یقیں پیدا کراے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے

علّامہ اقبال کی نظم “طلوعِ اسلام“ اسلام کی نشاطِ ثانیہ کی ایک خوشخبری ہے۔ اس نظم کی تاثیر ایک مخلص مسلمان کے اندر جو کہ دل میں مسلمانوں کے زوال کا درد رکھتا ہو اپنی خودی کے زور پر دنیا پر ایک دفعہ پھر چھا جانے کا جوش و ولولہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میں طلوعِ اسلام کا منظر پاکستان کے نوجوان مسلمانوں کی بیداری کی صورت میں عنقریب ہوتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔ یہ کتاب انہی نوجوانوں کے لیے لکھی گئی ہے جنہوں نے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا حِصّہ بننا ہے۔ میں اس امر کے متعلق حقّ الیقین کا درجہ رکھتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو بھی اللہ ایسا ہی پُختہ یقین عطا فرمائے۔

وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

اور میں اپنے رب سے دعا مانگ کر کبھی بھی مایوس نہیں رہا۔ یہ حضرت زکریا ع کے الفاظ ہیں جو قرآن کی سورہ مریم کے آغاز میں درج ہیں۔ کیسا یقین ہے ان کواپنے رب پر کہ نہ انہیں یہ پرواہ ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور نہ ہی دعا مانگنے میں یہ امر مانع ہے کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے اور پھر بھی نیک اولاد کی دعا یقین کے ان الفاظ میں مانگ رہے ہیں ۔ پیارے ساتھیو! دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم جزو یقین ہی ہے کہ جب یہ یقین اس انگارہ خاکی میں پیدا ہو جائے تو وہ بال و پرِ روحُ الامیں پیدا کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ہی یقین کے ساتھ بلند ترین عزائم اور مقاصد کی دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ مختصر کتاب آپ کے دل میں انہی بلند مقاصد اور عزائم کے حصول کا ولولہ پیدا کر سکتی ہے۔

ہم قرآن سے دور کیوں ہیں؟

ایک عالمگیر زندہ کتاب قرآنِ حکیم کے موجود ہوتے ہوئے بھی آج کے مسلمان کا کردار کیوں قرآنی تعلیمات سے بے بہرہ ہے؟ اس سوال کی تلاش نے مجھے عرصہ دراز تک بے چین کیے رکھا۔ قرآن کے مطالعے اور اس کی آیات پر غور و فکر کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہو ں کہ یہ کتاب اپنے اندر اسرار و رموز کا خزانہ لیے ہوئے ہے جبکہ مسلمانوں نے قرآن کی تلاوت کو صرف ثوابِ دارین حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ قرآن کے قلزمِ خاموش کے اسرار پانے کے لیے ضربِ کلیم کی ہی ضرورت ہے اور اس کی تجلیّاں ہرمخلص مومن کے دل پر آشکار ہونے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔ یہ کتاب آپ کو ان فرسودہ عقائد سے نجات دلا سکتی ہے جس کی وجہ سے قرآن کی روح وجودِ انسانی کا حِصّہ نہیں بن پا رہی۔

Quran sey doori

توحید ایک زندہ قوّت

توحید صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ یہ اس کائنات کی سب سے عظیم قوّت ہے۔ اسلام کے زوال کا دور تب شروع ہوا جب مسلمانوں نے توحید کی قوّت کو کھو دیا۔ توحید کہنے کو صرف لاالہ الااللہ ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل اس وجہ سے ہے کہ آج کا مسلمان اللہ سے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے، دینِ اسلام، لوگوں سے، اور اپنے آپ سے مخلص نہیں۔ یہی اخلاص ہی دین ہے اور یہی توحید کی زندہ قوّت کو حاصل کرنے کا راز۔ یہ کتاب آپ کو توحید کی اصل روح سے روشناس کروا سکتی ہے۔

گھر بسانے کے اصول

گھر بسانے کے اصول میری پہلی کتاب ہے۔ دنیا میں امن پھیلانے کی تحریک کا آغاز ایک مثالی گھرانے سے ہو گا۔ جس سے متاثر ہو کر بہت سے اور گھر پیار، محبت اور خوشیوں سے بھرنے لگیں گے تو یہ خوشیاں پورے معاشرے میں پھیلنے لگیں گی۔ مجھے امید ہے یہ کتاب آپ کو ایک مثالی گھر بنانے میں مدد دے گی۔

cover - gbka