Featured

Let me tread on the path of Love

Though, Urdu is my main medium of expression for poetry; but some poems only came to me in English. For me, poetry is truth dwelling in beauty and a poet is like a nightingale who sits in darkness and sings to cheer its own solitude with sweet sounds. “Let me tread on the path of Love” is a short collection of my English poems, which may keep on expanding whenever and wherever inspiration strikes again.

Click here if you want a scroll down view to read the poems.
https://tayyabaat.com/my-poetry/my-english-poetry/

کامیاب زندگی کے چار عناصر

 

charjuhatain

تغیرو تبدل زندگی کی ایک مُسلّمہ حقیقت ہے۔ ہم میں سے ہر انسان تعمیری مراحل سے گزر رہا ہے۔ مگر کیا ہماری شخصیت اور زندگی میں عمومی اور خصوصی طور پر ترقی ہو رہی ہے، صورتحال تنزلی کا شکار ہے یا زندگی میں جمود آ گیا ہے کہ نہ سوچ میں تبدیلی، نہ رویوں میں تبدیلی، نہ علم میں اضافہ، نہ مقصدیت۔ زندگی میں جمود موت کے مترادف ہے۔ موت سے پہلے اپنے آپ کو مرنے نہ دیں۔ اپنے آپ سے یہ سوال ہر روز پوچھیں کہ کیا میرا آج کل سے بہتر ہے؟
اپنا آج کل سے بہتر بنانے کے لیے ہمیں کن جہتوں میں کام کرنا ہے۔ بعد از تحقیق یہ چار متفقہ جہات اخذ کی گئی ہیں۔ رابن شرما اپنی کتاب undefined میں ان چار جہتوں کو کامیاب ترین افراد کی اندرونی سلطنتوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ جن کو مندرجہ ذیل نام دیے گئے ہیں۔
١۔ جسم/صحت Health Set
٢۔ ذہن Mind Set
٣۔ دل Heart Set
٤۔ روح Soul Set

Health Set

صحت سے بڑی کوئی نعمت اورنہیں۔ آپ اگر بیمار ہیں تو زندگی سے کسی طور لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ صحت کی نعمت کی قدر کرنے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس ضمن میں مسلسل لاپرواہی برتی جا رہی ہے تو بیماری ناگزیر ہے۔ جسمانی صحت اور طبیعییاتی خیریت ماپنے کے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔ اس کو بہتر بنانے کے لیے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق مندرجہ ذیل سوالات آپ کو مدد دے سکتے ہیں۔ ان میں سے جو جوابات نفی میں ہیں یا منفی ہیں ان کو مثبت بنانے کے لیے کام کرنا شروع کر دیں۔
١۔ کیا آپ کو شعور ہے کہ آپ کیا کھا رہے ہیں اور آپ کو کیا کھانا چاہیے؟ کیا مقدار متناسب ہے، غذا متوازن ہے؟ وقت مناسب ہے؟ خوراک معیاری ہے؟ قدرتی حالت سے کتنی قریب تر ہے؟ مفید ہے یا مضر؟
٢۔ آپ جسمانی طور پر کتنے فعال ہیں ؟ کیا آپ ورزش کر رہے ہیں؟ آپ کی روز مرہ زندگی میں کتنی جسمانی حرکت مطلوب ہے؟ کیا چہل قدمی، واک شامل ہے؟ آپ کا باڈی میس انڈیکس undefined نارمل رینج میں ہے؟
٣۔ کیا آپ اچھی نیند لے رہے ہیں؟ سونے کے اوقات میں باقاعدگی ہے؟ مجموعی طور پر دورانیہ چھے سے آٹھ گھنٹے ہے؟سونے کے اوقات موضوع ہیں؟ ضرورت سے زیادہ نیند تو نہیں لے رہے؟ رات کو دیر سے اور صبح دیر تلک تو نہیں سو رہے؟ اپنی نیند کوبہتراورمفید بنانے کے لیے یہ سب نکات تصحیح طلب ہیں۔
٤۔ کیا آپ باقاعدگی سے اپنے لیے فراغت کا وقت نکال رہے ہیں؟ کوئی ایسا کام کر رہے ہیں جس سے آپ ریلیکس کرتے ہیں جس سے آپ اپنی انرجی دوبارہ بحال کر سکتے ہیں؟ فیملی، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، آرٹ ، اچھا ڈرامہ یا فلم دیکھنا، مطالعہ، ڈائری لکھنا وغیرہ۔ کچھ وقت اور کام مخصوص ضرور کریں جس سے آپ پھر سے تروتازہ محسوس کر سکیں۔

Mind Set

ذہن استعمال کرنے سے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ذہنی ترقی میں علم کا حصول، ہنر کا سیکھنا اور اس کا استعمال اور اپنے مائنڈ سیٹ کو مسلسل بہتر بنانے کا عمل شامل ہے۔ آپ کا مائنڈ سیٹ آپ کی نفسیات بھی ہے۔ آپ کے عقائد کتنے پختہ ہیں؟ آپ کو خود پر کتنا یقین ہے؟ آپ کو اپنی صلاحیتوں کا کتنا ادراک ہے؟ ذہنی صلاحیت کو ماپنے کے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ انٹیلیجنس یا ذہانت کئی طرح کی ہوتی ہے۔١٩٨٣ میں امریکی سائیکالوجسٹ ہاورڈ گارڈنر نے ٩ طرح کی ذہانت کی شناخت کی۔ ایسے خصوصی طور پر ذہین افراد کو اس نے مندرجہ ذیل نام دیے۔ نیچر سمارٹ، باڈی سمارٹ، ساؤنڈ سمارٹ، نمبرریزننگ سمارٹ، لائف سمارٹ، پیپل سمارٹ، سیلف سمارٹ،ورڈ سمارٹ اور پکچر سمارٹ۔ ہرانسان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور پرمختلف اعتبار سے ذہین بنایا ہے۔ آپ کو اپنی قدرتی صلاحیتوں کی ملسلسل دریافت میں لگے رہنا چاہیے۔ کیا آپ ذہنی اعتبار سے ترقی کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ذیل میں دیے گئے سوالات کی مدد سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
١۔ کیا آپ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کی جستجو رکھتے ہیں؟ یہ کوئی ہنر ہو سکتا ہے، آپ کی دلچسپی کے موضوع پر کوئی نئی تحقیق کا مطالعہ، اپنی قدرتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی مشق، کام کے سلسلے میں پیش آنے والے نئے مسئلوں کے حل کی تلاش وغیرہ۔ کیا آپ باقاعدگی سے اس طرح کی کم از کم کسی ایک سرگرمی میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں؟
٢۔ کیا آپ کے ادراک، ہنر یا ایٹیٹیوڈ میں بہتری آرہی ہے؟ کیا علم میں اضافہ ہو رہا ہے؟
اپنا  undefined بہتر بنانے کے لیے آپ کو باقاعدگی سے کسی نہ کسی علمی یا عملی سرگرمی میں مشغول ہونا پڑے گا۔ خاص طور پر ان افراد کو جو کہ برسر روزگار نہیں۔ اپنی صلاحیتوں، اپنے ہنر، اپنے علم پر ہی فوکس کر کے اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ اس کوشش میں لگے رہے تو غیرمحسوس طریقے سے آپ ایک دن غیر معمولی علم، مہارت اور قابلیت حاصل کرلیں گے۔

Heart Set

دل کے ساتھ جذبات اور محسوسات کا ارتباط ہے۔ آپ کا مائنڈ سیٹ کتنا بھی مضبوط ہو اگر آپ کے اندر اداسی، غصہ ، نفرت ، مایوسی اور منفی جذبات بھرے ہوئے ہیں تو آپ کی تخلیقی صلاحیت کبھی اپنا بہترین مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ آپ جذباتی طور پر کتنے مظبوط اور مفید ہیں اس کو ماپنے کے لیے جو اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے اس کو undefined یا undefined کہتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے آپ کو ماپنے کے لیے اپنے آپ سے نیچے دیے گئے سوالات پوچھیں۔
١۔ ‏کیا میرا رویہ مجموعی اور عمومی طور پر مثبت رہتا ہے یا منفی؟
٢۔ کیا مجھے غصہ زیادہ آتا ہے یا کم ؟ اگر آپ کو غصہ زیادہ آتا ہے تو آپ کا undefined بہت کم ہے۔
٣۔ ‏کیا مجھ میں اپنے اور اپنے ساتھ موجود لوگوں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت ہے؟ کیا نئے ماحول اور نئے لوگوں کے ساتھ باآسانی ایڈجسٹ کرنا آسان ہوتا ہے یا مشکل؟
٤۔ ‏کیا میں خود منفی طور پر اثر قبول کیے بغیر اپنے لیےاور دوسروں کے لیے مفید حکمت عملی ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہوں؟
اپنا undefined بہتر بنانے کے لیے آپ کو سب سے پہلے مخلص ہونا پڑے گا اپنے آپ سے اور اپنی زندگی میں موجود ہر انسان سے؟ جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لیے پسند کریں۔ یہی تعلیم ہمیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے دی ہے۔ اپنا رویہ مثبت رکھیں۔ غور سے سننے کی عادت اپنائیں۔ ری ایکٹ کرنے کی بجائے ریسپانڈ کرنے کی کوشش کریں۔ جیسا رویہ آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے رکھیں ویسا ہی سلوک آپ ان سے کریں۔ اپنے دل میں کشادگی پیدا کریں۔

Soul Set

روح اَمرِرَبِّی ہے اور اس کا تعلق عالم امر سے ہے ۔ تمام امور اللہ کے حکم سے ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں اور اس ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ آج یہ بات سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ ایک undefined موجود ہے۔ اس دنیا میں جس انسان نے بھی کوئی بھی غیر معمولی کام سر انجام دیا اس کا کشف اسی عالم امر سے حاصل کیا گیا۔ عظیم ترین ذات سے رابطہ ہی انسانی زندگی کو مقصد کی بلندی عطا کر سکتا ہے۔ روحانی لحاظ سے مضبوطی کو ماپنےکے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔
اگر آپ کی ذات کا محور خدا کے علاوہ کچھ اور ہے تو آپ کا undefined کم ہے۔ فانی اور زوال پذیر دنیا کی کسی بھی شے یا ذات کو محور بنانے سے پستی اور کمزوری ہی حاصل ہو گی۔ بلندی حاصل کرنے کے لیے بلند ترین، عظیم ترین ہستی کا ہی سہارا حاصل کرنا ہو گا۔ اسی سے رابطہ قائم کرنا ہو گا۔
اپنے undefined کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر انسانیت یا معاشرے کی بھلائی کے لیے کوئی مقصد تلاش کریں۔ اللہ تعالی کی لکھی ہوئی کتاب میں ہر انسان کا اس دنیا میں آنے کا ایک مقصد درج ہے۔ کچھ انسان اس دنیا میں undefined کا مقصد لے کر آتے ہیں۔ کچھ استاد کا رول ادا کرتے ہیں۔ علم سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔ کچھ نئی ایجادات کرتے ہیں۔ انقلاب لے کر آتے ہیں۔ انسانوں کی کثیر تعداد اس مقصد سے غافل ہی رہتی ہے۔ یہ دعا بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر لیں کہ اے اللہ مجھے میرے عظیم ترین مقصد سے ملوا دے اور مجھے ضائع ہونے سے بچا لے۔
اپنا آج کل سے بہتر بنانے کے لیے ان چار عناصر میں بہتری لانا ضروری ہے۔ ایک خوشگوار، کامیاب اور بھرپور زندگی کے لیے ان خطوط پر حکمت عملی ترتیب دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
طیبہ خلیل
بحرین

ڈیپریشن کی متضاد ذہنی عِلّت – Mania

mania-1

ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے متعلق ابھی بھی ہمارے پاکستان میں آگہی کا فقدان ہے۔ عموماً لوگ ڈیپریشن کے لفظی مطلب سے تو واقف ہیں مگرزیادہ تر نان میڈیکل اورنان بائیولوجیکل وجوہات کوڈیپریشن کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ جہاں ڈیپریشن مثبت انرجی کی شدید ترین کمی کی وجہ سے ہوتا ہے وہیں اس کے مخالف ایک اورکیفیت بھی ہے جوایک ہائی انرجی مینٹل سٹیٹ ہے. اس کی نسبتاً معتدل کیفیت کو undefined اور شدید کیفیت کو undefined کہا جاتا ہے۔ اگر ہائی انرجی اور لو انرجی میں منتقلی ہوتی رہےجس کی وجہ سے موڈ، انرجی، ایکٹیویٹی لیول اور روز مرہ کے کام کاج کرنے کی صلاحیت میں غیر متوقع undefined اتار چڑھاؤ ہونے لگے تو اس کو undefined کہا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کل آبادی کے تقریبا ڈھائی فیصد افراد اس علت کا شکار ہیں۔
چونکہ میں ان کیفیات سے گزر چکی ہوں لہذا اس کے بارے میں آگہی پھیلانے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ ذیل میں undefined اور undefined کی کچھ علامات اور تجرباتی تفصیلات دی جا رہی ہیں جو کہ میں نے متاثرہ عرصے کے دوران محسوس کیں۔ مختلف لوگوں میں یہ علامات کم و بیش ملتی جلتی مگر مختلف تناسب میں پائی جا سکتی ہیں.

ہائیپومینیا سے متاثرہ فرد کی شخصیت میں یکسر ناقابل یقین تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ عموماً ذاتی دلچسپی کے کسی امر کے متعلق ضرورت سے زیادہ ایکسائٹمنٹ کے باعث ٹریگرہوتا ہے۔ مختلف افراد کے لیے undefined مختلف ہو سکتے ہیں۔ جگہ، موسم کی تبدیلی، بے قاعدہ روٹین، زندگی کا اہم واقعہ قریبی رشتے دار کی موت، بچے کی پیدائش، undefined وغیرہ. اس کے شروع ہوتے ہی یا تو نیند ہی نہیں آتی یا اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ نارمل حالات سے زیادہ فعال اور بہت کم نیند کے ساتھ بھی انسان تروتازہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایک یوفوریا طاری ہونے لگتا ہے.ناقابل بیان خوشی اور فرحت کا احساس ہوتا ہے جسے پہلے پہل محسوس کرتے ہی انسان اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز خیال کرنے لگتا ہے۔ ایک خاموش طبع شخص بہت زیادہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اجنبی لوگوں سے بڑی آسانی کے ساتھ بات چیت کرنے اور ضرورت سے زیادہ میل جول رکھنے لگتا ہے۔ نئے نئے خیالات ذہن میں آنے لگتے ہیں اور اتنی تیزرفتاری سے آتے ہیں کہ ایک چیز پر فوکس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بات کرنے کے دوران ایک مضمون سے دوسرے مضمون میں کسی ربط کے بغیرجمپ کرنے لگتا ہے۔ بہت زیادہ جذباتیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں غیر حقیقی اعتماد پیدا ہو جاتا ہےاور اس بارے میں غلط اندازے لگانے لگتا ہے۔ اگر انسان اس عِلّت کی حقیقت سے واقف نہ ہو تو اپنے ذہن میں آنے والے ہر خیال پر فوری ری ایکشن دینے لگتا ہے۔ نت نئے منصوبے اور پروجیکٹس شروع کرنے،غیر معقول کاموں اور منصوبوں پر پیسہ خرچ کرنے کی تحریک پیدا ہونے لگتی ہے۔ ارد گرد موجود لوگ جب اس کی باتوں، خیالات اور انرجی سے مطابقت نہیں کر پاتے تو وہ شدید جھنجھلاہٹ اور چرچڑے پن کا شکار ہونے لگتا ہےاور وہ چاہتا ہے کہ جیسے وہ سوچ رہا ہے اس کے مطابق ہی سارے امور پر عملدرامد کیا جائے۔ جسم کو ایک حالت سکون میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ حرکت میں رہنے لگتا ہے۔

ماضی کے واقعات نہایت انوکھے انداز میں نظر آنے لگتے ہیں۔ چیزوں، واقعات، اشخاص اور خیالات کے آپس میں غیر حقیقی لنکس بنانے لگتا ہے۔ زبان میں روانی آجاتی ہے؛ بہت سی باتیں فی البدیہ کہنے لگتا ہے۔ وہ الفاظ جو تحت الذہن ہوتے ہیں جن کا مطلب تو معلوم ہو مگر عام طور پر ان کا استعمال نہ کرتا ہو وہ بھی ادا ہونے لگتے ہیں۔بات کرتے وقت الہامی احساس ہونے لگتا ہے جیسے کوئی بات ذہن میں نہ بھی ہو وہ بھی ادا ہو جاتی ہے۔ اپنے آپ کوundefined سمجھنے لگتا ہے۔ اس دوران کبھی اپنے اندر خدائی طاقت یا پیغمبرانہ صلاحیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جو وہ سوچ رہا ہے ویسے ہی ہو رہا ہے جو کہ حقیقت میں ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ لمحات اور واقعات میں undefined محسوس ہونے لگتی ہے۔ کبھی کبھی undefinedا ، سینے میں undefined محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے دماغ کے سارے بلب روشن ہو گئے ہوں. وقت ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے. کھانے پینے میں دلچسپی یا تو کم ہو جاتی ہے یا اس کی کوئی ہوش نہیں رہتی۔ سوشل میڈیا پرغیر فعال افراد یکسر ضرورت سے زیادہ پوسٹس، سٹیٹس اپ ڈیٹس، اور غیر معقول شیئرنگ کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں خطرناک جنسی رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اورعلامات بھی ہو سکتی ہیں جس کے بارے میں آپ مزید سرچ کر سکتے ہیں ۔

ان میں سے کچھ کیفیات اگر مناسب حد تک ایک انسان میں ایک عرصے تک موجود رہیں تو ان سے بے پناہ تعمیری فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں مگر ان کیفیات میں شدت آجائے تو انسان اپنی جسمانی ضروریات، اپنے ماحول اوراپنے اہم رشتوں سے نابلد ہو کر ایک فرضی تخیلاتی دنیا آباد کر لیتا ہے جس کے کردار ایسے ناشناسا لوگ بن جاتے ہیں جن سے آپ کا کوئی براہ راست تعلق تو نہ ہو فقط آپ زندگی میں ان سے متاثر ہوئے ہوں یا سوشل میڈیا کے توسط سے انہیں جانتے ہوں۔ انسان کا موجودہ حقیقت سے تعلق منقطع ہوجاتا ہے اورکچھ عرصے تک undefined کا شکار ہو سکتا ہے۔
عموما ایسی علامات کو پاکستان میں جنات کا اثر یا جادو سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کا میڈیکل علاج کروانے کی بجائےلوگ پیروں، فقیروں کے جھمیلوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کے مطابق یہ حالت دماغ میں موجود ھارمون ڈوپامین کی زیادتی یا کیمیکل undefined کی وجہ سےواقع ہوتی ہے۔ ایسی ادویات تیار کی جا چکی ہیں جو برین ہارمونز کو بیلنس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس ضمن میں سائیکاٹرسٹ افراد سے مدد لی جا سکتی ہے۔
اگر آپ کو اپنے ارد گرد موجود کسی فرد کی شخصیت میں ایسی کوئی یکسر تبدیلی نظر آئے تو ضرور اس کے لواحقین کو اس خدشے کے بارے میں آگاہ کریں کیونکہ عین ممکن ہے ان کو اس ضمن میں پہلے سے آگہی نہ ہو۔
طیبہ خلیل
بحرین

زندگی بدلنے کے لیے سوچ بدلیں

Feelings

ہم اکثر یہ باتیں کہتے سنتے رہتے ہیں کہ فلاں کی کسی بات نے میرا سارا موڈ خراب کر دیا یا کسی وجہ سے سارا دن برا گزرا ۔ کسی پل چین نہیں آ رہا، ذہنی سکون نصیب نہیں ، خوشی جیسے روٹھ سی گئی ہے. اسی طرح کی بہت سی ان کہی باتیں اور خیا لات بھی جو ہمارا ذہن بُنتا رہتا ہے  جیسے کسی سے کوئی امید باندھ لی اور پوری نہ ہونے پر دل بہت کڑھتا رہا۔ ماضی کی تکلیف دہ باتوں کو سوچ سوچ کر حال کو بھی جمود کا شکار کر لینا۔ مستقبل کی فکر پال رکھنا۔ اپنی خوشی کو شرائط سے مشروط کر لینا کہ اگر کوئی کام ہو سکا تو تب ہی سچی خوشی نصیب ہو گی۔ کوئی کام جس کو کرنے کی حاجت یا خواہش ہو اس کے بارے میں یہ سوچ رکھنا کہ مجھ سے نہ ہو پائے گا۔ لوگوں کی رائے اور رويّوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور ان کو خوش کرنے کی کوشش میں خود کو تھکا دینا۔

مثال کے طور پرکچی عمر کی نئی شادی شدہ خواتین عموماً اپنا بہت سارا وقت نئےقائم ہونے والے رشتوں سے  توقعات پالنے میں اور پھر ان کے پورا نہ ہونے کا غم غلط کرنے میں گزار دیتی ہیں۔ شوہر نے فون نہیں کیا، تعریف نہیں کی، آنکھ بھر کے دیکھا نہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پراپنے آپ کو بہت بڑے صدمے سے دوچار کر لیتی ہیں اور خود سے ہی وجوہات بھی اخذ کر لیتی ہیں.

اگر گہرائی میں جا کر ایسے رويّوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ماخذ صرف اور صرف ایک غلط نظریہ ہے کہ ہماری  فیلنگزکو بیرونی محرّکات کنٹرول کرسکتے ہیں ۔ جبکہ دراصل جس طرح کے بھی جذبات یا محسوسات سے ہمارا دل و دماغ دوچار ہوتا ہے وہ سو فیصد موجودہ لمحے میں ہماری سوچ کی پیداوار ہے۔ ہماری سوچ کے علاوہ کسی طرح کے بیرونی محرّکات ان کا سبب ہر گز نہیں ہوتے۔

 ہماری زندگی میں ہر وہ شے جسے ہم نے اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ہماری فیلنگزکو کنٹرول کریں یا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پاس یہ طاقت رکھتی ہیں. خواہ وہ کوئی انسان ہو، کوئی صورتِ حال ، کوئی مسئلہ ، کوئیمادی چیز جو ہماری ملکیت ہو ، ماضی یا کچھ بھی وہ حقیقت میں ایک الٰہ یا بت ہے  جو ہمارے نفس نے تخلیق کر رکھا ہے۔ جب کہ زبان سے یہ کہتے ہیں کہ کوئی الٰہ نہیں سوائے اللہ کے مگر اپنے آپ کو اس ایک ذات کے حوالے کرنے کی بجائے ان بتوں کے حوالے کیے رکھتے ہیں کہ جس ڈگر سوچ لے کر جاتی ہے وہیں وہیں چل پڑتے ہیں اور اپنے بوجھ میں خود اضافہ کیے رکھتے ہیں۔ جبکہ وہ تو ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ جیسے ہی ہم اپنی تخریبی سوچ کو خاموش کروا کر موجودہ لمحے میں اپنی توجہ مرکوز کریں گے تب ہی ہم اِحسان کی کیفیت کو پا سکیں گے کہ گویا ہم دل کی آنکھ سے اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا پھر اس احساس سے خشیت محسوس کر سکیں گے کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

 اس نظریے کی روشنی میں اپنے ذہن اور نفس کا محاسبہ کرنے سے ہم اپنے آپ کو بہت سی منفی، تخریبی اور غیر تعمیری خیالات اور ذہنی تکالیف سے بچا سکتے ہیں۔ جتنی گہرائی اور شفافیت سے اس سچ کو سمجھنے لگیں گےاسی قدراپنے ماحول اور معاملات کو حقیقت سے قریب تر یا عین مطابق دیکھ پائیں گے۔ اور یہ جان لیں گے اپنی خوشی، نا خوشی، ذہنی پستی اور بے چارگی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ باہر سے کوئی چیز ہماری حالت تبدیل نہیں کر سکتی سوائےاس کے ہم خود اپنی سوچ کو تبدیل کر کہ اپنی دنیا بھی تبدیل کر لیں.نفع بخش علم حاصل کرنے ، کائنات میں غوروفکرکرنے,  اللہ کا ذکر کرنے,اپنی ذات سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے اور زندگی کا مقصد بنانے سے یہ دنیا کب اور کیسے تبدیل ہو جائے شاید ہمیں اس کا اندازہ بھی نہ ہو۔

 طیبہ خلیل