بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت

قرآن کا بندۂ مؤمن ایک ایسی شخصیّت ہے جو کہ  نفس کا اطمینان  ، دل کی سلیمت، روح  تک رسائی اور جسم پر حکومت  کرنے  کی  قوّتیں حاصل کر چکی ہو۔

نفس کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے  مؤمن کو  ایک   undefined   شخصیّت بننا  پڑتا ہے۔ یعنی کہ ماحول میں جو کچھ بھی اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہو رہا ہے  وہ اس کے سامنے سرتسلیمِ خم کرتا چلا جائے اور اس کا نفس راضی بہ رضائے خدا وندی رہے۔ وہ    لوگوں سے الجھنے کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھے اور  اس کے برعکس اپنے ارد گرد لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا چلا جائے۔ بغیر کسی صلہ حاصل کرنے کی نیّت کے عمل کرتا چلا جائے۔   وہ اپنے ماحول میں اپنے نفس کے پرسکون ہونے کے باعث ایسی  وائبز  یا کاسمک انرجی پھیلانے لگتا ہے جس سے ماحول پر سکون بنتا چلا جاتا ہے۔ مؤمن اپنے کسی معاملے کی خرابی کا ذمہ دار دوسروں کو نہیں ٹھہراتا بلکہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیتا ہے کہ انسان اس کے معاملے اور تقدیر میں ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ اس کے معاملا ت کُلی طور پر خالِقِ حقیقی کے پاس ہیں۔ اس بات کو  اپنے اند ر اتارنے کے بعد وہ براہ راست خدا سے رابطہ قائم کر لیتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد اپنے غم کا شکوہ کبھی لوگوں سے نہیں کرتا جیسا کہ حضرت یعقوب ؑ کی دعا ہمیں بتاتی  ہے: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ ۔ میں اپنے غم اور رنج کی شکایت صرف اللہ سے ہی کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی وہ جان لیتا ہے کہ اس کی پریشانی کا باعث اس کی اپنی نفسانی سوچ ہے  اور  اس کی اندرونی مملکت کے باہر کوئی بھی انسان، حالات  یا  اشیاء اس کو پریشان نہیں کر رہیں بلکہ یہ اس کی اپنی سوچ اور طرزِ عمل ہے جس کی وجہ سے اسے پریشانی مل رہی ہے۔ اور قرآن میں واضح طور پر یہ بات دہرائی گئی ہے کہ جو مصیبت بھی انسان کو پہنچتی ہے وہ اس کے اپنے نفس کی بدولت ہوتی ہے ۔  جذبات موجودہ لمحے میں سوچ سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ کسی بیرونی محرّکات کی وجہ سے۔ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔نفس کو مطمئن بنانے کے لیے ماضی اور حال سے نکل  کر موجودہ لمحے میں اپنی توجہ مرکوز کرنی پڑتی ہےکہ ایسا کرنے سے ہی انسان احسان کی کیفیت کو پا سکتا ہے کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ احساس کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

قلبِ سلیم حاصل کرنے کے لیے  حضرت ابراہیم ؑ جیسی حنیفیت درکار ہےاور یکسُو  اطاعتِ خداوندی  کہ اللہ کی ہر آزمائش پر پورا اترے۔ ایسا دل جس میں اخلاص کی دولت  پیدا ہو جائے اور اس میں تمام لوگوں کے لیے محبّت اور خیر خواہی کے جذبات پیدا ہو جائیں۔  ایسا دل جو لوگوں کی فلاح کا حریص بن جائے جو اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری میں بے مثال بن جائے۔ جس میں  حق کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور جو حق بات کو سن کر فوری طور پر سمعنا و اطعنا کہنے والوں میں شامل ہو جائے ۔ وہ لوگوں کے لیے بھی وہی چاہنے لگے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔اور وہ  الحُسنیٰ احسن بات کو بغیر کسی تعصب کے قبول کر لے۔ اس میں سے لوگوں کے لیے بغض، عداوت، حسد   جیسے احساسات  کا خاتمہ ہو جائے۔ اور اس کا دل آئینے کی طرح صاف شفّاف ہو جائے ۔ وہ اپنے فائدے کی بجائے اللہ کے دین کا فائدہ دیکھنے لگے اور ہر خیر کی بات خواہ اس کا پہنچانےوالا کوئی بھی ہو اس کو دوسروں تک پھیلانے کی ذمہ داری کو سمجھنے لگے۔ اس کے دل میں اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی محبّت سب محبّتوں پر غالب آجائے۔

روح  ایک جسمِ لطیف ہے جو کہ ہوبہو انسانی جسم کی ہیئیت رکھتی ہے  اور یہی وہ خدا کی طرف سے پھونکا گیا امرِربّی ہے جو انسان کواس عالم سے جوڑتی ہے جس میں صرف پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب بنی  آدم کی پشتوں سے تمام بنی نوع انسان کو نکالا تو وہ صرف ارواح تھیں اور ان کو جسم ابھی نہیں دیے گئے تھے۔ یہی وہ ارواح تھیں جنہوں نے الستُ بِربِّکُم کے جواب میں بلیٰ یعنی کیوں نہیں کہہ کر اللہ کی اطاعت کا عہد کیا۔ اپنی روح تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اللہ کو ہی مطلوب بنانا پڑتا ہے۔ اپنی زندگی میں سے خود غرضی نکال کر زندگی کا ایسا مقصد تلاش کرنا پڑتا ہے جو کہ اللہ کی عین عبادت کی نیّت سے کیا جائے اور اس میں  خدا کی رضا کے علاوہ کسی اور سے کچھ بھی مطلوب نہ ہو۔ یہی وہ شرک سے پاک  عمل ہے جو اللہ کو اپنے بندوں سے درکار ہے۔

جب ایک بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت ان بنیادوں پر استوار ہو جائے تو اس کے لیے اپنے جسم پر حکمرانی کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ اس کی زبان اسکے قابو میں آجاتی ہے اور انسانی شہوات اس کو اپنی طرف کھینچنے کی کشش کھو دیتی ہیں۔ اس مقام پر آجانے کے بعد  بعید نہیں کہ وہ دنیا میں بھی کسی نہ کسی سطح کی حکومت کا اختیار  یا نیابت ِ الٰہی کے درجے پر فائز کر دیا جائے۔

پیارے ساتھیو، یہی وہ زندہ آرزو ہے جس کو حاصل  کرنے کے لیے سب مسلمین کو اپنے اندر  تڑپ پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔  چھوٹے چھوٹے دنیاوی مقاصدکو پیچھے چھوڑ کر اس اونچی اُڑان کی جُستجو اپنے اندر پیدا کرنے کی سعی کریں۔ کہ اگر یہ مقام حاصل نہ ہو سکا تو اپنی تقدیر خود لکھنے کی بجائے  تقدیر کا پابند ہو کرزندہ لاش کی طرح زندگی گزارنا پڑے گی ۔  زندگی ہدایت کی روشنی سے بے نور  اور موت مرگِ مفاجات  ثابت ہو گی۔اختتام  علّامہ اقبال کی اس دعا کے ساتھ:

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دےیا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے

طیّبہ خلیل۔ بحرین

3 thoughts on “بندۂ مؤمن کی اندرونی سلطنت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.