Let me tread on the path of Love

Though, Urdu is my main medium of expression for poetry; but some poems only came to me in English. For me, poetry is truth dwelling in beauty and a poet is like a nightingale who sits in darkness and sings to cheer its own solitude with sweet sounds. “Let me tread on the path of Love” is a short collection of my English poems, which may keep on expanding whenever and wherever inspiration strikes again.

Click here if you want a scroll down view to read the poems.
https://tayyabaat.com/my-poetry/my-english-poetry/

میری جُستجو ہے وُہی سفر – طیّبہ خلیل

“میری جُستجو ہے وُہی سفر” میری اُردو شاعری کے پہلے مجموعے کا نام ہے جو میں ایک عرصہ دراز سے قارئین تک پہنچانا چاہتی تھی۔ آج اس کام کا وقت اور موقع ملا تو یہ مجموعہ آن لائن پبلش کر رہی ہوں۔ میں نے شاعری کو اپنے اندر کا سچ پہنچانے کا ذریعہ بنایا ۔ کبھی ایک دو شعر ردیف یا قافیہ ملانے کے لیے بھی لکھے۔ مگر وہ بھی سچ پر مبنی ہیں الحمدللہ۔ شاعری پڑھنے کا ذوق صرف اہلِ سُخن ہی رکھتے ہیں۔۔ اس نیّت کے ساتھ شئیر کر رہی ہوں کہ شاید کسی کو ان الفاظ کی ضرورت ہو جیسے مجھےدوسروں کی لکھی ہوئی متاثرکُن نظموں کی اشد ضرورت تھی۔

Click here if you want a scroll down view to read the poems.
https://tayyabaat.com/my-poetry/urdu-poetry/

تمھاری منزل یہیں کہیں ہے

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں کوئین میری اسکول میں نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ میں نے سن رکھا تھا کہ شاعری کرنا بے کارکام ہے اور شاعر حقیقت کی بجائے من گھڑت خیالات اور جذبات کو الفاظ میں پروتے ہیں اور زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہتے ہیں۔ کچھ ایسا مفہوم میں نے سورہ الشعراء کی اختتامی آیات میں پڑھ رکھا تھا۔ جن کا مفہوم کچھ یوں ہے۔
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں ۔اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ۔

اسی وجہ سے میں سوچنے لگی کہ یہ تو ایک بے کار مشغلہ ہے۔ لیکن ایک دن میں نے بچوں کے رسالے ماہنامہ پھول جو ہمارے گھر آیا کرتا تھا ایک نظم پڑھی جس کا نام تھا “تمھاری منزل یہیں کہیں ہے”۔ اس نظم کا کیا پڑھنا تھا کہ آنسو لگاتار میری آنکھوں سے گرنے لگے، مجھے ایسا لگا کہ یہ نظم میرے ہی لیے لکھی گئی ہے۔ اسی دن میں نے اس نظم کو اتنی دفعہ پڑھا کہ مجھے اسی دن وہ ازبر ہو گئی۔ اور وہ دن اور آج کا دن اس کا ایک لفظ بھی مجھے نہیں بھولا۔ باِذن اللہ۔ اس کے بعد آج تک میں نے جو بھی شعر و شاعری اردو یا انگریزی میں لکھی اسی نظم کے معیار کو نظر میں رکھتے ہوئے لکھی۔ اس نظم نے مجھے عزم دیا کہ تاریکیاں مٹانے میں مجھے اپنے حِصّے کی شمع جلانی ہے، اسی وجہ سے مجھے تعلیم حاصل کرنی ہے اور اسی مقصد سے ہی مجھے زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔
بعد میں مجھے ایک حدیثِ رسول ﷺ   کا بھی پتہ چلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ بعض شعر حق ہوتے ہیں یعنی کہ وہ سچّے جذبات پر مبنی ہوتے ہیں۔ مجھے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہہ کے بارے میں بھی معلوم ہوا کہ وہ پیارے نبی ﷺ   اور اسلام کے دفاع اور مسلمانوں کا جوش و ولولہ بڑھانے کے لیے شعرلکھا کرتے تھے۔ اور پھر سورہ الشعراء کی اگلی ہی آیت بھی تو یہ کہہ رہی ہے کہ بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا“ یعنی کہ وہ لغوباتیں کہنے والے شعراء کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔
پیارے ساتھیو، یہی وہ نظم ہے جس نے میرے اندر کا سچا شاعر جگا دیا۔ میں اس نظم کے لکھاری کا صرف نام ہی جانتی ہوں مگر مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس نظم کا وزن بہت زیادہ ہو گا۔ ان شاء اللہ

طیّبہ خلیل
بحرین