میری جُستجو ہے وُہی سفر

میری جُستجو ہے وُہی سفر میری اُردو شاعری کے پہلے مجموعے کا نام ہے جو میں ایک عرصہ دراز سے قارئین تک پہنچانا چاہتی تھی۔ آج اس کام کا وقت اور موقع ملا تو یہ مجموعہ آن لائن پبلش کر رہی ہوں۔ میں نے شاعری کو اپنے اندر کا سچ پہنچانے کا ذریعہ بنایا ۔ کبھی ایک دو شعر ردیف یا قافیہ ملانے کے لیے بھی لکھے۔ مگر وہ بھی سچ پر مبنی ہیں الحمدللہ۔ شاعری پڑھنے کا ذوق صرف اہلِ سُخن ہی رکھتے ہیں۔۔ اس نیّت کے ساتھ شئیر کر رہی ہوں کہ شاید کسی کو ان الفاظ کی ضرورت ہو۔ جیسے مجھےدوسروں کی لکھی ہوئی متاثرکُن نظموں کی اشد ضرورت تھی۔


میری زندگی کی خوشیاں، اداسیاں، خواب، امیدیں، مایوسیاں، محبّتیں، ملاقاتیں, دوریاں، مسکراہٹیں اور وہ سب آنسو جو شعر بن کر میری زندگی کی کتاب میں ثبت ہو گئے۔
میری جستجو ہے وہی سفر
رات اک زلزلہ جو آیا تھا
اب سفر تنہا نہیں ہے
بیدارلمحوں کا اک جزیرہ
میں  بھول جاؤں تجھ کو یہ ممکن ہے کس طرح
خیال رکھ
مجھے ہر طور سوئے دشتِ سَحَر جانا ہے
دنیا ہم کو یاد کرے
یہ جو زندگی ہے بڑی مختصر
خاموشی
ڈر سا لگتا ہے
وہ خواب سارے سنبھال رکھنا
ادھورے رشتوں کی باز گشت
ایک نیا سال
میرے آگے
ہمیں ہر موڑ پر یہ زندگی حیران کرتی ہے
کچھ باتیں جادو سا اثر رکھتی ہیں 
بات کرتے ہیں
سوچتے رہے
جنت کے پرندے
محبت کی بےپناہ طاقت پر یقین رکھتا ہوں
تو نے خاص مجھ کو بنا دیا
کچھ وقت لگے گا
کیوں کرتے ہیں لوگ؟
میں نہیں چاہتی
اداس رہنا تھا
تو کیا ہوا
درمیاں
میں جانتی ہوں میری عادتیں اچھی تو نہیں ہیں 
یہ سلسلہ کچھ نیا نہیں تھا
قبول
گزرتے دن ہیں سراب جیسے 
اٹھ بے خبر تیری بھی شبِ غم گزر گئی
غم تنہائی
یہ بھی وقت وقت کی بات ہے
کیسے؟
حسد کے مارے لوگ
بس دیا اُمید کا بجھانا نہیں
“چلو اسی بہانے دیکھ لی دنیا ہم نے
اسی امید پر کسی کی رات کٹ جاتی ہے آنکھوں میں
ہر صبح تمھاری ہوتی ہے 
بس مجھے بتاؤ
وہ آنسو جو میری آنکھ سے نکلے تھے تیرے سامنے 
کر کے مایوس مجھ کو تمام لوگوں سے
خود اپنا رستہ دکھا دیا ہے۔
اک بات اس سے کہہ دی پھر سو بار یہی سوچا
گر تمہیں بھی خدا مطلوب ہے؛ تو بہت ہے
اے دل یہ سبق اب سیکھ ہی لے