عاجزی کیا ہوتی ہے؟

عاجزی ایک ایسی عبادت ہے جس کی توفیق صرف اللہ کے بہت خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے۔  عاجزی خالق کے سامنے ہو تو اطاعت کہلاتی ہے۔ مخلوق کے آگے ہو تو معرفت کہلاتی ہے۔   لوگوں کی ایک کثیر تعداد نماز، روزے، حج، زکوٰۃ جیسی عبادتیں تو کر لیتی ہے مگر عاجزی نام کی بلند ترین عبادت سے بلکل نا شناسا ہی رہتی ہے۔ عاجزی کی ضد انا اورتکبُّرہوتی ہے جو کہ انسان کے نفس میں اپنے برتر ہونے کا احساس عِلّت کی صورت میں پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ اپنی انا کی بھینٹ چڑھ جائے اس کی اندرونی سلطنت کی  وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور اس کی شخصیت ، علم اور خودی کی نشونما  رُک جاتی ہے۔ 

جس کے پاس جتنا زیادہ علم ہوتا ہے اتنا ہی وہ عاجز ہوتا ہے۔  اللہ تعالیٰ  کی بنائی گئی اس کائنات میں دو طرح کے علوم ہیں۔ ایک ہیں ظاہری علوم جو کہ حواسِ خمسہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ذہن سے ان کا ادراک حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کائنات میں  ایک دوسرا علم ہے جس کو باطنی علم کہتے ہیں۔ یہ علم عقل یا حواسِ خمسہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو صرف دل کی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ قرآن مجید میں اس مفہوم کے ساتھ بہت سی آیات ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ  آنکھیں نہیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو کہ حق کو  سامنے بے حجاب دیکھ کر بھی اس کو پہچان نہیں پاتے۔ یہی وہ دل ہے کہ جو مسلسل حق کا انکار کرتا جائے تو اس پر قفل یعنی تالے پڑ جاتے ہیں ۔ اور یہی دل اگر   سلیم ہو جائے تو حضرت ابراہیمؑ کی طرح دیدہ ور ہو جاتا ہے۔ جس کو بھی غیب کا علم یا یقین حاصل ہو جائے وہ شخص انتہائی  عاجز ہوجاتا ہے جس کے باعث  اس کو علم کا وہ درجہ عطا ہو جاتا ہے جس کا نام ہے “میں نہیں جانتا”۔ جس کے پاس بھی ظاہری علوم کی کثرت ہو جائے یا تو اس کی گردن اتنی ہی اکڑ جاتی ہے یا  وہ اللہ کے علم کے سامنے اپنے چھوٹے پن کو تسلیم کرلیتا ہے۔

ایک حدیث ﷺکے مفہوم کے مطابق تکبُّر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو اپنے سے نیچا سمجھنا  ، حقارت سے دیکھنا  اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے۔

عاجز وہ ہے جو رب کے حضور اور ہر اُس انسان کے سامنے لا اَدرِی (میں نہیں جانتا) کہنے کے لیے تیّار ہو جس کے پاس الحُسنیٰ یعنی احسن بات یا رائے موجود ہو۔

عاجزی وہ طریقت ہے جو کہ اپنی کوشش کرنے کے بعد انسان کو تقدیر کے سامنے سر تسلیم خم کروائے  اور اللہ سے راضی رکھے۔

عاجزی وہ تواضع ہے جو ہر انسان کو عزّت کا مقام دینا جانتی ہو۔ خواہ وہ ایک خاکروب یا گٹر کھولنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

عاجزی وہ خاموشی ہے جو انسان کو اپنی قابلیّت اور صلاحیّت کو لوگوں پر ظاہر کرنے سے بے نیازکرتی ہے اور حاضر و موجود شخص کو اپنی سنانے کی بجائے اس کی سننا جانتی ہے۔

عاجزی وہ خوف ہے جو کہ نصیحت کی بات سن کر فوری طور پر  اس پرتوجہ  دلا کرانسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی ترغیب دلائے۔

عاجزی وہ پردہ ہے جو کہ انسان  کواپنی نیکیوں پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

عاجزی وہ ظرف ہے  جو دوسروں کی محنت اور کوشش پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی جائز تعریف اور اجرت فوری طور پر ادا کرتا ہے۔

عاجزی اس آگہی کا نام ہے کہ جو بندے کو یہ سبق سکھائے کہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اور پھر کسی نہ کسی صورت میں انسانوں کا بھی محتاج رہوں گا۔  

عاجزی  وہ چال ہے جو انسان میں گردن کو اکڑا کر چلنے کی بجائے اپنا سر جھکا کر چلنے کی  خُو ڈالے۔

عاجزی وہ ضبط ہے جو کہ جاہل سے  بحث کرنے سے روکے اور اس کو دعا دے کر بحث سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو کہے۔

پیارے ساتھیو،  کبِر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے نفوس میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے اپنے نفس کو ہی بُت تو نہیں بنا رکھا۔ حدیث ﷺ میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی جس دل میں تکبُّر پایا جائے گا اس کے لیے  جنّت حرام ہونے کی وعید ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عاجز بندوں میں شامل کرے۔

طیّبہ خلیل ۔بحرین

2 thoughts on “عاجزی کیا ہوتی ہے؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.