غیر اسلامی ممالک میں چہرے کا پردہ

chehraykaparda

مغرب اور غیر مسلم ممالک میں اسلاموفوبیا اس قدر بڑھ رہا ہے کہ اب تو نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ نقاب پوش یا حجابی خواتین کو غیر مسلموں کی طرف سے سرعام ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ ممالک میں تو سکارف تک بین کرنے کے لیے قومی عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔

 ایسے لوگ جو اسلام کا غلط اور انتہا پسند نقطہء نظر دکھائے گئے ہیں وہ جب مسلم خواتین کو نقاب کے پیچھے دیکھتے ہیں تو وہ ان کوکسی دوسری ہی دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں. وجہ یہ کہ وہ کسی طرح بھی ان سے ریلیٹ اورکنیکٹ  نہیں کر پاتے. کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس لباس پہننے پر، گھروں میں قید ہو رہنے پر مجبور کی گئی ہیں۔ شاید یہ بات کچھ خواتین کے لیے صحیح ہو مگر ایک کثیر تعداد ان خواتین کی خود اپنی مرضی سے اللہ کی خاطر اس کا حکم سمجھ کراپنا چہرہ چھپاتی ہیں۔ واضح رہے یہاں پر بات صرف چہرہ چھپانے کی کی جارہی ہے۔ جسے پہلے تو مذہبی سکالرز فرض کا درجہ دیتے تھے مگر پھر تحقیق کے بعد اس نقطہ نظر میں نرمی اختیار کی گئی۔ اور اب اسےفرض تو نہیں البتہ پسندیدہ اور تقوی سے قریب تر خیال کیا جانے لگا ہے۔

آزادانہ طریقے سے لباس پہننے اور زیب و زینت اختیار کرنے والی مسلم خواتین کو باپردہ خواتین کی طرف سے بےحیائی اور غیر متّقی ہونے کا لیبل لگایا جاتا ہے یا کم از کم ان کا ذہن خود بخود ایسےجج کرنے لگتا ہے۔ اس کے متضاد نقاب پوش خواتین کو undefined اور بیک ورڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں جو فاصلہ ان دو مسلم خواتین  کے گروہوں میں نظر آتا ہے یہ فاصلہ غیر مسلم خواتین اور نقاب پوش خواتین کے درمیان مزید گہرا اور طویل ہو چکا ہے یہاں تک کہ وہ ایک دریا کے دو مخالف سمت کے کناروں پر کھڑی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان ایک رشتہ undefined کا بھی تو تھا وہ کہاں گیا؟ کیا ایک مسلم عورت سے صرف اس کے شوہر، اس کے بچوں، اس کے والدین اور خاندان یا حلقے کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب ہے؟ بہت سی نقاب پوش خواتین علمی لحاظ سے غیر معمولی قابلیت رکھتی ہیں ان کی بدولت غیر مسلم عورتوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے مگر وہ تو ایک بلند و بالا دیواروں والے بند قلعے کی مانند خود تک رسائی کا راستہ بند کیے ہوئے ہیں.

اسلام اعتدال پسند مذہب ہے اور ہمیں اُمّتِ وسط بنایا گیا ہے۔ وسط کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاملات میں ایکسٹریم چوائس  کی بجائے مِڈل وے اختیار کیا جائے۔ اس اصول کے موافق جو خواتین ماڈیسٹ ڈریسنگ کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں ان میں سے مظبوط عقیدہ اور اخلاقیات سے لیس خواتین اپنے کردار کی وجہ سے غیر مسلم خواتین کو ایک بہتر اور موثر اسلام کی دعوت دے رہی ہیں ۔ جو کہ ان کی کردار کی مضبوطی، نفسِ مطمئن اور اخلاقی بلندی کی وجہ سے ان کے مذہب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتیں۔

اسلام کے بنیادی عقائد اور بنیادی تعلیمات کے علاوہ کچھ احکامات میں حکمت بھی مطلوب ہے اسی وجہ سے احکامات بتدریج نازل ہوئےاور پردے کے احکام کے نازل ہونے کا پس منظر اور اس کا وقت بھی اپنے اندر حکمت لیے ہوئے ہے ۔بے شک امہات المومنین نے پردے کے احکامات نازل ہونے کے بعد اپنے جسم کے ساتھ اپنا چہرہ بھی غیر محرم مردوں سے چھپایا ہو گا کیونکہ ان کو امت کی ماوؤں کا درجہ حاصل تھا اور آپ ص کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا جائز نہ تھا۔ مگر قرآن کے احکامات میں مسلم اورمومن خواتین کے لیے لچک پائی جاتی ہے اور ان کو جسم اور خصوصا سینہ ڈھانپنے ، تبرج سے بچنے اور ظاہری زیب و زینت کے سوا جسم کی زیبائش ظاہر نہ کرنے کا اصول دیا گیا ہے۔ احادیث سے ہمیں ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ خواتین چہرے کے پردے کے بغیر بھی اسلامی معاشرے میں موجود تھیں۔ جبکہ پردے کے احکام سے پہلے تو سب کو علم ہی ہے کہ لباس کی کیا صورت عرب معاشرے میں رائج تھی.

اگر ایک خاتون پانی میں ڈوب رہی ہو اور اسے بچانے کے لیے ایک مسلم مرد ہی موجود ہو تو کیا وہ یہ سوچے گا کہ چونکہ ایک غیر محرم عورت کو ہاتھ لگانا گناہ ہے تو اس کو ڈوبنے سے بچانا بھی گناہ شمارہو گا۔ یہ تو ایک بہت سادہ سی بات ہے کہ یقینا ایسی صورت حال میں ایک زندگی بچانا ہی سب سے اہم بات ہے۔ اس وقت غیر محرم عورت کو ہاتھ نہ لگانے والا اصول لاگو نہیں ہو گا۔

اب اسی صورت حال میں کچھ تبدیلی کرتے ہیں. ڈوبنے والے وہ لوگ ہیں جو کہ لا الہ الا اللہ سے واقف نہیں ( جو کہ دوزخ سے بچائے جانے اور جنت میں جانے کا کم از کم کرائیٹیریا ہے ) اور بچانے والے مسلمان ۔ سوچیں کہ کتنی بڑی تعداد ہےغیر اسلامی معاشرے میں ان لوگوں کی جو عقیدہ توحید سے ہی واقف نہیں یا پھر اس سے واقف ہونے کے باوجود ہزار ہا کشمکش کا شکار ہیں۔ ہم سب مسلم مرد اور عورتیں داعی الا اللہ کی ذمہ داری دیے گئے ہیں ۔ ایسے میں اگر مسلم خواتین اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ہوں گی جو ایک انسان کی پہلی شناخت ہے تو غیر مسلم عورتیں کیسے انہیں اپروچ کر سکیں گی،  ان کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس کر سکیں گی گھل مل سکیں گی یا ان کی سلیم فطرت، تمانیت اور پر وقار شخصیت سے متاثر ہو سکیں گی اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کی دعوت دی جاسکیں گی کہ جس کو صرف زبان سے پڑھ لینے پر بھی ہمارے نبی ص نے اپنے چچا کے لیے اللہ تعالی سےجہنم سے بچائے جانے کی سفارش کرنے کی امید رکھی۔ اسلام کا نصب العین اجتماعی فلاح اور کامیابی ہے صرف چند لوگوں کی مکمل دین داری مقصود نہیں ۔ تو کیا ایسے میں جب معاشرے میں اس قدر ضد موجود ہو؛ ایمانیات اور عقائد پر مساوات پہلا ہدف نہیں ہونا چاہیے ؟

تمام مومن عورتیں اللہ کا تقوٰی اختیار کرنے کی نیت سے چہرہ چھپاتی ہیں اور بے شک وہ عزت دی گئی ہیں مگر کیا کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ کہیں یہ عزت اور حرمت لا الہ الا اللہ کی عزت اور حرمت سے زیادہ تو نہیں بڑھا دی گئی ۔ کیا ایک مومن عورت کے قابل شناخت اور باآسانی اپروچ ایبل ہونے سے اگر لا الہ الا اللہ کا پیغام ایک بھی غیر مسلم عورت (یا باذن اللہ بہت بہتیروں تک) پہنچ جائے اور وہ جہنم کی آگ سے  بچا لی جائے توکیا یہ زیادہ افضل بات ہو گی یا ایک ایسی خاتون کا صرف اپنے ہم عقیدہ حلقے میں اصلاح کی کوششیں کرنا زیادہ افضل ہو گا۔ فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ غیر مسلم خواتین سے میل جول بڑھا کر انھیں اسلام کے بنیادی عقائد اور اخلاقی نظام سے روشناس کروایا جائے. اگر اللہ کے لیے اپنے نفس پہ جبر کرکے چہرہ چھپانا باعث تقوٰی خیال کیا جاتا رہا ہے تو کیا اللہ کی خاطر چہرہ ظاہر کرنے کی ہمت نفس کے خلاف جہاد شمارکی جا سکتی ہے۔؟ کیا ہم اسلام کے عقائد اور احکامات کو اس کی قرانی ترتیب اورپرائیوریٹی کے مطابق دیکھ رہے ہیں یا سیکنڈری باتوں کو پرائمری کا درجہ دے کر پرائمری تعلیم بھی مشکل بنا دی گئی ہے۔؟

یہ تحریر میری اپنی ذاتی انسائٹ پر مبنی ہے. میں نے صرف اپنے اندر کا سچ پہنچانے کی کوشش کی ہےاور میں سمجھتی ہوں کہ اس سے بہتر سوچ موجود ہو سکتی ہے جو کہ شاید فی الحال میرے علم میں نہ ہو۔.میرے خیال میں ہمیں بطورامت  ایک نئی سوچ اور معاملات میں حکمت کا عنصر ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

طیبہ خلیل – بحرین

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.