سوشل نیٹ ورکس بمثل دورِ جدید کی مساجد

اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی جیسے ہی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے ترقی کرنی شروع کی توآن لائن سوشل نیٹ ورکنگ کا تصوّر وجود میں آیا۔ ابتدا میں جب ٹچ فون سسٹم نہیں ہوتے تھےتو نیٹ ورکنگ کے لیے  آن لائن چیٹ رومزنے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ پھر اس کے بعد میسنجر نامی سافٹ ویئرز پرمختلف ممالک کے لوگوں نے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ بعد ازاں جب ٹچ سسٹم والے موبائل فونز عام اور سستے بکنے لگےتو لوگ اپنے خاندان، دوست احباب اور دنیا بھر سے مختلف لوگوں سے جدید سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی بھی ایجاد بذاتِ خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس کا  استعمال اس کو برا  بناتا ہے۔ میں نے بہت گہرائی میں سوشل نیٹ ورکس کے مقاصد  اور ان کے آج کل ہونے والے مثبت اثرات پر نظر ڈالی تو اندازہ ہو ا کہ ایک ایسا سوشل نیٹ ورک جس میں فتنہ پھیلانے کی  استعداد  کو کنٹرول میں رکھا جا سکے  وہ ہوبہو ایک مسجد کا کردار ادا کر سکتا ہے۔  

مسجد اور سوشل نیٹ ورکس میں مماثلت

اسلام میں مردوں کے لیے نماز مسجد میں ادا کرنا فرض ہے  اس کے پیچھے بنیادی  حکمت یہی ہے کہ ایک بستی، گلی محلّے اور علاقے کے لوگ آپس میں مل جل کر ایک اتحاد قائم کر لیں ۔ کہ وہ پنج وقتہ  آپس میں ملیں تو ایک دوسرے کی ضروریات معلوم ہوتی رہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں کہ وہ شیطان جو لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا چاہتا ہے اس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔ کوئی گرنے لگے تو اسے تھام لیا جائے ۔ ایک دوسرے کو اوپر اٹھایا جائے۔  ایک دوسرے کی حاجات اور پریشانی کو دور کیا جا سکے ۔امر باالمعروف اور نہی عنِ المُنکر کا کام بھی احسن انداز سے کیا جاسکے۔ یہی کام ہو بہو آجکل  وٹس ایپ اور اس سے ملتی جلتی ایپس  کر رہی ہیں ۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ و اصلاح کے کاموں میں آج کل تو کثیر تعداد میں لوگ  اپنے علم اور استعداد کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے حق بات اور حکمت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ قریباً  ہر کمیونٹی کا گروپ بنا ہوا ہے اور یہ روایت بہت مقبول ہو رہی ہے۔ بس گھر کے افراد کے درمیان موبائل فونز کی وجہ سے دوری نہیں آ نی چاہیے  باقی کمیونٹی کی فلاح کے لیے نہایت کار آمد جدید طریقہ ہے۔اور خواتین بھی اپنے گھر کے اند ر بیٹھے بٹھائے ہی ان جدید مساجد کا حِصّہ بنی ہوئی ہیں ۔

ہر سوشل نیٹ ورک کا ایک مزاج ہے ۔ فیس بک لوگوں کے چہروں اوران کی زندگیوں کی رنگینیوں؛ تصویروں ،  ویڈیوزاور تحریروں سے بھر پور ایک دلچسپ  ایپ ہے ۔ بہت سے باا ثر لوگ اس میڈیا کے ذریعے  لائیو آکر لوگوں کو بہت مفید باتیں بتا تے ہیں۔ خواتین نے اپنے گروپس بنارکھے ہیں جس میں بچوں کے مسائل، ازدواجی مسائل، انفرادی مسائل کا حل بڑی آسانی سے مختلف لوگوں کی رائے اور مشوروں سے حاصل ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر انسان کے پاس جُزوی عقل ہے اس لیے اس کو لازماً   اپنی ذات اور عقل کا وہ حِصّہ جو دنیا میں کسی اور کے پاس ہے؛ مطلوب ہوتا ہے تاکہ اس کی زندگی کے خلاء پُر ہوتے رہیں۔ بیشترلوگ  انہی نیٹ ورکس کےذریعے اپنا ادھورا پن دور کر پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ آن لائن بزنس بڑی کامیابی کے ساتھ اسی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے کر رہے ہیں۔

اگر دکھاوا اور خود نمائی کرنے کی بجائے  ان نیٹ ورکس کو انسانیت کی فلاح کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ہی تو وہ  دورِ جدید کی مساجد ہیں جو  دینِ اسلام کا انسانیت کی فلاح اور اتّحاد کا نصب العین ہو بہو پورا کر رہی  ہیں  ماسوا  کچھ بد تہذیب لوگوں اور عناصر کے جو فتنہ، نفرت  ، فحاشی اور منفی جذبات لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔  

ٹویٹراپنی جگہ ایک کارآمد  ایپ ہے جس کا مقصد ہے کہ بس کام کی بات دو تین لائنوں میں لکھ کر  لوگوں تک پہنچا دو۔ ہر انسان کسی نہ کسی الہامی علم کا حامل ہوتا ہے۔ اگرایک بااثر اور اعلیٰ ذہانت رکھنے والا شخص  یہ علم ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے  فوری  شیئر کرتا رہے تو چند لمحات میں ہی  بہت سے  انسان ایک نیک اچھی اور حق کی بات  کا علم حاصل کر کے اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ ایک فرد کو جذبِ باہمی کے اصول کے مطابق باقی انسانوں سے  جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام کا مقصد بھی یہی تو ہے  کہ انسان  اتّحاد اور ولایتِ باہمی کے رشتے کے ساتھ جُڑ جائیں اور حق کی بات پوری دنیا میں پھیلا دی جائے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بندے سے اپنی عبادت مطلوب ہے تو جو کوئی شخص بھی ان ایپس کا استعمال رحمانی مقصد کے ذریعے کرے گا وہ ہوبہو مسلم  امّت کی وحدت اور فلاح کا  مقصد پورا کرنے میں اپنا کردار اد ا کرے گا۔ 

پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے میں نے فیس بک  ایپ کا استعمال ترک کر رکھا تھا جس کی ذاتی وجہ یہ تھی کہ میری ذہنی علّت  مینیا بے قابو ہونے کی وجہ سے میں کچھ عرصے تک  سائیکوسس کا شکار رہی۔ جس کے باعث میں اپنے من کی دنیا کی بے ہنگم  باتیں سوشل نیٹ ورکس پر تیزی سے شئیر کرنے لگی جبکہ میں ایک حقیقی نہیں بلکہ تخیّلاتی دنیا میں موجود تھی۔ اس کے بعد مجھے کچھ عرصہ ڈیپریشن رہا اور میں  نے اپنا بکھرا ہوا وجود دوبارہ جوڑنے کے مقصد سے کچھ عرصےتک فیس بک کی  ایپ کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ ان سوشل نیٹ  ورکس میں  لوگوں کو زندگی میں آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر کچھ صاحبِ اخلاص لوگ تو خوشی محسوس کرتے ہیں مگر وہ لوگ جو اپنی اصل، اپنے روحانی وجود سے جُڑے نہیں ہوتے  وہ ان نیٹ ورکس  سے منفی جذبات اوردوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کا موازنہ کرنے کی  وجہ سے پریشان رہنے لگتے  ہیں۔ چونکہ وہ خود اندر سے خالی پن محسوس کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کو چاہیےکہ  وہ سوشل میڈیا سے کچھ عرصے دوری اختیار کر کے پہلے اپنا آپ اور اپنا اس زندگی میں آنے کا رحمانی مقصد اور اپنی خاص عباد ت کی تلاش کریں تاکہ  وہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں  اپنے حِصّے کی شمع جلا سکیں اور اپنی بہت ہی خاص تخلیق لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اپنی کی ہوئی ذاتی تخلیق ہی وہ جوہر ہے جو انسان  کو  استغنا ، لوگوں سے بے نیازی اور اپنے من کی دنیا کی لذّت سے روشناس کرواتا ہے۔ اگر تمام انسان تخلیق کا جذبہ اور لگن پیدا کر لیں تو معاشرے کا کوئی بھی فرد ادھورا پن محسوس نہیں کرے گا  بلکہ وہ اپنی اور دوسروں کی خودی کی صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے راضی رہے گا۔

میرا ایک خواب ہے کہ پاکستانی شہریوں کا” خودی “کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک بنایا جائے جس کوبنیادی معاشرتی، معاشی، اقتصادی اور دیگر انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک محلے، علاقے، شہر، صوبے اور ملک کے افراد کو آپس میں اور فرد کی سطح سے لے کر حکومت تک کنیکٹ کیا جا سکے۔ اس نیٹ ورک کا ڈیزائن قرآن اور صحیح حدیث  کی اعلیٰ اخلاقیات  پر مبنی ہو اور اس کو فتنہ پھیلانے کی طاقت اور اجازت نہ دی جائے۔ یہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے میں پہلا مؤثر ترین اور تیز ترین قدم ثابت ہو گا۔ پاکستانی مسلمانوں نے اگر ابھی یہ نیٹ ورک نہ بنایا تو اسلام کے احیاء کے دور کو فوراً پہچانتے ہوئے اسلام مخالف قو تیں پاکستان سمیت باقی سر اٹھانے والے اسلامی ممالک کے افراد پر اپنے سوشل نیٹ ورکس بند کر کےان ملکوں کے لوگوں کو  آسانی سے ناکارہ  اور اپاہج بنا سکتی ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کےاس سوشل نیٹ ورک بنانے میں جو افراد بھی اپنا حِصّہ ڈالیں گےان کو دورِ جدید کی سب سے مؤثر، اعلیٰ و ارفع مسجد بنانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔

طیبہ خلیل ۔ بحرین

8 thoughts on “سوشل نیٹ ورکس بمثل دورِ جدید کی مساجد

  1. بہت ہی عمدہ اور لاجواب مضمون۔۔۔ آپ کے خیالات نہایت ہی دلچسپ ہیں اور جدید دور کی ضرورت اور ایجادات میں پیوست ہیں۔۔۔ میں بھی اسی سوچ فرد ہوں۔۔😊

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.