور برتری سے ہی غافل رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت کے ساتھ حق بات کو پہچاننے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

طیبہ خلیل

بحرین

سورة العصر ۔ بے شک انسان خسارے میں ہے

alasar

سورة العصر قرآنِ حکیم کی جامع ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔

عصر کے وقت کی قسم (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (3

زیادہ تر مفسّرین نے عصر کو زمانے کا مطلب دیا ہے۔ مگر یہ عمومی طور پر زمانے کا مطلب رکھنے کی بجائے ایک خاص زمانے کی طرف اشارہ ہے۔۔ آئیے اس زمانے کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ اس پوری دنیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجود میں آنے سے لے کر قیامت تک صرف ایک دن کا وقت دیا گیا ہے۔ تو فجر کے وقت حضرت آدم ع زمین پر اتارے گئے۔ اور اس کے بعد آنے والے رسولوں اور قوموں کو عصر تک کا وقت دیا گیا۔ اور پھر خود حضرت محمد ﷺ  الیوم الدّنیا میں عصر کے وقت تشریف لائے۔ اس لیے امّتِ محمّدی کو عصر سے مغرب تک کا وقت دیا گیا ہے۔ مغرب کا وقت شروع ہوتے ہی اس دنیا کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا اور قیامت برپا کر دی جائے گی۔ مغرب سے عشاء کے وقت تک حساب کتاب ہو گا اور عشاء کے بعد ہر کوئی اپنے اپنے ٹھکانے جنّت یا دوزخ میں یا تو آرام فرمائے گا یا پھر رسوا کن عذاب سے دوچار ہو گا۔

عصر اور مغرب کا وقت اتنا قلیل ہوتا ہے کہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ ہمارے پیارے نبی  نے عصر اور مغرب کے درمیان سونے سے بھی منع فرمایا ہے۔ والعصر؛ اللہ تعالیٰ نے عصر کے زمانے کی قسم کھائی ہے۔ اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاس وقت بہت قلیل رہ چکا ہے جو کہ گھڑی کی ہر ٹِک ٹِک کے ساتھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہر ایک انسان خسارے میں رہے گا۔ یعنی کہ لوگوں کی کثیر تعداد عمل کے وقت کے اس قدر قلیل ہونے سے غفلت میں رہے گی۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ، موج مستی، فَن ٹائم، ہلّہ گلّہ زیادہ تر لوگ یہی کرتے نظر آ رہے ہیں۔  بہت کم لوگ ہی وقت کی شدید کمی کا احساس رکھتے ہوئے عمل کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

ایسے وقت میں سب کے سب لوگ خسارے میں رہیں گے الّا وہ لوگ جو یہ چار کام کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے۔

١۔ ایمان لائیں گے۔ اللہ پر، اس کے وعدوں پر ،اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر ، اس کی کتابوں پراور روزِ قیامت پر

٢۔ صالح اعمال کرنے کی کوشش اور فکر میں لگے رہیں گے اور عمل سے غفلت کا شکار نہیں ہوں گے۔

٣۔ ایک دوسرے کو حق بات کی تلقین کرتے رہیں گے۔ حق بات ہدایت کی ایسی بات کو کہتے ہیں جو سچی ، پر تاثیر اور آسان ہو اور فوری طور پر دل کو نرم کر کے اس پر اپنا اثر ڈالے۔

٤۔ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں گے کہ دیکھو یہ مصائب، پریشانیاں، مشکلات صرف اتنے ہی قلیل عرصے کے لیے ہیں جتنا  عصر سے مغرب تک کا وقت۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ وہ زمین میں بھی اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہمیں اقتدار دے گا اور اگر ہم وہ وقت نہ بھی دیکھ پائے تو ہماری کوشش اور صبر کا عظیم انعام ہمیں آخرت میں دے گا۔

پیارے ساتھیو! صریح خسارے سے بچنے کے لیے ان میں سے کچھ کام نہیں بلکہ یہ چاروں کام کرنے پڑیں گے تب ہی قیامت کے دن کی ذِلّت اور رسوائی سے بچ سکیں گے۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی ذمہ داری ہم پر ہی ڈالی گئی ہے اس ذمہ داری کو کسی نہ کسی کو تو اٹھانا ہی پڑے گا ورنہ کسی نہ کسی مخلص جماعت میں شامل ہو کر اپنی صلاحیت، قابلیت، استعداد اور استطاعت کے مطابق نورِ توحید پوری دنیا میں پھیلانےمیں اپنا  حِصّہ ڈالنا ہی ہو گا۔ اپنے آپ کو عظیم خسارے سے بچانے کا صرف اور صرف یہی طریقہ ہے۔

اللهمَّ لا تجعلنا مِنَ الخاسِرين

طیبہ خلیل – بحرین