لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تنگی اور عسرت سے نکل کر فراوانی اور یُسر کی طرف جانے کا نسخہ ۳ لفظوں؛ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا) میں سمو دیا ہے

قرآن میں شکر کے الفاظ والی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ 69 آیتوں میں 75 دفعہ شکر کے الفاظ جن مطالب کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

تاکہ تم شکر کرو
اللہ کا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو
اور لوگوں میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اللہ تو غنی اور کریم ہے
اور اللہ بہت مشکور (قدر دان) ہے
کہ وہ آزمائے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر

یہاں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ شکر کیا ہے ؟ میرے ناقص علم کے مطابق شکر اس بات کا دل سے اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس حال میں رکھا ہوا ہے وہی میرے لیے بہترین ہے۔ اس سے کچھ بہتر ہونا اللہ کے علم کے مطابق ممکن ہی نہیں تھا۔ جو رزق بھی مجھے مل رہا ہے اور جن حالات سے میں گزر رہا یا رہی ہوں یہی میرے حق میں بہتر ہیں۔ یعنی کہ دل کا اللہ کی رضا پر راضی ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا فضل اور نعمتوں کا کھلی آنکھوں سے ادراک حاصل ہونا اور اس کا اقرار دل اور زبان دونوں سے ادا کرنا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں تو یہ دیکھ لیں کہ آپ کے دل میں اور زبان پر کتنا شکوہ آتا ہے؟ شکر میں ڈوبا ہوا انسان کبھی بھی شکوہ نہیں کر سکتا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ تو اس کے حق میں نفع یا نقصان کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے تو وہ ان کو اپنی تکلیفیں یا درد بتانے سے باز آجائے۔ اورجب وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی و شاکی رہنا سیکھ لے تو اس کی طبیعت میں مایوسی، غم اور سینے میں تنگی کی بجائے ایک امید، خوشی اور ہلکا پن آجائے ۔ آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ کبھی آپ کو ایسے شخص سے ملنا پڑا ہو جس کے پاس شکووں کی پٹاری ہو تو آپ کو اس کی صحبت میں رہنا کیسا لگا ؟ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسے انسان کی صحبت میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ ایسا انسان کسی کو بھی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ وہ خود اپنا بھلا نہیں کر رہا تو وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا۔ اگر آپ ایک کارآمد انسان بننا چاہتے ہیں تو لازماً آپ کو ناشکری ترک کرنا ہو گی۔

یہ دنیا اسی آزمائش کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ انسان شکر کرتا ہے یا کفر ۔ یہی مفہوم آیاتِ قرآنی سے ہمیں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو کہا ہے ان میں حلال رزق ملنے پر شکر، زمین میں معاش کے ذرائع پیدا کرنے پر شکر،دین میں آسانیاں پیدا کرنے پر شکر، اللہ کی طرف سے مدد ملنے پر شکر، ، پھلوں کا رزق ملنے پر شکر، انسان کو سماعت، بصارت اور دل کی حسّیات ملنے پر شکر،رات کو باعث آرام بنانے پر شکر، ہدایت کی نعمت پر شکر، اللہ کے فضل پر شکر ، لوگوں کے کیے گئے احسانات پر شکر شامل ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کا ہر لمحہ مقام شکر ہو۔ کسی دانا کا قول ہے کہ مقامِ شکوہ اصل میں مقامِ شکر ہوتا ہے۔

آخرمیں ایک صحیح حدیث کا ذکر کرتی چلوں جس کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ مزید براں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ لوگوں کے کیے گئے فضل کو بھی یاد رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دن پھرنے پر وہ ذہن سے محو ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ جس انسان سے بھی آپ کو چھوٹے سے چھوٹا نفع بھی پہنچا ہو اس کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لی جائے اور اس کام کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتے تو خود اپنی ناشکری پر کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔ اس لیے اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے اور اپنی نعمتوں کی نشونما کے لیے آج اور اس موجودہ لمحے سے ہی شکر کے بیج بونا شروع کر دیں تاکہ کل کودنیا میں بھی آپ کی ذات کا شجر ہرا بھرا رہے اور آخرت میں بھی ایک دائمی فصل آپ کے لیے جنت میں تیار ہو۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

سورۃ الشمس کی یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ شعوری طور پر پڑھنے پر ہی میرے دل کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ۔ کوئی گیارہ سال پہلے یہی آیات قرآن میں میری انسپریشن رہ چکی ہیں یعنی کہ جن آیات نے مجھےقرآن میں موجود آیات میں سے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اسی انسپریشن کے ساتھ میں نے ایک بلاگ بنایا جو کہ اسی تھیم پر مبنی تھا مگرمیں اپنی مصروفیات کے باعث اسے جاری نہ رکھ سکی اور نہ ہی اس طرف توجّہ مبذول ہو سکی۔

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠: اور نفس کی قسم اور اس کی جس نے اس کو متوازن کیا (7) پھراس کا فجور اور تقویٰ اس کو الہام کیا (8)کامیاب ہوا جس نے اس کا تزکیہ کیا (9) اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے پست بنایا (10

ابھی حال ہی میں پروفیسر احمد رفیق اختر کو ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے سنا تو خود سے بھی ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ہمارے ذہن میں آنے والے تمام خیالات ہی الہامی ہوتے ہیں خواہ وہ بلند ہوں یا پست ہمارا ان پر اختیار نہیں۔ خیالات کی لہریں ہمارے ذہن میں بہتی رہتی ہیں۔ جو چیز ہمارے بس میں ہے وہ ہے انتخاب یعنی کہ ہم ایک بلند خیال کو ایک پست خیال پراہمیت دے کر اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں یا پھر ایک پست یا فاجر خیال کو تقویٰ پر مبنی خیال پرترجیح دے کر اپنے نفس کو پست بناتے ہیں ۔ ہر لمحۂ موجود میں ہمارے پاس مختلف خیالات جو ہمارے ذہن میں آتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے اور اس کو فوقیت دینے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ہر دفعہ ایک برا خیال منتخب کرنے پر نفس اپنی سرکشی اور پستی کی جانب بڑھے گا اور ایک اچھا نیک خیال منتخب کرنے پر اطاعتِ الٰہی اور ضبطِ نفس کی صورت میں بلندی کی طرف قدم اٹھائے گا۔ جو نفس بلندی اختیار کرتا جاتا ہے اس کا ذہن پست خیالات سے پاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پستی اختیار کرنے والا نفس پست خیالات کی آماجگاہ بنتا چلا جاتا ہے۔ نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمٗنّہ نفس کی وہ حالتیں ہیں جو ہمارے انتخابات سے ہی جنم لیتی ہیں۔ نفسِ امّارہ ایسا نفس ہے جو برائی پر آمادہ کرے۔ نفسِ لوّامہ ایسا نفس ہے جو گناہ کے کاموں پر ملامت کرے اور نفسِ مطمٗنہ وہ نفس ہے جو خیالات کی پاکیزگی اور بلندی کی وجہ سے اطمینان حاصل کرلے۔

آئیے کچھ مثالوں سے اپنے خیالات اور اپنے انتخابات کو سمجھتے ہیں۔

ایک مثبت خیال کو منفی خیال پر ترجیح دینا

اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کفر کرنے کی بجائے شکر کرنا

اللہ تعالیٰ اور لوگوں سے بد ظن رہنے کی بجائے حُسنِ ظن رکھنا

اپنے ہرعمل کی نیّت لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا حاصل کرنے کو بنانا

ہر عمل کے لیے اپنے دل میں ہونے والی کھٹک کو پہچاننا اور پیارے نبی ﷺ کی ہدایت پر ایسے کام سے رک جانا جو دل میں کھٹکے۔

لوگوں سے نفرت کرنے کی بجائے محبّت کرنے کی خو ڈالنا

دین کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی بجائے احسن طریقے سے ادا کرنے کے خیال کو منتخب کرنا

کبر کی بجائے عاجزی اختیار کرنا

یہ تو کچھ چند ہی مثالیں ہیں۔ آپ خود اپنے ذہن میں آنے والے خیالات اور اپنے انتخابات کو نوٹ کرنا شروع کر دیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کا نفس کس ڈگر پر چل رہا ہے۔ کیا وہ بلند خیالات کا انتخاب کر کے بلندی اور تزکیہ حاصل کر رہا ہے ؟ یا پست خیالات کی وجہ سے پستی کا شکار ہو رہا ہے؟ یہی تزکیہ نفس کی پہلی سیڑھی ہے۔

طیّبہ خلیل۔ بحرین

عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

جس کے پاس جتنا زیادہ علم ہوتا ہے اتنا ہی وہ عاجز ہوتا ہے۔  اللہ تعالیٰ  کی بنائی گئی اس کائنات میں دو طرح کے علوم ہیں۔ ایک ہیں ظاہری علوم جو کہ حواسِ خمسہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ذہن سے ان کا ادراک حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کائنات میں  ایک دوسرا علم ہے جس کو باطنی علم کہتے ہیں۔ یہ علم عقل یا حواسِ خمسہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو صرف دل کی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ قرآن مجید میں اس مفہوم کے ساتھ بہت سی آیات ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ  آنکھیں نہیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو کہ حق کو  سامنے بے حجاب دیکھ کر بھی اس کو پہچان نہیں پاتے۔ یہی وہ دل ہے کہ جو مسلسل حق کا انکار کرتا جائے تو اس پر قفل یعنی تالے پڑ جاتے ہیں ۔ اور یہی دل اگر   سلیم ہو جائے تو حضرت ابراہیمؑ کی طرح دیدہ ور ہو جاتا ہے۔ جس کو بھی غیب کا علم یا یقین حاصل ہو جائے وہ شخص انتہائی  عاجز ہوجاتا ہے جس کے باعث  اس کو علم کا وہ درجہ عطا ہو جاتا ہے جس کا نام ہے “میں نہیں جانتا”۔ جس کے پاس بھی ظاہری علوم کی کثرت ہو جائے یا تو اس کی گردن اتنی ہی اکڑ جاتی ہے یا  وہ اللہ کے علم کے سامنے اپنے چھوٹے پن کو تسلیم کرلیتا ہے۔

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

کائنات ہر مخلص باعمل انسان کی مدد کرتی ہے

مشہور مصّنف  undefined  کی مشہور کتاب undefined نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان دل سے کوئی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتا ہے تو ساری کائنات اس کا مطلوبہ مقصد پورا کرنے کے لیے کام میں جُت جاتی ہے“۔

علّامہ اقبال نے اپنی نظم تصویرِ درد میں اس حقیقت کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

یہی آئینِ قدرت ہے یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہ ِعمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے

 کم و بیش یہی فلسفہ مشہور کتاب undefined   میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کی زندگی کی حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اور کسی امر کو انجام دینے کے لیے  یا اپنا مطلوبہ مقصد پانے کے لیے شدید خواہش رکھنا اور اس کے بارے میں سوچنا طالب اور مطلوب  کے درمیان مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ  آپ اپنی زندگی کا ایک ویژن بنائیں اور اس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے زندگی میں عمل کے میدان میں پیش قدمی کریں ۔

قرآن میں  یہ عبارت اور مفہوم بیشتر مقاما ت پر دہرایا گیا ہے کہ یہ کائنات انسا ن کے لیے مسخّر کی گئی ہے۔ مسخّر کا مطلب ہوتا  ہے مطیع اور فرمانبردارہونا ، اور سخّر کرنے والے کی مرضی کے مطابق کام پر لگنا۔  قرآن کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خواہش دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل اور کوشش درکار ہے۔ اگر ہم اپنے مستقبل کے کسی ویژن پر ایمان لے بھی آئیں پھر بھی عمل کے بغیر یہ ایمان ادھورا ہے ۔ اس لیے قرآن میں یہ عبارت  ” الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ” زیادہ تر مقامات پر ایک ساتھ دہرائی گئی ہے۔   اور ایک  جگہ پر قرآن میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن میں آیاہے ۔

اور سورہ الّیل میں اللہ تعالیٰ نے  اللہ کا تقویٰ  اختیار کرنے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور ہر امر  میں سب سے احسن بات الحُسنیٰ کی تصدیق کرنے پر آسان طریقے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

میں نے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی بدولت اس حقیقت کا ادراک حاصل کیا ہے کہ دل میں ایک زندہ آرزو کا ہونا ، اس کے لیے تڑپ پیدا ہونا، اخلاص کی نیّت رکھ کر عمل کیے چلے جانا خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو منزلوں کے راستو ں کو آسان بھی بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین بھی عطا ہوتا ہے۔ ایک بندہ مومن کے پُختہ یقین میں ناقابلَ تسخیر قوّت ہے اور یقین ایک ایسا جوہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ مایوسی کُفر کے مترادف ہے ؛ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان اور پُختہ یقین اُن اعلیٰ ترین اعمال میں سے ہیں جو کہ کائنات کی طاقتوں کو صاحبِ یقین کا خادم بنا دیتی ہیں۔

پیارے ساتھیو! اگر زندگی میں کوئی عظیم مقصد ہی نہ ہو  تو یہ موت کے مترداف ہے۔   اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر کسی مقصد کی تلاش اور اس میں اپنا آ پ سرگرداں کرنا  ہی دنیاوی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی  اعلیٰ مقصد نظر میں نہ ہو تو یہ زندگی بس صبح و شام کا کھیل ہے کہ کھایا ، پیا، ہضم کیا، سو لیا ، چند ساعتوں کا مزا حاصل کرلیا اور پھر مٹّی تلے جا کر دفن ہو گئے ۔ موت سے پہلے خود بھی جاگ جائیں اور دنیا میں بھیجے جانے کا عظیم مقصد بھی جگا لیں ورنہ موت سے پہلے ہی مرنے کی تیّاری کر لیں۔

طیبہ خلیل – بحرین

کامیاب زندگی کے چار عناصر

 

charjuhatain

تغیرو تبدل زندگی کی ایک مُسلّمہ حقیقت ہے۔ ہم میں سے ہر انسان تعمیری مراحل سے گزر رہا ہے۔ مگر کیا ہماری شخصیت اور زندگی میں عمومی اور خصوصی طور پر ترقی ہو رہی ہے، صورتحال تنزلی کا شکار ہے یا زندگی میں جمود آ گیا ہے کہ نہ سوچ میں تبدیلی، نہ رویوں میں تبدیلی، نہ علم میں اضافہ، نہ مقصدیت۔ زندگی میں جمود موت کے مترادف ہے۔ موت سے پہلے اپنے آپ کو مرنے نہ دیں۔ اپنے آپ سے یہ سوال ہر روز پوچھیں کہ کیا میرا آج کل سے بہتر ہے؟
اپنا آج کل سے بہتر بنانے کے لیے ہمیں کن جہتوں میں کام کرنا ہے۔ بعد از تحقیق یہ چار متفقہ جہات اخذ کی گئی ہیں۔ رابن شرما اپنی کتاب undefined میں ان چار جہتوں کو کامیاب ترین افراد کی اندرونی سلطنتوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ جن کو مندرجہ ذیل نام دیے گئے ہیں۔
١۔ جسم/صحت Health Set
٢۔ ذہن Mind Set
٣۔ دل Heart Set
٤۔ روح Soul Set

Health Set

صحت سے بڑی کوئی نعمت اورنہیں۔ آپ اگر بیمار ہیں تو زندگی سے کسی طور لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ صحت کی نعمت کی قدر کرنے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس ضمن میں مسلسل لاپرواہی برتی جا رہی ہے تو بیماری ناگزیر ہے۔ جسمانی صحت اور طبیعییاتی خیریت ماپنے کے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔ اس کو بہتر بنانے کے لیے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق مندرجہ ذیل سوالات آپ کو مدد دے سکتے ہیں۔ ان میں سے جو جوابات نفی میں ہیں یا منفی ہیں ان کو مثبت بنانے کے لیے کام کرنا شروع کر دیں۔
١۔ کیا آپ کو شعور ہے کہ آپ کیا کھا رہے ہیں اور آپ کو کیا کھانا چاہیے؟ کیا مقدار متناسب ہے، غذا متوازن ہے؟ وقت مناسب ہے؟ خوراک معیاری ہے؟ قدرتی حالت سے کتنی قریب تر ہے؟ مفید ہے یا مضر؟
٢۔ آپ جسمانی طور پر کتنے فعال ہیں ؟ کیا آپ ورزش کر رہے ہیں؟ آپ کی روز مرہ زندگی میں کتنی جسمانی حرکت مطلوب ہے؟ کیا چہل قدمی، واک شامل ہے؟ آپ کا باڈی میس انڈیکس undefined نارمل رینج میں ہے؟
٣۔ کیا آپ اچھی نیند لے رہے ہیں؟ سونے کے اوقات میں باقاعدگی ہے؟ مجموعی طور پر دورانیہ چھے سے آٹھ گھنٹے ہے؟سونے کے اوقات موضوع ہیں؟ ضرورت سے زیادہ نیند تو نہیں لے رہے؟ رات کو دیر سے اور صبح دیر تلک تو نہیں سو رہے؟ اپنی نیند کوبہتراورمفید بنانے کے لیے یہ سب نکات تصحیح طلب ہیں۔
٤۔ کیا آپ باقاعدگی سے اپنے لیے فراغت کا وقت نکال رہے ہیں؟ کوئی ایسا کام کر رہے ہیں جس سے آپ ریلیکس کرتے ہیں جس سے آپ اپنی انرجی دوبارہ بحال کر سکتے ہیں؟ فیملی، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، آرٹ ، اچھا ڈرامہ یا فلم دیکھنا، مطالعہ، ڈائری لکھنا وغیرہ۔ کچھ وقت اور کام مخصوص ضرور کریں جس سے آپ پھر سے تروتازہ محسوس کر سکیں۔

Mind Set

ذہن استعمال کرنے سے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ذہنی ترقی میں علم کا حصول، ہنر کا سیکھنا اور اس کا استعمال اور اپنے مائنڈ سیٹ کو مسلسل بہتر بنانے کا عمل شامل ہے۔ آپ کا مائنڈ سیٹ آپ کی نفسیات بھی ہے۔ آپ کے عقائد کتنے پختہ ہیں؟ آپ کو خود پر کتنا یقین ہے؟ آپ کو اپنی صلاحیتوں کا کتنا ادراک ہے؟ ذہنی صلاحیت کو ماپنے کے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ انٹیلیجنس یا ذہانت کئی طرح کی ہوتی ہے۔١٩٨٣ میں امریکی سائیکالوجسٹ ہاورڈ گارڈنر نے ٩ طرح کی ذہانت کی شناخت کی۔ ایسے خصوصی طور پر ذہین افراد کو اس نے مندرجہ ذیل نام دیے۔ نیچر سمارٹ، باڈی سمارٹ، ساؤنڈ سمارٹ، نمبرریزننگ سمارٹ، لائف سمارٹ، پیپل سمارٹ، سیلف سمارٹ،ورڈ سمارٹ اور پکچر سمارٹ۔ ہرانسان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور پرمختلف اعتبار سے ذہین بنایا ہے۔ آپ کو اپنی قدرتی صلاحیتوں کی ملسلسل دریافت میں لگے رہنا چاہیے۔ کیا آپ ذہنی اعتبار سے ترقی کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ذیل میں دیے گئے سوالات کی مدد سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
١۔ کیا آپ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کی جستجو رکھتے ہیں؟ یہ کوئی ہنر ہو سکتا ہے، آپ کی دلچسپی کے موضوع پر کوئی نئی تحقیق کا مطالعہ، اپنی قدرتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی مشق، کام کے سلسلے میں پیش آنے والے نئے مسئلوں کے حل کی تلاش وغیرہ۔ کیا آپ باقاعدگی سے اس طرح کی کم از کم کسی ایک سرگرمی میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں؟
٢۔ کیا آپ کے ادراک، ہنر یا ایٹیٹیوڈ میں بہتری آرہی ہے؟ کیا علم میں اضافہ ہو رہا ہے؟
اپنا  undefined بہتر بنانے کے لیے آپ کو باقاعدگی سے کسی نہ کسی علمی یا عملی سرگرمی میں مشغول ہونا پڑے گا۔ خاص طور پر ان افراد کو جو کہ برسر روزگار نہیں۔ اپنی صلاحیتوں، اپنے ہنر، اپنے علم پر ہی فوکس کر کے اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ اس کوشش میں لگے رہے تو غیرمحسوس طریقے سے آپ ایک دن غیر معمولی علم، مہارت اور قابلیت حاصل کرلیں گے۔

Heart Set

دل کے ساتھ جذبات اور محسوسات کا ارتباط ہے۔ آپ کا مائنڈ سیٹ کتنا بھی مضبوط ہو اگر آپ کے اندر اداسی، غصہ ، نفرت ، مایوسی اور منفی جذبات بھرے ہوئے ہیں تو آپ کی تخلیقی صلاحیت کبھی اپنا بہترین مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ آپ جذباتی طور پر کتنے مظبوط اور مفید ہیں اس کو ماپنے کے لیے جو اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے اس کو undefined یا undefined کہتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے آپ کو ماپنے کے لیے اپنے آپ سے نیچے دیے گئے سوالات پوچھیں۔
١۔ ‏کیا میرا رویہ مجموعی اور عمومی طور پر مثبت رہتا ہے یا منفی؟
٢۔ کیا مجھے غصہ زیادہ آتا ہے یا کم ؟ اگر آپ کو غصہ زیادہ آتا ہے تو آپ کا undefined بہت کم ہے۔
٣۔ ‏کیا مجھ میں اپنے اور اپنے ساتھ موجود لوگوں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت ہے؟ کیا نئے ماحول اور نئے لوگوں کے ساتھ باآسانی ایڈجسٹ کرنا آسان ہوتا ہے یا مشکل؟
٤۔ ‏کیا میں خود منفی طور پر اثر قبول کیے بغیر اپنے لیےاور دوسروں کے لیے مفید حکمت عملی ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہوں؟
اپنا undefined بہتر بنانے کے لیے آپ کو سب سے پہلے مخلص ہونا پڑے گا اپنے آپ سے اور اپنی زندگی میں موجود ہر انسان سے؟ جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لیے پسند کریں۔ یہی تعلیم ہمیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے دی ہے۔ اپنا رویہ مثبت رکھیں۔ غور سے سننے کی عادت اپنائیں۔ ری ایکٹ کرنے کی بجائے ریسپانڈ کرنے کی کوشش کریں۔ جیسا رویہ آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے رکھیں ویسا ہی سلوک آپ ان سے کریں۔ اپنے دل میں کشادگی پیدا کریں۔

Soul Set

روح اَمرِرَبِّی ہے اور اس کا تعلق عالم امر سے ہے ۔ تمام امور اللہ کے حکم سے ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں اور اس ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ آج یہ بات سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ ایک undefined موجود ہے۔ اس دنیا میں جس انسان نے بھی کوئی بھی غیر معمولی کام سر انجام دیا اس کا کشف اسی عالم امر سے حاصل کیا گیا۔ عظیم ترین ذات سے رابطہ ہی انسانی زندگی کو مقصد کی بلندی عطا کر سکتا ہے۔ روحانی لحاظ سے مضبوطی کو ماپنےکے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔
اگر آپ کی ذات کا محور خدا کے علاوہ کچھ اور ہے تو آپ کا undefined کم ہے۔ فانی اور زوال پذیر دنیا کی کسی بھی شے یا ذات کو محور بنانے سے پستی اور کمزوری ہی حاصل ہو گی۔ بلندی حاصل کرنے کے لیے بلند ترین، عظیم ترین ہستی کا ہی سہارا حاصل کرنا ہو گا۔ اسی سے رابطہ قائم کرنا ہو گا۔
اپنے undefined کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر انسانیت یا معاشرے کی بھلائی کے لیے کوئی مقصد تلاش کریں۔ اللہ تعالی کی لکھی ہوئی کتاب میں ہر انسان کا اس دنیا میں آنے کا ایک مقصد درج ہے۔ کچھ انسان اس دنیا میں undefined کا مقصد لے کر آتے ہیں۔ کچھ استاد کا رول ادا کرتے ہیں۔ علم سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔ کچھ نئی ایجادات کرتے ہیں۔ انقلاب لے کر آتے ہیں۔ انسانوں کی کثیر تعداد اس مقصد سے غافل ہی رہتی ہے۔ یہ دعا بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر لیں کہ اے اللہ مجھے میرے عظیم ترین مقصد سے ملوا دے اور مجھے ضائع ہونے سے بچا لے۔
اپنا آج کل سے بہتر بنانے کے لیے ان چار عناصر میں بہتری لانا ضروری ہے۔ ایک خوشگوار، کامیاب اور بھرپور زندگی کے لیے ان خطوط پر حکمت عملی ترتیب دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
طیبہ خلیل
بحرین