حضرت آدم و حوّا علیہ السلام اور شجرِ ممنوعہ

قرآن میں حضرت آدم و حوّاعلیہ السلام کا جنّت سے نکالے جانے والا قصّہ سورہ البقرہ اور سورہ الاعراف میں بڑی تفصیل سے درج ذیل ہے۔ سورہ بقرہ کی یہ آیات کا اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں؛

پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ “تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے” (35) آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا، جس میں وہ تھے ہم نے حکم دیا کہ، “اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین ٹھہرنا ہےاور وہیں گزر بسر کرنا ہے (36”

میرے ذہن میں یہ سوال ایک عرصے تک گردش کرتا رہا کہ آخر وہ کون سا درخت تھا جس کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا اور آخر اللہ تعالیٰ نے وہ درخت جنّت میں لگایا ہی کیوں؟ کچھ دس سال پہلے کی بات ہے جب علّامہ اقبال کی نظم تصویرِ درد میری نظر سے گزری تو اس کے ایک شعر نے میرے سوال کا عقدہ حل کر دیا۔ وہ شعر یہ ہے

شجر فرقہ آرائی ہے، تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے جو جنّت سے نکلواتا ہے آدم کو

یہ شعر پڑھتے ہی میرے ذہن میں سورہ بقرہ کی آیت کے یہ الفاظ گردش کرنے لگے۔
وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ – اور تم نکل جاؤ یہاں سے اور تم میں سے بعض اب بعض کے دشمن ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ہی یہ درخت جنّت میں لگایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بڑا پلان تھا۔ یہ بات ہمیں قرآنِ مجید سے ہی معلوم ہوئی ہے کہ اصحابِ جنّت کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی کینہ کوئی بغض، کوئی دشمنی، کوئی حسد، کوئی غِلّ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ایسی تمام روحانی بیماریوں سے پاک صاف کر دیں گے۔ تو جب حضرت آدم و حوّا نے شجرِممنوعہ فرقہ آرائی کا تعصّب نام کا پھل کھا لیا تو وہ جنّت میں رہنے کے قابل نہ رہے اور انہیں زمین پر اتار دیا گیا اس امتحان کے ساتھ کہ جو کوئی بھی اللہ کی وحدانیت تسلیم کرتےہوئے انبیاء، مؤمنین اور تمام انسانوں کے ساتھ مخلص رہ کراس جماعت کے ساتھ جُڑا رہے گا اوراپنا دل سب کے لیے صاف رکھے گا وہ اپنی اصلی آرام گاہ جنّت میں دوبارہ داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بر عکس جو کوئی بھی اللہ کی واحِد جماعت سے الگ ہو کر شرک کا مرتکب ہو گا اور دنیا میں لوگوں سے نفرت، حسد، دشمنی جیسی آگ اپنے دل میں پالتا رہے گا وہ اپنی اسی آگ میں دنیا میں بھی جلے گا اور آخرت میں بھی یہی آگ لے کر دوزخ میں داخل ہوگا۔ پیارے ساتھیو! یہ بات غور طلب ہے کہ اگر آج اس دور میں بھی تمام انسان ایک دوسرے کے لیے بے لوث محبّت کے جذبات پیدا کرلیں اور ایک دوسرے کے مخلص خیر خواہ بن جائیں تو یہ دنیا بھی جنّت کا سماں پیش کر سکتی ہے۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
طیّبہ خلیل
بحرین

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُم ۔ دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف

fastabiqu

آج کل دنیا نفسا نفسی،مادیّت پرستی  ، کلاس سسٹم کی تفریق یعنی کہ  امیر غریب کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق حتّیٰ کہ اسکول بھی طبقاتی نظام پر چل رہے ہیں۔ کون ڈگری لے کر اونچا عہدہ حاصل کرتا ہے ۔ کس کے پاس مہنگی گاڑی ہے۔ کس کی بیوی خوبصورت اسمارٹ ہے۔ کس کا شوہر ہینڈسم اور امیر ہے۔ کس کے بچے مہنگے انگریزی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ گھر بار اور اس کی زیب و آرائش کیسی ہے۔ کون زیادہ کماتا ہے۔ فنکاروں کا موازنہ بھی ان کی مالیاتی قدر کی بنا پر کیا جانے لگا ہے۔ کس کی زیادہ فین فالؤنگ ہے۔ کون زیادہ مشہور ہے۔ غرض یہ کہ آج کا انسان دنیا کی اصل متاع و قیمت سے اندھے پن کا شکار ہے۔ وہ اس چند روزہ فانی دنیا کو اس قدر سطحی قسم کی محصولات کی بنیاد پر اس کی اوقات سے زیادہ اہمیت دیے چلا  جا رہا ہے۔ بغیر یہ سوچے کہ دنیا کے مال و متاع کو حاصل کرنے کی کوشش کتنی بے سود اور حقیر ہے۔ اس مختصر سی زندگی میں وہ کتنے حقیر خواب انکھوں میں سجائے بیٹھا ہے۔ ریٹائرمینٹ کے بعد یورپ کی سیر کو چلا جاؤں۔ زیادہ سے زیادہ جائیداد، زمینیں، سونا اور دنیاوی مال و متاع حاصل کر لوں۔ غرض یہ کہ اس مادیّت پرستی کے دور میں بس یہی کچھ اہم سمجھا جانے لگا ہے۔ اس دوڑ میں مسلمان بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ وہ بھی اس نظامِ دجل میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں ۔

اس کے بر عکس اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو لہو و لعب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو کوئی اس دنیا کے متاع کا طالب ہوتا ہے اسے ہم دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں۔ اللہ کے پاس تو آخرت اور دنیا دونوں کا ہی اجر ہے۔ یہ تو طالب پر منحصر ہے کہ وہ طلب کیا کرتا ہے۔   جبکہ اللہ تعالیٰ ہمیں کس معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کے لیے کہہ رہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے سورہ حدید کی درج ذیل آیات کا  اردو مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ قرآن 57:20,21

جہاں بھی مسابقت ہوتی ہے تو پھر  نیّت ، کوشش اور کارکردگی کے لحاظ سے درجہ بندی بھی کی جاتی ہے۔ اس آیت پر غور و فکرکرنے سے مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ تو یہاں کھلا چیلنج دے رہے ہیں سب انسانوں کو کہ آپس میں نیک کاموں کے کرنے کی دوڑ لگاؤ اور پھر میں فیصلہ کروں گا کہ کون اوّل آتا ہے کون دوم اور اور اس کے بعد باقی درجات۔ آج دنیاوی امتحان میں فیل ہونے پر اتنی شرمندگی ہوتی ہے تو سوچیں آخرت کے امتحان میں فیل ہو جانے پر کس قدر ندامت، پشیمانی اور زود رنجی کا سامنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں دوزخ کا عذاب الگ۔ اس کے برعکس اللہ کے رستے میں مسابقت کر کے اوّل آنے والے کو کیا عظیم خوشی نصیب ہو گی۔ کیا دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی یا خوشی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

پیارے ساتھیو! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا عمل نورِ توحید کو دنیا میں پھیلانا ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ کی راہ میں مسابقت کو آپ صرف ظاہری فرائض، سنّتوں اور نوافل سے ہی منصوب نہ کر لیں۔  ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺکے مشن کو اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق نفع اور تقویّت پہنچانا ہی  اللہ کی اصل  مدد کرنا ہے۔  اسی کے لیے کوشش اور عمل درکار ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو چند لوگوں کی مکمّل ظاہری  دین داری سے کیا لینا دینا جبکہ دینِ اسلام کی روح; توحید کی عظمت ، رفعت اور برتری سے ہی غافل رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت کے ساتھ حق بات کو پہچاننے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

طیبہ خلیل

بحرین

سورة العصر ۔ بے شک انسان خسارے میں ہے

alasar

سورة العصر قرآنِ حکیم کی جامع ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔

عصر کے وقت کی قسم (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (3

زیادہ تر مفسّرین نے عصر کو زمانے کا مطلب دیا ہے۔ مگر یہ عمومی طور پر زمانے کا مطلب رکھنے کی بجائے ایک خاص زمانے کی طرف اشارہ ہے۔۔ آئیے اس زمانے کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ اس پوری دنیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجود میں آنے سے لے کر قیامت تک صرف ایک دن کا وقت دیا گیا ہے۔ تو فجر کے وقت حضرت آدم ع زمین پر اتارے گئے۔ اور اس کے بعد آنے والے رسولوں اور قوموں کو عصر تک کا وقت دیا گیا۔ اور پھر خود حضرت محمد ﷺ  الیوم الدّنیا میں عصر کے وقت تشریف لائے۔ اس لیے امّتِ محمّدی کو عصر سے مغرب تک کا وقت دیا گیا ہے۔ مغرب کا وقت شروع ہوتے ہی اس دنیا کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا اور قیامت برپا کر دی جائے گی۔ مغرب سے عشاء کے وقت تک حساب کتاب ہو گا اور عشاء کے بعد ہر کوئی اپنے اپنے ٹھکانے جنّت یا دوزخ میں یا تو آرام فرمائے گا یا پھر رسوا کن عذاب سے دوچار ہو گا۔

عصر اور مغرب کا وقت اتنا قلیل ہوتا ہے کہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ ہمارے پیارے نبی  نے عصر اور مغرب کے درمیان سونے سے بھی منع فرمایا ہے۔ والعصر؛ اللہ تعالیٰ نے عصر کے زمانے کی قسم کھائی ہے۔ اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاس وقت بہت قلیل رہ چکا ہے جو کہ گھڑی کی ہر ٹِک ٹِک کے ساتھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہر ایک انسان خسارے میں رہے گا۔ یعنی کہ لوگوں کی کثیر تعداد عمل کے وقت کے اس قدر قلیل ہونے سے غفلت میں رہے گی۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ، موج مستی، فَن ٹائم، ہلّہ گلّہ زیادہ تر لوگ یہی کرتے نظر آ رہے ہیں۔  بہت کم لوگ ہی وقت کی شدید کمی کا احساس رکھتے ہوئے عمل کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

ایسے وقت میں سب کے سب لوگ خسارے میں رہیں گے الّا وہ لوگ جو یہ چار کام کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے۔

١۔ ایمان لائیں گے۔ اللہ پر، اس کے وعدوں پر ،اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر ، اس کی کتابوں پراور روزِ قیامت پر

٢۔ صالح اعمال کرنے کی کوشش اور فکر میں لگے رہیں گے اور عمل سے غفلت کا شکار نہیں ہوں گے۔

٣۔ ایک دوسرے کو حق بات کی تلقین کرتے رہیں گے۔ حق بات ہدایت کی ایسی بات کو کہتے ہیں جو سچی ، پر تاثیر اور آسان ہو اور فوری طور پر دل کو نرم کر کے اس پر اپنا اثر ڈالے۔

٤۔ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں گے کہ دیکھو یہ مصائب، پریشانیاں، مشکلات صرف اتنے ہی قلیل عرصے کے لیے ہیں جتنا  عصر سے مغرب تک کا وقت۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ وہ زمین میں بھی اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہمیں اقتدار دے گا اور اگر ہم وہ وقت نہ بھی دیکھ پائے تو ہماری کوشش اور صبر کا عظیم انعام ہمیں آخرت میں دے گا۔

پیارے ساتھیو! صریح خسارے سے بچنے کے لیے ان میں سے کچھ کام نہیں بلکہ یہ چاروں کام کرنے پڑیں گے تب ہی قیامت کے دن کی ذِلّت اور رسوائی سے بچ سکیں گے۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی ذمہ داری ہم پر ہی ڈالی گئی ہے اس ذمہ داری کو کسی نہ کسی کو تو اٹھانا ہی پڑے گا ورنہ کسی نہ کسی مخلص جماعت میں شامل ہو کر اپنی صلاحیت، قابلیت، استعداد اور استطاعت کے مطابق نورِ توحید پوری دنیا میں پھیلانےمیں اپنا  حِصّہ ڈالنا ہی ہو گا۔ اپنے آپ کو عظیم خسارے سے بچانے کا صرف اور صرف یہی طریقہ ہے۔

اللهمَّ لا تجعلنا مِنَ الخاسِرين

طیبہ خلیل – بحرین

سورة الّیل سے میں نے کیا سبق سیکھا؟

Surahal-layl

سورة الّیل ان مختصر سورہ میں سے ہے جس نے مجھے بہت متاثر کیا ۔ اس سورہ کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

قَسم ہے رات کی جب کہ وہ (دن کو) ڈھانپ لے۔ (1) اور قَسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہو جائے۔ (2) اور اس ذات کی قَسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ (3) یقیناً تمہاری کوششیں مختلف قِسم کی ہیں۔ (4) تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور اللہ کا تقوٰی اختیار کیا (5) اور احسن بات – الحُسنیٰ کی تصدیق کی۔ (6) تو ہم اسے آسان راستہ کیلئے سہو لت دیں گے۔ (7) اور جس نے بُخل کیا اور (خدا سے) بےپرواہی کی۔ (8) اور احسن بات – الحُسنیٰ کو جھٹلایا۔ (9) تو ہم اسے سخت راستے کی سہولت دیں گے۔ (10) اور اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہ دے گا جب وہ (ہلاکت کے) گڑھے میں گرے گا۔ (11) بےشک راہ دکھانا ہمارے ذمہ ہے۔ (12) اور بےشک آخرت اور دنیا ہمارے ہی قبضہ میں ہیں۔ (13) سو میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے۔ (14) اس میں وہ داخل ہوگا(اور جلے گا) جو بڑا بدبخت ہوگا۔ (15) جس نے جھٹلایا اور رُوگردانی کی۔ (16) اور جو بڑا متّقی ہوگا وہ اس سے دور رکھا جائے گا۔ (17) جو پاکیزگی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے۔ (18) اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے۔ (19) بلکہ وہ تو صرف اپنے بالا و برتر پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے۔ (20) اور عنقریب وہ اس سے ضرور خوش ہوجائے گا۔ (21

سورہ الّیل کے اسباق

اللہ تعالیٰ نے پہلے رات کی قسم کھائی اور پھر دن کی۔ بے شک رات دن سے پہلے ہی وجود میں آئی کہ جب سورج نہیں تھا تو ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورج کی تخلیق کی تو دن کا وقت کرّہ ارض پر ظہور پذیر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر نر اور مادہ کی قسم کھائی۔ اور یقینا یہ ایک بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑوں میں پیدا کی۔ ہرزندہ مخلوق، نباتات اور ہر غیر زندہ مخلوق جن کو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے سب کےسب جوڑوں کی شکل میں موجود ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح انسان خواہ نر ہو یا مادہ کی کوشش کا ذکر کیا۔ بے شک ہر کوئی اپنی اپنی کوشش کر رہا ہے۔ مگر یہ کوشش کتنی نفع بخش اور سہل  ثابت ہو گی اس کا دارومدار ٣ افعال پر ہے۔

١۔ اللہ کے راستے میں مال دینا

٢۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا

٣۔ الحُسنیٰ یعنی سب باتوں میں سے بہتر یا احسن بات کی تصدیق کرنا۔

 اللہ تعالیٰ نے ان تین کاموں کے کرنے پر زندگی کے راستوں کو سہل اور آسان بنانے کا وعدہ کیا ہے۔اللہ کے رستے میں مال دینا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا مطلب تو ہم سب ہی جانتے ہیں۔ ان میں سے تیسری بات یعنی کہ احسن بات کی تصدیق کرنا؛ یہاں پر آ کر بہت سے لوگ مار کھا جاتے ہیں۔ سب باتوں میں سے بہتر بات کی تصدیق کرنے میں کیا وجوہات آڑے آ جاتی ہیں۔

ہ۔ لوگوں کی کثیر تعداد احسن بات پہچان کر بھی اس وجہ سے منہ پھیر لیتی ہےکہ اس بات کو پہنچانے والا شخص ذاتی طور پر پسند نہیں ہوتا۔

ہ۔ یا بات پہنچانے والے شخص سے عداوت، بغض، یا حسد رکھنے کی وجہ سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یا تکبّر کرتے ہوئے رد کر دیتے ہیں کہ میری بات زیادہ بہتر ہے اور دوسرا دنیاوی علم یا عقل کی وجہ سے مجھ سے کمتر ہے۔

ہ۔ یا اس وجہ سے انکار کر دیتے ہیں کہ ان کا اپنا دنیاوی فائدہ خظرے میں پڑ سکتا ہے۔

ہ۔ یا پھر احسن بات کی تصدیق کرنے سے بات پہنچانے والے شخص کوتشہیر مل سکتی ہے اور ایک شقی القلب انسان اپنے علاوہ کسی اور کی تعریف اور تشہیر نہیں چاہتا۔

دنیا میں امن، سکون کے قیام اور انسانیت کی فلاح کے لیے یہ اصول بہت اہم ہے کہ جب بھی کسی پہلے سے بہتربات،  رائے ، نقطہ نظریا  تجویز کا ظہور ہوتو ذہن کو تعصبات سے پاک کر کے اس کی تصدیق کی جائے اور اس کو قابلِ عمل بنایا جائے۔  اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو  یہ ضد یا  مخالفت  ماحول  اور  فطرت کے عوامل اور عناصر کے خلاف صف آراء ہونے لگے گی اور زمین میں خیر و برکت کی بجائے تنگی اور عسرت پیدا ہو گی۔ احسن بات کا انکار کرنے والا شخص خود بھی شقاوتِ قلبی کا شکارہو گا، اس کا دل نرم ہونے کی بجائے سخت ہوتا چلا جائے گا اور اس کے امور میں تنگی اور مشکلات پیدا ہوں گی۔

احسن بات کی تصدیق کرنے والا شخص اپنا فائدہ نہیں دیکھتا بلکہ وہ انسانیت کا فائدہ دیکھتا ہے۔ وہ غرور و تکبّر کرنے کی بجائے بہتر رائے رکھنے والے شخص کی فرمانبرداری اختیار کرتا ہے اور عاجزی کا رویّہ اپناتا ہے۔ اور اس کے اس نیک عمل سے کائنات اور فطرت  خود اس کی بھی  مدد کرتی ہے اور اس کے معاملات میں آسانی ہوتی چلی جاتی ہے۔

شقی القلب انسان اپنا مال بھی بچا بچا کر رکھتا ہے اور بخل کرتا ہے۔ انسانیت کا درد دل میں نہیں رکھتا اور لوگوں کی واضح ضرورت نظر آ جانے کے با وجود اپنے مال پر سانپ بن کر بیٹھا رہتا ہے۔ اس کا دل اللہ تعالیٰ کے حاضر و موجود ہونے سے پردے میں آ جاتا ہے اور پھر اس کے دل سے اللہ کا تقویٰ اور خوف جاتا رہتا ہے۔ ایسے شخص کا مال اور اس کے اعمال اس کے کسی کام نہیں آئیں گے اور وہ اپنی جہنم کا ایندھن خود اس دنیا سے لے کر دوزخ کے گڑھے میں جا گرے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ اس سورہ میں ذکر کر رہے ہیں کہ بے شک راستہ دکھانا، ہدایت دینا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اور ہدایت اس کو ہی نصیب ہو گی جو اپنا دل ہدایت پانے کے لیے تیار اور نرم بنائے گا۔ اور آخرت اور دنیا اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور یہ بے مقصد نہیں بلکہ ایک با مقصد عظیم تخلیق ہے۔

ان سب آیات کے بعد اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے متنبہ کر دیا ہے جو کہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب پانے والی جگہ ہے۔ اس میں صرف وہی داخل ہو گا جو بڑا بد بخت اور شقی القلب ہو گا۔ جس نے حق بات کو جھٹلایا  اور تکبّر کے ساتھ منہ پھیرا۔ اس کے برعکس ایک نیک دل، متّقی اور پرہیز گار شخص اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال اور اپنا نفس پاک کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہےاور اس کو اللہ پر یا لوگوں پر کیا گیا احسان نہیں سمجھتا بلکہ وہ تو صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے۔ ایسے تمام لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انہیں خوش کر دیا جائے گا اور ان کے نیک اعمال کے عوض ان کو ہمیشہ رہنے والی جنّت کا وارث بنایا جائے گا۔

اللهمّ جعلنا منهم

طیبہ خلیل

بحرین

 

کامیاب زندگی کے چار عناصر

 

charjuhatain

تغیرو تبدل زندگی کی ایک مُسلّمہ حقیقت ہے۔ ہم میں سے ہر انسان تعمیری مراحل سے گزر رہا ہے۔ مگر کیا ہماری شخصیت اور زندگی میں عمومی اور خصوصی طور پر ترقی ہو رہی ہے، صورتحال تنزلی کا شکار ہے یا زندگی میں جمود آ گیا ہے کہ نہ سوچ میں تبدیلی، نہ رویوں میں تبدیلی، نہ علم میں اضافہ، نہ مقصدیت۔ زندگی میں جمود موت کے مترادف ہے۔ موت سے پہلے اپنے آپ کو مرنے نہ دیں۔ اپنے آپ سے یہ سوال ہر روز پوچھیں کہ کیا میرا آج کل سے بہتر ہے؟
اپنا آج کل سے بہتر بنانے کے لیے ہمیں کن جہتوں میں کام کرنا ہے۔ بعد از تحقیق یہ چار متفقہ جہات اخذ کی گئی ہیں۔ رابن شرما اپنی کتاب undefined میں ان چار جہتوں کو کامیاب ترین افراد کی اندرونی سلطنتوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ جن کو مندرجہ ذیل نام دیے گئے ہیں۔
١۔ جسم/صحت Health Set
٢۔ ذہن Mind Set
٣۔ دل Heart Set
٤۔ روح Soul Set

Health Set

صحت سے بڑی کوئی نعمت اورنہیں۔ آپ اگر بیمار ہیں تو زندگی سے کسی طور لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ صحت کی نعمت کی قدر کرنے اور اس کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس ضمن میں مسلسل لاپرواہی برتی جا رہی ہے تو بیماری ناگزیر ہے۔ جسمانی صحت اور طبیعییاتی خیریت ماپنے کے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔ اس کو بہتر بنانے کے لیے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق مندرجہ ذیل سوالات آپ کو مدد دے سکتے ہیں۔ ان میں سے جو جوابات نفی میں ہیں یا منفی ہیں ان کو مثبت بنانے کے لیے کام کرنا شروع کر دیں۔
١۔ کیا آپ کو شعور ہے کہ آپ کیا کھا رہے ہیں اور آپ کو کیا کھانا چاہیے؟ کیا مقدار متناسب ہے، غذا متوازن ہے؟ وقت مناسب ہے؟ خوراک معیاری ہے؟ قدرتی حالت سے کتنی قریب تر ہے؟ مفید ہے یا مضر؟
٢۔ آپ جسمانی طور پر کتنے فعال ہیں ؟ کیا آپ ورزش کر رہے ہیں؟ آپ کی روز مرہ زندگی میں کتنی جسمانی حرکت مطلوب ہے؟ کیا چہل قدمی، واک شامل ہے؟ آپ کا باڈی میس انڈیکس undefined نارمل رینج میں ہے؟
٣۔ کیا آپ اچھی نیند لے رہے ہیں؟ سونے کے اوقات میں باقاعدگی ہے؟ مجموعی طور پر دورانیہ چھے سے آٹھ گھنٹے ہے؟سونے کے اوقات موضوع ہیں؟ ضرورت سے زیادہ نیند تو نہیں لے رہے؟ رات کو دیر سے اور صبح دیر تلک تو نہیں سو رہے؟ اپنی نیند کوبہتراورمفید بنانے کے لیے یہ سب نکات تصحیح طلب ہیں۔
٤۔ کیا آپ باقاعدگی سے اپنے لیے فراغت کا وقت نکال رہے ہیں؟ کوئی ایسا کام کر رہے ہیں جس سے آپ ریلیکس کرتے ہیں جس سے آپ اپنی انرجی دوبارہ بحال کر سکتے ہیں؟ فیملی، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، آرٹ ، اچھا ڈرامہ یا فلم دیکھنا، مطالعہ، ڈائری لکھنا وغیرہ۔ کچھ وقت اور کام مخصوص ضرور کریں جس سے آپ پھر سے تروتازہ محسوس کر سکیں۔

Mind Set

ذہن استعمال کرنے سے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ذہنی ترقی میں علم کا حصول، ہنر کا سیکھنا اور اس کا استعمال اور اپنے مائنڈ سیٹ کو مسلسل بہتر بنانے کا عمل شامل ہے۔ آپ کا مائنڈ سیٹ آپ کی نفسیات بھی ہے۔ آپ کے عقائد کتنے پختہ ہیں؟ آپ کو خود پر کتنا یقین ہے؟ آپ کو اپنی صلاحیتوں کا کتنا ادراک ہے؟ ذہنی صلاحیت کو ماپنے کے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ انٹیلیجنس یا ذہانت کئی طرح کی ہوتی ہے۔١٩٨٣ میں امریکی سائیکالوجسٹ ہاورڈ گارڈنر نے ٩ طرح کی ذہانت کی شناخت کی۔ ایسے خصوصی طور پر ذہین افراد کو اس نے مندرجہ ذیل نام دیے۔ نیچر سمارٹ، باڈی سمارٹ، ساؤنڈ سمارٹ، نمبرریزننگ سمارٹ، لائف سمارٹ، پیپل سمارٹ، سیلف سمارٹ،ورڈ سمارٹ اور پکچر سمارٹ۔ ہرانسان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور پرمختلف اعتبار سے ذہین بنایا ہے۔ آپ کو اپنی قدرتی صلاحیتوں کی ملسلسل دریافت میں لگے رہنا چاہیے۔ کیا آپ ذہنی اعتبار سے ترقی کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ذیل میں دیے گئے سوالات کی مدد سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
١۔ کیا آپ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کی جستجو رکھتے ہیں؟ یہ کوئی ہنر ہو سکتا ہے، آپ کی دلچسپی کے موضوع پر کوئی نئی تحقیق کا مطالعہ، اپنی قدرتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی مشق، کام کے سلسلے میں پیش آنے والے نئے مسئلوں کے حل کی تلاش وغیرہ۔ کیا آپ باقاعدگی سے اس طرح کی کم از کم کسی ایک سرگرمی میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں؟
٢۔ کیا آپ کے ادراک، ہنر یا ایٹیٹیوڈ میں بہتری آرہی ہے؟ کیا علم میں اضافہ ہو رہا ہے؟
اپنا  undefined بہتر بنانے کے لیے آپ کو باقاعدگی سے کسی نہ کسی علمی یا عملی سرگرمی میں مشغول ہونا پڑے گا۔ خاص طور پر ان افراد کو جو کہ برسر روزگار نہیں۔ اپنی صلاحیتوں، اپنے ہنر، اپنے علم پر ہی فوکس کر کے اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ اس کوشش میں لگے رہے تو غیرمحسوس طریقے سے آپ ایک دن غیر معمولی علم، مہارت اور قابلیت حاصل کرلیں گے۔

Heart Set

دل کے ساتھ جذبات اور محسوسات کا ارتباط ہے۔ آپ کا مائنڈ سیٹ کتنا بھی مضبوط ہو اگر آپ کے اندر اداسی، غصہ ، نفرت ، مایوسی اور منفی جذبات بھرے ہوئے ہیں تو آپ کی تخلیقی صلاحیت کبھی اپنا بہترین مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ آپ جذباتی طور پر کتنے مظبوط اور مفید ہیں اس کو ماپنے کے لیے جو اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے اس کو undefined یا undefined کہتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے آپ کو ماپنے کے لیے اپنے آپ سے نیچے دیے گئے سوالات پوچھیں۔
١۔ ‏کیا میرا رویہ مجموعی اور عمومی طور پر مثبت رہتا ہے یا منفی؟
٢۔ کیا مجھے غصہ زیادہ آتا ہے یا کم ؟ اگر آپ کو غصہ زیادہ آتا ہے تو آپ کا undefined بہت کم ہے۔
٣۔ ‏کیا مجھ میں اپنے اور اپنے ساتھ موجود لوگوں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت ہے؟ کیا نئے ماحول اور نئے لوگوں کے ساتھ باآسانی ایڈجسٹ کرنا آسان ہوتا ہے یا مشکل؟
٤۔ ‏کیا میں خود منفی طور پر اثر قبول کیے بغیر اپنے لیےاور دوسروں کے لیے مفید حکمت عملی ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہوں؟
اپنا undefined بہتر بنانے کے لیے آپ کو سب سے پہلے مخلص ہونا پڑے گا اپنے آپ سے اور اپنی زندگی میں موجود ہر انسان سے؟ جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لیے پسند کریں۔ یہی تعلیم ہمیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے دی ہے۔ اپنا رویہ مثبت رکھیں۔ غور سے سننے کی عادت اپنائیں۔ ری ایکٹ کرنے کی بجائے ریسپانڈ کرنے کی کوشش کریں۔ جیسا رویہ آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے رکھیں ویسا ہی سلوک آپ ان سے کریں۔ اپنے دل میں کشادگی پیدا کریں۔

Soul Set

روح اَمرِرَبِّی ہے اور اس کا تعلق عالم امر سے ہے ۔ تمام امور اللہ کے حکم سے ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں اور اس ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ آج یہ بات سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ ایک undefined موجود ہے۔ اس دنیا میں جس انسان نے بھی کوئی بھی غیر معمولی کام سر انجام دیا اس کا کشف اسی عالم امر سے حاصل کیا گیا۔ عظیم ترین ذات سے رابطہ ہی انسانی زندگی کو مقصد کی بلندی عطا کر سکتا ہے۔ روحانی لحاظ سے مضبوطی کو ماپنےکے لیے undefined یا undefined کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔
اگر آپ کی ذات کا محور خدا کے علاوہ کچھ اور ہے تو آپ کا undefined کم ہے۔ فانی اور زوال پذیر دنیا کی کسی بھی شے یا ذات کو محور بنانے سے پستی اور کمزوری ہی حاصل ہو گی۔ بلندی حاصل کرنے کے لیے بلند ترین، عظیم ترین ہستی کا ہی سہارا حاصل کرنا ہو گا۔ اسی سے رابطہ قائم کرنا ہو گا۔
اپنے undefined کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر انسانیت یا معاشرے کی بھلائی کے لیے کوئی مقصد تلاش کریں۔ اللہ تعالی کی لکھی ہوئی کتاب میں ہر انسان کا اس دنیا میں آنے کا ایک مقصد درج ہے۔ کچھ انسان اس دنیا میں undefined کا مقصد لے کر آتے ہیں۔ کچھ استاد کا رول ادا کرتے ہیں۔ علم سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔ کچھ نئی ایجادات کرتے ہیں۔ انقلاب لے کر آتے ہیں۔ انسانوں کی کثیر تعداد اس مقصد سے غافل ہی رہتی ہے۔ یہ دعا بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر لیں کہ اے اللہ مجھے میرے عظیم ترین مقصد سے ملوا دے اور مجھے ضائع ہونے سے بچا لے۔
اپنا آج کل سے بہتر بنانے کے لیے ان چار عناصر میں بہتری لانا ضروری ہے۔ ایک خوشگوار، کامیاب اور بھرپور زندگی کے لیے ان خطوط پر حکمت عملی ترتیب دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
طیبہ خلیل
بحرین

ڈیپریشن کی متضاد ذہنی عِلّت – Mania

mania-1

ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے متعلق ابھی بھی ہمارے پاکستان میں آگہی کا فقدان ہے۔ عموماً لوگ ڈیپریشن کے لفظی مطلب سے تو واقف ہیں مگرزیادہ تر نان میڈیکل اورنان بائیولوجیکل وجوہات کوڈیپریشن کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ جہاں ڈیپریشن مثبت انرجی کی شدید ترین کمی کی وجہ سے ہوتا ہے وہیں اس کے مخالف ایک اورکیفیت بھی ہے جوایک ہائی انرجی مینٹل سٹیٹ ہے. اس کی نسبتاً معتدل کیفیت کو undefined اور شدید کیفیت کو undefined کہا جاتا ہے۔ اگر ہائی انرجی اور لو انرجی میں منتقلی ہوتی رہےجس کی وجہ سے موڈ، انرجی، ایکٹیویٹی لیول اور روز مرہ کے کام کاج کرنے کی صلاحیت میں غیر متوقع undefined اتار چڑھاؤ ہونے لگے تو اس کو undefined کہا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کل آبادی کے تقریبا ڈھائی فیصد افراد اس علت کا شکار ہیں۔
چونکہ میں ان کیفیات سے گزر چکی ہوں لہذا اس کے بارے میں آگہی پھیلانے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ ذیل میں undefined اور undefined کی کچھ علامات اور تجرباتی تفصیلات دی جا رہی ہیں جو کہ میں نے متاثرہ عرصے کے دوران محسوس کیں۔ مختلف لوگوں میں یہ علامات کم و بیش ملتی جلتی مگر مختلف تناسب میں پائی جا سکتی ہیں.

ہائیپومینیا سے متاثرہ فرد کی شخصیت میں یکسر ناقابل یقین تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ عموماً ذاتی دلچسپی کے کسی امر کے متعلق ضرورت سے زیادہ ایکسائٹمنٹ کے باعث ٹریگرہوتا ہے۔ مختلف افراد کے لیے undefined مختلف ہو سکتے ہیں۔ جگہ، موسم کی تبدیلی، بے قاعدہ روٹین، زندگی کا اہم واقعہ قریبی رشتے دار کی موت، بچے کی پیدائش، undefined وغیرہ. اس کے شروع ہوتے ہی یا تو نیند ہی نہیں آتی یا اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ نارمل حالات سے زیادہ فعال اور بہت کم نیند کے ساتھ بھی انسان تروتازہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایک یوفوریا طاری ہونے لگتا ہے.ناقابل بیان خوشی اور فرحت کا احساس ہوتا ہے جسے پہلے پہل محسوس کرتے ہی انسان اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز خیال کرنے لگتا ہے۔ ایک خاموش طبع شخص بہت زیادہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اجنبی لوگوں سے بڑی آسانی کے ساتھ بات چیت کرنے اور ضرورت سے زیادہ میل جول رکھنے لگتا ہے۔ نئے نئے خیالات ذہن میں آنے لگتے ہیں اور اتنی تیزرفتاری سے آتے ہیں کہ ایک چیز پر فوکس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بات کرنے کے دوران ایک مضمون سے دوسرے مضمون میں کسی ربط کے بغیرجمپ کرنے لگتا ہے۔ بہت زیادہ جذباتیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں غیر حقیقی اعتماد پیدا ہو جاتا ہےاور اس بارے میں غلط اندازے لگانے لگتا ہے۔ اگر انسان اس عِلّت کی حقیقت سے واقف نہ ہو تو اپنے ذہن میں آنے والے ہر خیال پر فوری ری ایکشن دینے لگتا ہے۔ نت نئے منصوبے اور پروجیکٹس شروع کرنے،غیر معقول کاموں اور منصوبوں پر پیسہ خرچ کرنے کی تحریک پیدا ہونے لگتی ہے۔ ارد گرد موجود لوگ جب اس کی باتوں، خیالات اور انرجی سے مطابقت نہیں کر پاتے تو وہ شدید جھنجھلاہٹ اور چرچڑے پن کا شکار ہونے لگتا ہےاور وہ چاہتا ہے کہ جیسے وہ سوچ رہا ہے اس کے مطابق ہی سارے امور پر عملدرامد کیا جائے۔ جسم کو ایک حالت سکون میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ حرکت میں رہنے لگتا ہے۔

ماضی کے واقعات نہایت انوکھے انداز میں نظر آنے لگتے ہیں۔ چیزوں، واقعات، اشخاص اور خیالات کے آپس میں غیر حقیقی لنکس بنانے لگتا ہے۔ زبان میں روانی آجاتی ہے؛ بہت سی باتیں فی البدیہ کہنے لگتا ہے۔ وہ الفاظ جو تحت الذہن ہوتے ہیں جن کا مطلب تو معلوم ہو مگر عام طور پر ان کا استعمال نہ کرتا ہو وہ بھی ادا ہونے لگتے ہیں۔بات کرتے وقت الہامی احساس ہونے لگتا ہے جیسے کوئی بات ذہن میں نہ بھی ہو وہ بھی ادا ہو جاتی ہے۔ اپنے آپ کوundefined سمجھنے لگتا ہے۔ اس دوران کبھی اپنے اندر خدائی طاقت یا پیغمبرانہ صلاحیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جو وہ سوچ رہا ہے ویسے ہی ہو رہا ہے جو کہ حقیقت میں ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ لمحات اور واقعات میں undefined محسوس ہونے لگتی ہے۔ کبھی کبھی undefinedا ، سینے میں undefined محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے دماغ کے سارے بلب روشن ہو گئے ہوں. وقت ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے. کھانے پینے میں دلچسپی یا تو کم ہو جاتی ہے یا اس کی کوئی ہوش نہیں رہتی۔ سوشل میڈیا پرغیر فعال افراد یکسر ضرورت سے زیادہ پوسٹس، سٹیٹس اپ ڈیٹس، اور غیر معقول شیئرنگ کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں خطرناک جنسی رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اورعلامات بھی ہو سکتی ہیں جس کے بارے میں آپ مزید سرچ کر سکتے ہیں ۔

ان میں سے کچھ کیفیات اگر مناسب حد تک ایک انسان میں ایک عرصے تک موجود رہیں تو ان سے بے پناہ تعمیری فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں مگر ان کیفیات میں شدت آجائے تو انسان اپنی جسمانی ضروریات، اپنے ماحول اوراپنے اہم رشتوں سے نابلد ہو کر ایک فرضی تخیلاتی دنیا آباد کر لیتا ہے جس کے کردار ایسے ناشناسا لوگ بن جاتے ہیں جن سے آپ کا کوئی براہ راست تعلق تو نہ ہو فقط آپ زندگی میں ان سے متاثر ہوئے ہوں یا سوشل میڈیا کے توسط سے انہیں جانتے ہوں۔ انسان کا موجودہ حقیقت سے تعلق منقطع ہوجاتا ہے اورکچھ عرصے تک undefined کا شکار ہو سکتا ہے۔
عموما ایسی علامات کو پاکستان میں جنات کا اثر یا جادو سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کا میڈیکل علاج کروانے کی بجائےلوگ پیروں، فقیروں کے جھمیلوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کے مطابق یہ حالت دماغ میں موجود ھارمون ڈوپامین کی زیادتی یا کیمیکل undefined کی وجہ سےواقع ہوتی ہے۔ ایسی ادویات تیار کی جا چکی ہیں جو برین ہارمونز کو بیلنس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس ضمن میں سائیکاٹرسٹ افراد سے مدد لی جا سکتی ہے۔
اگر آپ کو اپنے ارد گرد موجود کسی فرد کی شخصیت میں ایسی کوئی یکسر تبدیلی نظر آئے تو ضرور اس کے لواحقین کو اس خدشے کے بارے میں آگاہ کریں کیونکہ عین ممکن ہے ان کو اس ضمن میں پہلے سے آگہی نہ ہو۔
طیبہ خلیل
بحرین

غیر اسلامی ممالک میں چہرے کا پردہ

chehraykaparda

مغرب اور غیر مسلم ممالک میں اسلاموفوبیا اس قدر بڑھ رہا ہے کہ اب تو نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ نقاب پوش یا حجابی خواتین کو غیر مسلموں کی طرف سے سرعام ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ ممالک میں تو سکارف تک بین کرنے کے لیے قومی عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔

 ایسے لوگ جو اسلام کا غلط اور انتہا پسند نقطہء نظر دکھائے گئے ہیں وہ جب مسلم خواتین کو نقاب کے پیچھے دیکھتے ہیں تو وہ ان کوکسی دوسری ہی دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں. وجہ یہ کہ وہ کسی طرح بھی ان سے ریلیٹ اورکنیکٹ  نہیں کر پاتے. کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس لباس پہننے پر، گھروں میں قید ہو رہنے پر مجبور کی گئی ہیں۔ شاید یہ بات کچھ خواتین کے لیے صحیح ہو مگر ایک کثیر تعداد ان خواتین کی خود اپنی مرضی سے اللہ کی خاطر اس کا حکم سمجھ کراپنا چہرہ چھپاتی ہیں۔ واضح رہے یہاں پر بات صرف چہرہ چھپانے کی کی جارہی ہے۔ جسے پہلے تو مذہبی سکالرز فرض کا درجہ دیتے تھے مگر پھر تحقیق کے بعد اس نقطہ نظر میں نرمی اختیار کی گئی۔ اور اب اسےفرض تو نہیں البتہ پسندیدہ اور تقوی سے قریب تر خیال کیا جانے لگا ہے۔

آزادانہ طریقے سے لباس پہننے اور زیب و زینت اختیار کرنے والی مسلم خواتین کو باپردہ خواتین کی طرف سے بےحیائی اور غیر متّقی ہونے کا لیبل لگایا جاتا ہے یا کم از کم ان کا ذہن خود بخود ایسےجج کرنے لگتا ہے۔ اس کے متضاد نقاب پوش خواتین کو undefined اور بیک ورڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں جو فاصلہ ان دو مسلم خواتین  کے گروہوں میں نظر آتا ہے یہ فاصلہ غیر مسلم خواتین اور نقاب پوش خواتین کے درمیان مزید گہرا اور طویل ہو چکا ہے یہاں تک کہ وہ ایک دریا کے دو مخالف سمت کے کناروں پر کھڑی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان ایک رشتہ undefined کا بھی تو تھا وہ کہاں گیا؟ کیا ایک مسلم عورت سے صرف اس کے شوہر، اس کے بچوں، اس کے والدین اور خاندان یا حلقے کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب ہے؟ بہت سی نقاب پوش خواتین علمی لحاظ سے غیر معمولی قابلیت رکھتی ہیں ان کی بدولت غیر مسلم عورتوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے مگر وہ تو ایک بلند و بالا دیواروں والے بند قلعے کی مانند خود تک رسائی کا راستہ بند کیے ہوئے ہیں.

اسلام اعتدال پسند مذہب ہے اور ہمیں اُمّتِ وسط بنایا گیا ہے۔ وسط کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاملات میں ایکسٹریم چوائس  کی بجائے مِڈل وے اختیار کیا جائے۔ اس اصول کے موافق جو خواتین ماڈیسٹ ڈریسنگ کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں ان میں سے مظبوط عقیدہ اور اخلاقیات سے لیس خواتین اپنے کردار کی وجہ سے غیر مسلم خواتین کو ایک بہتر اور موثر اسلام کی دعوت دے رہی ہیں ۔ جو کہ ان کی کردار کی مضبوطی، نفسِ مطمئن اور اخلاقی بلندی کی وجہ سے ان کے مذہب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتیں۔

اسلام کے بنیادی عقائد اور بنیادی تعلیمات کے علاوہ کچھ احکامات میں حکمت بھی مطلوب ہے اسی وجہ سے احکامات بتدریج نازل ہوئےاور پردے کے احکام کے نازل ہونے کا پس منظر اور اس کا وقت بھی اپنے اندر حکمت لیے ہوئے ہے ۔بے شک امہات المومنین نے پردے کے احکامات نازل ہونے کے بعد اپنے جسم کے ساتھ اپنا چہرہ بھی غیر محرم مردوں سے چھپایا ہو گا کیونکہ ان کو امت کی ماوؤں کا درجہ حاصل تھا اور آپ ص کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا جائز نہ تھا۔ مگر قرآن کے احکامات میں مسلم اورمومن خواتین کے لیے لچک پائی جاتی ہے اور ان کو جسم اور خصوصا سینہ ڈھانپنے ، تبرج سے بچنے اور ظاہری زیب و زینت کے سوا جسم کی زیبائش ظاہر نہ کرنے کا اصول دیا گیا ہے۔ احادیث سے ہمیں ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ خواتین چہرے کے پردے کے بغیر بھی اسلامی معاشرے میں موجود تھیں۔ جبکہ پردے کے احکام سے پہلے تو سب کو علم ہی ہے کہ لباس کی کیا صورت عرب معاشرے میں رائج تھی.

اگر ایک خاتون پانی میں ڈوب رہی ہو اور اسے بچانے کے لیے ایک مسلم مرد ہی موجود ہو تو کیا وہ یہ سوچے گا کہ چونکہ ایک غیر محرم عورت کو ہاتھ لگانا گناہ ہے تو اس کو ڈوبنے سے بچانا بھی گناہ شمارہو گا۔ یہ تو ایک بہت سادہ سی بات ہے کہ یقینا ایسی صورت حال میں ایک زندگی بچانا ہی سب سے اہم بات ہے۔ اس وقت غیر محرم عورت کو ہاتھ نہ لگانے والا اصول لاگو نہیں ہو گا۔

اب اسی صورت حال میں کچھ تبدیلی کرتے ہیں. ڈوبنے والے وہ لوگ ہیں جو کہ لا الہ الا اللہ سے واقف نہیں ( جو کہ دوزخ سے بچائے جانے اور جنت میں جانے کا کم از کم کرائیٹیریا ہے ) اور بچانے والے مسلمان ۔ سوچیں کہ کتنی بڑی تعداد ہےغیر اسلامی معاشرے میں ان لوگوں کی جو عقیدہ توحید سے ہی واقف نہیں یا پھر اس سے واقف ہونے کے باوجود ہزار ہا کشمکش کا شکار ہیں۔ ہم سب مسلم مرد اور عورتیں داعی الا اللہ کی ذمہ داری دیے گئے ہیں ۔ ایسے میں اگر مسلم خواتین اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ہوں گی جو ایک انسان کی پہلی شناخت ہے تو غیر مسلم عورتیں کیسے انہیں اپروچ کر سکیں گی،  ان کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس کر سکیں گی گھل مل سکیں گی یا ان کی سلیم فطرت، تمانیت اور پر وقار شخصیت سے متاثر ہو سکیں گی اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کی دعوت دی جاسکیں گی کہ جس کو صرف زبان سے پڑھ لینے پر بھی ہمارے نبی ص نے اپنے چچا کے لیے اللہ تعالی سےجہنم سے بچائے جانے کی سفارش کرنے کی امید رکھی۔ اسلام کا نصب العین اجتماعی فلاح اور کامیابی ہے صرف چند لوگوں کی مکمل دین داری مقصود نہیں ۔ تو کیا ایسے میں جب معاشرے میں اس قدر ضد موجود ہو؛ ایمانیات اور عقائد پر مساوات پہلا ہدف نہیں ہونا چاہیے ؟

تمام مومن عورتیں اللہ کا تقوٰی اختیار کرنے کی نیت سے چہرہ چھپاتی ہیں اور بے شک وہ عزت دی گئی ہیں مگر کیا کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ کہیں یہ عزت اور حرمت لا الہ الا اللہ کی عزت اور حرمت سے زیادہ تو نہیں بڑھا دی گئی ۔ کیا ایک مومن عورت کے قابل شناخت اور باآسانی اپروچ ایبل ہونے سے اگر لا الہ الا اللہ کا پیغام ایک بھی غیر مسلم عورت (یا باذن اللہ بہت بہتیروں تک) پہنچ جائے اور وہ جہنم کی آگ سے  بچا لی جائے توکیا یہ زیادہ افضل بات ہو گی یا ایک ایسی خاتون کا صرف اپنے ہم عقیدہ حلقے میں اصلاح کی کوششیں کرنا زیادہ افضل ہو گا۔ فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ غیر مسلم خواتین سے میل جول بڑھا کر انھیں اسلام کے بنیادی عقائد اور اخلاقی نظام سے روشناس کروایا جائے. اگر اللہ کے لیے اپنے نفس پہ جبر کرکے چہرہ چھپانا باعث تقوٰی خیال کیا جاتا رہا ہے تو کیا اللہ کی خاطر چہرہ ظاہر کرنے کی ہمت نفس کے خلاف جہاد شمارکی جا سکتی ہے۔؟ کیا ہم اسلام کے عقائد اور احکامات کو اس کی قرانی ترتیب اورپرائیوریٹی کے مطابق دیکھ رہے ہیں یا سیکنڈری باتوں کو پرائمری کا درجہ دے کر پرائمری تعلیم بھی مشکل بنا دی گئی ہے۔؟

یہ تحریر میری اپنی ذاتی انسائٹ پر مبنی ہے. میں نے صرف اپنے اندر کا سچ پہنچانے کی کوشش کی ہےاور میں سمجھتی ہوں کہ اس سے بہتر سوچ موجود ہو سکتی ہے جو کہ شاید فی الحال میرے علم میں نہ ہو۔.میرے خیال میں ہمیں بطورامت  ایک نئی سوچ اور معاملات میں حکمت کا عنصر ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

طیبہ خلیل – بحرین

زندگی بدلنے کے لیے سوچ بدلیں

Feelings

ہم اکثر یہ باتیں کہتے سنتے رہتے ہیں کہ فلاں کی کسی بات نے میرا سارا موڈ خراب کر دیا یا کسی وجہ سے سارا دن برا گزرا ۔ کسی پل چین نہیں آ رہا، ذہنی سکون نصیب نہیں ، خوشی جیسے روٹھ سی گئی ہے. اسی طرح کی بہت سی ان کہی باتیں اور خیا لات بھی جو ہمارا ذہن بُنتا رہتا ہے  جیسے کسی سے کوئی امید باندھ لی اور پوری نہ ہونے پر دل بہت کڑھتا رہا۔ ماضی کی تکلیف دہ باتوں کو سوچ سوچ کر حال کو بھی جمود کا شکار کر لینا۔ مستقبل کی فکر پال رکھنا۔ اپنی خوشی کو شرائط سے مشروط کر لینا کہ اگر کوئی کام ہو سکا تو تب ہی سچی خوشی نصیب ہو گی۔ کوئی کام جس کو کرنے کی حاجت یا خواہش ہو اس کے بارے میں یہ سوچ رکھنا کہ مجھ سے نہ ہو پائے گا۔ لوگوں کی رائے اور رويّوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور ان کو خوش کرنے کی کوشش میں خود کو تھکا دینا۔

مثال کے طور پرکچی عمر کی نئی شادی شدہ خواتین عموماً اپنا بہت سارا وقت نئےقائم ہونے والے رشتوں سے  توقعات پالنے میں اور پھر ان کے پورا نہ ہونے کا غم غلط کرنے میں گزار دیتی ہیں۔ شوہر نے فون نہیں کیا، تعریف نہیں کی، آنکھ بھر کے دیکھا نہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پراپنے آپ کو بہت بڑے صدمے سے دوچار کر لیتی ہیں اور خود سے ہی وجوہات بھی اخذ کر لیتی ہیں.

اگر گہرائی میں جا کر ایسے رويّوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ماخذ صرف اور صرف ایک غلط نظریہ ہے کہ ہماری  فیلنگزکو بیرونی محرّکات کنٹرول کرسکتے ہیں ۔ جبکہ دراصل جس طرح کے بھی جذبات یا محسوسات سے ہمارا دل و دماغ دوچار ہوتا ہے وہ سو فیصد موجودہ لمحے میں ہماری سوچ کی پیداوار ہے۔ ہماری سوچ کے علاوہ کسی طرح کے بیرونی محرّکات ان کا سبب ہر گز نہیں ہوتے۔

 ہماری زندگی میں ہر وہ شے جسے ہم نے اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ہماری فیلنگزکو کنٹرول کریں یا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پاس یہ طاقت رکھتی ہیں. خواہ وہ کوئی انسان ہو، کوئی صورتِ حال ، کوئی مسئلہ ، کوئیمادی چیز جو ہماری ملکیت ہو ، ماضی یا کچھ بھی وہ حقیقت میں ایک الٰہ یا بت ہے  جو ہمارے نفس نے تخلیق کر رکھا ہے۔ جب کہ زبان سے یہ کہتے ہیں کہ کوئی الٰہ نہیں سوائے اللہ کے مگر اپنے آپ کو اس ایک ذات کے حوالے کرنے کی بجائے ان بتوں کے حوالے کیے رکھتے ہیں کہ جس ڈگر سوچ لے کر جاتی ہے وہیں وہیں چل پڑتے ہیں اور اپنے بوجھ میں خود اضافہ کیے رکھتے ہیں۔ جبکہ وہ تو ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ جیسے ہی ہم اپنی تخریبی سوچ کو خاموش کروا کر موجودہ لمحے میں اپنی توجہ مرکوز کریں گے تب ہی ہم اِحسان کی کیفیت کو پا سکیں گے کہ گویا ہم دل کی آنکھ سے اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا پھر اس احساس سے خشیت محسوس کر سکیں گے کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

 اس نظریے کی روشنی میں اپنے ذہن اور نفس کا محاسبہ کرنے سے ہم اپنے آپ کو بہت سی منفی، تخریبی اور غیر تعمیری خیالات اور ذہنی تکالیف سے بچا سکتے ہیں۔ جتنی گہرائی اور شفافیت سے اس سچ کو سمجھنے لگیں گےاسی قدراپنے ماحول اور معاملات کو حقیقت سے قریب تر یا عین مطابق دیکھ پائیں گے۔ اور یہ جان لیں گے اپنی خوشی، نا خوشی، ذہنی پستی اور بے چارگی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ باہر سے کوئی چیز ہماری حالت تبدیل نہیں کر سکتی سوائےاس کے ہم خود اپنی سوچ کو تبدیل کر کہ اپنی دنیا بھی تبدیل کر لیں.نفع بخش علم حاصل کرنے ، کائنات میں غوروفکرکرنے,  اللہ کا ذکر کرنے,اپنی ذات سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے اور زندگی کا مقصد بنانے سے یہ دنیا کب اور کیسے تبدیل ہو جائے شاید ہمیں اس کا اندازہ بھی نہ ہو۔

 طیبہ خلیل