میں نے اپنی خودی کی تلاش میں کیا سبق سیکھے؟

علاّمہ اقبال کے  پیش کردہ تصوّرِ خودی  کے بارے میں باِذن اللہ اب  پاکستانی نوجوانوں میں بہت ساری  تحریکوں ، خطیبوں ،  اور  نوجوان ٹرینرز کی بدولت آگہی پھیلانے کا عمل جاری ہے۔ یہ انتہائی ضروری علم ہےجو کہ عین اسلامی ہےاور علامہ اقبال نے اس کی انسپریشن قرآن سے لی۔ ہمیں اس اہم تصوّر سے اپنے بچے بچے کو نو عمری سے ہی واقف کروا دینا  چاہیے۔اب تو مغرب والے بھی اس زندہ حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں کہ یہ کائنات بامقصد اور پر عزم انسانوں کی مدد کرتی ہے اگرچہ وہ ابھی عقیدۂ توحید اور اس کی قوّت سے نابلد ہیں۔  میں نے خودی کا لفظ پہلی دفعہ شاید اسکول میں ہی سنا  ہو گا کیونکہ علاّمہ اقبال کا یہ شعر  بچپن سے ہی  سُن رکھا تھا۔

     خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےخودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

مجھے یہ تصوّر کہ اللہ تعالیٰ کا بندے سے خود پوچھنا کہ تمہاری کیا خواہش ہے اس کے مطابق ہی تمہاری تقدیر لکھی جائے گی ؛ نہایت مسحور کنُ  اور حیرت انگیز لگا۔ تب میں نے علاّمہ اقبال کے کلام کو پڑھا بھی نہیں تھا مگر میرے اند ر یہ خواہش پیدا ہو چکی تھی کہ مجھے اس خودی کی تلاش کرنی ہے یا وہ مقام حاصل کرنا ہے  جہاں پر اللہ تعالیٰ انسان کو اختیار دے دیتا ہے اپنی تقدیر خود لکھنے کا۔ یہ انٹرمیڈیٹ کا  سیکنڈ ائیر تھا جب بورڈ کے امتحانات  میں  اردو کے پرچے میں مضمون نویسی کا سوال ۲۰ نمبروں کا ہوتا تھا۔ زندگی میں ابھی تک رٹّے ہی تو لگائے تھے کہ سب کالجوں کی طرح ہمارے کالج میں بھی اسی نقطہ نظر سے پڑھائی کروائی جاتی تھی کہ بورڈ کے امتحانات میں  زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جا سکیں۔ شعروں کی تشریح  ہو یا مضامین یا سیاق و سباق ہر چیز کے رٹّے لگائے جاتے تھے ۔ اب جبکہ سیکنڈ ائیر کا  مضمون نویسی کے سوال کا مسئلہ تھا مجھے اس بات کی پریشانی ہونے لگی کہ کبھی ایک جملہ بھی تو خود سے لکھا نہیں تو پور امضمون کیسے لکھ پاؤں گی۔

پھر یوں ہواکہ ۹ نومبر ۲۰۰۰ کا دن آیا اور ہمارے گھر اخبا ر  آیا جس میں علاّمہ اقبال پر اسپیشل ایڈیشن بھی تھا اور اس کے علاوہ اندرونی صفحات پر تمام کالم ہی علاّمہ اقبال کے بارے میں تھے۔ علاّمہ اقبال  کےبارے میں کثیر مواد دیکھ کر فوری طور پر یہ خیال ذہن میں پختہ ہو گیا کہ مجھے آج کے اخبا ر کی مدد سے علاّمہ اقبال پر ایک متاثر کن مضمون تیار کرنا ہے۔ پھر کیا تھا میں نے پورا اخبار چھان مارا ، اچھوتے جملے نقل کیے، حیران کنُ اشعار لکھے اور جو کچھ بھی اس دن کے اخبار سے نچوڑا جا سکتا تھا میں نے وہ سب نقل کر کے ترتیب  آگے پیچھے کر کے ایک مضمون تیّار کر لیا جس کے پھر زور و شور سے رٹّے لگائے گئے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس سال کالج کے اندرونی  امتحانات میں بھی علاّمہ اقبال کا مضمون آیا  اور بورڈ کے امتحانات میں بھی۔

 خیر یہ مضمون لکھنے کے بعد میرا  علاّمہ اقبال سے ایسا تعارف ہو چکا تھا کہ میں نے یہ ٹھان لی تھی کہ مجھے اقبال کے کلام کو ترجیحی بنیادوں پر سمجھنا ہے۔میری اس خواہش کے عِوض  اللہ تعالیٰ نے غیرمحسوس طریقے سےمجھے خودی کا سبق سکھا بھی دیا اور یہ پتہ بھی نہیں چلنے دیا کہ میری خودی بیدار کر دی گئی تھی اور اللہ کی مدد میرے ساتھ تھی۔ زندگی میں وہ مقام بھی آئے کہ مجھے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہو بہو اس شعر کے مصداق مجھ سے پوچھ کر ہی میری تقدیر کا فیصلہ کیا ہے۔ البتّہ مجھے یہ احساس شدّت سے غالب رہا کہ زندگی میں جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے یا کر پاؤں گی  اس میں  میرا ذرّہ برابر بھی کمال نہیں ؛ میرے لیے سب راستے اللہ تعالیٰ نے ہی کھولے اور اسی شفیق ذات نے ہی رہنمائی کی۔خودی کے بارے میں جو معلومات ،تجربات اور اسباق میں نے حاصل کیے وہ میں تحریر کرنا  چاہتی ہوں تاکہ اور لوگ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ کیونکہ خودی انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف  سے دیا گیا وہ جوہر ہے جو کسی بھی عام انسان کو نہایت خاص بنانے  کا نسخہ ہے۔ جس کے ذریعے انسان اپنی تلاش کر سکتا ہے ، جو اس کو صحیح معنوں میں جینا  سکھا سکتا ہے۔ جو اس میں خدائی طاقت  کا احساس پیدا کر سکتا ہے ۔ جو اسے غریبی میں بھی بادشاہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ سب اسباق درج ذیل ہیں؛

ہ۔ انسان اپنی تقدیر خود لکھ سکتا ہے اور وہ نباتات و جمادات کی طرح تقدیر کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اللہ کے احکامات کا ہی پابند ہوتا ہے۔

ہ۔ خودی کو پہچاننے والا  اور اس کو حاصل کرنے والاشخص زمین میں اللہ کا نائب اور خلیفہ بن جاتا ہے عین وہ کردارجو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے؛ کہ یہی توجیہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کے لیے فرشتوں کو پیش کی  ۔

ہ ۔صاحبِ خودی کی مدد کائنات خود  کرتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں جُت جاتی ہے۔اور وہ کائنات کی قوّتوں کو مسخّر کر لیتا ہے۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے عقیدۂ توحید کا دل میں اخلاص کے ساتھ   راسخ ہونا ضروری ہے ،پھر اس کے بعد زندگی میں اپنے مقاصد اور منزلوں کا تعین کرنا اور اس کے لیے جدّوجہد کرنا اگلا قدم ہے۔بقول علامہ اقبال خودی کا سرِّ نہاں لاالہ الا اللہ ۔

ہ۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر معاشرے یا انسانیت کی فلاح کا مقصد رکھنے والے کی خودی باقی لوگوں کی خودی سے اعلیٰ و ارفع ہو گی۔ زندگی میں کبھی چھوٹا ہدف طے نہیں کرنا چاہیے کہ جتنی   بلند باڑ ہوتی ہے چھلانگ لگانے والا اتنی ہی چھلانگ لگا  سکتا ہے۔ جتنا بڑا ہدف ہو گا اتنا یا اس سے زیادہ  ہی حاصل ہو گا۔

ہ۔ اپنا  آپ پہچاننے کے لیے آپ کو اس کام کی تلاش کرنا ہو گی جو آپ کو دلی سکون پہنچائے۔ وہ ایک ویژن جو آپ کواس وقت  سکون پہنچانے کا ذریعہ بنے جبکہ  آپ زندگی سے تھکنے لگیں ۔

ہ ۔خودی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے اطاعتِ رسولﷺ ، عشقِ رسولﷺ، رسول اللہ ﷺ سے روحانی نسبت اور ان کے مشن کو اپنا مشن سمجھنا ضروری ہے۔ کائنات تو ہر باعمل فرد کی مدد کرتی ہے مگر کس انسان کی مدد بلند سطح پر کی جائے گی اس کا انحصار  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر ہی ہو تا ہے ۔

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیںکی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

ہ ۔ خودی کے مختلف درجات ہوتے ہیں اور مختلف انسان اپنے مقاصد، ایمان، عمل اور یقین کے مطابق  خودی کے مختلف درجات پر فائز ہوتے ہیں۔

ہ۔ خودی کی کیفیت پالینے کے بعد اپنے نفس کو قابو کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے جو کہ اگر نہ کیا جائے تو اس سے  فائدہ لینے کی بجائے انسان نقصان اٹھا سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ خودی کے لیے رہنمائی پرسکون دل سے ملتی ہے؛ دل جس سے ایک مؤمن کا   اللہ؛ المؤمن ؛السّلام سے رابطہ ہوتا ہے۔ لمحۂ موجود میں دل کی پر سکون حالت ہی صحیح سمت رہنمائی کرتی ہے جبکہ موجودہ لمحے میں نفس اور ذہن میں بھاگنے دوڑنے والے خیالات انسان کو گمراہ کر سکتے ہیں۔  اس کے لیے ضبطِ نفس ضرور ہی سیکھنا پڑے گا۔ اگرنفس قابو میں نہ رہے تویہی کیفیت ایک نفسیاتی یا ذہنی علّت کا روپ دھار لیتی ہے۔

ہ۔ علاّمہ اقبال نے فلسفۂ خودی کا مأخذ قرآن کی درج ذیل آیت کو قرار دیا۔ انہوں نے سوچا کہ انسان اپنی جسمانی ضروریات سے تو غافل نہیں رہتا تو یہ کون سا اپنا آپ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنا آپ بھلانے پر خود انسان کو اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں۔

ہ۔ یہ درج ذیل حدیث بھی فلسفۂ خودی کی تشریح بیان کر رہی ہے۔

ہ۔ خودی کا مقام کبھی خود غرض لوگوں کو نہیں ملتا ۔ یہ صرف مخلص اور انسانیت سے محبّت رکھنے والے اور ان کی فلاح کے حریص لوگوں کو انعام کیا جاتا ہے۔

ہ۔ دنیا میں جس انسان نے بھی کوئی غیر معمولی کام انجام دیا ہے وہ اپنی خودی کی طاقت سے یا تو واقف تھا یا مخلص ہونے کی وجہ سے یہ مقام حاصل کر پایا۔

ہ۔ خودی کی منزلوں کا کوئی کنارہ نہیں ؛ کوئی حد نہیں ۔ جب تک بندہ ٔ مومن کی تلاش جاری رہتی ہے یہ خودی بھی نہیں  مرتی۔ صاحِبِ خودی کو منزل سے زیادہ سفر جاری رکھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے اور وہ نئی منزلوں کی تلاش میں نہ خود رُکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اللہ اس کو روکنا پسند کرتا ہے۔

ہ۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی اور چیز سے محبّت کرنا یا فقر اور استغناء اختیار کرنے کی بجائے غیر اللہ سے حاجت روائی طلب کرنے سے خودی چھین لی جاتی ہے۔اس لیے خودی کی حفاظت کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ گوہرِ یک دانہ ہاتھ سے پھسلنے میں دیر نہیں لگاتا۔

ہ ۔ حالتِ خودی میں انسان اللہ تعالیٰ سے الہامی علم حاصل کرتا ہے اور کبھی کبھاراس کا عمل بھی اس کی مرضی کے برعکس اُس سے صادِرکروایا جارہا ہوتا ہے جبکہ وہ خود اپنے آپ پر تعجب کر رہا ہوتا ہے۔  ایسے میں انسان خود اپنا تماشائی بن کر حیرت کے سمندر میں غرق ہوا جاتا ہے۔

ہ۔ خودی حاصل کرنے کے بعد بھی  مؤمن کُلی عقل و دانش کا حامل نہیں بن جاتا  بلکہ اس کی عقل  جُزوی ہی رہتی ہے ۔جس طرح ایک ادارے کو چلانے کے لیے صرف چیف ہی کی نہیں بلکہ ہر متصل شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت رہتی ہے اسی طرح ایک بیدار خودی رکھنے والے شخص کو اللہ کے علم اور باقی انسانوں کی عقل اور مشورے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔ البتّہ خودی کے عارف میں حکمت ، قوّتِ فیصلہ ، علم العرفان اور فرقان کی صلاحیت  عام لوگوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔  

ہ۔ خودی وہ جوہر ہے جس کو عطا کرنے والا  ربّ العالمین ؛علم ، حیثیت، شکل و صورت، مرتبہ  یا مقام نہیں دیکھتا بلکہ صرف وہ دل دیکھتا ہے کہ اگر وہ صاف شفّاف ہواور خالص توحید رکھتا ہو، مخلص ہو تو خواہ وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو اس کو بھی اللہ کی طرف سے خودی کا عارفانہ مقام دےدیا جاتا ہے۔ایسا شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود معاشرے کے لیے کارآمد اور مفید بن جاتا ہے۔جیسا کہ ایدھی صاحب کی مثال ہی دیکھ لیں۔

ہ۔ خودی کا حامل شخص لوگوں کی محفل میں پیارے نبیﷺ کی طرح برتاؤ کرنے لگتا ہے اور نبی ﷺ کا رنگ خود بخود اس پر چڑھنے لگتا ہے۔ جبکہ تنہائی میں وہ  اپنے اند ر خدائی رحمانی صفات محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز  بھی ہوتا ہے اورخود کو اللہ تعالیٰ  کا قریبی دوست اور ولی بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔وہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے رازونیاز کے ذریعے فی سبیل اللہ جہاد کی تدبیریں کرنے لگتا ہے۔

    خودی کی خلوتوں میں کبریائیخودی کی جلوتوں میں مصطفائی

ہ ۔خودی کی دسترس میں ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  زمین و آسماں ، کرسی ٔ و عرش تمام  مقامات تک خودی کی رسائی ممکن ہے۔

خودی کی زد میں ہے ساری خدائیزمین و آسماں کرسیٔ و عرش

ہ۔ علاّمہ اقبال کے مطابق  آٓخری زمانے کا مہدی بھی وہی ہو گا جس کی خودی سب سے پہلے نمودار ہو گی اوروہ باقی سب انسانوں کی خودی سے اعلیٰ مقامِ خودی حاصل کر نے کی وجہ سے حقیقت ِ انسانیہ کا یہ راز فلسفی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی زند ہ مثال پیش کر کے یہ  علم اور لوگوں میں بھی پھیلا دے گا۔

وُہی مہدی ، وہی آخرالزّمانیہوئی جس کی خودی پہلے نمودار

ہ۔ ایک ایسا صاحبِ خودی جو اپنی غلطیوں سے اپنی اصلاح کرتا رہے، خود کو مزید بہتر بنانے کی کوشش میں لگا رہے اور اپنے نفس کو شترِ بے مہار کی طرح چھوڑنے کی بجائے اپنے نفس پر حکومت کرنے لگے تو یہ بھی ممکن ہے کہ موت بھی اس کو مار نہ سکے۔ یہ علامہ اقبال کا تصوّر ہے اور شاید قرآن کی آیت جس میں شہید کو زندہ کہا گیا ہے اس سے کشف حاصل کیا گیا ہو کہ شاید ایک مضبوط خودی رکھنے والا شخص شہید کا درجہ پا لیتا ہو۔ واللہ اعلم

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکےہو اگر خود نگر و خودگر و خودگیر خودی

ہ۔ ہر دور میں ایک شخص یا گروہ موجود رہتا ہے  جن کی خودی دنیا کے تمام انسانوں سے بلند تر ہوتی ہے اورفی زمانہ ان سے ہی دنیا کی امامت کا کام لیا جاتا ہے اوراللہ کی زمین پر فیصلوں کے اختیارات اللہ تعالیٰ کی طرف سےانہی کو سونپ دیے جاتے ہیں۔ اسی طریق پر اللہ تعالیٰ ترقی کے ادوار کو مختلف قوموں پر پھراتے رہےہیں۔

ہ۔ ایک سچّے مؤمن جس کی خودی بیدار ہو وہ ہر گز بھری محفل میں اپنی تعریف نہیں چاہتا۔ اس کے لیے تمام تعریف اللہ کی ہی ہوتی ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی جلوہ نمائی نہ کی جائے بلکہ وہ خلوت کو جلوت پر ترجیح دینے لگتا ہے۔

سمندر ہے اک بوند پانی میں بندخودی جلوہ بد مست و خلوت پسند

ہ۔ غالِباً  المسیح الدّجّال بھی ایک ایسا ہی شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے کی بجائےاکڑ دکھائے گا اور   اللہ تعالیٰ کی چند صفات اور حضرت آدم ؑ کو سکھائے گئے علوم الاسماء تک رسائی حاصل کر لے گا مگر اس کی اصل کلمۂ خبیثہ ہو گی اور وہ چند دن اپنے کرتب دکھانے کے بعد موم کی طرح پگھل جائے گا یا ایک کمزور اور کھوکھلے درخت کی مانند آندھی کےآتے ہی اکھڑ جائے گا۔

پیارے ساتھیو! یہی وہ اسباق ہیں جو میں نے اپنی خودی کی تلاش میں سیکھے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اشاروں پر غور کیا اور لوگوں کی مجھ سے کہی ہوئی مخلصانہ باتوں، مشوروں، التجاؤں کو معمولی نہیں سمجھا اور ہر پیدا ہونے والی صورتِ حال کے سامنے سر تسلیم ِ خم کرنے کا طریقہ اپنایا اور بہترین نیّت رکھتے ہوئے عمل کی کوشش جاری رکھی۔ میری اسلام کے لیے  ایک کُل وقتی رضا کار بننے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نےمجھے عین وہی راہ دکھائی جیسی میری جُستجو تھی۔ یہی وہ مقصد تھا جس کی میں جوانی کے اوائل سے ہی متلاشی رہی اور یہی وہ  راستہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل کا سکون رکھ دیا ہے۔

طیبہ خلیل– بحرین

2 thoughts on “میں نے اپنی خودی کی تلاش میں کیا سبق سیکھے؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.